Playstore.png

تابوت سکینہ کی تلاش کا سبب

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ بیان الحکمہ
عنوان تابوت سکینہ کی تلاش کا سبب
مصنف رضوی، سیدہ شمائلہ رباب
جلد 3
شمارہ 1
سال 2017
صفحات 93-110
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
سکینہ، ہیکل سلیمانی، عمالقہ، آثارقدیمہ، تابوت
شکاگو 16 رضوی، سیدہ شمائلہ رباب۔ "تابوت سکینہ کی تلاش کا سبب۔" بیان الحکمہ 3, شمارہ۔ 1 (2017)۔

Abstract

It is description/discussion of an enigmatic miraculous covenant. It is 4000 years old and still important. Owing to Day of Judgment it has been found with zeal zest. From Hazrat Adam (A.S) to Prophet Mohammad (S.A.W.W) it was part and parcel of every prophet. Allah also describe in the Holy Quran If was present with every Prophet that’s why it contained with/teemed with symbols of Prophets. For placing this covenant Haikal Sulaimani was established. This covenant not only important for Christian and Jews but also significant for Muslims. It is a miraculous covenant which is made of wood and gold but it is symbol of victory and success for the people of Bani Israel. Because whenever this covenant was present in the war with Bani Israel they attained victory. For that content in this present era Bani Israel has given it a religious status. Because they want to achieve their spiritual power after attaining this miraculous covenant. It was revealed that people of Bani Israel got comfort from it. It is the sole reason to call it “Taboot-e-Sakina”. It was used to take important decision but due to disrespect and disobedience it was snatched from them. For getting it back they are still in struggle. Those who acquired it forcefully they became ill in malignant diseases. Now a day’s all countries of the world try to find, but according to a saying of Prophet Mohammad (S.A.W.W), “It is present in a cave at Turkey”. And it will be extracted by Imam Mehdi (A.S) and He will enforce rule of justice.

مقدمہ

ہر دور میں مسلمان ،عیسائی اوریہو دی ایک دوسرے کے مخالف رہے ہیں مگرایک نقظ جس پر تینوں مذاہب متفق ہیں وہ ہے تابوت سکینہ ۔یہ ایک معجزاتی و کراماتی تابوت ہے جس کے وجود کا اعلان خود خداوند کریم اپنے کلام بلاغت میں سورہ بقرہ کی آیت ۲۴۸ میں فرما رہا ہے اور اسے مومنوں کے دل کا سکون قرار دے رہا ہے اور آدم سے خاتم تک تمام انبیا ءکی میراث رہنے کے سبب اس میں تمام انبیاء کے تبرکات موجود ہیں جس کےوجہ سے اسکی عزیمت و حرمت بھی بہت زیادہ ہے اس تابوت کو رکھنے کے لئے یہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی گئی جو نہ صرف عیسائی و یہودیوں بلکے مسلمانوں میں بھی بہت مقدس ہے۔بنی اسرائیل کے لئے اس کی اہمیت اوربھی کچھ زیادہ کیونکہ یہ تابوت ان کی عزمت فتح و کامرانی کی علامت تھا اس لئے آج بھی بہت سارے ماہر آثار قدیمہ اور خصوصایہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے ماہر اسکی تلاش میں سرکرداں ہیں تاکہ اس کو ڈھونڈ کر وہ اپنی اسی روحانیت کو واپس پا سکیں جو کبھی ان کو عطا کی گئی تھی۔ آج دور حاضر میں پوری دنیا کے مختلف ممالک اسکو ڈھونڈھنے،ملنے اور اپنے پاس ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ احادیث کے مطابق یہ ترکی کے کسی غار میں موجود ہے اور امام مہدی آکر اسے نکالیں گےاور دنیا میں چار سو انصاف کا بول بالا ہوگا۔

تعارفِ تابوت:

بمطابق تفسیرِ مظہری: " تابوت بروزن فعلوت۔ توب سے مشتق ہے جس کے معنی رجوع کے ہیں۔ اور اسے تابوت اس لئے کہتے ہیں کہ جو چیز اس میں سے نکالی جاتی تھی وہ پھر واپس اسی میں چلی آتی تھی۔ تابوت بمعنی لکڑی کا صندوق عموماً مستعمل ہے اس کی جمع توابیت ہے۔سکینتہ یعنی اس میں ایسی چیزیں رکھی ہوئی ہیں جن سے تمہاری تسکین ہو جائے گی۔ یا تابوت کی واپسی کا امرای فی اتیانہ سکون لکم و طمانیتہ، سکینتہ،تسکین،تسلی خاطر،اطمینان، سکون سے بر وزن فعیلتہ مصدر ہے جو اسم کی جگہ استعمال ہوا ہے ۔جیسے کہ عزیمتہ ہے۔ "۔(1)

دراصل تابوت عربی اور عبرانی زبان کا لفظ ہے جسکے معنی صندوق کے ہیں۔اردو لغت کے مطابق لفظ تابوت مزکر ہے اس کے معنی "صندوق جس میں مردے کی لاش رکھتے ہیں"۔ لیکن لفظ تابوت صرف لاشوں یا مردوں کے لئے مخصوص نہیں بلکہ ہر قسم کی لکڑی،لوہے کے خاص بناوٹ کے ڈبے کو صندوق یا تابوت کہتے ہیں اور اس میں کچھ بھی رکھا جا سکتا ہے خود اس کی مثال تابوت سکینہ ہے جس میں انبیاء اکرام کی معجزاتی اشیاء موجود ہیں۔تابوت ،سے مراد صندوق ہے، تابوت کے لفظی اشتقاق کے بارے میں کہا گیا ہے یہ مادہ"توب"باب 'فطوت'کے وزن پر ہے۔ "توب " کا معنی رجوع کرنا اور پلٹ کر آنا ہے، صندوق کو تابوت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ انسان باربار اور پلٹ پلٹ کر اس کی طرف آتا ہے

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَى وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ ۚ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ۔(2) "ان کے نبی نے پھر کہا کہ اس کی بادشاہت کی ظاہری نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تسلی بخشنے والی چیز ہے اور آل موسٰی اور آل ہارون کا بقیہ ترکہ ہے۔فرشتے اسے اٹھا کر لائیں گے۔ یقیناً اس میں تمہارےلئے کھلی نشانیاں ہیں اگر تم ایمان والے ہو"۔

