Playstore.png

اخلاق کی علمی، ادبی اور معاشرتی اہمیت

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ حبیبیہ اسالمیکس
عنوان اخلاق کی علمی، ادبی اور معاشرتی اہمیت
انگریزی عنوان
Educational Literary and Social Significance of Morality
مصنف Hassan، Mahmood، Safia Aftab، Ubaid Ahmed Khan
جلد 1
شمارہ 2
سال 2017
صفحات 29-40
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Ethics, Importance of Ethics in Islam, Moral values of Islam, Islam code of Life.
شکاگو 16 Hassan، Mahmood، Safia Aftab، Ubaid Ahmed Khan۔ "اخلاق کی علمی، ادبی اور معاشرتی اہمیت۔" حبیبیہ اسالمیکس 1, شمارہ۔ 2 (2017)۔

Abstract

Ethics and moral values are more significant than other behaviors and emotions at all world religions. There are two kinds of ethics behind the action of a human being towards the practical life in any human society Individual ethics and collective ethics. In this article the author focuses on both of them and described in the light of QUR'AN and SUNNAH. He differentiates also its shapes one from another, He probed from recent history that an individually honest man can be seemed to play un-ethical and Hippocratic role under the shadow of so-called collective ethics or national interest.


اسلام میں اخلاق کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے جب ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ ”کان خلقہ القرآن“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن مجید تھا۔1


خُلُق لغت میں طبیعت اور عادت کو کہتے ہیں جس پر انسان کو پیدا کیا گیا ہو اور وہ انسان کے اندر راسخ ہوگئی ہو اور جس طرح انسان کی ظاہری صورت اور اوصاف ہوتے ہیں تو خُلُق حقیقت میں انسان کے اندرونی اور باطنی اوصاف کو کہتے ہیں دوسرے الفاظ میں اسے نفس بھی کہا جاتا ہے۔2


لغوی تعریف کے اعتبار سے اچھے اور برے اخلاق میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ یہ تعریف دونوں پر دلالت کرتی ہے۔ کلام عرب میں جب کسی کے اخلاق کی تعریف کی جائے تو اس کے ساتھ تعریفی صفت ضرور استعمال ہوگی۔ جیسے حسن، کریم، جمیل وغیرہ۔


اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کو جس صفت اخلاق سے متصف فریا ہے وہ یوں ہے:


واِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ۔3


”اور تو پیدا ہوا ہے بڑے اخلاق پر۔“


یعنی اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو اعلیٰ اخلاق و ملکات پر پیدا فرمایا ہے۔حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقصد عظیم کو ان الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے:


بعثت لاتمم حسنَ الاخلاق۔4


’’ مجھے بہترین اخلاق کی تکمیل کیلئے بھیجا گیا ہے۔“


امام احمد کی روایت میں ”صالح الاخلاق“ کے الفاظ ہیں۔ یعنی ”نیک اخلاق“کی تکمیل کیلئے میری بعثت ہوئی ہے۔5 جیسا کہ ذکر کیا جاچکا کہ لغوی اعتبار سے اچھے اور برے اخلاق کی تعریف ایک ہی ہے اس لئے ضروری ہوا کہ جس اخلاق کی تکمیل کیلئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا گیا اس کی وضاحت کردی جائے کہ وہ اعلی، عظیم، اچھے اور صالح اخلاق ہیں۔


اسلام اچھے اخلاق کی طرف بلاتا ہے اور برے اخلاق و بداخلاقی سے روکتا ہے۔اور جس طرح عربی زبان میں اچھے اور برے اخلاق کی تعریف کی جاتی ہے اسی طرح اردو زبان میں بھی خوش اخلاقی و بداخلاقی کہا اور بولا جاتا ہے۔اعلیٰ اور اچھے اخلاق کی جب بات کی جائے گی تو سب سے پہلے سچائی، جس کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے سب سے پہلے سرکاری عام خطاب میں ایک امانت قرار دیا۔ 6 کا تذکرہ کیا جائے گا۔


سچ ایک ایسی صفت اور اخلاق ہے کہ بنی نوع انسان کا ہر سلیم الفطرت انسان اس صفت و اخلاق کی تعریف کرے گا اور اسے تسلیم کرے گااور دنیا کے ہر فلسفے اور فکر میں سچ کی حیثیت اور اہمیت کو مانا اور تسلیم کیا گیا ہے یعنی انفرادی اور اجتماعی سطح پر سچ اور سچ بولنے کی تعریف کی جاتی ہے اور اس کی حیثیت اور اہمیت کو مانا جاتا ہے اس سے متصف انسان کو اعلی اخلاقی اقدار رکھنے والا تسلیم کیا جاتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اسلام سے زیادہ کون سچ اور سچائی کی بات کرنے والا ہوگا۔قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں فرمایا گیا ہے:


وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیۡثًا۔7


”اور اللہ سے سچی کس کی بات۔“


دوسری جگہ فرمایا گیا:


وَ مَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰہِ قِیۡلًا۔8


”اور اللہ سے سچا کون (ہے)۔“


اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام کے تذکرہ میں ان کی تعریف یوں کی گئی:


وَ اذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ اِبۡرٰہِیۡمَ ۬ؕ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیۡقًا نَّبِیًّا۔9


”اور مذکور کر کتاب میں ابراہیم کا ، بیشک تھا وہ سچا نبی۔“


وَ اذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ اِدۡرِیۡسَ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیۡقًا نَّبِیًّا۔10


”اور مذکور کر کتاب میں ادریس کا ، وہ تھا سچا نبی۔“


حضرت اسماعیل علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا:


وَ اذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ اِسۡمٰعِیۡلَ ۫ اِنَّہٗ کَانَ صَادِقَ الۡوَعۡدِ وَ کَانَ رَسُوۡلًا نَّبِیًّا۔11


’’وہ تھا وعدہ کا سچا اور تھا رسول نبی۔“


حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر ”صدیقہ“کے لقب سے کیا گیا:


مَا الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ وَ اُمُّہٗ صِدِّیۡقَۃٌ۔12


”نہیں ہے مسیح مریم کا بیٹا مگر رسول، گزر چکے اس سے پہلے بہت رسول اور اسکی ماں سچی (ولی) ہے۔“


اسی طرح ایمان والوں کو بھی سچائی کی طرف بلایا گیا اور سچ بولنے والوں کی تعریف کی گئی ہے:


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ۔13


’’ اے ایمان والو ڈرتے رہو اللہ سے اور رہو ساتھ سچوں کے۔“


سچائی کا ایک روپ سچی گواہی دینا ہے جس کو دین میں بنیادی اہمیت حاصل ہے اور یہ انسانی اخلاق کا ایک مضبوط ستون ہے۔ گواہی اور شہادت کو سچائی سے ادا کرنے کو اللہ کے لئے ادا کرنے کے الفاظ سے قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے:


وَ اَقِیۡمُوا الشَّہَادَۃَ لِلّٰہِ۔14


”اور سیدھی ادا کرو گواہی اللہ کے واسطے۔“


دوسری جگہ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے:


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُہَدَآءَ، للّٰہِ وَ لَوۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ اَوِ الۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ۔15


”اے ایمان والو! قائم رہو انصاف پر گواہی دو اللہ کی طرف کی اگرچہ نقصان ہو تمہارا، یا ماں باپ کا، یا قرابت والوں کا۔“


معاشرہ تب تک بہترین اور صالح نہیں ہوسکتا جب تک اس معاشرے میں رہنے والے انسانوں کے درمیان ایسے روابط قائم نہ ہوں جو اعلیٰ اخلاق اور عدل پر مبنی ہوں جس سے وہ امن اور سلامتی سے زندگی گزار سکیں اور ان کے درمیان باہمی اعتماد و تعاون کی فضا پیدا ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب معاشرے میں رہنے والے انسان امین اور متفاہم ہوں جو ذمہ داری ان کے ذمے ہو وہ درست طور پر ادا کریں۔ قرآن مجید سچی گواہی کو چھپانے کو ”گناہ اور ظلم“سے تعبیر کرتا ہے:


وَ لَا تَکۡتُمُوا الشَّہَادَۃَ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡتُمۡہَا فَاِنَّہٗۤ اٰثِمٌ قَلۡبُہٗ۔16


’’اور مت چھپاؤگواہی کو اور جو شخص اسکو چھپائے تو بیشک گنہگار ہے دل اس کا۔“


وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنۡدَہٗ مِنَ اللّٰہِ۔17


’’ اور اس سے بڑا ظالم کون جس نے چھپائی وہ گواہی جو ثابت ہوچکی اس کو اللہ کی طرف سے۔“


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں بھی جھوٹی گواہی کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے:


ألا أنبئكم بأكبر الكبائر؟ قلنا: بلى يا رسول الله! قال: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وكان متكئًا فجلس فقال: ألا وقول الزور ألا وشهادة الزور، فما زال يكررها حتى قلنا: ليته سكت۔18


