سروسز (ملازمتوں) کی تسعیر کے شرعی مسائل

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ حبیبیہ اسالمیکس
عنوان سروسز (ملازمتوں) کی تسعیر کے شرعی مسائل
انگریزی عنوان
Pricing in Services in Modern and Islamic Perspectives
مصنف Shah، Noorli، Muhammad Farhan Bukhari، Ubaid Ahmed Khan
جلد 1
شمارہ 2
سال 2017
صفحات 55-68
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Pricing in Services, Pricing in Sharia, Islamic perspective of pricing, introduction of pricing, inflation rate and pricing.
شکاگو 16 Shah، Noorli، Muhammad Farhan Bukhari، Ubaid Ahmed Khan۔ "سروسز (ملازمتوں) کی تسعیر کے شرعی مسائل۔" حبیبیہ اسالمیکس 1, شمارہ۔ 2 (2017)۔

Abstract

The word pricing is one of the four Ps of Marketing Mix (Product, Price, Place and Promotion) and the most important and attractive one as it bears profit and income for producer and employee. Using various pricing strategies, a rate is fixed for a product or service in order to get suitable profit. If it is not taken care, the business or service may cause you loss financially. Like this term is used in production, it is also practiced in services in order to determine inflation rates and fixing daily wages and monthly salaries, for which various pricing strategies and arithmetic formulas are used. In this paper I have come up with introduction of Pricing in Modern and Islamic perspective and then limiting the topic to pricing in services, I discussed various Shariah issues of Pricing in services in the light of Quran and Sunnah. </div

تسعیر کی تعریف


تسعیرعربی زبان کالفظ ہےجیسےانگریزی میں(Pricing) کہتے ہیں۔فلپ کوٹلراس کی تعریف اس طرح کرتے ہیں:


In the narrowest sense, price is the amount of money charged for a product or service. More broadly, price is the sum of all the values that consumers exchange for the benefits of having or using the product or service. In the past, price has been the major factor affecting buyer choice.[1]


’’قیمت (Price) پیسوں کی اس مقدار کو کہتے ہیں، جو کسی پراڈکٹ یا سروس فراہم کرنے کے بدلے لی جاتی ہے۔اس کی مزید وضاحت اس طرح ہوسکتی ہےکہ صارف کسی پراڈکٹ یا سروس حاصل کرنے یا اسے استعمال کرنے کے بدلے میں جو رقم فراہم کرنے والے کو دیتا ہے، وہ اس پراڈکٹ یا سروس کی قیمت کہلاتی ہے۔‘‘


پرانے زمانے میں لوگ معیار سے زیادہ کم قیمت اشیاء کو ترجیح دیتے تھے۔ اگرچہ یہ رجحان اب کم ہوتا جارہا ہے لیکن پسماندہ ممالک میں اب بھی کم قیمت اشیاء کو ترجیح دی جاتی ہے۔The International Dictionary of Marketing میں پرائس (قیمت) کی تعریف کچھ اس طرح درج ہے:


Generally regarded as the value of a product or service Price, of course, can go up or down, depending on supply and demand, and many suppliers take advantage of this.[2]


’’پرائس سے عام طور پر کسی پراڈکٹ یا خدمت کی ویلیو مراد ہوتی ہے۔ یہ ویلیو ہمیشہ برقرار نہیں رہتی ، بلکہ وقت اور ضرورت کے ساتھ ساتھ گھٹتی اور بڑھتی ہے۔‘‘


مارکیٹنگ میں پرائسنگ کا بہت بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ اسے بغیر کسی سبب کے کم کرنے سے آپ کا منافع نقصان میں بدل سکتا ہے۔ پرائسنگ کو عربی میں تسعیر کہتے ہیں۔ چنانچہ کتب فقہ میں پرائسنگ کو تسعیر کے عنوان کے تحت تلاش کیا جا سکتا ہے۔


تسعیر کی فقہی تعریف


تسعیر عربی زبان کا لفظ ہے۔ یہ س ع ر "سعر" سے نکلا ہے، جس کا معنیٰ ہے ، کسی چیز کا جلنا اور بلند ہونا۔[3] جبکہ اسعرو اور سعّروا کا مطلب ہے۔کسی ریٹ پر متفق ہونا۔[4]


تسعیر کی اصطلاحی تعریف


امام شوکانی تسعیر کی اصطلاحی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:


التَّسْعِیر أَنْ يَأْ مرَ السُّلْطان أَوْ نوَّا به أَوْ كلُّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أمورِ الْمسْلِمِينَ أمراً أَهْلَ السُّوقِ أَلا يَبِيعوا أَمْتِعَتَهم إِلا بِسِعْرِ كَذَا، فَيَمْنَع مِنَ الزِّيَادَةِ عَلَيْهِ أَوِ النُّقْصَانِ إِلا لِمَصْلَحَة۔[5]


’’بادشاہ، اسکے نائب یا اس کی اجازت سے متعین کردہ کسی نگران کا تاجروں کو کسی خاص ریٹ کا پابند بنانا تسعیر کہلاتا ہے، تاکہ تاجر حضرات اس ریٹ سے زیادہ یا کم پر اشیاء فروخت نہ کریں۔‘‘


علامہ بہوتی صاحب نے بھی تسعیر کی یہی تعریف کی ہے۔ اگرچہ آہ کے الفاظ قدرےمختلف ہیں۔آپ فرماتے ہیں:


التسعير أن يسعر الإمام، أو نائبه، على الناس سعرا ويجبرهم على التبايع به۔[6]


حسیب عرقاوی نے تسعیر کی کئی تعریفات ذکر کرنے کے بعد التعریف المختار کے عنوان سے ایک جامع تعریف ذکر کی ہے۔ چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:


تحديد الدولة لقيمة السلع، والأعمال، والمنافع، والزام الناس بها، بمنعهم من الزيادة عليها، أو النقصان تحت طائلة العقاب۔[7]


’’حکومت کا کسی پراڈکٹ یا سروس کے لیے خاص ریٹ اور نفع طے کرنا اور لوگوں کو اس کا پابند بنانا کہ وہ اس سے کم یا زیادہ پر نہ بیچیں، جو خلاف ورزی کرے، اس کےلئے سزاء مختص ہو۔‘‘