بے شک آیت سورہ بقرہ۲۴۸ میں تابوت کو کوئی نام نہیں دیا گیا مگر یہ واضح الفاظ میں بتا دیا گیا کہ اس میں تمہارے رب کی طرف سے سکینہ ہے لفظ"سکینتہ" سکون کے مادے سے ہے اورتسکین وآرام کے معنی میں مستعمل ہے ۔یہا ں اس سے مراد جان و دل کا سکون اور اطمینان ہے۔اس لئے اس تابوت کوتابوت سکینہ کے نام سے جانا جانے لگا اس کے علاوہ اس کو اور بہت سے ناموں سے جانا جاتا ہے۔انگریزی میں اس کو “The Ark of the Covenant "سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ عہد کا صندوق، میثاق کاصندوق،پاک صندوق، خدا کا صندوق ،خدا کی قوت کا صندوق، عہد کا صندوق ، تمام زمین کے خدا وند کے عہد کا صندوق،گوہی کا صندوق۔ یہ صندوق شمشاد کی لکڑی سے بنا یا گیا ہے جوا ندر سے باہر تک سونے سے منڈھا ہے یہاں تک کے اسکا ڈھکن بھی سونے سے چھپا ہے جسپر دو پرندے بیٹھے ہیں۔اس تابوت سکینہ یا صندوق کے بارے میں بہت زیادہ اختلاف رائے اوربہت سی روایات ہیں کچھ مصدقہ روایات کے مطابق یہ حضرت آدم علیہ السلام پر نازل ہوا تھا یعنی جنت سے آپکے ساتھ ہی زمین پر اتارا گیا تھا اور تا مرگ آپکے پاس رہا پھر نسل در نسل بطور وراثت یکے بعد از دیگر آپ کی اولاد تک منتقل ہوتا رہا یہاں تک کے یہ حضرت یعقوب علیہ السلام تک پہنچا اور پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے حضرت یوشع علیہ السلام کو ملا اور آپ کے بعد بنی اسرائیل نے اس پر قبضہ کر لیا بہت دلچسپ بات ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے حوالے سے اس تابوت کی منتقلی کے ٹھوس شواہد یا کوئی تحریری نسخے نہیں ملے لیکن میری رائے کے مطابق یہ ایک لاکھ انبیاء کی میراث تھی جو حضرت آدم علیہ السلام سے خاتم ﷺ تک چلی جو اب خاتمﷺ کے نائب امام مہدی کے پاس ہے جو دنیا کو اسکی رونمائی کروائیں گے اور طالوت کی بادشاہت کی طرح یہ تابوت آپکی بھی امامت کی گواہی دے گا جسپر تقریباً تمام مذہب و مکاتب فکر کے لوگوں کا اجماع ہے۔حضرت بلقیس حضرت سلیما ن علیہ السلام سے شادی کے بعد اپنے وطن ایکسم گئی وہاں آپ کےہاںایک خوبصورت بیٹے کی پیدائش ہوئی انکا نام ابن حکیم رکھا جب آپ بائیس سال کے ہوئے تو اپنے والد سے ملنے یروشلم گئےجب آپ نے واپسی کا قصد کیا تو حضرت سلیما ن علیہ السلام نے آپ کے ساتھ کچھ درباری اور تابوت سکینہ بھی روانا کیا حضرت بلقیس کی وفات کے بعد آپ بادشاہ بنے تاریخ آپ کو مینلک اول کے نام سے جانتی ہے آپ نہایت بردبار ،عقل مند اور طاقتور بادشاہ تھے آپ نے اپنی سلطنت کو خوب ترقی دی اور دو ہزار سال تک تابوت سکینہ کے وارث رہے۔ ابن عباس احادیث اہل بیت اور بعض مفسرین سے منقول کرتے ہیں کہ یہ تابوت وہی صندوق تھا جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے انہیں رکھ کر دریا کے سپرد کر دیا تھا فرعون کے کارندوں نے جب اسے نکال کر دربار میں پیش کیا تو حضرت آسیہ نے جھٹ بچے کو گو لے لیا اور تابوت جو کا تو ں فرعون کے خزانے میں چلا گیا جو بعد میں بنی اسرائیل کے ہاتھ آیا تو وہ اسے محترم و متبرک قرار دینے لگے ۔ کیونکہ حضر ت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں یہ صندوق حضرت یوشع علیہ السلام کو سپرد کر ر دیا تو بنی اسرائیل کی نگاہ میں اس کی حرمت اوربڑھ گئی۔

اس صندوق میں وہ دس احکامات موجود تھے جو اللہ پاک نے نازل کیے تھے اور کوہ سینا پر حضرت موسٰی کو اس کے زریعے احکامات ملے۔کہا جاتا ہے کہ خدا موسیٰ سے عہد کے صندوق پر بنے دو کروبیوں میں سے باتیں کرتا تھا۔ یہ صندوق اور ہیکل سلیمانی بنی اسرائیل کی طاقت و خوبصورتی کا سبب ہیں۔

تابوت سکینہ اور ہیکل سلیمانی کا ربط ؛

جو صندوق ایک نہ دو بلکے پورے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی میراث رہا ہو تو اسکی عظمت کتنی بلند ہوگی تو اس صندوق کورکھنےکےلئے بھی اتنی بلند مرتبہ اور برکت والی جگہ کی ضرورت تھی جسکے لئے خود خداوند کریم اپنے کلام بلاغت میں ارشاد فرماتا ہے کہ؛

" پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم نے اسےاپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائے یقیناً اللہ تعا لیٰ ہی خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے"۔(3)

جیسا کہ خداوندکریم نے اس زمین کو برکت والا کہا تو ثابت بھی کر دیا اس زمین کو ابنیاء کی سر زمین کا نام دے دیا اور اس جگہ کو انبیاء کی پیدائش گاہ بنا دیا جن میں حضرت یعقوب علیہ السلام ، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام ، حضرت سلیمان علیہ السلام ،حضرت یحییٰ علیہ السلام ،حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دیگر ابنیا ء اس پاک زمین میں پیدا ہوئے یا باہر سے آکر آباد ہوئے اس زمین میں ان گنت انبیاءکے مدفن بھی ہیں یہ مقام فلسطین ہے جو موجودہ اسرائیل کہلاتا ہے۔ حضرت یقوب علیہ السلام نے حکم خدا وندی کے مطابق مسجد بیت المقدس (مسجد اقصیٰ) کی بنیاد ڈالی اسی وجہ سے بیت المقدس آباد ہواآپ کا نام اسرائیل علیہ السلام بھی تھا آپ کی ہی اولاد بنی اسرائیل کہلاتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے برسوں صرائے سینا میں پھرنے کے بعد اپنی قوم کے لئے ایک عبادت کا خیمہ بنایا یہ ۴۵فٹ لمبا،۵فٹ چوڑا اور ۱۵فٹ اونچا تھا اس میں قیام عبادت "عودسوز" اور تابوت سکینہ کی جگہ تھی۔حضرت جالوت کے دور تک یہودخیمے کا رخ کر کے عبادت کرتے جیسے یہ ان کا قبلہ ہو۔حضرت داؤد علیہ السلام کا دور حکومت۳۳ سال تھاآپ نے خیمہ عبادت کو بیت المقدس میں کوہ صیہون میں ایک جگہ مستقل طور پر نصب کردیا اس جگہ کا نام "بیت ایل " یعنی اللہ کا گھر پڑ گیا اسی مقام پر خداوندکریم حضرت داؤد علیہ السلام سے ہمکلام ہوااس جگہ کا نام حضرت داؤد علیہ السلام نے حیبرون رکھا تھا۔حضرت سلیمان علیہ السلام کا دور ۳۹سال آپ نے اس خیمہ عبادت کی جگہ"ہیکل "کی مستقل عمارت بنوائی جس میں آپ نے جنات کی مدد لی اور اس میں قیمتی پتھروں کو ترشوا کر لگوایا جن میں یاقوت ،زمرد اور سونے چاندی کی تختیوں کی دیواریں جن میں اعلیٰ درجے کے موتی لگے فیروزہ کا فرش،یاقوت کے ستون اور جواہرات کی جڑاؤ چھت تھی جن کی چمک اور روشنی اس قدر تھی کہ رات میں بھی روشنی کی ضرورت نہ پڑتی تھی ایک مخصوص کمرہ تابوت سکینہ کے لئے وقف ہوا جس کا نام قدس رکھا ۔یہ عمارت ۲۰ سال میں مکمل ہوئی مگر حضرت سلیمان علیہ السلام کو تعمیر کے آخری مراحل میں بشارت خداوندی ہوئی کے آپ کی زندگی کے دن تمام ہو گئے ہیں تو آپ نے جنات سے اپنے لئے ایک شیشے کا کمرا بنوایا اور اس میں جاکر اپنی لاٹھی کے سہارے کھڑے ہو گئے تاکہ موت کے سبب آپ کا جسم زمین بوس نہ ہو اور جنات آپ کر زندہ جان کے تعمیر مکمل کریں۔