’’ کیا میں تمہیں خبر نہ دوں بڑے گناہوں میں بھی بڑے کی؟ تین مرتبہ کہا۔ بولے کیوں نہیں اے اللہ کے رسولﷺ! فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا اور والدین کی نافرمانی۔ آپﷺ ٹیک لگائے بیٹھے تو سیدھے ہوکر بیٹھے اور فرمایا خبردار، اور جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی اور بار باردہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ کاش کہ آپﷺ اب بس کریں اور خاموش ہوجائیں۔ ‘‘


نبی اکرم ﷺ کو عرب بعثت سے پہلے ”صادق“کے ساتھ ”امین“کے نام اور وصف سے بھی جانتے تھے۔ امانت داری کی قرآن مجید میں تعریف کی گئی ہے بلکہ جو بھی اچھے اخلاق کسی انسان میں ہونے چاہیں ان سب کی اچھائی اور جو برے اخلاق اور وصف جو انسان میں نہ ہونے چاہئیں ان کی مذمت کی گئی ہے۔ امانت، اور امانت داری ایک ایسا وصف ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے خو ب اچھائی بیان کی ہے اور ذمہ داریاں چاہے وہ کسی بھی میدان یا شعبے سے متعلق ہوں جو اس کے اہل ہوں ان کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا ہے:


اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُکُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰۤی اَہۡلِہَا۔19


”بیشک اللہ تم کو فرماتا ہے کہ پہنچادو امانتیں امانت والوں کو۔“


اسی طرح امانت میں خیانت کی مذمت فرمائی ہے:


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَخُوۡنُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ وَ تَخُوۡنُوۡۤا اَمٰنٰتِکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ۔20


”اے ایمان والو! خیانت نہ کرو اللہ سے اور رسول سے اور خیانت نہ کرو، آپس کی امانتوں میں جان کر۔‘‘


اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں کہ خیانت سے مقصود وہ تمام خیانتیں ہیں جو اسلام کی تعلیم و تبلیغ اور امت کے مجموعی مصالح و مقاصد میں کی جائیں۔ 21


انفرادی اور اجتماعی سطح پر وعدوں اور معاہدوں کی اہمیت اور حیثیت تمام بنی نوع انسان کے ہاں مسلم ہے یہ ان اصولوں اور اخلاقیات میں سے ہے جن کی پاسداری کا درس ہر مذہب اور قوم دیتی نظر آئے گی۔ دین اسلام میں اس کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ وعدہ یا معاہدہ دو انسانوں کے درمیان ہو یا اجتماعی طور پر ہو دوستوں کے درمیان ہو، یا دشمنوں کے ساتھ ہو، اس کی پاسداری لازمی قرار دیتا ہے۔ قرآن مجید کی بے شمار آیات اس طرف واضح اشارہ کرتی ہوئی نظر آتی ہیں:


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوۡفُوۡا بِالۡعُقُوۡدِ۔22


”اے ایمان والو پورا کرو عہدوں کو۔“


وَ اَوۡفُوۡا بِالۡعَہۡدِ ۚ اِنَّ الۡعَہۡدَ کَانَ مَسۡـُٔوۡلًا۔23


”اور پورا کرو عہد کو بیشک عہد کی پوچھ ہوگی۔ ‘‘


اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری آیات ہیں جن کو طوالت کے خوف سے ترک کرتے ہیں۔حدیث مبارک میں عہدو میثاق، وعدہ توڑنے اور امانت میں خیانت کرنے والے کو منافق قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد نبویﷺ ہے:


آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا أتمن خان۔24


”منافق کی تین علامتیں ہیں ، جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے اور اگر امانت اس کے حوالے ہو تو خیانت کرے۔“


إذا عاهد غدر۔25


”جب معاہدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے ،توڑ دے۔‘‘


صلح حدیبیہ میں جب رسول اللہ ﷺ اور مشرکین مکہ کے درمیان صلح کی شرائط طے ہوگئیں تو ان شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر مشرکین مکہ میں سے کوئی مدینہ چلا جائے چاہے مسلمان ہوکر ہی جائے تو اسے واپس کیا جائے گا۔ابھی یہ شرائط لکھی جارہی تھیں تو سہیل بن عمرو جو کہ مشرکین مکہ کی طرف سے مذاکرات کرنے آئے تھے ان کا بیٹا ابوجندل وہاں کسی طریقے سے پہنچ گئے وہ مسلمان ہوچکے تھے لیکن ان کے والد نے انہیں زنجیروں سے جکڑ رکھا تھا کسی طرح وہ قید سے نکلنے میں کامیاب ہوئے اور حدیبیہ کے مقام تک پہنچے تو سہیل بن عمرو نے کہا کہ اے محمدﷺ یہ سب سے اول بات ہے جس کی آپ سے تقاضا کی جائے گی کہ آپ ان کو ہمیں واپس کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابھی صلح کی شرائط باقاعدہ طے ہوکر معاہدہ پورا نہیں ہوا ، لیکن سہیل بن عمرو کے اڑ جانے پر رسول اللہ ﷺ نے ابوجندلؓ کو مشرکین مکہ کو واپس کردیا۔26 اور ابوجندلؓ سے فرمایا کہ صبر کرو اور اللہ سے اجر کی امید رکھو اللہ تعالیٰ تمہارے اور دوسرے کمزور وں کے لئے کوئی نہ کوئی خلاصی کا راستہ ضرور نکالیں گے۔ 27


