Playstore.png

فتنہ انکار حدیث کا ایک جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ بیان الحکمہ
عنوان فتنہ انکار حدیث کا ایک جائزہ
مصنف میمن، فرحانہ پروین
جلد 3
شمارہ 1
سال 2017
صفحات 120-129
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
سنت، منکر حدیث، خوراج، متعزلہ، اہل جدت، خبر واحد، حجیت حدیث
شکاگو 16 میمن، فرحانہ پروین۔ "فتنہ انکار حدیث کا ایک جائزہ۔" بیان الحکمہ 3, شمارہ۔ 1 (2017)۔

Abstract

In our society there is particular group of people, who spread fallacies propagandas and misunderstandings about Hadith in different ways though, Hadith of Holy prophet (PBUH) has second most important place in Islamic law, after Holy Quran, and this belief is firm and undisputed from beginning of Islam But in every era, there were and are such groups of people in Muslim ummah, who neglected the authenticity of Hadith and they always tried to create such doubts in minds of Muslims about Hadith, sometimes for political purposes and sometimes for materialistic advantages and benefits.    Muhadseen-e-Ikram, Mufasreen and other great scholars of Muslim world played an important role to defend Hadith and eliminate this affliction and sedition It is undoubtful fact that the religion Islam depends on both Holy Quran and Hadith, so it is duty of every Muslim to believe in truthfulness and authenticity of Hadith, and do not give any place to doubts in mind about Hadith

مقدمہ

میری اس تحقیق کا مقصد فتنۂ انکار حدیث کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا ہے۔ہمارے ہاہ ایک مخصوص طرز فکر کے لوگ حدیث کے متعلق بد گمانیوں کو مختلف طریقوں سے ہوا دے رے ہیں۔ انہوں نے قرآن کریم کی عظمت کے خوشنما الفاظ کے پردے میں حدیث پاک کی بساط کو لپیٹنے کی کوشش کی۔ اختلاف روایت کو بہانہ بنا کر حدیث نبوی کو نا قابل اعتبار قرار دیا۔تدوین حدیث کے طریق کار کو محل نظر قرار دے کر ذخیرہ حدیث کو عجمی سازش کا نام دیا249اور حجت حدیث کا کبھی صریحََا اور کبھی کنا یََا انکار کیا۔در حقیقت اس فتنے کا سدباب کرنے میں محدثین کرام249مفسرین قرآن اور علماء حق کا بہت اہم کردار رہا ہے۔انہیں کی علمی کاوشوں اور مشقتوں کا نتیجہ ہے یہ فتنہ ہمارے معاشرے میں جڑ نہیں پکڑ سکا ورنہ اس فتنے کو اٹھانے والوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔

حضور اکرم ﷺکی حدیث کو قرآن مجید کے بعد اسلامی قانون کا دوسرا اہم ترین ماخذ مانا جاتا ہے اور اسلام کی ابتداء سے ہی یہ بات مسلم اور غیر متنازعہ ہے۔اگر چہ فقہی آراء کے بارے میں مختلف نقطہء نظر رہے ہیں لیکن قرآن حکیم اور سنت نبوی کی حجیت کا کسی ماہر قانون دان نے کبھی انکار نہیں کیا ہے۔ لیکن ہر دور میں اسے عناصر امت مسلمہ میں موجود رہے ہیں جنہوں نے نبی اکرمؐ کی حدیث کو ماننے کی بجائے اپنی عقل اور تاویلات سے سنت رسول اللہ ﷺ کا انکار کیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالی نے صاف اور صریح طور پر قرآن مجید میں فرما دیا کہ:یا ایھاالذین امنولا تقدمو بین یدی اللہ ورسولہ واتقواللہ ان اللہ سمیع علیم" (1) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ اور اس کے رسولﷺ کے آگے پیش قدمی نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اللہ تعالی سب کچھ سننے اور جاننے والہ ہے۔“(2(