قرآن پاک میں خداوند کریم اس کے بارے میں یوں فرماتا ہے؛ "کہ جب ہیکل سلیمانی کی تعمیر جنات نے مکمل کر لی تو اللہ کے حکم سے جس لاٹھی کے سہارے حضرت سلیمان کھڑے تھے اسے دیمک نےکھا کر کھوکھلا کر دیااور وہ آپ کا بوجھ نہ سہار سکی اور آپ جو موت واقع ہونے کے باوجود بھی اس کے سہارے کھڑے تھے گر گئے جس سے جنات و دیگر مخلوقات کو آپ کی موت کا علم ہوا"۔(4)

تورات کے بیان کے مطابق "اس کام پرستر ہزار باربردار،اسّی ہزار سنگتراش،تین ہزار چھ سو ان کے نگران کار مقرر کئے گئے تھے"۔(کتاب تواریخ)

حضرت سلیمان کے ہیکل کا طول ۶۰ہاتھ،عرض ۲۰ہاتھ اور بلندی ۲۰ ہاتھ تھی "۔

اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد 16/1 میں لکھا ہے کہ ’’یروشلم کا عام عربی نام القدس ہے جسے قدیم مصنفین عام طور پر بیت المقدس (بعض بیت المقدس) لکھتے ہیں، دراصل اس سے مراد ہیکل (سلیمانی) تھا جو عبرانی بیت ہمدقش کا ترجمہ ہے لیکن بعد میں اس لفظ کا اطلاق تمام شہر پر ہونے لگا- یہ مصنفین ایلیا کا لفظ بھی جو Aelia سے لیا گیا، بکثرت استعمال کرتے ہیں- انہیں اس کا قدیم نام Jerusalem بھی معلوم تھا جسے وہ اور یشلم اور یسلم اور یشلم بھی لکھتے ہیں-‘‘ کتاب مقدس (بائبل سوسائٹی) میں اسے یروشلم لکھا گیا ہے- ’’بیت المقدس‘‘ سے مراد مبارک گھر‘‘ یا ایسا گھر ہے جس کے ذریعے سے گناہوں سے پاک ہوا جانا ہے- اقصی عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی بہت دور کے ہیں- ایک صدی ق م میں جب رومیوں نے یروشلم پر قبضہ کیا تو انہوں نے اسے ایلیا کا نام دیا تھا- مکہ مکرمہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریباً تیرہ سو کلو میٹر ہے- بیت لحم اور الخلیل بیت المقدس کے جنوب جبکہ رام اللہ شمال میں واقع ہے- بیت المقدس پہاڑیوں پر آباد ہے- انہی میں سے ایک پہاڑی کا نام کوہ صہیون جس پر مسجد اقصی اور قبۃ الصخرۃ واقع ہیں- کوہ صہیون کے نام پر ہی یہودیوں کی عالمی تحریک صہیونیت قائم کی گئی"۔(5) ہیکل سلیمانی کی تاریخ چار ہزار سال پرانی ہے اور ان تمام سالوں میں اس کو دو مرتبہ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا باون بار حملہ ہوا اور چوالیس بار مختلف قوموں نے قبضہ کیا صرف اور صرف تابوت سکینہ کی تلاش کے پیچھے۔ جس طرح زمین آسمان کا جوڑ ہے چاند سورج کا ساتھ ہے بلکل اسی طرح تابوت سکینہ اور ہیکل سلیمانی کا جوڑ ہےکیونکہ ہیکل کی تعمیر مکمل ہوتے ہی تابوت سکینہ کو بہت زیادہ مذہبی احترام کے ساتھ ہیکل میں منتقل کر دیا گیا جسکے سبب آج بھی یہودیوں کی سب سے اہم اور مقدس عبادت گاہ ہے اورچونکہ اس کی تعمیر حضرت سلیمان نے کروائی اس لئے اسکا نام ہیکل سلیمانی پڑ گیا۔واحد شہر بیت المقدس جس کو اسرائیلی یروشلم کہتے ہیں تینوں مذاہب عیسائیوں،یہودیوںاور مسلمانوں کے لئے مقدس و مقدم ہے کیونکہ یہ ہی تو مسلمانوں کا قبلہ اول ہے بہت سےمورخین اور ماہر آثار قدیمہ کے مطابق یہ تابوت آج بھی ہیکل سلیمانی میں موجود ہے اس لئے انھوں نے فلسطین پر زبردستی کی جنگ مصلت کر کے قبضہ کیا اور پھر اسکو زیر زمین کھود کھود کر کھوکھلا کر دیا ہے جسکے نتیجے میں موجودہ مسجد اقصیٰ/بیت المقدس ایک جھٹکے کے منتظر ہیں کیو نکہ زیر زمین اس کی ایک ایک بنیاد کھدی ہوئی ہے۔

تابوت سکینہ کی اہمیت اور کھوج کا سبب:

سوال یہ پیدا ہوتا ہے آخر اس لکڑی کے صندوق میں ایسا کیاہے جو یہودی دیوانہ وار اسکی تلاش میں زمینی جونک و دیمک بنے ہوئے ہیں ؟ایک صندوق جو ایک نبی سے دوسرے تک منتقل ہوتا آیا ہو اور اس کے اندر انبیاء اپنی ذاتی و کراماتی اشیاء رکھتے ہوں اسی کے ساتھ ساتھ اس صندوق کو رکھنے کے لئے ایسی سر زمین کا انتخاب ہو جسے خود خداوند کریم برکت والی زمین کہے جس زمین کو انبیاء کی زمین کا نام ملے جو سب سےپاک و برتر مقام ہو اس تابوت کے رکھنے کے مقام کو خود نبی تیار کروائیں خداوند تعالیٰ اپنے کلام میں اسے دل کا سکون کہے ،مومن و ایمان والوں کی نشانیاں بتائے اس صندوق کی اہمیت کیا بیان ہوسکتی ہے یہ تو سمندر کو کوزے میں بھرنے کے مصداق ہوا اسکی اہمیت تو لامحدود ہے تبھی آج دنیا بھر کی اقوام خواہ وہ مسلم ہوں عیسائی یا یہودی اسکی جستجو اور تلاش میں سرگرداں ہیں کیونکہ یہ صرف ایک صندوق نہیں ہے یہ فتح وکامیابی کی علامت ہے اس بات کو سمجھنے یا جاننے کے لئے کہ یہ اتنا اہم کیوں ہے اور آج تین ہزار سال بعد بھی اسکی تلاش کیوں جاری ہے تو تھوڑا اسکا پس منظر جاننا ہوگا۔

جب نبی در نبی یہ تابوت منتقل ہوتے ہوتے خداوند کریم نے بنی اسرائیل کو عطا کیا تو ان کے لئے اس کو ان کے لئے اپنا انعام بنا دیا یہ تابوت ان کے لئے فتح ،نصرت،کامیابی،کامرانی عظمت و بلندی ،رحمت و برکت کی علامت بن گیا جسے وہ اپنے قبلہ کے طور پر بھی استعمال کرتے تھے۔اور اس میں انبیاء کے معجزاتی تبرکات بھی موجود تھے جن میں لوح قرآنی اور تورات، کوہ سینا پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دی گئی تختیاں یعنی توراۃ کی تختیوں کے چند ٹکڑے ، کچھ من و سلویٰ اور وہ برتن بھی تھا جس میں آسمانوں سے من و سلویٰ اترا کرتا تھا۔جسکا ذکر قرآن ِ پاک میں کچھ یوں ہے؛ وانزلنا علیکم المن و السلویٰ "۔ ترجمہ کنزالایمان: "اور تم پر من اور سلویٰ اتارا"۔(6)

