پاکستانی معاشرے میں طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان اور اس کے اسباب

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ حبیبیہ اسالمیکس
عنوان پاکستانی معاشرے میں طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان اور اس کے اسباب
انگریزی عنوان
Increase in Deivorce Ratio in Pakistan and Their Causes
مصنف Haris، Muhammad، Ubaid Ahmed Khan
جلد 1
شمارہ 1
سال 2017
صفحات 71-78
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Divorce, Pakistani society, Marriage, Happy family, Divorce ratio, Divorce causes
شکاگو 16 Haris، Muhammad، Ubaid Ahmed Khan۔ "پاکستانی معاشرے میں طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان اور اس کے اسباب۔" حبیبیہ اسالمیکس 1, شمارہ۔ 1 (2017)۔

Abstract

Islam wants from its believers to make a peaceful society. The first base of each society is husband-wife relation. Islam has given much emphasis upon this relationship to make it smooth, peaceful, joyful and interactive. But considering human as multidimensional, Islam has allowed husband and wife to get themselves separate from each other, it they cannot survive this relationship smoothly at any level. Though, ‘divorce’ is allowed in Islam but at last solution. Pakistan, as being a Muslim society is facing increase rate in divorce nowadays. My research work is covering different reasons and aspects behind this high ratio of divorce in Pakistan. This research will be helpful to find out any solution to decrease the divorce ration in Pakistani society.

پاکستانی معاشرے میں طلاق کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 1970میں طلاق کی شرح پاکستان میں 13 فیصد تھی یعنی100میں سے13شادیوںمیں طلاق کا تناسب تھا ورحالیہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں طلاق کی شرح 35فیصدتک پہنچ چکی ہے یعنی100میں سے35شادیوںمیں طلاق ہورہی ہے یہ ایک تشویش ناک صورتحال ہے۔ نکاح اس لئے نہیں کیا جاتا کہ طلاق کے ذریعہ اس کو ختم کردیا جائے، شریعت کی نگاہ میں یہ ایک اہم معاملہ ہے جس میں دوام اور استمرار مطلوب ہے۔ اسی لئے نکاح کو محض ایک عقد یا معاملہ ہی نہیں رکھا گیا بلکہ اس کو انبیاء کی سنت قرار دے کر عبادت کا درجہ بھی دیا گیا ہے۔ دوسری طرف بعض ناگزیر حالات میں طلاق کی اجازت تو دی گئی مگر اسے ابغض المباحات(جائز چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز) قرار دے کر یہ بھی واضح کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو طلاق بالکل پسند نہیں ہے۔ البتہ اگر حالات ایسے پیداہوجائیں کہ طلاق کے بغیر چارہ نہ رہے تب طلاق کا حق استعمال کیا جائے۔بات بے بات طلاق دینا غضبِ الہٰی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ حدیث شریف میں ہے:


"نکاح کرو، طلاق نہ دو، اس لئے کہ طلاق دینے سے عرشِ الہی لرز اٹھتا ہے۔")[1](


زیر بحث مسئلہ طلاق پر گفتگو کرنے سے پہلے یہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ دینِ اسلام کے نظام نکاح وطلاق اور ان دونوں معاملات کے مصالح و مقاصد پر نظر ڈالی جائے۔ دینِ اسلام ایک معتدل اور فطری مذہب ہے۔ دینِ اسلام کی بے شمار خصوصیات میں سے سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی تمام تعلیمات میں اعتدال کا عنصر پوری طرح نمایاں ہے۔ اسی طرح اس کا ہر حکم انسان کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ اب جنسی تلذذ کو ہی لیجئے، دینِ اسلام نے اس کو مقصودِ حیات قرار نہیں دیا اور نہ اس سلسلہ میں اپنے ماننے والوں کو اس طرح آزاد چھوڑا کہ وہ اس تلذذ کے حصول کے لئے جو راستہ چاہیں اختیار کریں اور نہ اس فطری تقاضے کی بیخ کنی کی، بلکہ اس کے حصول کے لئے ایک ایسا جامع نظام مرتب کرکے انسانیت کو عطا کیا جس کے ذریعے وہ جنسی تلذذ بھی حاصل کرسکتا ہے اور انسانی معاشرے کے ارتقاء میں اپنا تعمیری رول ادا کرنے کے ساتھ ساتھ خود اپنی گھریلو زندگی بھی سنوار سکتا ہے۔ نکاح کے اس مقصد کی ایک جھلک ہمیں قرآن کی اس آیت میں نظر آتی ہے۔چنانچہ فرمایاگیا:


"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی پیدا کردی۔")[2](


ظاہر ہے جنسی خواہش کے حصول کے دوسرے ذرائع بھی ہوسکتے ہیں۔ دینِ اسلام نے ایسے تمام ذرائع پر پابندی عائد کردی اور صرف ایک ذریعہ نکاح کو باقی رکھا، نہ صرف باقی رکھا بلکہ اس کی ترغیب بھی دی۔ نکاح کے ذریعہ جو رشتہ وجود میں آتا ہے اس پر محبت اور رحمت کا رنگ چڑھایا۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ محبت کا تعلق عہدِ جوانی سے ہے اور رحمت و ہمدردی کا تعلق بڑھاپے سے ہے۔ نکاح کے علاوہ کوئی دوسرا رشتہ ایسا نہیں ہوسکتا جو جسمانی اور روحانی سکون کے ساتھ ساتھ پہلے محبت میں اور پھر رحمت و ہمدردی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔اسی لئے حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے:


"دو محبت کرنے والوں کے لئے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی۔")[3](


نکاح کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات پرنظر ڈالنےسے پتہ چلتا ہے کہ نکاح سے شریعت کا مطمع نظر صرف جنسی جذبہ کی تسکین ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعہ اللہ تعالی مرد و زن کو کردار کی پاکیزگی بھی عطا کرنا چاہتے ہیں۔نسلِ انسانی کی بقاء اور افزائش بھی نکاح کے مقاصد میں سے اہم مقصد ہے ۔ باہمی الفت و محبت کے ذریعے دلوں میں سکون بھی پیدا کرنا مقصود ہے تاکہ انسان اس کائنات میں اپنی مفوضہ ذمہ داریاں زیادہ بہتر طریقے سے ادا کرسکے۔ علامہ شامی نے مقاصدِ نکاح کی بحث میں لکھا ہے:


"اللہ تعالی نے بہت سے مصالح، منافع اور حِکَم کے پیشِ نظر نکاح کا رشتہ تخلیق فرمایا ہے، ان میں سے ایک حکمت اور مصلحت یہ ہے کہ اس کائنات میں بنی نوعِ انسان، اصلاحِ ارض اور اقامتِ شرائع کے لئے اللہ کا نائب بن کر اس وقت تک باقی رہے جب تک یہ کائنات باقی ہے۔ یہ حکمتیں اورمصلحتیں اسی وقت متحقق ہوسکتی ہیں جب ان کی بنیاد مضبوط ستون پر قائم ہو۔ وہ مضبوط ستون رشتہ نکاح ہے۔")[4](


دینِ اسلام نے نکاح کی جس قدر ترغیب دی ہے شاید ہی کسی دوسرے مذہب میں اس کا تصور ملتا ہو۔جیساکہ قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا :


"جو عورتیں تمہیں پسند آئیں تم ان سے نکاح کرو۔")[5](


شارح بخاری حافظ ابنِ حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ اس آیت مبارکہ میں صیغہ امر لایا گیا ہے جس سے وجوب مقصود ہے۔)[6]( اسی لئے فقہائے کرام نے بعض حالات میں نکاح کو فرض اور واجب قرار دیا ہے۔ جہاں تک اس کے مستحب اور مسنون ہونے کا معاملہ ہے اس میں تو کسی طرح کے شک کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ بے شمار روایات میں نکاح کی ترغیب دی گئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کے ایک گروہ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:


"اے نوجوانو! تم میں سے جو شخص نکاح کی اہلیت رکھتا ہو وہ نکاح ضرور کرے، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے۔")[7](


ایک اور حدیث میں سرکارِ دو عالمﷺنےفرمایا:


"نکاح میری سنت ہے۔ جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ میرے طریقے پر نہیں ہے۔")[8](


اس طرح کی روایات سے نکاح کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے، اسی لئے دینِ اسلام میں نکاح کا ایک مکمل ضابطہ اور نظام ہے۔ یہ نہیں کہ اگر نکاح کی اجازت دے دی گئی یا اس کا حکم دے دیا گیا تو جس طرح جی چاہے کرو، جس سے جی چاہے کرو اور جب جی چاہے کرو۔ ایسا نہیں ہے بلکہ اس کا ایک مکمل نظام ہے جس میں نکاح کے تمام آداب و شرائط کھول کھول کر بیان کردئے گئے ہیں۔ حالانکہ معاملات اور بھی ہیں۔ مگر جس قدر تفصیلات نکاح کے باب میں ملتی ہیں اور جتنی شرائط و قیود نکاح کے سلسلے میں لگائی گئی ہیں ان سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کوئی مہتم بالشان معاملہ ہے۔