سورہ الحجر ات کی یہ آیت ہر مومن سے تقاضا کرتی ہے کہ اللہ کے احکام اور ان پر عمل کرنے کے طریقوں اور تشریحات کے معاملے میں اپنی تاویلات پیش نہ کرو بلکہ تمہاری ہر سوچ اور ہر عمل اللہ اور رسولﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر ہونا چاہئیے۔ورنہ دوسری صورت میں تم گرفت میں آسکتے ہو۔قرآن مجید کے بعد خود سنت رسول ﷺ اپنے آپ کو حجت مانتے ہے۔حضرت مقدام بن معد یکرب سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا خبردار ہو! مجھے کتاب( قرآن )اور اس کے ساتھ اسی کے مثل اور بھی (حدیث) دی گئی ہے۔تم خبردار ہو جاؤ قریب ہے جو ایک پیٹ بھرا آدمی یعنی (آسودہ) اپنے چھپر کھٹ پر پڑا ہوا کہے گا تم قرآن ہی کو اختیار کرو اور جو قرآن میں حلال پاؤ اس کو حلال جانو اور جو قرآن میں حرام پاؤ اس کو حرام جانو۔سن رکھو گدھا تمہارے لئے حلال نہیں اور نہ ہر دانت والا درندوں میں سے اور نہ ذمی کا پڑا ہوا مال مگر جب اس کا مالک اس سے بے پرواہ ہوجائے۔اور جو کوئی شخص کسی قوم اس کی مہمانی نہ کرے تو اس مہمان کو حق پہنچتا ہے کہ اس قوم سے اپنی مہمانی کے مقدار رزق لے لے۔ (3) جو لوگ اللہ کی کتاب قرآن مجید کی تشریح میں حضور ﷺ کے قول و عمل کو صحبت اور دلیل نہیں مانتے ان کو منکرین حدیث اور ان کے انکار کو انکار حدیث کہا جاتا ہے۔اگر ہم اسلامی تاریخ کا بغور مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ فتنہء انکار حدیث کی ابتداء پہلی صدی کے نصف میں ہی شروع ہوئی ہے(4) جب حضرت علی کو 40ھ میں خارجیوں نے شہید کیا اور باغی عناصر نے اور بھی کئی حرکتیں کیں ان میں ایک حرکت حدیث کا انکار بھی تھی۔حضورؐ کے مشہور صحابی حضرت عمران بن حصین ایک دفعہ حدیث کا درس دے رہے تھے تو ایک شخص نے ان کو کہا: لا تحدثو نا الا با القرآن .قال: فقال لہ, ادنہ, فدنا فقال: ارایت لو و کلت انت واصحا بک الی ا لقرآن اکنت تجد فیہ صلاۃ الظہر اربعاو صلاۃ العصر اربعاو المغرب ثلاثا تقرافی اثنتین؟ ارایت لو وکلت انت واصحابک الی القرآن اکنت تجد الطواف بالبیت سبعا والطواف بالصفا و المروہ ؟ ثم قال :ای قوم! خذو عنا, فانکم واللہ ان لاتفعلو لتضلن(5)”ہم سے صرف قرآن مجید کے حوالے سے بات کیجئے۔یہ سن کر حضرت عمران بن حصین نے اس کو کہا کہ قریب آؤ وہ شخص قریب آیا تو حضرت عمران نے کہا کہ بھلا بتاوء کہ اگر تم اور تم جیسوں کو قرآن پر ہی چھوڑ دیا جائے تو پھر تمہیں ظہر کی 4رکعتیں عصر کی4 رکعتیں اور مغرب کی 3 رکعتیں نماز قرآن میں کہیں ملیں گی؟ اگر نہیں ملیں گی تو کیا تم یہ نمازیں2.2 رکعتیں پڑھو گے؟اس طرح بیت اللہ کا طواف 7 چکر اور صفا و مروہ کی سعی کے7 چکر قرآن میں ملیں گے؟ اس کے بعد حضرت عمران نے شاگردو کی طرف دیکھ کر فرمایا: اے میرے شاگردو! تم حدیث ضرور پڑھو اللہ کی قسم نہیں پڑھو گے تو بھٹک جاؤ گے۔اس طرح ایک اور انکار حدیث کا واقعہ ہمیں 90ھہ کے قریب ملتا ہے۔مشہور محدث تابعی بزرگ مطرف بن عبداللہ (متوفی 95ھہ) حدیث کا درس دے رہے تھے تو ایک شخص نے کہا:لا تحد ثو نا ا لا با لقرآن :فقالہ مطرف :واللہ مانرید بالقرآن بدلا ولاکن نرید من ھو اعلم بالقرآن منا۔(6(