اورحضرت یوسف علیہ السلام کا کرتا،حضرت ہارون علیہ السلام کی قبا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور ان کی مقدس جوتیاں اور حضرت ہارون علیہ السلام کا عمامہ، حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی، ، اس کے علاوہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی صورتوں کے حلیے وغیرہ سب سامان تھے غرضیکہ انبیاء بنی اسرائیل کے بہت سے تبرکات موجود تھے۔

تفسیر الصاوی اورتفسیر روح البیان کے مطابق" یہ بڑا ہی مقدس اور بابرکت صندوق تھا۔ بنی اسرائیل جب کفار سے جہاد کرتے تھے اور کفار کے لشکروں کی کثرت اور ان کی شوکت دیکھ کر سہم جاتے اور ان کے سینوں میں دل دھڑکنے لگتے تو وہ اس صندوق کو اپنے آگے رکھ لیتے تھے تو اس صندوق سے ایسی رحمتوں اور برکتوں کا ظہور ہوتا تھا کہ مجاہدین کے دلوں میں سکون و اطمینان کا سامان پیدا ہوجاتا تھا اور مجاہدین کے سینوں میں لرزتے ہوئے دل پتھر کی چٹانوں سے زیادہ مضبوط ہوجاتے تھے۔ اورجس قدر صندوق آگے بڑھتا تھا آسمان سے نَصْرٌ مِّنَ اللہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ کی بشارت عظمیٰ نازل ہوا کرتی اور فتح مبین حاصل ہوجایا کرتی تھی۔بنی اسرائیل میں جب کوئی اختلاف پیدا ہوتا تھا تو لوگ اسی صندوق سے فیصلہ کراتے تھے۔ صندوق سے فیصلہ کی آواز اور فتح کی بشارت سنی جاتی تھی۔ بنی اسرائیل اس صندوق کو اپنے آگے رکھ کر اور اس کو وسیلہ بنا کر دعائیں مانگتے تھے تو ان کی دعائیں مقبول ہوتی تھیں اور بلاؤں کی مصیبتیں اور وباؤں کی آفتیں ٹل جایا کرتی تھیں۔ الغرض یہ صندوق بنی اسرائیل کے لئے تابوتِ سکینہ، برکت و رحمت کا خزینہ اور نصرتِ خداوندی کے نزول کا نہایت مقدس اور بہترین ذریعہ تھا مگر جب بنی اسرائیل طرح طرح کے گناہوں میں ملوث ہوگئے اور ان لوگوں میں معاصی و طغیان اور سرکشی و عصیان کا دور دورہ ہو گیا تو ان کی بداعمالیوں کی نحوست سے ان پر خدا کا یہ غضب نازل ہوگیا کہ قوم عمالقہ (جبارین )کے کفار نے ایک لشکر جرار کے ساتھ ان لوگوں پر حملہ کردیا، ان کافروں نے بنی اسرائیل کا قتل عام کر کے ان کی بستیوں کو تاخت و تاراج کرڈالا۔ عمارتوں کو توڑ پھوڑ کر سارے شہر کو تہس نہس کرڈالا، اور اس متبرک صندوق کو بھی اٹھا کر لے گئے۔ اس مقدس تبرک کو نجاستوں کے کوڑے خانہ میں پھینک دیا۔ لیکن اس بے ادبی کا قوم عمالقہ پر یہ وبال پڑا کہ یہ لوگ طرح طرح کی بیماریوں اور بلاؤں مبتلا کر دیئے گئے۔ چنانچہ قوم عمالقہ کے پانچ شہر بالکل برباد اور ویران ہو گئے۔ یہاں تک کہ ان کافروں کو یقین ہو گیا کہ یہ صندوق رحمت کی بے ادبی کا عذاب ہم پر پڑ گیا ہے تو ان کافروں کی آنکھیں کھل گئیں۔ چنانچہ ان لوگوں نے اس مقدس صندوق کو ایک بیل گاڑی پر لاد کر بیلوں کو بنی اسرائیل کی بستیوں کی طرف ہانک دیا"۔(7)

پھر اللہ تعالیٰ نے چار فرشتوں کو مقرر فرما دیا جو اس مبارک صندوق کو بنی اسرائیل کے نبی حضرت شموئیل علیہ السلام کی خدمت میں لائے۔ اس طرح پھر بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی نعمت دوبارہ ان کو مل گئی۔ اور یہ صندوق ٹھیک اس وقت حضرت شموئیل علیہ السلام کے پاس پہنچا، جب کہ حضرت شموئیل علیہ السلام نے طالوت کو بادشاہ بنا دیا تھا۔ اور بنی اسرائیل طالوت کی بادشاہی تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھے اور یہی شرط ٹھہری تھی کہ مقدس صندوق آجائے تو ہم طالوت کی بادشاہی تسلیم کرلیں گے۔ چنانچہ صندوق آگیا اور بنی اسرائیل طالوت کی بادشاہی پر رضامند ہو گئے۔دراصل بنی اسرائیل جن کا نظام یوں چلتا تھا کہ ہمیشہ ان لوگوں میں ایک بادشاہ ہوتا تھا۔ جو ملکی نظام چلاتا تھا اور ایک نبی ہوتا تھا جو نظام شریعت اور دینی امور کی ہدایت و رہنمائی کیا کرتا تھا اور یوں دستور چلا آتا تھا کہ بادشاہی یہود ابن یعقوب کے خاندان میں رہتی تھی اور نبوت لادی بن یعقوب کے خاندان کا طرہءامتیاز تھا۔ حضرت شموئیل علیہ السلام جب نبوت سے سرفراز مقرر ہوئے تو ان کے زمانے میں کوئی بادشاہ نہیں تھا تو بنی اسرائیل نے آپ سے درخواست کی کہ آپ کسی کو ہمارا بادشاہ بنا دیجئے ۔

"حضرت شموئیل علیہ السلام نے یہ دیکھا کہ وہ اپنی بیماری کی تشخیص کرچکے ہیں اور اب انہیں ایک طبیب کی ضرورت ہے۔گویا وہ اپنی پسماندگی کے راز سے واقف ہوچکے ہیں۔ حضرت شموئیل علیہ السلام نے بارگاہِ الہیٰ کارخ کیا اور قوم کی خواہش کو اس کے حضور پیش کیا،وحی ہوئی: "میں نے طالوت کو اُن کی سربراہی کے لئے منتخب کیا ہے"۔(8)