اس کے مقابلے میں مغربی اقوام خاص طور پر برطانوی استعماری حکومت جس نے برصغیر پر سیکڑوں سال حکومت کی اور یہاں اس کا جو قبضہ ہوا وہ بھی دھوکے اور دغا کا شاہکار ہے۔ جس میں جن ریاستوں اور حکومتوں سے انہوں نے جو معاہدے کئے تو ان معاہدوں کی کتنی پاسداری کی اور ان کو اپنے ناپاک مقاصد کے لئے کس طریقے سے استعمال کیا۔ کمزوروں سے ان کا رویہ اور طریقہ کیا تھا اور طاقتوروں سے ان کا انداز کیا تھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد، جماعتی عہدو پیمان اور برطانوی استعماری قابضین کے ان نام نہاد عہود و مواثیق کے حوالے سے لکھتے ہیں:”عہدو میثاق کے معاملات میں سب سے زیادہ اہم اور سب سے زیادہ نازک معاملہ جماعتوں کے معاہدوں کا ہے اور اس میں اس کی اصل آزمائش ہے۔ ایک انگریز یا فرنچ یا جرمن کی انفرادی زندگی کی سیرت، کیریکٹر دیکھو وہ اپنے وعدوں میں سچا اور اپنے قول و قرار میں بے داغ ہوگا۔ لیکن قومی اور سیاسی معاہدوں کی پابندی اس کی خود غرضانہ کام جوئیوں کی راہ میں حائل ہونے لگتی ہے تو پھر کیا ہوتا ہے؟ کیا ایک لمحہ کے لئے بھی یہ انفرادی سیرت اجتماعی بدعہدی کی راہ روک سکتی ہے؟ نہیں، بلکہ سب سے بڑا مدبر انسان وہی سمجھا جاتا ہے جو سب سے زیادہ عہد شکنیوں میں بیباک ہو۔


ہم صرف ہندوستان کی گذشتہ دو صدیوں کی تاریخ ہی میں دیکھ سکتے ہیں کہ اس بار ے میں انگریزی قوم کے جماعتی اخلاق کا معیار کیا رہا ہے؟ ہر معاہدہ جو طاقتور فریق کے ساتھ کیا گیا اور وہ طاقتور رہا، معاہدہ تھا، ہر معاہدہ جو کمزور فریق کے ساتھ کیا گیا اور وہ کمزور ہی رہا، معاہدہ نہ تھا۔ امیر چند، میر جعفر، میر قاسم، شاہ عالم، راجہ چیت سنگھ، نواب فیض اللہ، سعادت علی خان، نظام علی خان، برار، جے پور، میران سندھ کے لئے معاہدے کچھ مفید نہ ہوسکے، لیکن حیدر علی، ہلکر اور رنجیت سنگھ کے معاہدوں کی اخلاقی قدر و قیمت سے انکار نہیں کیا گیا۔ جماعتی معاہدے اگر پورے کئے جاتے ہیں تو اس لئے نہیں کہ معاہدے ہیں اور معاہدوں کا پورا کرنا ضروری ہے بلکہ اس لئے کے طاقتور فریق سے کئے گئے ہیں اور ان کی شکست مفید ہونے کی جگہ مضر ہوگی۔ 28