”ہم سے فقط قرآن مجید کی بات کریں ۔اس پر مطرف نے کہا اللہ کی قسم ہمیں قرآن کے بدلے اور کچھ نہیں چاہئے پر ہم قرآن کو اس شخصیت کی معرفت سمجھنا چاہتے ہیں جو قرآن کو ہم سے زیادہ سمجھتا تھا۔“ ان واقعات سے اندازا ہو رہا ہے کہ اس وقت تک یہ حرکتیں شخصی تھیں کوئی مذہبی فرقہ اجتمائی طور پر اس دور میں حدیث کا منکر نہیں تھا۔ دوسری صدی ہجری میں کچھ مذہبی فرقوں کی طرف سے اس فتنے نے سر اٹھایا اور اس فتنے کو اٹھانے والے خوارج اور معتزلہ تھے۔ایک معتزلی ابراہیم بن سیار جو نظام معتزلی کے نام سے زیادہ مشہور ہے۔صحابہ کرام اور بڑے بڑے علماء حدیث کے بارے میں اس نے زبان درازی کی اور عقل کی بنیاد پر حضورﷺ کے معجزات بیان کرنے والی روایات کو رد کر دیا۔(7)خبر واحد تو کیا معتزلہ نے خبر متوا تر کا بھی انکار کیا۔عقل کو اہمیت دیتے ہوئے حدیث کی اہمیت کو گھٹا دیا۔حدیث کے بارے میں معتزلہ کے خاص فرقوں (خیاطی اور واصلی) فرقوں کا بھی یہی حال تھا۔معتزلہ کو اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کو جواب مفکر اسلام مولانا سید مودودی اپنی کتاب سنت کی آئینی حیثیت میں یہ دیتے ہیں۔ “معتزلہ کو اس کی ضرورت اس لئے لاحق ہوئی کہ عجمی اور یونانی فلسفوں سے پہلا سابقہ پیش آتے ہی اسلام عقائد اور اصول و احکام کے بارے میں جو شکوک و شبہات ذہنوں میں پیدا ہونے لگے تھے انہیں پوری طرح سمجھنے سے پہلے وہ کسی نہ کسی طرح حل کر دینا چاہتے تھے۔خود ان فلسفوں میں ان کو وہ بصیرت حاصل نہ ہوئی تھی کہ ان کا تنقیدی جائزہ لے کر ان کی صحت و قوت جانچ سکتے۔انہوں نے ہر اس بات کو جو فلسفے کے نام سے آئی سراسر عقل کا تقاضہ سمجھا اور چاہا کہ اسلام کے عقائد اور اصولوں کی ایسی تعبیر کی جائے جس سے وہ ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہوجائیں۔اس راہ میں حدیث و سنت مانع ہوئی اس لئے انہوں نے حدیث کو مشکوک ٹہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کیا۔”خوارج نے بھی معتزلہ کی طرح حدیث کو مشکوک ٹہرایا اور حدیث سے جان چھڑانے کی خاطر حدیث کے بنیادی راویوں (صحابہ کرام) کو اسلام سے خارج قرار دیا اور کہا کہ جب حدیث کے راوی ہی ہماری نظر میں مسلمان نہیں ہیں تو پھر ان کی روایتوں کا کیا اعتبار؟ مذہبی فرقوں کی تاریخ بیان کرنے والے لکھتے ہیں کہ:دین الخوارج اکفار علی و عثمان واصحا ب الجملومعاویہ واصحابہ والحکمین و من رضی بالتحکیم۔(8)’خارجیوں کے نظرئیے کے مطابق حضرت علی ,حضرت عثمان ,حضرت علی کے خلاف جنگ جمل میں شریک ہونے والے ,حضرت معاویہ اور اس کے ساتھی, جنگ صفین کے حکم اور حکم کے فیصلے کو ماننے والے سب کافر ہیں۔”خوارج نے حجیت حدیث کا انکار کیوں کیا؟ مولانا مودودی اپنی کتاب “ سنت کی آئینی حیثیت” میں واضح طور پہ لکھتے ہیں کہ:”خوارج کو اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ مسلم معاشرے میں جو انار کی وہ پھیلا نا چاہتے تھے اس کی راہ میں رسول اللہﷺ کی وہ سنت حائل تھی جس نے اس معاشرے کو ایک نظم و ضبط پر قائم کیا تھا اور اس کی راہ میں حضور ﷺ کے وہ ارشادات حائل تھے جن کی موجودگی میں خوارج کے انتہا پسندانہ نظریات نہ چل سکتے تھے۔اس بناء پر انہوں نے احادیث کی حجت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔“