طالوت ایک بلند قامت ،تنو مند اور خوبصورت مرد تھے،وہ مضبوط اور قوی اعصاب کے مالک تھے، روحانی طور پر بھی بہت زیرک ، دانشمند اور صاحب ِتدبیر تھے ۔ بعض لوگ انکےنام" طالوت" کوان کے طولانی قد کا سبب قرار دیتے تھےان تمام صفات کے باوجود وہ مشہور نہیں تھے ایک گمنام قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور مالی طور پر ایک زراعت پیشہ شخص سے زیادہ حیثیت نہ رکھتے تھے۔ بنی اسرائیل کے نزدیک تو حسب ونسب اور ثروت کے حوالے سے کئی خصوصیات فرمانرواکے لئے ضروری تھیں اور ان میں سے کوئی چیز بھی طالوت میں دیکھائی نہ دیتی تھی اس انتخاب و تقرر پر وہ بہت حیران و پریشان تھے کیونکہ ان کے عقیدے کے بر خلاف وہ نہ تو لادی کی اولاد میں سے تھے جن سے نبی ہوتے تھےنہ یوسف اور یہودا کے خاندان سے جو حکمرانی کرتےتھے بلکہ وہ بنیامین کے گمنام خاندان سے تھےاور مالی طور پربھی تہی دست تھے ۔بنی اسرائیل نے اعتراض کیا کہ ہم ان سے زیادہ حقدار ہیں۔ حضرت شموئیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ خدا نے اسے تم پرحکمرانی کی خاطر اس لئے چنا ہے کہ وہ دانائی و مردانگی اور علم سے مالامال ہے اور جسمانی طاقت کے لحاظ سے قوی اورصاحبِ قدرت ہے۔یعنی اشتباہ کا شکار ہو اور رہبری کی بنیادی شرائط کو بھولے بیٹھے ہو۔اسیِ طرح قرآن نے قیادت کے لئے پیش کردہ ان شرائط کی نفی کردی کیونکہ ان کی پیش کردہ دونوں شرائط میں سے کوئ بھی حقیقی امتیازاورخصوصیت نہیں کہلاسکتی۔آباؤ اجداد کی شخصیت اور دولت و ثروت دونوں اعتباری اور خارج از ذات امتیازات ہیں۔لیکن علم و دانش اور جسمانی طا قت ذات میں داخل امتیازات و خصوصیات ہیں۔ پھر بھی بنی اسرائیل نے کسی خدائی علامت یا نشانی کا مطالبہ کیا۔حضرت شموئیل علیہ السلام نے انہیں صندوق ِ عہد دوبارہ ملنے کی نشانی دی جو ان کے لئے سکون و اطمینان کا باعث تھا۔یہ وہ ہی وقت تھا جب قوم عمالقہ نے پریشان ہوکر تابوت کو بیل پر سوار کروا کر اپنے شہر سے نکال دیا اور فرشتے اسے ہنکا کر بنی اسرائیل تک لے آئے۔

تینوں مذاہب کا ہیکل و تابوت کو اہم سمجھنے کا نظریہ ان نقاط سے واضح ہوتا ہے۔

1۔ یہودیوں کا یہ ماننا ہے کہ تابوت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ ظاہر ہونے پر انکے پاس آجائے گا اسکی وہ ہزاروں سال سے تلاش میں ہیں اور پھر ساری دنیا پر ان کی حکومت ہوگی۔

2۔عیسائی یہ کہتے ہیں کہ یہ تابوت قیامت اور ظہور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جڑا ہے یہ سب یروشلم میں ہوگا۔

3۔مسلمانوں کا ایمان ہے کہ یہ ان کا قبلہ اول ہے اور تابوت لے کے امام مہدی ظاہر ہونگے اور تمام مذاہب کی اغلاط درست کر کے اسلام کا بول بالا کریں گے۔

ہیکل سلیمانی کے اندر ایک اور کمرہ نما عمارت بھی تعمیر کی گئی تھی جسے ’’قدس ‘‘کا نام دیا گیا تھاجہاں ایک پردہ کے پیچھے محراب تھی جس میں تابوت سکینہ کو رکھا گیا تھا۔ بنی اسرائیل کے مذہبی رہنمائوں میں یہ رواج تھا کہ وہ ہر سال ایک مقررہ تاریخ میں اپنی باری پر تنہا قدس میں پردے کے پیچھے اس محراب میں داخل ہو کر تابوت سکینہ اور اس میں موجود چیزوں کی صفائی کرتے تھے اور اس مقدس محراب میں عبادت اور دعائیں کرتے تھے۔ یہی وہ محراب ہےجہاں حضرت زکریا علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی صورت میں نیک فرزند کی بڑھاپے میں خوشخبری دی تھی۔بنی اسرائیل کے لئے یہ قبلہ کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ یہ مسلمانوں کا بھی قبلہ اول رہا ہے

تابوت سکینہ نہ صرف یہودی مزہب میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور اسے انتہائ مقدس سمجھا جاتا ہے بلکہ عیسائیت میں بھی یہ اہمیت کا حامل ہے اور اسکا زکر انکی کتابوں میں بھی ملتا ہے یہودیوں اور عیسائیوں کے نظریے کے مطابق تابوت سکینہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خداکے کہنے پر بنایا تھا اور اس میں وہ پتھر کی لوحیں لاکر رکھیں تھیں جو انکو خدا نے کوہ سینا پر دی تھیں اور جن میں یہودی مزہب کی تعلیمات بیان کی گئ تھی یہ بہت مقدس تابوت شمار کیا جاتا تھا اورہمیشہ مزہبی رہنما اسکو اٹھایا کرتے تھے اور اسکی حفاظت کے لئے فوج کا ایک دستہ بھی ہمیشہ ساتھ رہتا تھا۔

"جب بنی اسرائیل کی بد اعمالیاںپھر سے بہت زیادہ بڑھ گئیں تو ان پر خدا کی طرف سے یہ عذاب آیا کہ بخت نصر بابلی ایک کافر بادشاہ نے بہت بڑی فوج کے ساتھ بیت المقدس پر حملہ کر دیا اور شہر کے ایک لاکھ باشندوں کو قتل کر دیا اور ایک لاکھ کو ملک شام میں ادھر ادھر بکھیر کر آباد کر دیا اور ایک لاکھ کو گرفتار کر کے لونڈی غلام بنا لیا۔ حضرت عزیز علیہ السلام بھی انہیں قیدیوں میں تھے۔ اس کے بعد اس کافر بادشاہ نے پورے شہر بیت المقدس کو توڑ پھوڑ کر مسمار کر دیا اور بالکل ویران بنا ڈالا"۔(9) 

"قوم عما لقہ کا ایک لڑکا ان کے بت ‘ نصر ‘ کے پاس لا وارث پڑا ہوا ملا چونکہ اس کے باپ کا نام کسی کو نہیں معلوم تھا، اس لئے لوگوں نے اس کا بخت نصر (نصر کا بیٹا )رکھ دیا۔ خدا کی شان کہ یہ لڑکا بڑا ہو کر کہر سف بادشاہ کی طرف سے سلطنت بابل پر گورنر مقرر ہو گیا پھر یہ خود دنیا کا بہت بڑا بادشاہ ہو گیا"۔ (10)