سعر، ثمن اور قیمت میں فرق


یہ تینوں الفاظ تسعیر pricing کے ہم معنیٰ یا قریب المعنیٰ ہیں۔ ان کے قربت کی وجہ سے اکثر ماہرین معیشت انہیں ایک ہی مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ان میں موجود باریک فرق سمجھ نہیں پاتے۔ ذیل میں ان تینوں فقہی اصطلاحات کو ذکر کرتے ہیں۔ جس سے ان میں موجود فرق واضح ہوسکے گا۔


السعر: فَهوَ ما يَطْلب من قبل البائع ثمنا للسلعة، وقد يكون ثمناً حقيقياً فيكون قيمة، وقد يكون زائداً أو ناقصاً فيكون ثمناً فقط، ولذا قد تعرض السلع بسعر، ويكون العقد على خلافه، زيادة أو نقصاناً، بحسب ظروفالسوق۔[8]


’’سعر:خرید و فروخت کے وقت فروخت کنندہ جن پیسوں کا مطالبہ کرے ، وہ سعر کہلاتا ہے۔ یہ ریٹ حالات اور جگہوں کےاختلاف سے مختلف ہوتے رہتے ہیں۔ ‘‘


القيمة: هي: اسم لما تقدر به جميع السلع، والأعمال، والمنافع المبذولة بين الناس بعيدا عنسوم المشتري وغبن البائع، وهي بمنزلة المعيار من غير زيادة ولا نقصان۔[9]


’’قیمت:کسی پراڈکٹ کی وہ قیمت جو اس کے منافع اور اخراجات کی درست ترجمانی کرے ، قیمت کہلاتی ہے۔‘‘


الثمن: اسم لما يأخذه البائع من المشتري مقابل المبيع، سواء أكان عينا، أو نقدا، أو سلعة وهو ما يتعين في الذمة، وبه يستقر العقد، وتطلق الأثمان على الدراهم والدنانير، فقد ورد في فتح الباري " الثمن ما اشتريت به العين۔[10]


’’ثمن:جس ریٹ پر بائع اور مشتری دونوں راضی ہوجاتے ہیں، وہ ثمن کہلاتا ہے۔‘‘


ان تینوں میں موجود بنیادی اور جوہری فرق سمجھنے کےلیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ قیمت کسی پراڈکٹ پر ہونے والے اخراجات کی نمائندگی کرتے ہیں۔مثال کے طور پر ایک چاکلیٹ پر 5 روپے کا مجموعی خرچہ ہوا اور مارکیٹ میں اسے 10 روپے کے ریٹ پر پیش کیا گیا۔ اب 5 روپے اس کی قیمت کہلائے گی۔تسعیر اس ریٹ کو کہتے ہیں جو فروخت کنندہ کسٹمر کو پہلی بار بتادے، جیسے مذکورہ مچال میں فروخت کنندہ کہہ دے کہ یہ چاکلیٹ 10 روپے کا ہے۔ اب 10 روپے اس کا سعر ہے اور ثمن اس قیمت کو کہتے ہیں ، جو فروخت کنندہ اس پراڈکٹ یا سروس کے بدلے مشتری سے وصول کرے، جیسے مذکورہ مثال میں مشتری 10 روپے کے عوض چاکلیٹ کےلیے تیار نہیں ہے اور کم ہوتے ہوئے 7 روپے پر راضی ہوگیا۔ یہ 7 روپے اس چاکلیٹ کا ثمن ہے۔


سروسز میں تسعیر کی اہمیت


تسعیر کی ضرورت جس طرح پروڈکشن میں پیش آتی ہے، اسی طرح سروسز میں بھی اس کی ضرورت پیش آتی ہے۔ کیونکہ زندہ رہنے کےلیے اور اپنی ضروریات کی تکمیل کےلیے انسان عام طور پر ان دو میں سے کوئی ایک راہ چن لیتا ہے۔ یا تو وہ پلانٹ لگا کر پروڈکشن شروع کرتا ہے اور اس سے اپنی ضروریات و حاجات پوری کرنے کی کوشش کرتاہے یا پھر وہ کسی اور کے ہاں ملازمت ڈھونڈ لیتا ہے۔ جہاں بغیر کچھ پیسہ خرچ کئے روزانہ، ماہانہ یا سالانہ بنیادوں پرتنخواہ اور دیہاڑی کی صورت میں اپنی محنت کا صلہ حاصل کرتا ہے۔


اب جس طرح پروڈکشن میں مہنگائی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مختلف حالات و سانحات کی وہ سے ایک پراڈکٹ کی قیمت میں دن بدن اضافہ ہوتا رہتا ہے، اسی طرح سروسز میں بھی ریٹ کے اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، تاہم جس طرح ایک خاص طریقے سے پروڈکشن میں ریٹ کی تعیین کے شرعی احکامات موجود ہیں، سروسز کے بارے میں بھی قرآن و حدیث اور کتب فقہ میں تفصیل موجود ہے۔ذیل میں سروسز سے متعلق تسعیر کے اہم مسائل کا جائز ہ لیتے ہیں۔


ایک ملازم اور مزدور کو کتنی تنخواہ ملے گی


کمپنی اور ملازمت فراہم کرنے والے کی کوشش ہوتی ہے کہ ملازم کو کم سے کم تنخواہ دے اور ملازم کی کوشش ہوتی ہےکہ زیادہ سے زیادہ ہو۔ تاہم عام طور پر ونکہ پروڈیوسر (صانع) اور ملازم کی ذہانت، چالاکی اور معیشت وغیرہ میں اخاصہ فرق ہوتا ہے، چنانچہ ایک صانع ہمیشہ اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ ملازم کی صلاحیتیں تو استعمال ہو، لیکن اسے تنخواہ صرف اتنی ملے، جس سے وہ کام کرنے پر راضی ہو۔ دوسری طرف مزدور معاشی تنگ دستی اور گھریلو حالات کی وجہ سے کم تنخواہ پر بھی راضی ہوتا ہے اور صانع اور مالک کی جملہ شرائط کو ماننے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔اقتصادیات جدیدہ میں اس مسئلے پر کئی جہات سے بحث موجود ہے۔ موجودہ اقتصادی ماہرین نے ملزمین مزدوروں کی معاشی بہتری کے لیے کئی نظریات پیش کئے ہیں،جو درج ذیل ہیں:


۱۔ بقدر ضرورت تنخواہ کی تعیین کا نظریہ


مشہور مغربی معاشی دانشو آدم سمتھ اس نظریے کے داعی ہیں۔ اس نظریے کی رو سے ملازمین کی معاشی ضروریات کا اندازہ لگایا جائے کہ اسے ایک متوسط گھرانہ چلانے کے لیے دن یا مہینے میں کم از کم کتنے پیسوں کی ضرورت پیش آتی ہے اور تسعیر پر عمل کرتے ہوئے حکومت ان ملازمین کی تنخواہوں کا کم سے کم ریٹ طے کرے کہ فلاں حد سے کم تنخواہ کسی ملازم کو نہیں دی جائے گی۔اس طرح کرنے سے کم از کم ملازمین کی اہم معاشی ضرورتوں کی تکمیل ہوسکے گی اور وہ زندہ رہ سکیں گے۔


آدم سمتھ اس نظریے کا داعی ہے۔ تاہم کچھ دیگر مغربی معاشی مفکرین اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق آبادی میں اضافے کی وجہ سے ملازمتوں کی طلب بڑھتی رہتی ہے، جس کی وجہ سے ان کے ریٹ میں خود بخود فطری طور پر زیادتی آجاتی ہے۔ ایسے میں حکومت کا ریٹ مقرر کرنا لوگوں کے ساتھ زیادتی ہوگی۔


۲۔ پروڈکشن کے تناسب سے تنخوا ہ کی تعیین کا نظریہ


اس نظریے کی رو سے سروس اور ملازمت سے مجموعی طور پر جو نفع حاصل ہوتا ہے، اس میں سے اخراجات کا منہا کر کے بقیہ میں سے ملازم کا وظیفہ ایک تناسب سے طے کریں، اس سے دو فائدے ہوں گے۔ ملازم کی کوشش ہوگی کہ کام زیادہ ہو تاکہ نفع زیادہ ملے اور میرا اس تناسب سے وظیفہ زیادہ ہو۔ اس طرح مالک کو فائدہ ہوتا ہے اور اس کی پروڈکشن زیادہ سے زیادہ ہونے لگتی ہے۔ دوسرا فائدہ براہ راست ملازم کو ہوتا ہے کہ اسے اپنے کام کا بہتر صلہ مل سکے گا اور وہ اس سے اپنی ضروریات پوری کرسکے گا۔ یہ صرف نفع کے ساتھ مربوط نہیں ہوگا بلکہ نقصان کے ساتھ بھی، یعنی اگر سروس سے نفع کے بجائے نقصان ہوجائے تو ملازم کواس نقصان کے بقدر وظیفہ بھی کم ملے گا۔


۳۔ بھاؤ تاؤ کا نظریہ (نظریۃ المساومۃ)


اس میں کسی سروس کی تنخواہ کو آزاد چھوڑا جاتا ہے۔ اس پر کسی طرح کا قدغن نہیں لگتا۔ اسے فطری قانون طلب و رسد کے حوالے کیا جاتا ہے اور یہی دو تنخواہ کا فیصلہ کرتے ہیں۔اس نظریے کی رو سے مالک اور ملازم آپس میں ریٹ طے کرتے ہیں اور جس ریٹ پر دونوں راضی ہوجاتے ہیں ، ملازم کام کرنا شروع کردیتا ہے۔اب اگر کام کی مانگ زیادہ ہوگی اور ملازم کم تھے ، اس فطری قانون کی وجہ سے ملازم اس پوزیشن میں ہوگا کہ مالک سے اپنی بات منوا سکے اور زیادہ وظیفے کا مطالبہ کرے اور اگر صورت حال برعکس ہو ، یعنی ملازمین کی تعداد زیادہ ہو اور کام کی مانگ کم ، تو ملازم بھی اپنے کچھ مطالبات سے دستبردار ہوگا اور بقدر ضرورت تنخواہ پر ہی گزارہ کرلے۔


شریعت میں ان نظریات کا جائزہ


اسلام ان سروسز اور ملازمتوں کو صرف معاشی پہلوں کے اعتبار سے نہیں دیکھتا بلکہ معاشرتی ، اخلاقی اور اسلامی پہلوں سے بھی دیکھتا ہے۔ اس لئے اسلامی معاشرے میں ہر قسم کی سروس (ملازمت ) کے شرعاً کئی درجات ہوتے ہیں:حرام، کروہ تنزیہی، مباح، مستحب، واجب، فرض کفایہ، فرض عین۔ ان مراتب کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلامی ریاست سروسز کو کس طرح ریگولیٹ کرتی ہے۔ کوئی شخص آزاد نہیں کہ وہ جو چاہے اور جس طرح چاہے، ملازمت اختیار کرلے، بلکہ اسے دیکھنا ہوگا کہ وہ ملازمت کہیں حرام اور مکروہ تو نہیں۔ اسی طرح جواز اور اباحت میں بھی اس کے مرتبے کو دیکھتے ہوئے اس کے بارے میں شرعی حکم کی تعیین ہوگی۔ چنانچہ اگر معاشرے کو کسی ملازمت اور سروس کی ضرورت ہو اور وہاں کوئی بھی اس پیشے سے متعلق نہ ہو تو اس سے متعلقہ تمام لوگ گناہ گار ہوں گے۔ ایسی صورت میں اس پیشے کو شروع کرنا فرض کایہ ہے۔اگر لوگوں کی ضروریات کے بقدر لوگوں نے یہ ملازمت شروع کی تو دیگر افراد سے یہ گناہ اٹھ جائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام معاشرہ کی ضروریات کا کس قدر خیال رکھتا ہے۔


چنانچہ مندرجہ بالا تفصیل کے بعد سروس کی تسعیر کے اسلامی اصول کچھ یوں بنتے ہیں:


۱۔ اگر کسی ملازمت کی ضرورت ہو اور ملازم لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر حد سے زیادہ کا مطالبہ کرے۔ یہ جائز نہیں ہے اور موجب گناہ ہے۔


۲۔ اسی طرح اس کے برعکس اگر ملازمین زیادہ ہو اور کام کم ہو تو ملازمین کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر انہیں کم سے کم ریٹ پر راضی کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔معاشرے کےلیے ضروری ہے کہ کم از کم ثمن المثل دے دے۔ اس سے کم دینا مزدور اور ملازم کے ساتھ زیادتی اور حق تلفی ہے۔