الغرض دونوں فرقوں کا مقصد اور غرض ایک ہی تھی وہ یہ کہ قرآن کو اس کے لانے والے کی قولی و عملی تشریح و توضیح سے اور اس نظام فکر و عمل سے جو خدا کے پیغمبر نے اپنی رہنماہی میں قائم کر دیا تھا .الگ کر کے مجرد ایک کتاب کی حیثیت سے لے لیا جائے اور اس کی من مانی تا و یلات کر کے ایک دوسرا نظام بنا ڈالا جائے جس پر اسلام کا لیبل چسپا ں ہو.اس غرض کے لئے جو طریقہ انہوں نے اختیار کیا اس کے دو حربے تھے .ایک حدیث کے بارے میں دلوں میں شک ڈالا جائے دوسرے یہ اصولی سوال اٹھایا جائے کہ کوئی قول یا فعل حضور ؐ کا کوئی ہو بھی تو ہم اس کی اطاعت و ابتاع کے پابند کب ہیں؟ان کا نقطہء نظر یہ تھا کہ محمدرسول اللہﷺ ہم تک قرآن پہنچانے کے لئے مامور کئے گئے تھے سو انہوں نے پہنچا دیا۔اس کے بعد محمد بن عبداللہ ویسے ہی ایک انسان ہیں جیسے ہم ہیں انہوں نے جو کچھ کہا یا کیا وہ ہمارے لئے حجت کسیے ہو سکتا ہے۔(9) محدثین اور مفسرین کے زبردست تحقیقی کام سے یہ فتنے زیادہ دیر نہ چل سکے اپنی موت آپ مر گئے تیسری صدی ہجری کے بعد پھر صدیوں تک اس فتنے کا نام و نشان باقی نہ رہا۔

دور جدید میں انکار حدیث:

کئی صدیاں گذر جانے کے بعد 13ویں صدی ہجری میں اس فتنے نے پھر عرب ممالک میں جنم لیا۔اس کی نشاندہی ڈاکٹر مصطفی السباعی اپنی علمی و تحقیقی کتاب “السنۃ و مکا نتہا فی التشریع الا سلامی” میں کرتے ہیں۔السباعی مر حوم لکھتے ہیں کہ:”ہمارے اس دور (بیسویں صدی عیسوی) میں کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں جن کو سنت کے متعلق کوئی علم نہیں ہے اور وہ شرعی ا حکام کے ثابت ہونے میں سنت کو حجت ماننے کے منکر ہیں۔”شیخ رشید رضا مرحوم کی زیرا دارت شایع شدہ تفسیر”المنار” کے نویں سال کے دو شماروں میں توفیق صدقی کے دو مضمون شایع ہوئے ہیں جن میں وہ کہتا ہے کہ”اکیلا قرآن ہی اسلام ہے” خود شیخ رشید رضا انہی نظریات کاقائل تھا۔ اس نے حدیث پر عمل کرنے کو اندھی تقلید سے تشبیہ دی۔ جامعہ الازھر کے ابو ریہ مصری جن کا شمار حدیث کے پیشواؤ ں میں ہوتا ہے۔بغیر کسی علمی سند کے اس نے خود کو شیخ کہلوایا. حدیث کا انکار کیا .اسلام میں جدت لانے کے راستے حدیث کا مذاق اڑایا۔(10)