بخت نصر کی تباہی کے بعد آج تک اس تابوت کا صحیح سے پتہ نہ لگ سکااصل وجہ اس تابوت کھوج نکالنے کی یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں اس تابوت کی حیثیت ایک پرچم اور شعار سے بڑھ کر تھی۔اسے کھوج کر وہ اپنی عظمت رفتہ کی یاد تازہ کرنا چایتے ہیں۔اس لئے وہ اسکی کھوج میں ہر متوقع جگہ کو کھودے دے رہے ہیں اور یہودی کا دعویٰ ہے کہ جس جگہ مسجد اقصیٰ واقع ہے وہاں قدس اور ہیکل سلیمانی تھے،ہیکل سلیمانی کی ایک بار پھر تعمیر کیلئے ان کی کوششیں جاری ہیں اور مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے کی مذموم کوششیں بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔مقدس تبرکات کی تلاش کے نام پر مسجد اقصیٰ کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا گیا ہے اور وہاں کئی سرنگیں بنا دی گئی ہیں ۔یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت سلیمانؑ کے دور میں جن پتھروں سے ہیکل سلیمانی تعمیر کی گئی تھی وہ اسی جگہ زمین میں دفن ہیں اور انکی تلاش کے بعد دوبارہ سے ہیکل سلیمانی انہیں پتھروں سے تعمیر کی جائے گی۔ مسلمان کیلئے یہ جگہ اس لئے مقدس ہے کہ یہ ان کا قبلہ اول ہونے کے ساتھ ساتھ مسجد اقصیٰ کا مقام بھی ہے جہاں حضور ﷺ نے معراج کے موقع پر آسمان پر جانے سے پہلے مسجد اقصیٰ میں تمام انبیا اور رسولوں کی امامت کروائی تھی ۔یہودی ہیکل کی ایک بچ جانے والی پس ماندہ دیوار میں واقع دروازے کے متعلق عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ قیامت سے قبل ان کے آخری نبی اوربادشاہ کی واپسی کا راستہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب اس دروازے سے ان کا بادشاہ نکلے گا تو اس کے پیچھے تمام مردے اٹھ کھڑے ہوں گے، جبکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق قیامت کے قریب دجال کا ظہور ہو گا اور تمام دنیا کے یہودی اس کی بادشاہت اور نبوت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گے ۔ یہودیوں کے بقول۷۰ء کی تباہی سے ہیکل سلیمانی کی ایک دیوار کا کچھ حصہ بچا ہوا ہے جہاں دو ہزار سال سے یہودی زائرین آکر رویا کرتے تھے- اسی لیے اسے دیوار گریہ کہا جاتاہے۔ اسرائیل اپنی کھوئی ہوئی عظمت اور سلطنت واپس لینے کی بھر پور تیاری کررہا ہے ہر اسرائیلی کے گھر میں ایک نقشہ آویزاں ہے جس پر گریٹر اسرائیل گلوب پر نمایاں ہے جس پر عراق، شام، آدھا سعودی عرب اور پورا مصر اور اردن شامل ہے اور دوسرا ہیکل سلیمانی کی تعمیر اور وہاں پر تابوت سکینہ کا قیام جس کیلئے یہودی مورخین نے پیش گوئیاں کی ہیں۔ یہودیوںکا خیال ہے کہ مسیح الدجال اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک تابوت سکینہ کو اس کے اصل مقام پر رکھ نہ دیا جائے اور لطف کی بات یہ ہے کہ ان کے نزدیک اس کا اصلی مقام وہاں ہے جہاں آج مسجد اقصیٰ قائم ہے ۔بار بار مسجد اقصیٰ پر حملے کی وجہ یہی نظر آتی ہے مسجد غائب کریں گے تو تابوت سکینہ کا چبوترہ تیار کرینگے تاریخ قدیم سے ان کا عقیدہ ہے کہ یہ ہمارا مقدر کا ستار ہے۔ مقام لاپر ائیر پورٹ کے علاوہ اہم فوجی اڈہ بھی ہے جس کے اردگرد وہ کثرت کے ساتھ غرقد کے درخت مذہبی فریضہ سمجھ کر کاشت کررہے ہیں اس کی وجہ سرکار دو عالم ﷺکی ذات بابرکات ہے۔ آپ نے فرمایا تھا مقام لاپر آخری جنگ ہو گی جس میں شجر و حجر مسلمان مجاہدوں کو یہودیوں کی مخبری کرینگے ۔سوائے شجر غرقد کے کیونکہ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ محمد ﷺ نے جو کہا ہے وہ غلط نہیں ہو سکتا لہذا وہ اس تیزی کے ساتھ گرقد کی آبیاری کررہے ہیں کہ غرقد کی دیواریں بن جائیں اس لئے فوجی ائیر فیلڈ اور غرقد کا درخت یہ مقام لا کا طرہ امتیاز ہے۔ یہودیوں نے سرکاری طور پر غرقد کے درخت کو قومی اور مذہبی پہچان دے دی ہم مانیں یا نہ مانیں یہودی ہمارے نبی کے فرمان کو مان کر اپنی سلطنت کو وسیع اور جان بچانے کیلئے غرقد کی آبیاری کر چکے ہیں لیکن وہ یہ بھول چکے ہیں کہ مشہت ایزدی نے امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل ان کی تباہی کا سامان تیار کررکھا ہے۔کیونکہ بنی اسرائیل کے اصلیت تو یہ ہے کہ وہ بہت سے نبیوں کےقاتل ہیں جن میں ان کے اپنے قبیلہ کے حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام بھی شامل ہیں ۔ حضرت عیسی ٰ علیہ السلام بھی اسی قبیلہ سے تھے ۔ ان کو بھی قتل کرنا چاہا مگر اللہ نے اُنہیں بچالیا اور اّن کا کوئی ہم شکل سولی پر چڑھا دیا گیا ۔ خلق خدا کو بھی بنی اسرائیل بہت اذیّت پہنچاتے رہے۔اسکا ذکر قرآن میں ہےکیونکہ یہ تاریخی کتاب نہیں جس کا مطلب محض تاریخ بیان کرنا ہو ، بلکہ قرآن کریم کتاب اللہ اور کلام اللہ ہے یہ کتابِ ہدایت ہے اس میں اصول زندگی ہیں اور ان پہ عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے اورسزا اور جزا کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اور جہاں جہاں خداوند کریم نے بنی نوع انسان اور مسلمانوں کو سمجھنے کی خاطر ضروری سمجھا وہاں وہاں پچھلی قوموں کا ذکر کیا ہے جس میں‌سب ذیادہ بنی اسرائیل کا ہے اور انکے فتنہ و فساد کا ذکر ہے۔ یہ ہر حال میں ناشکرے تھے۔ خداوند کریم نے ان کے لئیے آسمانوں سے من و سلوٰی جیسی نعمت اتاری یہ اس سے بھی اکتا گئے ۔ اور اپنے رب سے بھی معاذ اللہ ٹھٹھا کرنے سے باز نہ آئے۔تاریخ میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل (یہود) ناشکرے اور شرارتی لوگ رہے ہیں۔ مطلب اور ضرورت پڑنے پر یہ عیسائیوں کے ساتھ گرجوں میں عیسائی بن کر عبادت بھی کر لیں گے اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر مسلمان بن کر نمازیں بھی پڑھ لیں گے اور نیز کسی بھی مذہب کا لبادہ آسانی سے اوڑھ لیں گے۔ اور تب تک اوڑھیں رکھیں گے جب تک اس معاشرے یا سوسائٹی کو اندر سے کمزور کر کے اس پہ غالب نہیں آجاتے۔ اور نتیجتاً وہاں سے ملک بدر نہیں کیے جاتے۔ تاریخ میں کئی ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کسی بھی قوم کے مذھب کی تحضیک کرنے سے باز نہیں آتے خواہ اس وقت غلامی کی ہی زندگی کیوں نہ گزار رہے ہوں اور ان کی ننگی پیٹھ پہ کوڑے کیوں نہ پڑ رہے ہوں انکی عادت، سازش، فتنہ اور فساد کی رہی ہے اور اس لئیے ہر قوم سے نکالے گئے ۔اسکی بنیادی وجہ وہ برتری کا وہ خناس بھی ہے جو ان کے دماغوں میں بٹھا دیا گیا ہے کہ یہ (یہود) ہرقوم سے برتر ہیں۔نوے فیصد یہودی خدا کے وجود پہ یقین نہیں رکھتے مگر جب اسرائیل کی بات ہو تو سو فیصد اسرائیل کو خداد مانتے ہیں” یعنی اسرائیل کی وجہ سے انھیں خدا یاد آتا ہے۔ یہود نے فلسفہ گھڑ رکھا ہے کہ موجودہ فلسطین انکو خدا نے دیا تھا جس کو انہوں نے پانچ ھزار سال پہلے یا کم کم یا زیادہ سال بعد ( اس بارے میں بھی یہود اختلاف رکھتے ہیں) کھو دیا تھا اور اب پھر وہ واپس اپنے وطن لوٹ رہے ہیں ۔ اس میں ان کی مرضی کے ساتھ خداوند کریم کا فیصلہ بھی شامل ہے جسکا ذکر قرآنِ پاک میں کچھ یوں ہے؛

" اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہہ دیا کہ اب زمین میں آباد ہوجاؤ پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آجائے گا تو ہم تم سب کو سمیٹ کر لے آئیں گے"۔(11)