مولانا آزاد، کی یہ تحریر تو تقریباً ایک صدی قبل کی ہے لیکن آج بھی مغربی معاشرے اور ان کے افراد و حکومت کے یہی اخلاق و عادات ہیں۔ انفرادی طور پر بے داغ کیریکٹر کے حامل لیکن اجتماعی طور پر جہاں اپنے مفاد پر ضرب لگی وہاں وہ معاہدہ جو کہ کمزور سے کیا گیا ہو ہباءمنثورا ہوجائے گا لیکن اگر طاقتور سے کیا گیا ہو تو اس کو مجبورا برقرار رکھا جائے گا۔ ہماری نظر مغرب کی انفرادی اخلاق و کیریکٹر پر رہتی ہے جب کہ ان کے اجتماعی اخلاق اور کیریکٹر سے نظر اوجھل رہتی ہے اور اجتماعی بدعہدی اور بے وفائی ظلم اور زیادتی کو جنم دیتی ہے جس کا شکار اس وقت دنیا کی مختلف اقوام، مغربی طاقتور اقوام کے ہاتھوں ہو رہی ہیں۔ دنیا میں عدل و انصاف کا فقدان اور ظلم و زیادتی کا راج ہے۔جبکہ عدل و انصاف اعلی اخلاقی وصف ہے جو کہ دین اسلام کی بنیاد ہے۔ اگر معاشرے سے عدل و انصاف عنقا ہوجائے تو نہ وہ معاشرہ صالح معاشرہ بن سکتا ہے نہ ترقی کرسکتا ہے نہ ہی طویل عرصے تک قائم رہ سکتا ہے دین اسلام میں عدل و انصاف پر زور دیا گیا ہے اور اپنوں اور غیروں سبھی کے ساتھ عدل و انصاف سے پیش آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔چنانچہ ارشاد فرمایا گیا:


اِنَّ اللّٰہَ یَاۡمُرُ بِالۡعَدۡلِ وَ الۡاِحۡسَانِ۔29


”اللہ حکم کرتا ہے انصاف کرنے کا اور بھلائی کرنے کا۔“


وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعۡدِلُوۡا ؕ اِعۡدِلُوۡا ۟ ہُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی۔30


’’ اور کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہرگز نہ چھوڑو ، عدل کرو۔ یہی بات زیادہ نزدیک ہے تقوی کے۔“


عدل کے معنی ہیں کسی بھی شخص کے ساتھ افراط و تفریط کے بغیر وہ معاملہ کرے جس کا وہ مستحق ہے۔ شدید محبت و عداوت بھی اس میں کوئی فرق نہ کرسکے۔ اورتقویٰ کہتے ہیں کہ جو چیزیں شرعا مہلک یا کسی درجہ میں مضر ہوں اور ان سے بچنے رہنے سے ایک خاص نورانی کیفیت آدمی کے دل میں راسخ ہوجائے۔ تحصیل تقوی ٰکے قریب وبعید اسباب بہت سے ہیں۔ تمام اعمال حسنہ کو اس کے حصول کے اسباب میں شمار کیاجاسکتا ہے، لیکن دوست و دشمن کے ساتھ یکساں انصاف کرنا اور حق کے معاملہ میں جذبات محبت وعداوت سے مغلوب نہ ہونا حصول تقویٰ کے مؤثر ترین اور قریب ترین اسباب میں سے ہے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ عدل و تقوی میں انتہائی گہرا تعلق ہے اور یہ دونوں باتیں انسان کی طبعیت میں اعلیٰ اخلاق کے رسوخ سے ہی حاصل ہوسکتی ہیں، حدیث مبارکہ میں دل کو تقویٰ کا مکان اور مقام فرمایا گیا ہے:


التقوى هاهنا، التقوى هاهنا ويشير إلى صدرہ۔31


”تقوی یہاں ہے، تقوی یہاں ہے اور اشارہ فرمایا اپنے سینے کی طرف۔“


اللہ تعالیٰ انسان کی ظاہری صورت و شکل کو نہیں دیکھتا بلکہ اس کے دل کو دیکھتا ہے اس کے باطن کو دیکھتا ہے اور اس سے کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ جیساکہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:


إِنَّ الله لا يَنْظُرُ إِلى أَجْسامِكْم، وَلا إِلى صُوَرِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ۔32


”اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کی طرف نہیں دیکھتا اور نہ ہی تمہاری صورتوں کی طرف دیکھتا ہے، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے کاموں کی طرف دیکھتا ہے۔“


اعلی اخلاقوں میں والدین کے ساتھ اچھا سلوک اور نیکی بھی شامل ہے اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگانا چاہئے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے توحید کے ساتھ متصل ذکر فرمایا ہے:


وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا۔ وَ اخۡفِضۡ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحۡمَۃِ وَ قُلۡ رَّبِّ ارۡحَمۡہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا۔33


”اور حکم کر چکا تیرا رب کہ نہ پوجو اس کے سوائے اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو ،اگر پہنچ جائے تیرے سامنے بڑھاپے کو ان میں سے ایک یا دونوں تو نہ کہہ ان کو ہوں اور نہ جھڑک ان کو اور کہہ ان سے بات ادب کی اور جھکا دے انکے آگے کندھے عاجزی کرکے نیاز مندی سے اور کہہ اے رب ان پر رحم کر جیسا پالا انہوں نے مجھ کو چھوٹا سا۔“