بر صغیر میں انکار حدیث کا فتنہ

عرب کی سر ز مین سے ہوتا ہوا یہ فتنہ بر صغیر میں پہنچاا ور بڑی بڑی شخصیات نے یہ نظر یہ اپنایا بر صغیر میں اس کے لئے “تجد د فی الدین” کا لفظ استعمال کیا گیا۔معاشی اور اقتصادی ترقی کے لئے جدید سے جدید تر و سائل اور علوم و فنون کی تخلیق اور ان کا استعمال مفید ہے بلکہ اسلام اس کی ترغیب دیتا ہے.لیکن دین اسلام میں جدت اور قدامت کی تقسیم ایک لا یعنی قسم کی تقسیم ہے۔اس لئے اسلام اور قرآن کو سمجھنے کے لئے قرآن اور اسلام کو دنیا کے سامنے پیش کرنے والے رسول ﷺ کی تعلیمات ہی بنیادی “ماخذ” ثابت ہو سکتی ہیں۔جو آپ ﷺ کے اصحاب کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں۔اس لئے قرآنی آیات اور احادیث کے سیاق و سباق قرآنی نظائر سب کو نظر انداز کر کے اور ان سے با لکل آنکھیں بند کر کے صرف عقلیت اور جدید یت کا شوق پورا کونے کے لئے تفسیر کرنا اور سنت رسول ﷺ کی جگہ فلسفہ قدیم یا فلسفہ جدید کو ماخذ قانون قرار دینا راہ راست سے بھٹکے ہو ؤں کا منہج ہے۔ اہل جدت کا مقصد در اصل قرآن اور حدیث کے نام پر مغرب کے باطل افکارو نظریات کو فروغ دینا ہے۔