یعنی یہ اسی دور کا آغاز ہے آیت کے مطابق جب آخری دور آئے گا تو یہودی ارضِ مقدس میں لائے جائیں گے جہاں سے ان کو نکالا گیا تھا ان کے شر وغرور کی وجہ سے ۔ جس طرح قرآن کریم میں انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا گیا ہے کہ انسان باقی ماندہ مخلوق سے افضل ہے اور جانوروں کو بابرداری اور خوراک لئیے استعمال میں لا سکتا ہے اسی طرح یہود کی کتاب ُتالمُود، جو بمشکل آپ کو کہیں نظر آئیگی اسمیں انکا فلسفہ حیات نہائیت خطرناک ہے ۔ جس میں یہ

نمبر 1): اپنے آپ کو اشرف النسل قرار دیتیتے ہیں ۔ اور دنیا کی ہر نسل سے اپنے آپ کو افضل سمجھتے ہیں۔

نمبر2): کہ ساری دنیا اللہ نے انکے ( یہود) کے لئیے بنائی ہے ۔ یہ ساری کائینات یہود کی ہے۔ اسمیں موجود سب چرند پرند یہود کی ملکیت ہیں۔

نمبر 3): اور اس کائینات پہ حکومت کرنے کا حق صرف اور صرف بنی اسرائیل کا ہے اور اس حق کو پانے کے لئیے کوئی سا بھی حربہ جائز ہے.

کوئی بھی فلسطینی اس بات کی تصدیق کرے گا کہ فلسطینیوں کے بقو انھیں اس یہودی سے اتنا خطرہ نہیں جو کہے کہ میں یہودی ہوں اور تم فلسظینیوں کو دیکھ لوں گا بلکہ اس یہودی سے بقول فلسطینیوں کے ہوشیار رہتے ہیں جو یہودی اپنے آپ کو اچھا یہودی بنا کر پیش کرے۔ اور فلسطینیوں کے حق میں ہو، کیونکہ یہ ناممکن اور سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے اور ایسے یہودی سے فلسطینی کہتے ہیں ہوشیار رہنا چایہے ۔ فلسطین میں۔ ۱۹۲۰، ۱۹۲۱ ، ۱۹۲۹ اور ۱۹۳۶ میں عربوں کی طرف سے یہودیوں کے نکل مکانی اور اس علاقے میں آ مد کے خلاف پر تشدد مظاہرے ہوئے لیکن یہ سلسلہ جاری رہا ۔ ۱۹۴۷ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرار داد کے زریعے فلسطین کو تقسیم کر کے ایک عرب اور ایک اسرائیلی ریاست قائم کرنے کا اعلان کر دیا ۔ برطانیہ نے اس علاقے سے ۱۹۴۸ میں اپنی افواج واپس بلا لیں اور ۱۴مئی ۱۹۴۸ کو اسرائیل کی آ زاد حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا گیا ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس کے ساتھ ہی فلسطین ریاست بھی قائم کر دی جاتی لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ درحققیت اقوام متحدہ ہی اسلام کے خلاف ہے اور اپنی طاقت کے زریعے ہمیشہ اسلام کو نقصان پہنچانے کی ناپاک کوشش کرتا ہے اسکا ایک بڑا سبب مسلمانوں کا آپسی تفرقہ اور یہودیوں کا ایکا ہے۔(12)

موجودہ مقام اور دعویٰ ملکیت:

بخت نصر کے حملے کے بعد تابوت سکینہ دوبارہ نہیں دیکھا گیا جیسا کے یہ تو ہم جان ہی چکے ہیں کے تابوت کی تلاش کے نام پر آدھے سے زیادہ فلسطین ادھڑ چکا ہے۔بہت ہی مشہور امریکن ماہر آثار قدیمہ" ران وائٹ" کے مطابق یروشلم کی پرانی فصیل کی کھدائی میں یہ مل گیا تھا اور ان کی ہی دوسری تحقیق کی مطابق یہ مشرق وسطیٰ میں ہی موجود ہے۔

Rabbi Yedhuda Get: “Chief Rabbi of the Western Wall” :

کے مطابق تین اسرائیلی ربی ہیکل کے پوشیدہ دروازے سے ایک کمرے میں داخل ہوئے جو ہیکل کے تہہ خانے میں تھا۔انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ عہدکا صندوق اپنی تمام چیزوں کے ہمراہ اس کمرے میں موجود ہے ۔ اسرائیلی حکومت نے اس بات کی تصدیق کردی ہے۔

اور نظریےکے مطابق ہیکل اول کی کھدائی کے نتیجے میں تابوت مل گیا تھا اور اسے نکال کرکسی خفیہ جگہ منتقل کر دیا گیا تھا۔جبکہ کھدائی کرنے والے یہودیوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ اس صندوق کے بلکل نزدیک پہنچ تھے۔لیکن اسرائیلی گورنمنٹ نے مسلمانوںاور عیسائیوں کے دباؤمیں آکر کھدائی پر پابندی لگا دی تھی۔اس لئے وہ تابوت پانے میں ناکام رہے۔

"انجیل" کے مطابق اسکو جبل نیبو (جبل مقام النبی موسیٰ) میں دفن کیا گیا ہے ، جنوبی افریقہ کے لوگوں کے مطابق انکے بزرگوں نے زمبابوے کے پہاڑی سلسلے میں کسی گہرے غار میں دفن کردیا تھا ،کچھ محققّین کی تان مسجد اقصیٰ پر ہی آکر ٹوٹتی ہے کہ یہ ونہی ہے اسکے مطابق سو فیصد کوئی نہیں کہہ سکتا کیونکہ کافی جدا جدا روایات موجود ہیں اٹیلین،برطانیہ ،آئرلینڈ، فرانسی،مصری حد یہ ہے کہ ساؤتھ امریکہ کے لوگ بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ تابوت انکے بزرگوں کو کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی انداز میں ملا اور انکے بزرگوں نے اسے چھپادیا۔بہت سو کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ مل گیا ہے اسی موضوع پر"یوٹیوب" پر ایک معلوماتی ویڈیو "آرک آف کویننٹ فونڈڈ "یعنی تابوت سکینہ مل گیا کے نام سے موجود ہے مگر سب ماہرین آثارِ قدیمہ اس پر متفق نہیں ہیں۔بعض روایات کے مطابق یا تو اسے اہلِ بابل لے گئے تھے یاپھر اسے آسمانوں پر اٹھا لیا گیا۔

اتھو پیا کے آرتھوڈکس چرچ نے یہ دعویٰ کیا ہے کے عہد کا صندوق آکسم میں ہے۔صندوق ہماری مقدسہ مریم دختر صیون کے چر چ میں انتظامیہ کی حفاضت میں ہے اور مذہبی تہوار پر استعمال کیا گیا۔

اسطرح کے اور دعویٰ کے مطابق چرچ آف آرلیڈی میری آف زائن ہے جو اصل تو نہیں پر اسکو ملکہ برطانیہ نے اصل چرچ کے برابر میں جو چوتھی صدی میں بنایا گیا تھا اور اب بلکل کھنڈر بن چکا تھا' بنوایا اس موجودی گرجا گھر میں انجیل کا ایک بہت قدیمی نسخہ بھی موجود ہے اور وہاںآج بھی تابوت سکینہ"چیپل آف ٹیبلٹ" " ایتھوپیا کے شہر آکسم" میں موجود ہے جب وہاں کے سب سے بڑے پادری کی موت کا وقت نزدیک آرہا ہوتا ہے تو وہ اسکی زیارت کرتا ہےاور اپنا جانشین مقرر کرتا ہے اور تابوت کی زیارت کے فوراً بعد اسکی موت ہوجاتی ہے۔ایتھوپیا کے تمام گرجا گھروںمیں تابوت سکینہ کی شبیہ رکھی ہوئی ہیں اور عام لوگ عام حالت میں اسکی زیارت نہیں کر سکتے۔