۳۔ مذکورہ دو صورتوں میں اگر ملازم کی طرف سے یا معاشرے کی طرف سے کوتا ہی ہو اور اپنے مقابل کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہو تو حکومت کو درمیان میں دخل اندازی کی اجازت ہے کہ وہ دونوں کوثمن المثل پر راضی کرے تاکہ کسی بھی فریق کو نقصان نہ ہو۔


سروس کی تسعیر کا شرعی طریقہ


سروس اور ملازمت میں تسعیر کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ حکومت ملازمین اورمالکان میں سے چنیدہ اشخاص کا انتخاب کرے۔ انہیں باہم بیٹھنے کا معقع دے تاکہ وہ اپنے مسائل پر ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرسکے۔ پھر اس کے بعد آپس کی رضامندی سے ہر ملازمت اور پیشے کےلئے ایک ریٹ طے کرے، تاہم اس میں اس قدر وسعت ضرور ہو کہ ماہر اور نئے ملازم ، اسی طرح تیز اور سست ملازم کا فرق آسکے، تاکہ ہر ایک کو اپنے ہنر، تجربے اور ایمانداری کے مطابق کام کا صلہ مل سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ مالکان کے مسائل، ملکی معاشی صورت حال اور متعلقہ شہر اور معاشرے کو مدبظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ شریعت ملازم کی طرف داری کا نام نہیں ، بلکہ پر ایک کو اس کےحقوق پہنچانے کا نام ہے۔ اس لئے ملازم اور مالک زمانے اور جگہ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ لچک کے ساتھ مختلف ملازمتوں کی تنخواہوں کا اعلان کردے۔[11]


اشاریہ قیمت کے شرعی مسائل

ہمارے پاس موجود زرMoney کی مقدار بذات خود ہمارا مقصد نہیں ہوتا، کیونکہ نہ ہو اسے کھا کر بھوک مٹا سکتے ہیں، نہ اسے پی کر پیس بجھا سکتے ہیں اور نہ اس سے کسی اور طرح کی سہولت حاصل کرسکتے ہیں، بلکہ اس سے ہمارا مقصد اپنی ضروریات زندگی کی خریداری کرنا ہے، جن سے ہم اپنی ضروریات اور خواہشات پوری کرسکے۔


پرانے زمانے میں کرنسی سونے اور چاندی کی ہوتی تھی، جسے درہم اور دینار کہتے تھے۔ ان کے قدر value کا تعلق سونے اور چاندی سے ہوتا تھا۔ اگر تو سونا مہنگا ہورہا ہو تو ان کے قدرvalue میں بھی اضافہ آجاتا، جس کی وجہ سے کل اگر ایک درہم سے ایک چیز خرید سکتے تھے،آج اسی درہم سے دو چیزیں خرید سکیں گے اور اگر سونے اور چاندی کی قیمت میں کمی آجاتی تو اس کرنسی کے قدر میں بھی کمی آجاتی، جس کےنتیجے میں جو چیز کل آپ ایک درہم میں خرید سکتے تھے ، آج وہ دو درہم میں ملے گی۔


آج کل کرنسی کا تعلق سونے اور چاندی کے بجائے ضروریات زندگی کو خریدنے کی قوت سے ہوگیا ہے۔ جسے کرنسی کی قوتِ خرید کہا جاتا ہے۔اب سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کرنسی پر اتنا فرق نہیں پڑتا ، جتنا ضروریات زندگی کی کمی اور مہنگائی کی وجہ سے ہوجاتا ہے۔اس بات کو مزید واضح کرنے کے لئے کرنسی کی مالیت کو ہم دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:


۱۔ ظاہری قیمت Face Value


یہ کسی کرنسی کی وہ مالیت ہے ، جو اس پر لکھی ہوئی نظر آتی ہے، مثلاً 1000 روپے کے نوٹ اور احمد کی 20 ہزار روپے تنخواہ ۔


۲۔ حقیقی قیمت Real Value


یہ کرنسی کی اندرونی مالیت ہوتی ہے، جیسے 1000 روپے کے نوٹ سے آپ اپنی کتنی ضروریات پوری کرسکتے ہیں اور کتنی چیزیں خرید سکتے ہیں۔ اسی طرح 20 ہزار کی تنخواہ سے آپ ماہانہ کیا کچھ خرید سکتے ہیں۔عام لوگوں کا تعلق ظاہری قیمت سے ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی تنخواہ میں اضافہ ہونے سے وہ اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھنے لگتے ہیں اورکمپنی کی جانب سے اپنے اوپر احسان سمجھتے ہیں۔ جبکہ معاشی ماہرین زر کی حقیقی قیمت کو دیکھتے ہیں۔ اب سال میں اگر ایک ملازم کی تنخواہ 20 ہزار سے 25 ہزار ہوجائے تو ماہر معیشت گزشتہ سال اور اس سال کا ایک میزانیہ Index تیار کرے گا ، جس میں مختلف اور اہم ضروریاتِ زندگی کا نقشہ بنائے گا، اس کی رو سے وہ گزشتہ سال ان کی قیمتیں دیکھ لیتا ہے اور اس سال کی قیمتوں سے ان کا موازنہ کرتا ہے۔ پھر اس ملازم کی تنخواہ سے اس کا موازنہ کرتا ہے ۔عام طور پر وہ دیکھ لیتا ہے کہ گزشتہ سال جو چیزیں وہ 20 ہزار میں خرید سکتا تھا، اب ان کی قیمت 28 ہزار ہوچکی ہے، جبکہ اس کی تنخواہ گزشتہ سال 20 ہزار تھی ، جس میں اس سال 5 ہزار کا اضافہ ہوا ہے ۔اب بظاہر اس کی تنخواہ میں اضافہ ہوا ہے لیکن درحقیقت گزشتہ سال سے 3 ہزار مزید کم ہوچکی ہے۔ یہ فرق قیمتوں کے میزانیے Price Indexسے معلوم ہوجاتا ہے۔