بر صغیر میں تجد د فی الدین کے بانی سر سید احمد خان ہیں۔سر سید احمد خان کی زندگی تین حیثیتوں سے ہمارے سامنے آتی ہے۔وہ مصنف بھی تھی249 مذہبی مصلح بھی تھے اور قومی رہنما بھی تھے۔مسلمانوں کی ترقی کے لئے ان کی کی گئی کوششیں نا قابل فراموش ہیں۔مذہبی مصلح کی حیثیت سے سر سید پہلے مجتہد تھے جنہوں نے جدید علم الکلام کی ضرورت کو محسوس کیا یہ اس دور کی بات ہے جب مغرب میں سائنسی اور مادی ترقی زوروں پر تھی ۔ اہل یورپ مذہب اور سائنس کو دو الگ الگ خانوں میں رکھ چکے تھے۔تب سر سید احمد خان نے قرآن کی ایسی تفسیر کی جو مغرب کے مادہ پرستوں کے لئے قابل قبول ہو۔سر سید احمد نے “تفسیر ا لقرآن” کے نام سے ایک تفسیر لکھی جو سورت طہ تک لکھی گئی تو آپ کا انتقال ہو گیا اور تفسیر مکمل نہ ہو سکی۔یہ تفسیر اہل سنت کے اصول تفسیر کے خلاف علوم و فنون جدیدہ کے مطابق لکھی گئی۔اس تفسیر میں سر سید احمد خان نے معجزات حسی کا انکار کیا ہے۔وحی اور نبوت کے بارے میں ان کا ایک خاص عقیدہ تھا۔صفات الاہی کی نفی معتزلہ کا مذہب ہے249سر سید نے صفات کو عین ذات تسلیم کر کہ فلاسفہ اور مغتزلہ کا مسلک اختیار کیا ہے۔(11) قرآن میں ایسے بہت سے معجزات اور خوارق العادات واقعات کا ذکر ہے جیسے حضرت ابراہیم کا آگ سے زندہ نکلنا یا مو سی کی لاٹھی کا سانپ بن جانا یا پتھر سے بارہ چشمے پھوٹنا وغیرہ۔سید صاحب نے قرآن مجید کو فلسفہ جدیدہ کے لئے قابل قبول بنانے کے لئے قرآن میں مذ کورہ معجزات اور الفاظ کے حقیقی معانی کو تبدیل کر کے قانون فطرت اور نیچر لزم کے مطابق بنانے کی نا کام کوشش کی ہے۔چونکہ قرآن کے سب سے بڑے مفسر اور شارح خود نبی کریم ﷺ تھے۔اور قرآن کے سباق و سباق اور معنی و مفہوم کو سمجھنے کے لئے سنت رسول ﷺ کی طرف رجوع لازمی ہے۔ورنے گمراہی کے راستے کھلے ہیں۔معجزات کی وضاحت احادیث سے بھی ہوتی ہے۔اور معجزات کا انکار گو یا حدیث کا انکار ہے۔مولوی چراغ علی بھی سر سید کے ہم خیال و ہم نظریہ تھے۔ سر سید احمد خان کے بعد مولوی عبد اللہ چکڑ الوی اس نظرئیے کو لے کر آگے بڑھے۔یہ صاحب اپنی کتاب “مناظرہ” لکھتے ہیں کہ:قرآن مجید میں دین اسلام کا ہر حکم و ضاحت کے ساتھ کھول کر بیان کر دیا گیا ہے تو پھر اب وحی خفی یا حدیث کی باقی کیا ضرورت رہتی ہے؟بلکہ اس کو ماننا اور دین اسلام میں اس پر عمل کرنا پوری طرح سے کفر 249شرک249ظلم اور فسق ہے۔(12)آگے مزید لکھتا ہے کے حضورﷺ کے وصال کے کئی سو سال بعد کچھ مطلبی لوگوں اپنی طرف سے اس کو(نعوذ با اللہ) گھڑ لی اور پورے کالے دل سے حضورﷺ کی طرف نا حق منسوب کر دی ہیں۔مولوی احمد الدین امرتسری کا نام بھی انہی اہل جدت میں آتا ہے۔یہ صاحب فرماتے ہے کہ “اگر حدیثیں قرآن مجید کی طرح ہمیشہ کہ لئے ضروری ہوتیں تو یہ بھی قرآن کی طرح ہم تک پہنچائی جاتی۔”(13)مولوی احمد الدین امرتسری نے تو حد ہی کر دی کہ انکار حدیث کہ بعد انکار نبوت اور انکار رسالت کی بھی جراء ت اور ہمت کی ۔پھر مولا نا اسلم جیراج پوری اس نظرئیے کہ علمبردار بنے۔علامہ صاحب اپنی کتاب تعلیمات قرآن میں فرماتے ہیں کہ:”یہ(قرآن) واضح صاف اور روشن ہے۔اپنی مقاصد کا خود ہی شارح ہے اس کو سمجھنے کہ لئے کسی اورروشنی کی کو ئی ضرورت باقی نہیں ہے۔”اسی کتاب میں جیراج پوری صاحب حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: “احادیث میں جو چیز (مثلا اسوۃ حسنۃ) متوا تر ہم تک پہنچی ہے وہ تو یقینی اور دینی ہے اور جو چیز روایتََا خبر واحد کے ذریئے آئی ہے وہ ظنی اور تاریخی ہے۔”آگے چل کر اس باطل نظرئیے کو علامہ جیراج پوری کے شاگرد چوہدری غلام احمد پرویز ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور انتہا کی حد تک پہنچ جاتے ہیں پرویز صاحب فکری ارتقاء کی سیڑہیوں پر چڑہتے ہوئے جس منزل پر پہنچتے ہیں انہیں کی زبانی سنتے ہیں فرماتے ہیں کہ:”اللہ تعالی نے حضورؐ کی نبوی حیثیت اور بشری حیثیت میں واضح فرق بیان کیا ہے۔نبی کی حیثیت سے آپؐ پر وحی نازل ہوتی تھی جس میں آپؐ کی مرضی یا خواہش کو دخل نہیں تھا ۔مگر اس کے بعد آپؐ جو کچھ بھی فرماتے تھے یا جو بھی فیصلے کرتے تھے وہ بشری حیثیت سے کرتے تھے.جن میں اجتہادی بھول چوک کا امکان رہتا تھا۔”(14)یعنی پرویز صاحب کے کہنے کہ مطابق حضورؐ نے اپنی پوری نبوی زندگی میں قرآن مجید کی جو بھی زبانی یا عملی تشریح کی وہ رسول کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک عام بشر کی حیثیت سے کی۔شاید اسی لئے پرویز صاحب حدیث کو احادیث کہنے کی بجائے روایات(Traditions) کہا کرتے تھے.ان کی کتابیں مطالب القرآن249لغات القرآن اور مفہوم القرآن کو پڑھ کر ایک عام مسلمان بھی اس تاثر کو لے سکتا ہے کہ ان کے نزدیک دین صرف قرآن ہے۔حدیث کو کوئی دینی اور شرئی حیثیت نہیں دیتے۔