کچھ یہودی علماء کی رائے ہے کہ Qumranمیں دریائے لوط کے پاس دریائے مردار جورڈن میں موجود ہے بجائے ترکی کے جبکہ ترکی میں بہت سے قدرتی غار موجود ہیں اور ان ہی غاروں میں خداوند کریم کا ایک اور معجزہ اصحابِ کہف بھی موجود ہیں۔

حضرت محمدﷺ کی احدیث کے مطابق تابوت Antiochترکی کا کسی مقام میں موجودہے آخِر زمانہ میں اما م مہدی (جن کو دنیا مجاہد قل کے نام سے جانتی ہے) کے ظہور کے ساتھ وہ صندوق آپکے ہاتھوں کھلے گا اور وہ آسمانی مذیہب کی اغلاط دور فرمائیں گے جو آسمانی کتابوں میں تبدیلیاں کر دیں گئی ہیں اسکو صحیح کریں گے۔

خلاصہِ کلام:

1۔ خداوند کریم چاہے تو ایک بے جان لکڑی کے تابوت کو اتنا افضل کر دے کے اپنی خلقت کے لئے باعث عزت،افتخار،رحمت، برکت،کامیابی وکامرانی بنا دے،رب سے رابطے کا زریعہ بنادے،چین و سکون کاسبب بنادے اور پھر جس کو وہ خود سکون کی علامت کہے اسی کو بے سکونی کا سبب بنا دے کے چار ہزار سال گزرنے کے بعد بھی چین و سکون نہ ملے۔اس لئے زندگی کا اولین شعار رب کی فرما برداری ہونا چایئے۔

2۔جب خداوند کریم انعام دینے پر آتا ہے تو معمولی لکڑی کے صندوق میں رحمت و برکت نازل کر دیتا ہے جیسےاس نے ان لوگوں کے کھانے کیلئے آسمان سے دو کھانے اتارے۔ ایک کا نام ‘من‘ اور دوسرے کا نام ‘سلویٰ‘ تھا۔ من بالکل سفید شہد کی طرح ایک حلوہ تھا یا سفید رنگ کی شہد ہی تھی جو روزانہ آسمان سے بارش کی طرح برستی تھی اور سلویٰ پکی ہوئی بٹیریں تھیں جو دکھنی ہوا کے ساتھ آسمان سے نازل ہوا کرتی تھیں اور جب عذاب دینے پر آئےتو قوم عمالقہ پر یہ وبال پڑا کہ یہ لوگ طرح طرح کی بیماریوں اور بلاؤں مبتلا کر دیئے گئے۔ چنانچہ قوم عمالقہ کے پانچ شہر بالکل برباد اور ویران ہو گئے۔ اور بنی اسرائیل کی طرح جن کو قرآن میں لعنت وملامت کا موضوع بنا دیاہے۔

3۔انبیاء خداوند کریم کی مخلو ق اعظم و افضل ہیں ان کی اور ان سے وابستہ، انکی استعما ل کی ہوئی ، ان سے مس ہوئی ہر شے کی عزت و حرمت ہم پر لازم ہے خواہ وہ زندہ ہوں یا دنیا سے رخصت کر گئے ہوں اگر ہم نے ایسا نا کیا تو قوم عمالقہ اور قوم بنی اسرائیل (جو کئی ابنیاء کی قاتل) کی طرح نامراد اور رب کی لعنت کےسزاوار ہو جائیں گے۔

4۔بنی اسرائیل پر رب کی خاص رحمتیں تھیں جیسے ہی انھوں نے خود کو اعلیٰ سمجھنےکا آغاز کیاانکے زوال کا آغاز کچھ یوں ہوااول تو ان پا ایک مفلس و گمنام حکمران طالوت کو ان پر نا فذ کر کے انکا بڑائی کا غرور توڑادوم انکی نافرمانی کے نتیجے میں ایک بے نام و نشان لاوارث

بچے بخت نصرکو ا نکا نام و نشان مٹانے پر مامور کیا۔ اسی میں دوسرا نقطہ بھی موجود ہے خداوند کریم جسے چاہے بلندی دے اور جسے چاہے پستی یعنی ذرے کو آفتاب بنا دے سب اسکی رضا پر ہے۔

5۔ آباؤ اجداد کی شخصیت اور دولت و ثروت دونوں ہوں نہ ہوں لیکن علم و دانش اور جسمانی طا قت جیسی خصوصیات ضرور ہوں تاکہ ایک بھر پور اور با صلاحیت حکمران کے سبب قوم بھی حکمران کی پیرو کار ہو ہر جانب علم کا بول بالا ہو مذید یہ کے عالم مالدار سے افضل ہے۔اس کی مثال عرب اور چینی قوم ہیں ایک جاہل ترین قوم دوسری افیم کے نشے میں ڈوبی قوم مگر جیسے ہی علم کا دامن تھاما دنیا بھر کی بادشاہی مل گئی۔

6۔ ایک اہم نقطہ کے انبیاء سے وابستہ اشیاء کی شبیہ بھی بنائی جا سکتی ہے اور وہ اصل جتنی ہی محترم ہوتی ہیں کیونکہ وہ انبیاء سے منسوب ہوتی ہیں۔

7-تابوت کی تلاش کا جنون عبادت و مذہبی عقیدے کےنام پر دھوکہ ہے یہ عبادت سے بڑھ کر کچھ ہے جسکے پیچھے پوری دنیا پرحکمرانی اور اپنی افضلیت ثابت کرنے کا خواب ہے۔(جو پورا نہ ہو پائے گا)

8۔سب سے آخری بات تابوت موجود ضرور ہےمگرہیکل میں نہیں ہے اس دور کے بادشاہ یعنی امام مہدی کے ساتھ ہی ظاہر ہوگا اور آیت ِ خداوندی کے مطابق بادشاہِ وقت کی گاہی دے گا ۔(تقریباً تمام ادیان و مسالک اس نقطے پر متفق ہیں)

حوالہ جات

  1. پانیپتی،قاضی ثناءعثمانی مجددی،مترجم الازہری،پیر محمد کرم شاہ، تفسیر مظہری،(لاہور:ضیاء القرآن پبلیشر،۲۰۰۲) ج ۱،ص۴۸۷
  2. القرآن : ۲۴۸/۲
  3. القرآن : ۱۷/۲
  4. القرآن : ۳۴/ ۱۳ – ۱۴
  5. عارف،محمودالحسن، اردو دائرہ معارف اسلامیہ انسائیکلو پیڈیا،(لاہور: پاکستان: شعبہ اردو معارف اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی،۲۰۰۳)، ج ۱۶
  6. القرآن : ۵۷/۲
  7. الصاوی، احمد بن محمد،مترجم سیوطی،جلال الدین، حاشیہ الصاوی علی تفسیر جلالین،( لبنان:مکتبہ لبنان بیروت)،ج ۱،ص۲۰۹
  8. شیرازی ،ناصر مکارم تفسیر نمونہ (مصباح القرآن ٹرسٹ،لاہور:۲۰۰۵ )ج ۲،ص۱۳۴
  9. سیُو ہاروی، محمد حفظِ الرحمٰن ،قصصُ القرآن، (کراچی:دارالاشاعت اردو بازار،۲۰۰۲)،ج ۲،ص۴۶۱
  10. اعظمی،مولانا عبدالمصطفیٰ،عجائب القرآن،بحوالہ تفسیر ِجمل،(کراچی:مکتبہ فیضانِ مدینہ،۱۹۸۱)،ج ۱،ص۳۲۱
  11. القرآن :۱۰۴/۱۷
  12. http://www.faizeraza.net/forum/showthread.php?t=1173 date12/12/2017