ریٹ میں اتار چڑھاؤ کی وجہ

جدیدمعاشی اصطلاحات میں زرکی قدرValue میں کمی یا اضافے کا دار ومدار افرط زر اورتفریط زر پر ہے۔افراط زر کا مطلب پراڈکٹ اور خدمات Products and Services کا زر کے مقابلے میں کم ہوجانا ہے۔ یعنی لوگوں کے پاس کرنسی کا زیادہ ہونا مہنگائی اور کرنسی کے ویلو کی کمی کا باعث بنتا ہے۔اس کےبرعکس اگر لوگوں کے پاس کرنسی کم ہو اور معاشرے میں معاشی ترقیاتی کام زیادہ ہوں، یعنی پراڈکٹ اورسروسز زیادہ ہو تو تفریط زر کہلاتا ہے۔اس سے کرنسی کی ویلیو میں اضافہ آ جاتا ہے،جس کے نتیجے میں کم پیسوں سے زیادہ چیزیں خریدی جاسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسی مک کی ترقی کا در ومدار وہاں کی کرنسی کی زیادتی اورتنخواہوں اور اجرتوں کی برھوتری پر نہیں، بلکہ معاشی ترقی پر ہوتا ہے۔ کیونکہ اس سے تفریط زر کی فضاء بنتی ہے، جس سے کرنسی اور زر کی ویلیو میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔


زر کی قدر کم ہونے کی صورت میں ریٹ کی تعیین

ایسی صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ گزشتہ سال اگر 20 ہزار روپے سے مثلاً آپ 100 کلو آٹا ،50 کلو چینی اور دو بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کر رہے تھے اوراب یہ سب کچھ 28 ہزر میں ہی پورے ہو سکتے ہیں۔اگر گزشتہ سال آپ نے کسی کو ایک ہزار روپے بطور قرض دیے تھے یا اس وقت ایک ہزار کی کوئی چیز فروخت کی، جس کے پیسے آپ کو ابھی تک نہیں ملے اور وہ اسے اس وقت دینا چاہتا ہے تو کیا وہ صرف ایک ہزار واپس کرے گا یا 13 سو ؟ کیونکہ گزشتہ سال ایک ہزار کی جو حقیقی ویلیو تھی، اب وہ "علیٰ سبیل الفرض" 13 سو ہے۔کچھ معاشی ماہرینِ معاشیات کی رائے یہ ہے کہ اس صورت میں اسے صرف ایک ہزار روپے واپس کرنے کی صورت میں قرض خواہ کے ساتھ ناانصافی ہے، کیونکہ اب ایک ہزار روپے تو 800 یا 900 کے برابر ہے۔


ماہرین معاشیات نے قرض خواہ کے اس نقصان کو واضح کرنے کےلیے ایک ریاضی مارمولے کا سہارہ لیا ہے، جسےPrice Indexکہا جاتا ہے۔ اس سے پچھلے سال کے ہزار روہے کی موجودہ حالت اور قدر کا اندازہ لگالیا جاتا ہے اور قرض در کو پابند کیا جاتا ہےکہ اگر چہ آپ نے یہ چیزیں ہزار روپے کی خریدی تھی لیکن اب 13 سو روپے ہی اس ایک ہزار کے قدر کی تلافی کرسکتی ہے۔ اس لیے اب 13 سو روپے ادا کرنے ہوں گے۔بہر کیف اس معاملےکے شرعی پہلوں پر بات کرنے سے پہلے قیمتوں کے اس اشاریے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:


Price index وضع کرنے کا طریقہ


قیمتوں کا اشاریہ بنانے کے لئے ان دو سالوں یا مہینوں کو منتخب کیا جاتا ہے۔اس میں اہم ترین ضرورتوں اور ان کے ریٹ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔مثال کے طور پر ہم جنوری 2018ءاور جنوری 2019ء کے قیمتوں کا اشاریہ بناتے ہیں، جس میں ایک شخص نے 25 کلو آٹا، دو کلو چینی اور دو کلو سبزی خریدتا ہے، تاہم ان دو سالوں میں ریٹ میں ایک فرق آجاتا ہے۔جنوری2018ء میں 25 کلو آٹے کی قیمت 500 روپے، 2 کلو چینی کی قیمت 100 روپے اور 2 کلو سبزی کی قیمت 50 روپے تھی۔اب جنوری 2019ء کو 25 کلو آٹے کی قیمت 700 روپے، دو کلو چینی کی قیمت 150 روپے اور دو کلو سبزی کی قیمت 70 روپے تھی۔



سال 25 کلو آٹا 2 کلو چینی 2 کلو سبزی مجموعی
جنوری 2018 500 100 50 650
جنوری 2019 700 150 70 920
اب جملہ اخراجات (Cost of living) کی تعیین کےلیےمتعلقہ شئی اور اس کی قیمت کو آپس میں ضرب دے کر اگلی شئی ضرب اس کی قیمت کے ساتھ جمع کریں گے:یعنی


500*25+100*2+50*2=12800


700*25+150*2+70*2=17940


اب جنوری 2018ء کے جملہ اخراجات (COL) کو 100 فرض کرکے جنوری 2019ء کی نامعلوم (COL) (X) کو معلوم کرتے ہیں:


جنوری 2018:12800=100


جنوری 2019:17940=x


Direct proportion


12800:17940::100:x


12800x=1794000


x=1794000/12800


x=140.15


اب قیمتوں کا اشاریہ یوں ہوگا:


جنوری 2018ء۔۔100


جنوری 2019ء۔۔140.15


Year end – Year start/ Year start


140.15 - 100 / 100مہنگائی =0.4015


فیصد معلوم کرنے کےلئے مہنگائی ضرب 100جیسے: 0.4015*100=40.15


اس سے معلوم ہوا کہ جنوری 2018ء کی بہ نسبت جنوری 2019ء میں 40.15 فیصد مہنگائی آئی ہے۔اس سے یہ بھی نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ اس دوران کرنسی کی ویلیو میں 40.15فیصد کمی آئی ہے۔چنانچہ کچھ ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ اب جنوری 2018ء میں 1000 روپے اگر کسی نے قرض لیے ہیں تو اب 40.15فیصد کے اضافے کے ساتھ لوٹائے گا، تاکہ اس کی تلافی ہوسکے۔1000 میں 40.15فیصد کا حساب لگانے سے آپ پر 401.5 روپے اضافی آجانے ہیں۔گویا آپ نے اب 1401 روپے ادا کریں ہوں گے۔