دور حاضر میں غلام احمد پرویز کو منکر حدیث کا پیشوا سمجھا جاتا ہے۔اس کی کتابوں سے اور ماہنامہ “طلوع اسلام” سے ان لوگوں میں بہت زہر پھیلا ہے جو علماء حق سے دور رہتے ہیں۔عصر حاضر میں کچھ علماء کرام جاوید احمد غامدی کو بھی اسی صف میں کھڑا کرتے ہیں۔حالانکہ غامدی نے حدیث کا صریح انکار نہیں کیا ہے.لیکن وہ حجیت حدیث کے حوالے سے ایسے افکا ر ضرور رکھتے ہیں۔ان کے نظریات ان کی کتاب المیزان سے متشرح ہو رہے ہیں۔غامدی سنت اور حدیث دونوں کو الگ الگ بیان کرتے ہیں۔حدیث اور سنت میں فرق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:”سنت کا تمام تر تعلق عملی زندگی سے ہے۔علم و عقیدہ، تاریخ، شان نزول اور اس طرح کی دوسری چیزوں کا سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔لغت عربی میں سنت کی معنی پٹے ہوئے راستے کے ہیں۔اللہ تعالی نے قوموں کے ساتھ دنیا میں جزاو سزا کا جو معاملہ کیا قرآن میں اسے سنت اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔سنت کا لفظ ہی اس سے ابا کرتا ہے کہ ایمانیات کی قسم کی کوئی چیز بھی سنت نہیں ہے۔لہذا عملی نوعیت کی کوئی سنت نہیں .چنانچہ یہ معلوم ہے کہ رسول اللہﷺ نے جنگ میں تیر تلوار اور اس طرح کے دوسرے اسلحہ استعمال کئے ہیں،انٹوں پر سفر کیا ہے،مسجد بنائی ہے تو چھت کھجور کی بنائی ہے،اپنے تمدن کے لحاظ سے بعض کھانے کھائے ہیں،اور ان میں سے کسی کو پسند اور کسی کو نا پسند کیا ہے۔ایک خاص و ضع قطع کا لباس پہنا ہے جو عرب میں اس وقت پہنا جاتا تھا۔اور جس کے انتخاب میں آپ کے شخصی ذوق کو بھی دخل تھا249لیکن ان میں کوئی چیز سنت نہیں ہے اور نہ کوئی صاحب علم اسے سنت کہنے کے لئے تیار ہو سکتا ہے۔حدیث کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ خبر واحد کسی بھی عمل اور عقیدے میں اضافے کا باعث نہیں بنتی۔ان کے افکار کا قاری خود اندازہ کر سکتا ہے۔

خلاصہ کلام

حجیت حدیث کا انکار کرنے والے قدیم دور میں منکرین حدیث اور جدید دور کے منکرین حدیث جن بنیادی نقاط پر متفق ہیں وہ یہ ہیں۔