توحید الہٰی سے متصل والدین کے حقوق پر توجہ دلانے کی وجہ یہ ہے کہ والدین کی پرورش، ربوبیت الہٰی کا پر تو ہے۔ والدین کی خدمت اور اطاعت کی آزمائش کا اصل وقت ان کے بڑھاپے کا وقت ہے کیونکہ پڑھاپا انہیں دوسروں کا محتاج بنا دیتا ہے اور اولاد کو جو انیوں کی مستی میں والدین کی خبرگیری کی طرف توجہ کرنے کی بہت کم مہلت ملتی ہے۔ حدیث میں فرمایا گیا ہے:


رغم أنفه، رغم أنفه، رغم أنفه، قيل من يا رسول الله؟ قال: من أدرك والديه عند الكبر أحدُهما أو كلاهما فلم يدخل الجنة۔34


”ذلیل ہوا، ذلیل ہوا، ذلیل ہوا، کہا گیا کہ کون اے اللہ کے رسول؟ فرمایا: جس نے اپنے ماں باپ کو پایا بڑھاپے میں ایک کو یا دونوں کو اور پھر جنت میں داخل نہ ہوا۔ ‘‘


اسی طرح رشتہ داروں، یتامیٰ ، مساکین وغیرہ سے نیک سلوک اچھے اخلاق کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات میں ان کے ساتھ اچھائی اور نیک سلوک کی ہدایت فرمائی ہے قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:


وَاعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ لَا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّ بِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ الۡجَارِ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡجَارِ الۡجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالۡجَنۡۢبِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ وَمَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ۔35


’’ اور بندگی کرو اللہ کی اور شریک نہ کرو، اس کا کسی کو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور قرابت والوں کے ساتھ اور یتیموں اور فقیروں اور ہمسایہ قریب اور ہمسایہ اجنبی اور پاس بیٹھنے والے اور مسافر کے ساتھ اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ۔“


رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے :


أنا وكافل اليتيم في الجنة هكذا ، و قال یاصبعیه بالسبَّابة والوسطى۔36


”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔ اور اپنے دونوں شہادت کی اور درمیانی انگلیوں کی طرف اشارہ کیا۔“


کسی بھی شخص کو چاہے معاشرہ میں وہ کسی بھی حیثیت یا رتبے کا حامل کیوں نہ ہو حقیر و ذلیل سمجھنا خود اس شخص کے برے اور بداخلاق ہونے کی علامت ہے۔ ارشاد نبویﷺ ہے:


بحسب إمريءمن الشرأن یحقرأخاہ المسلم۔37


”کسی شخص کے برے ہونے کے لئے یہ بات کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔“


انسانوں میں بہترین انسان اس کو شمار کیا گیا ہے جو کہ اخلاق کے اعتبار سے اچھا ہو۔ فرمایا گیا ہے:


إن من خیارکم احسنکم اخلاقا۔38


”تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے جو تم میں سے اخلاق میں سب سے اچھا ہے۔ ‘‘


اور اچھے اخلاق سے بڑھ کر قیامت میں انسان کے نامہ اعمال میں اور کوئی بھی چیز بھاری نہیں ہوگی۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے:


ما من شیءیوزن فی المیزان أثقل من حسن الخلق۔39


”قیامت کے دن ترازو میں اچھے اخلاق سے بھاری کوئی چیز نہ ہوگی۔“


دوسروں کے لئے بھی وہ بات پسند کرنا جو کہ اپنے لئے پسند کرتا ہے ایمان کی علامت کہا گیا ہے:


لایؤمن احد کم حتیٰ ما یحب لاخیه مياهب لنفسه۔40


’’ تم میں سے کوئی صاحب ایمان نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی لئے وہی بات پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔“


صرف ایک اس ارشاد نبوی ؐ پر ہی عمل ہو تو انسان کو اعلی اخلاق کے حصول میں آسانی ہوجائے اور معاشرے سے بہت ساری خرابیاں دور ہوجائیں۔ انسان خود غرض ہوکر ہر قسم کی اچھائی فقط اپنے لئے حاصل کرنا چاہتا ہے جس سے معاشرے میں فساد، نفرت اور لڑائی ہونا شروع ہوتی ہے اور ظلم و ناانصافی کا بازار گرم ہوتا ہے، لیکن اگر تمام حقداروں کو ان کا حق انصاف کے ساتھ ملے تو معاشرے سے ہر قسم کی نفرت، فساد اور بدحالی کا خاتمہ ممکن ہے۔ اسلام ایک ایسا ہی معاشرہ تشکیل دینا چاہتا ہے کہ جس معاشرے کے تمام ارکان بہترین اخلاق کے ساتھ متصف ہوں ہر ایک اپنی ذمہ داری پوری طرح سرانجام دے اور ہر ایک کو اس کے حقوق پوری طرح عدل و انصاف کے ساتھ ملیں اور کسی پر بھی کوئی ظلم و زیادتی نہ ہو اور جب معاشرے کے اکثر لوگ بہترین اخلاق کے حامل ہونگے من حیث الانفراد اور من حیث الاجتماع تو داخلی و خارجی دونوں محاذوں پر قوم اعلیٰ مدارج طے کرتی ہوئی ترقی کی اعلیٰ منزلوں کے طرف ہی روان دواں ہوگی۔اس کیلئے ضروری ہے کہ رسول اللہ ؐ کی شخصیت کو رول ماڈل بنا دیا جائے جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:


لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔41


”تمہارے لئے مفید تھی سیکھنی رسول اللہ کی چال۔‘‘


اور آپﷺ کے اخلاق کے لئے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی گواہی:


وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ۔42


”اور تو پیدا ہوا ہے، بڑے خلق پر۔‘‘


احادیث مبارکہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گواہی:


کَانَ النبی صلی اللہ علیہ وسلم احسن الناس وجہا واحسنہ خلقا۔43


”رسول اللہﷺ تمام انسانوں سے صورت شکل میں خوبصورت تھے اور ان میں اخلاق سب سے بہترین۔“


اور خود ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی گواہی:


کَانَ خلقہ القرآن۔44


”آپﷺ کا اخلاق قرآن تھا۔‘‘


جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر انسان انفرادی اور اجتماعی طور پر بہترین اخلاق کا مالک بننا چاہتا ہے تو اسے رسول اللہ ﷺ کا طریقہ اپنا ناہوگا۔ اور وہ طریقہ ہے قرآن پر عمل کرنا کیونکہ اسلام کی تعلیمات کا سر چشمہ قرآن ہے۔ اور حضرت عائشہؓ کے فرمانے کے مطابق آپ ؐ کے اخلاق جاننے کے لئے قرآن پڑہنا چاہئیے کیونکہ آپ ؐ کی زندگی مبارکہ تمام کی تمام قرآن مجید کی عملی تفسیر ہے۔ قرآن کے کسی حکم کے خلاف کبھی آپ ؐ کا عمل نہیں رہا۔ جو اللہ تعالیٰ کا حکم وہی آپ ؐ کا عمل، اور یہی تمام انبیاءکرامؑ کا عمل رہا ہے، جس کی انتہائی اور اعلی شکل خاتم الانبیاءؐ کا عمل ہے۔ تمام انبیاءکرامؑ کا عمل بشمول خاتم الانبیاءؐ عاجزی و تواضع رہا ہے جس کی ایک مثال یہ دی جاسکتی ہے کہ جب ابتداءآفرنیش میں آدم علیہ السلام سے بھول ہوگئی جسے اللہ تعالیٰ نے بھی نے بھی خطا نہیں بلکہ بھول سے تعبیر کیا ہے۔


فَنَسِیَ وَ لَمۡ نَجِدۡ لَہٗ عَزۡمًا۔45


”پھر بھول گیا اور نہ پایا ہم نے اس میں مصمم ارادہ۔“


تنبیہ ہونے پر اپنی اس بھول کی وجہ سے جو غلطی ہوگئی اس پر نادم ہوتے ہوئے آدم علیہ السلام اور حواءعلیہا السلام دونوں بارگاہ الہٰی میں عاجزی کے ساتھ دست بدعاءہوئے :


قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا ٜ وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَ تَرۡحَمۡنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ۔46


”بولے وہ دونوں اے رب ہمارے ظلم کیا ہم نے اپنی جان پر اور اگر تو ہم کو نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور ہوجائیں گے تباہ۔“


اسی کو حدیث مبارکہ میں فرمایا گیا:


إن العبد اذا اعترف بذنیہ ثم تاب تاب اللہ علیہ۔47


’’بندہ جب اعتراف کرتا ہے غلطی کا اور توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔“


اس کے مقابلے میں شیطان نے جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور جب اس سے پوچھا گیا کہ تم نے حکم کیوں نہ مانا؟ تو اس نے عاجزی کی جگہ تکبر اختیار کیا اور جواب دیا:


قَالَ اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡہُ ۚ خَلَقۡتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقۡتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ۔48