اس زیادتی کا شرعی حکم


شریعت کا مزاج یہ ہے کہ قرض ديکر کسی سے مالی فائدہ نہ اٹھائے ، بلکہ اس کے ساتھ تعاؤن کیا جائے۔ اس تعاؤن کے فلسفے ہی کے تحت شریعت نے قرض کی ادائیگی کو مقدار کی واپسی کے ساتھ متعلق کیا ہے نہ کہ قیمت کے ساتھ۔ اس لئے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو دیکھے بغیر قرض دار پر لازم کیا ہے کہ جس مقدار (ناپ،وزن اور عدد) میں لی تھی، اسی مقدار میں واپس کردے۔شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب اپنے ایک مقالے میں فرماتے ہیں:اگر ایک شخص دوسرے سے ایک کلو گندم بطور قرض لے اور قرض لیتے وقت ایک کلو گندم کی قیمت پانچ روپے تھی اور جب وہ قرض دار اپنا قرض واپس کرنے لگا تو اس وقت ایک کلو گندم کی قیمت دو روپے ہو گئی تھی تو اب بھی وہ صرف ایک کلو گندم واپس کرے گا، زیادہ نہیں کرے گا۔ باوجود یہ کہ ایک کلو گندم کی قیمت پانچ روپے سے کم ہو کر دو روپے ہوگئی ہے۔ اور اس مسئلے میں تمام فقہاء متقدمین و متاخرین کا اجماع ہے، فقہاء میں سے کوئی ایک بھی اس مسئلہ میں یہ نہیں کہتا کہ اس صورت میں جبکہ گند م کی مالیت کم ہوگئی ہے، صرف ایک کلو گندم واپس کرنا قرض خواہ پر ظلم ہے۔[12]


اس کے علاوہ ابوداؤد شریف میں ایک اورحدیث ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرض کی ادائیگی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے جو زیادتی یا نقصان ہوجاتا ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں ، بلکہ اس نے جو چیز قرض لی تھی، اب وہی چیز لوٹا دے۔ چاہے اس کی قیمت گھٹ گئی ہو یا بڑھ گئی ہو۔


عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ الإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ وَأُعْطِى هَذِهِ مِنْ هَذِهِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ فِى بَيْتِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّى أَبِيعُ الإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ آخُذُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ وَأُعْطِى هَذِهِ مِنْ هَذِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم «لاَ بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسَعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَىْءٌ»۔[13]


’’حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں بقیع نامی جگہ میں اونٹوں کا کاروبار کیا کرتا تھا۔ کبھی کبھار میں دینار پر معاملہ کرتا تھا اور ادائیگی دراہم سے ہوتی اور کبھی اس کے برعکس۔ ایک بار آپؐ حضرت حفصہ ؓ کے گھر پر تھے۔ میں آپ ؐکے پاس گیا اور اس معاملے کے شرعی حکم کے بارے میں پوچھا تو آپ ؐنے فرمایا کہ یہ معاملہ جائز ہے، ادائیگی کے دن ہی کا اعتبار کریں اور ایک دوسرے سے جدہ ہونے سے پہلے یہ معاملہ نمٹا یا کریں۔‘‘


اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرض کی واپسی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو نہیں دیکھیں گے ، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ عقد کے دن ایک دینار کی قیمت 10 دراہم ہو اور ادائیگی کے وقت اس کی قیمت 15 دراہم ہوگئی ہو۔اب اگر کسی شخص نے دینار کے ذریعے عقد کیا ہے اور اب ادائیگی دراہم سے کرنا چاہتا ہے تو قیمت کا اعتبار کرتے ہوئے وہ دس دینار کے 100 دراہم واپس نہیں کرے گا بلکہ دس دینار یا آج ان کی قیمت 150 دراہم واپس کرے گا۔اسی طرح اگر دینار کی قیمت 10 دراہم سے گھٹ کر 9 دراہم رہ گئی تو اب ادائیگی میں یا تو 10 دینار ادا کرے گا یا پھر 90 دراہم ہی دے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو دیکھے بغیر اصل چیز کو دیکھیں اور اسی کی واپسی ہوگی۔


اشاریہ قیمت میں موجود تخمینے


قیمتوں کے اشارے کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس میں جگہ جگہ تخمینوں اور اندازوں کا سہارا لیا گیا ہے۔ اس کی کچھ وضاحت ذیل میں کی جاتی ہے:


اشیاء ِضرورت کی تعیین


پرائس انڈیکس کا دار ومدار ہر قسم کی چیزوں پر نہیں ہوتا۔ اس میں کچھ بنیادی ضروریات کو لے کر ان کے دو الگ الگ وقتوں میں قیمتوں کی تعیین کی جاتی ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ اشیاءِ ضرورت تمام لوگوں کے لیے یکساں ہو۔ کسی کی ضرورت ایک چیز ہوتی ہے تو کسی کی دوسری ۔ اس لیے پرائس انڈیکس سے جو نتیجہ برآمد ہوتا ہے، وہ سو فیصد درست نہیں ہوتا، بلکہ ایک اندازہ ہی ہوتا ہے، جو ایک حد تک درست ہوتا ہے۔


قیمتوں کی تعیین


یہی صورت حال قیمتوں کی تعیین کی ہوتی ہے، کیونکہ ایک تو سال بھر میں صرف یہ دو قیمتیں برقرار نہیں رہتی، بلکہ ان میں ہمیشہ اتار چڑھاؤ جاری رہتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ ملک بھر میں قیمتیں ایک جیسی نہیں رہتی ۔ مثال کے طور پر اگر کراچی میں ایک چیز 10 روپے کی ہو، پشاور میں ہو سکتا ہے کہ 15 روپے کی ہو اور اسلام آباد میں ہوسکتا ہے کہ 9 روپے کی ہو، جبکہ قیمتوں کے اشاریے کے لیے کسی ایک جگہ کا انتخاب کیا جاتاہے اور اس کی قیمتیں دیکھی جاتی ہے۔[14]