  1. قرآن مجید خود واضح کتاب ہے۔اس لئے اس کو سمجھنے کے لئے کسی دوسری چیز (سنت یا حدیث)کی ضرورت نہیں ہیں۔
  2. احادیث (جن کو قرآن مجید کی تشریح کہا جاتا ہے)صحیح نہیں ہیں۔کیونکہ یہ ان راویوں کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں جو قابل بھروسہ نہیں ہیں۔
  3. کتاب حدیث کا کام حضورﷺ کے وصال کے دو سو سال بعد ہوا ہے۔اس دوران حدیثوں میں بہت کچھ جھوٹ شامل ہو گیا۔اس لئے حدیثیں صحیح نہیں ہیں۔
  4. حدیث کے صحیح ہونے کہ لیئے یہ بھی ضروری تھا کہ وہ بھی قرآن مجید کی طرح لکھی ہوئی ہوتیں۔“الاسلام ھو القرآن وحدہ” “یعنی اکیلا قرآن ہی اسلام ہے”۔ والا نظریہ اور سوچ صحیح ہے۔

ان تمام نقاط پر گہرائی سے سوچا جائے تو حدیث کے متعلق ایسی سوچ رکھنے والے حدیث کو قرآن مجید کی تشریح سے بے دخل کرتے نظر آئیں گے۔حدیث کو چھوڑ کر یہ عناصر قرآن مجید کا وہ آپریشن کریں گے،جس سے قرآن اور اسلام کا اصل چہرہ ہی مسخ ہو جائے۔ان عناصر کا یہی مقصد ہے کہ اسلام نہ ان کے اوپر نافذ ہو نہ دوسری انسانیت اسلام کے نفاذ سے برکتیں حاصل کر سکے۔منکر ین حدیث کہ خیالات و افکار اور نظریات کو پڑھنے کہ بعد ان کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ آپﷺ کے منصب رسالت کو محض ایک ڈاکیے کا منصب قرار دیتے ہیں جس کا کام اس قدر تھا کہ لوگوں کو قرآن پہنچائیں۔

حوالہ جات

(1) القرآن1/49۔

(2) مودودی ابوالا علی.تفہیم القرآن (سندھ: اسلامک پبلیکیشنر حیدرآباد،2004) ج 5،ص77۔

(3) ابوداؤد سلیمان بن اشعث ،سنن ابوداؤد شریف،کتاب السنہ، (لاہور:اسلامی ا کاڈمی اردو بازار،1983) ج3، ص451۔

(4) مولانا عبداللہ کھوسو، سنت تدوین سے پہلے اور اس کے بعد (شکارپور:مہران اکیڈمی،2013 ) ص 468۔

(5) الشا طبی ابو اسحاق ،الموا فقات ،ج4،ص 408 بحوالہ مولانا عبداللہ کھوسو،سنت تدوین سے پہلے اور اس کے بعد ، ص468۔

(6) ایضاً۔

(7) شہر ستانی محمد بن عبد الکریم ،الملل وا لنحل ج1،ص 25 بحوالہ مولانا عبداللہ کھوسو،سنت تدوین سے پہلے اور اس کے بعد،ص470۔

(8) ایضاً۔

(9) مودودی ابو الا علی ، سنت کی آئینی حیثیت (لاہور: اسلامک پبلیکیشنز ،1970ء ) ص16،15۔

(10) السباعی ڈاکٹر مصطفی،السنۃ و مکا نتہا فی التشریع الا سلامی (الدار ا لعا لمیۃ للکتاب الا اسلامی ) ص399 تا 401۔

(11) مولانا گوہر رحمن،علوم القرآن (مردان: مکتبہ تفہیم القرآن ، 2014 ء) ص397۔

(12) بلخی، افتخار احمد ، فتنہ انکار حدیث کا منظرو پس منظر، ج 1، ص78، بحوالہ مولانا عبداللہ کھوسو،سنت تدوین سے پہلے اور اس کے بعد، ص481۔

(13) ایضاً۔

(14) قاسمی حافظ محمد دین ،تفسیر مطالب القرآن کا علمی و حقیقی جائزہ ،ج1،ص351 ،بحوالہ مولانا عبداللہ کھوسو ،سنت تدوین سے پہلے اور بعد،ص483۔