”بولا میں اس سے بہتر ہوں مجھ کو تونے بنایا آگ سے اور اس کو بنایا مٹی سے۔“


سو انسان کو چاہئے کہ اعلی ترین انسانوں کے طریقے کو اختیار کرے ان میں سے خاتم الانبیاءوالمرسلین حضرت محمد ﷺ کی طرز حیات اور انداز کو ہمارے لئے بہترین نمونہ قرار دیا ہے ہم اگر اس کو اختیار کرتے ہیں تو یہ ہمارے دنیا وی اور اخروی سعادت اور کامیابی کی ضمانت ہوگا اور اگر شیطانی طریقہ اختیار کرتے ہیں تو رذیلہ اخلاق کے حامل ہوکر سعادت اخروی و ابدی سے محروم رہ جائیں گے۔ اور سعادت کے حصول کا طریقہ یہی ہے کہ رسول اللہﷺ کے طریقہ پر چلتے ہوئے قوت بھیمیہ کی اصلاح کی جائے اور عقل، قوت بھیمیہ پر غالب و حاکم ہوجائے اور انسان بہترین اخلاق کا حامل ہوجائے اور ابدی و اخروی سعادت حاصل کرلے۔

حوالہ جات

  1. احمد بن محمد بن حنبل، 1313ھ، المسند، المطبعة الميمنية مصر،91:6
  2. محمد مرتضيٰ الزبيدي، 1307ھ، تاج العروس من جواهرالقاموس، المطبعة الخيرية مصر،337:6
  3. القرآن،4:68
  4. مالک بن انس الاصبحي، 1997م، المؤطا، دارالغرب الاسلامي بيروت، باب ماجاء في حسن الخلق،490:2
  5. المسند، حواله بالا، 381:2
  6. اسماعيل بن عمر ابن کثير، ابوالفداء، 1977م، البداية والنهاية، مکتبة المعارف، بيروت،248:5
  7. القرآن الکريم، 87:4
  8. ايضا،122:4
  9. ايضا، 41:19
  10. ايضا، 56:19
  11. ايضا، 54:19
  12. ايضا، 75:5
  13. ايضا، 119:9
  14. ايضا، 2:65
  15. ايضا، 135:4
  16. ايضا، 283:2
  17. ايضا، 140:2
  18. محمدبن اسماعيل البخاري، 1936م الجامع الصحيح، مطبعة، مصطفيٰ البابي الحلبي، القاهرة، باب ما قيل في شهادة الزور، 69:2
  19. القرآن الکريم، 58:4
  20. ايضا، 27:8
  21. احمد ابوالکلام آزاد، 1936م، ترجمان القرآن، مدينه برقي پريس بجنور، 60:2
  22. القرآن الکريم، 1:5
  23. ايضا، 34:17
  24. مسلم بن حجاج القشيري، 1349ھ، الصحيح، مطبعة حجازي، القاهرة، باب بيان خصال المنافق، 46:2
  25. الجامع الصحيح، حواله بالا، باب علامات المنافق، 13:1
  26. الدکتور مهدي رزق الله احمد، 1992م، السيرة النبوية في ضوء المصادر الاصلية، مرکز الملک فيصل، الرياض، ص 489
  27. المسند، حواله بالا، 489،325:4
  28. ترجمان القرآن ، حواله بالا، 339،338:2
  29. القرآن الکريم، 90:16
  30. ايضا،8:5
  31. الصحيح، حواله بالا، باب تحريم ظلم المسلم وخذله و احتقاره 121،120:6
  32. ايضا، حواله بالا، 121،120:6
  33. القرآن الکريم، 24،23:17
  34. الصحيح، حواله بالا، باب تقديم الوالدين علي التطوع بالصلاة وغيره،109:16
  35. القرآن الکريم، 36:4
  36. الجامع الصحيح، حواله بالا، باب فضل من يعول يتيما 37:4
  37. يحيٰ بن شرف النووي، 1989م، رياض الصالحين، قديمي کتب خانه، کراچي، باب النهي عن سوء الظن بالمسلمين من غير ضرورة، ص 468
  38. الجامع الصحيح، حواله بالا، باب صفة النبي صلي الله عليه وسلم185:2
  39. محمد بن عيسيٰ الترمذي ابو عيسيٰ، 1998م، الجامع الکبير، دارالغرب الاسلامي ، بيروت، باب ماجاء في حسن الخلق، 536:3
  40. الجامع الصحيح، حواله بالا، باب من الايمان ان يحب لاخيه ما يحب لنفسه، 10:1
  41. القرآن الکريم 21:33
  42. ايضا، 4:68
  43. الجامع الصحيح، حواله بالا، باب صفة النبي صلي الله عليه وسلم، 184:2
  44. المسند، حواله بالا، 19:6
  45. القرآن الکريم، 115:20
  46. ايضا، 23:7
  47. الجامع الصحيح، حواله بالا، باب حديث الافک،28:3
  48. القرآن الکريم 12:7