قرض کی ادائیگی میں شریعت کا پیمانہ


شریعت نے قرض کی ادائیگی میں مثلیت کا اس قدر اہتمام کیا ہے کہ اس میں اٹکل اور تخمینے تک کی اجازت نہیں ۔اس فلسفے کو بنیاد بناتے ہوئے اسلام نے بیع المزابنۃ کو حرام قرار دیا ہے، جس میں ایک طرف ٹوکری میں موجود پھل کو درخت پر لگے پھل کے ساتھ اندازے اور تخمینے کے ساتھ فروخت کیا جاتاہے۔


ایک اور حدیث میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺکے زمانے میں ہمارے پاس قسم قسم کی کھجوریں آتی تھیں (یعنی اعلیٰ کوالٹی، متوسط کوالٹی اور ادنیٰ)۔ ہم ادنیٰ اور بے کار کھجور کے دو صاع کے بدلے اعلیٰ کوالٹی کی ایک صاع کھجور بیچا کرتے تھے۔آپﷺنے ہمیں اس سے منع کیا اور فرمایا کہ دو صاع گندم یا کھجور کے بدلے ایک صاع گندم یا کھجور بیچنا جائز نہیں۔ اسی طرح دو دراہم کے بدلے ایک درہم فروخت کرنا جائز نہیں۔[15]


اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگرچہ کھجور کے معیار اور قیمت میں فرق تھا، سارے جانتے تھے کہ اعلیٰ کوالٹی کی کھجوریں بے کار کھجور سے مہنگی ہیں، لیکن اس کے باوجود آپ ﷺنے اس کی اجازت نہیں دی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس سے منع کیا اور انہیں حکم دیا کہ قیمت اور معیار کو نہ دیکھو ، بلکہ مقدار میں برابری کا خیال رکھیں۔


اسلامک فقہ اکیڈمی جدہ کی قرارداد


اسلامک فقہ اکیڈمی جدہ نے بھی قرض کی ادائیگی میں قیمتوں کے اعتبار کرنے کو غلط قرار دیا ہے۔ قرارداد کے الفاظ یہ ہیں:جو قرض ذمہ میں واجب ہوں، ان کی ادائیگی میں مثل کا اعتبار ہوتا ہے، قیمت کا نہیں، لہذا جو قرض کسی پر واجب الادا ہو، اسے کسی بھی صورت میں قیمتوں کے اشاریے سے منسلک کرنا جائز نہیں۔[16]



سروسز میں پرائس اندیکس کے استعمال کا جائزہ


سروسز میں ملازمین کی تنخواہوں میں بڑھوتری کی مقدار متعین کرنے کے لئے قیمتوں کے اشاریے کو استعمال کیا جاتا ہے۔ تنخواہوں میں پرائس انڈیکس کے درجہ ذیل شرعی مسائل پیش آتے ہیں:


طے شدہ تنخواہ پر خاص وقت کے بعد خاص اضافہ


اکثر اداروں اور سرکاری محکموں میں ایک ملازم کی تنخواہ پہلے سےمتعین ہوتی ہے کہ اسے ہر ماہ مثلاً 12 ہزار ملیں گے۔ لیکن چونکہ ساتھ ساتھ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہوتا ہے ، اس لئے حکومت یا متعلقہ ادارہ ملازمین کی ضروریات کی تکمیل کے لئے ان کی تنخواہوں میں بھی ایک خاص قدر کے ساتھ اضافہ کرتا ہے۔ اس قدر کی تعیین میں اشاریہ قیمت کا سہارا لیا جاتاہے۔چنانچہ حکومت یا متعلقہ ادارہ ملازم کو یہ بتاتا ہے کہ آپ کی تنخواہ 12 ہزار روہے ہے۔ ہر سال اس میں قیمتوں کے اشاریے سے اس میں اس قدر اضافہ ہوگا ، جو موجودہ 12 ہزار کے برابر ہوگا اور جس سے آپ اتنی خریداری کر سکیں گے جو موجودہ تنخواہ سے کر سکتے ہیں۔


شرعی حکم


ملازم کی تنخواہ کو اجرت کہتے ہیں اور اجرت کی تعیین میں شریعت جہالت سے منع کرتی ہے۔ اس لئے جہاں پر جہالت نہ ہو، بلکہ حکومت اور ملازم دونوں کو معلوم ہو کہ تنخواہ کتنی ہوگی تو جائز ہے۔مذکورہ صورت میں تنخواہ میں کسی قسم کا ابہام موجود نہیں ہے۔ ایک تو سال بھر کےلئے تنخواہ کی مقدار متعین ہے اور پھر بڑھوتری کا پیمانہ بھی متعین ہے، کیونکہ پرائس اندیکس کی رو سے اس اضافے کا بآسانی پتہ لگایا جا سکتا ہے۔


تنخواہ میں پرائس اندیکس کے تعلق کی شرط لگانا


اگر ادارے کی جانب سے ملازم کی تنخواہ کے لئے پہلے ہی دن ایک مقدار متعین ہوجائے اور پھر اسے بتایا جائے کہ اس مقدار سےآپ کو نہیں ملے گی، بلکہ قیمتوں کے اشاریے سے مہینے کے آخر میں اس مقدار کا جو متبادل سامنے آئے گا، وہی آپ کی تنخواہ ہوگی، جیسے اس کی تنخواہ 12 ہزار متعین کردے اور اسے کہہ دے کہ آپ کو 12 ہزار تنخواہ نہیں ملے گی۔ یہ صرف آپ کی تنخواہ ناپنے کا پیمانہ اور فرضی مقدار ہے، بلکہ ہر مہینے کے آخر میں ہم پرائس انڈیکس کا سہارا لیں گے اور اس وقت 12 ہزار کی جو قیمت بنے گی وہی آپ کی تنخواہ بنے گی۔


شرعی حکم


وظیفے کی یہ قسم بھی شرعا! درست ہے، کیونکہ وظیفہ اگرچہ متعین نہیں ہے، تاہم اسے متعین کرنے کا پیمانہ موجود ہے، جس سے باآسانی تعیین ہوسکے گی۔ یہی بات ڈاکٹر عصمت اللہ صاحب نے مفتی تقی عثمانی صاحب کے حوالے سے ذکر کی ہے:جہاں تک اس صورت کی شرعی حیثیت کا تعلق ہے ، اس میں جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی رائے یہ ہے کہ یہ بھی جائز ہے، بشرطیکہ قیمتوں کا اشاریہ اور اس کے حساب کا طریقہ فریقین کو اچھی طرح معلوم ہو، تاکہ بعد میں لاعلمی کی بناء پر آپس میں جھگڑا نہ ہوجائے، اس لئے کہ یہاں دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ طے شدہ اجرت ایک ہزار روپے نہیں ، بلکہ قیمتوں کے اشاریے کے اعتبار سے مہینے کے آخر میں جتنےروپے موجودہ ایک ہزار کے مساوی ہوں گے، وہ مالک کو دینے ہوں گے، جس کو حساب کے ذریعے نلاکنے کا طریقہ دونوں فریق کو معلوم بھی ہو، لہذا اجرت کی مقدار میں اتنی جہالت جھگڑا کا سبب نہیں بنے گی اور شرعاً اتنی جہالت متحمل ہوتی ہے۔[17]


تنخواہوں میں قیمتوں کے اشاریے کے استعمال کی ایک ناجائز صورت


اگر ادارے کی جانب سے ملازم کو کہا جائے کہ آپ کی تنخواہ کی مفروضہ مقدار 12 ہزار ہے، تاہم یہ 12 ہزار آپ کو نہیں دیے جائیں گے، بلکہ جس قدر میں ادائیگی کروں گا، اس دن پرائس اندیکس سے 12 ہزار کی قیمت کی تعیین کریں گے اور پھر فی مہینہ آپ کو ادائیگی کی جائے گی۔


شرعی حکم


ایک ماہ کام کرنے کے بعد ملازم کی تنخواہ ادارے پر قرض ہوجاتی ہے۔ اب ادارہ اس قرضے میں کمی بیشی نہیں کرسکتا،بلکہ جتنا قرضہ ہے ، اس کی ادائیگی ضروری ہے۔صورت مذکورہ میں ملازم جب ایک ماہ کام کر لیتا ہے تو اس کا وظیفہ ادارے پر دین ہوجاتا ہے ، جس میں کمی بیشی کا اختیار ادارے کو نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف گزشتہ صورت میں ملازم کا وظیفہ ادارے پر قرضہ نہیں تھا بلکہ تنخواہ کی مقدار پہلے سے متعین تھی، کیونکہ اس میں ہر مہینے کی تنخواہ کے بارے میں کہا گیا کہ جو موجودہ 12 ہزار کے برابر ہو۔ اس لئے وہ صورت جائز تھی۔

حوالہ جات

  1. (Principal of Marketing.Kotker and Armstrong, Ch: 16, P: 665, Edition: 14, www.pearsonhighered.com)
  2. (Daniel yadin, the international Dictionary of Marketing, British Library, 2002ISBN 0 7494 3532 1, Price, P: 300,)
  3. زکریا، احمد بن فارس، معجم مقاییس اللغۃ، مادہ: س ع ر، داراحیاء التراث العربی، بیروت،ط:1422، ص: 460
  4. جوہری، اسماعیل بن حماد، معجم الصحاح، مادۃ س ع ر، دارالمعرفۃ 1426ھ، ص:494
  5. الشوكاني، محمد بن علي بن محمد. نيل الاوطار من أحاديث سيد الأخبار شرح منتقى الأخبار. تحقيق أحمد محمد السيد "وآخرون". الطبعة الأولى. دمشق: دار الكلم الطيب، ه 1419 = 1999 م. ج 3: ص 628 - 62
  6. البهوتي، منصور بن يونس بن ادريس، كشاف القناع عن متن الإقناع، تحقيق محمد امين الضناوي، ط: بيروت: عالم الكتب، ه 1417، ج 2: ص 493
  7. ص: 4،حسیب عرقاوی، احکام التسعیر فی الفقہ الاسلامی،The journal of Islamic Civilization Studies,، 2015،
  8. عمارة. قاموس المصطلحات الاقتصادية. ص 286 . الشرباصي. المعجم الاقتصادي الإسلامي ص 221، الدريني، محمد فتحي.بحوث مقارنة في الفقه الإسلامي وأصوله. الطبعة الأولى. دمشق: مؤسسة الرسالة، ه 1414 = 1994 م. ج 1 : ص 5
  9. ابن عابدين. رد المحتار على الدر المختار. تعليق محمد صبحي حسن حلاق، عامر حسين. الطبعة الأولى. بيروت: دار إحياءالتراث العربي، 1419 = 1998 م. ص 88 .
  10. الشرباصي ، أحمد. المعجم الاقتصادي الإسلامي. دار الجيل ، 1401 ه1981 م. ص 224،309)


    (العسقلاني، أحمد بن علي بن حجر. فتح الباري شرح صحيح البخاري. الطبعة الثالثة. الرياض: مكتبة دار السلام، ه 1421 =2000 م. ج 5: ص 190.)
  11. مجلۃ البحوث الاسلامیۃ، العدد الرابع،1398ھ، التسعیر فی نظر الشریعۃ الاسلامیۃ،4/257، موقع الرئاسۃ العامۃ للبحوث العلمیۃ و الافتاء، موقع مکتب الفوائد۔
  12. تقی عثمانی، فقہی مقالات، کرنسی کی قوت خرید اور ادائیگیوں پر اس کے شرعی اثرات، ج1،ص 53-54، میمن پبلیکیشنزط: 2011،
  13. سلیمان بن الاشعث، سنن ابی داؤد، کتاب البیوع، باب فی اقتضاء الذھب من الورق، رقم الحدیث:3356، ج 3،ص255، ط دارالکتاب العربی بیروت
  14. تقی عثمانی، فقہی مقالات، کرنسی کی قوت خرید اور ادائیگیوں پر اس کے شرعی اثرات، ج1،ص 63،64، میمن پبلیکیشنزط: 2011،
  15. ابن الاثیر، جامع الاصول،، ج1،ص:546،ط:1389ھ مکتبۃ الحلوانی)
  16. مجلۃ المجمع الفقہ الاسلامی، الدورۃ الخامسۃ ، العدد الخامس، الجزء الثالث 1409 ھ/1988،ص2261
  17. ڈاکٹر عصمت اللہ، زر کا تحقیقی مطالعہ شرعی نقطہ نظر سے،ط ادارۃ المعارف کراچی،ط:2009،باب ششم، قدر زر،ص: 330۔