جو معاملہ اتنا اہم ہے اور جس رشتے کو وجود میں لانے کے لئے اس قدر ترغیب دی گئی ہو، ظاہر ہے وہ معاملہ ختم کرنے کے لئے نہیں ہوتا اور نہ ایسا رشتہ توڑنے کے لئے ہوتا ہے۔ اسلام کا اصل رُخ تو یہ ہی ہے کہ معاہدہ نکاح زندگی کی آخری سانس تک برقرار رہے۔ اس کے لئے شریعت نے زوجین کو قدم قدم پر ہدایتیں دی ہیں۔ ایک دوسرے کے حقوق سے آگاہ کیا ہے۔ انہیں ایک دوسرے کی حق تلفی سے ڈرایا ہے۔ اولاد کے باب میں بھی ان کے فرائض واضح کردئے ہیں۔ خاندانوں کو مربوط اور متحد رکھنے میں جو کردار میاں بیوی دونوں مل کر ادا کرسکتے ہیں اس سے بھی آگاہ کردیا ہے۔ ان سب چیزوں پر عمل اسی صورت میں ممکن ہے جب مردوزن دونوں اس رشتے کو مستحکم اور برقرار رکھنے میں کامیاب ہوں۔ اس کے باوجود بعض اوقات ایسے حالات پیش آجاتے ہیں جب یہ رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسے حالات میں بھی اسلام کی راہنمائی موجود ہے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا کہ دینِ اسلام دینِ فطرت ہے اور راہِ اعتدال ہے۔ یہ نہیں کہ اگر ایک دفعہ اس رشتے میں بندھ گئے تو اب کوئی صورت اس سے گلوخلاصی کی نہیں ہوسکتی۔


خواہ کیسی ہی مشکلات پیش آئیں میاں بیوی میں کتنا ہی عدم توافق ہو، ہر حال میں اس رشتے کو نبھانا ضروری ہے، ایسا نہیں ہے۔ جن مذاہب میں شادی کو ہر حال میں دائمی معاملہ سمجھا گیا ہے وہاں بعض اوقات زوجین میں سے کوئی ایک یا دونوں مذہبی قیدوبند سے بغاوت پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ جن میں بغاوت کا حوصلہ نہیں ہوتا وہ گھر سے باہر جسمانی اور قلبی سکون تلاش کرتے پھرتے ہیں۔کبھی کبھی یہ معاملہ میاں بیوی میں سے کسی ایک کی غیرفطری موت (قتل وغیرہ) پر بھی منتج ہوتا ہے۔ دینِ اسلام نے طلاق کی اجازت دے کر یہ تمام راستے بند کردئے ہیں۔


طلاق کی تفصیلات میں جانے سے پہلے یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ طلاق صرف ناگزیر حالات میں ہی مشروع کی گئی ہے۔ اس کا بے جا استعمال غضبِ الہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ جو لوگ اس اختیار کا غلط استعمال کرتے ہیں وہ دنیا میں بھی اس کا خمیازہ بھگتیں گے اور آخرت میں بھی اس کی سزا پائیں گے۔طلاق کے سلسلے میں سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ کوئی بھی فیصلہ جلد بازی میں یا جذبات سے مغلوب ہوکر نہ کرنا چاہئے۔ بلکہ نہایت سوچ سمجھ کر ٹھنڈے دل اور دماغ سے کسی نتیجے پر پہنچنا چاہئے۔ اسی لئے دینِ اسلام نےطلاق کا اختیار صرف مرد کو دیا ہے۔ خلع کی صورت میں بھی طلاق دینے کی ذمہ داری مرد ہی کی ہوتی ہے۔ علامہ شامی نے لکھا ہے:


"طلاق کا ایک اچھا پہلو یہ بھی ہے کہ شریعت نے طلاق کا اختیار صرف مرد کو دیا ہے۔ کیونکہ عورت کے مقابلے میں اس کی عقل زیادہ ہوتی ہے۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے وہ اس کے نتائج و عواقب پر اچھی طرح غور کرلیتا ہے۔ جب کہ عورت میں عقل اور دین کے نقصان کے باعث یہ صلاحیت کم ہوتی ہے۔ وہ جذبات سے مغلوب ہوجاتی ہے۔")[9](


مرد کو اختیار دینے کے بعد بھی دینِ اسلام نے طلاق کے معاملے کو ایک شرعی ضابطے کا پابند بنادیا ۔ اس ضابطے کی پابندی میں دی گئی طلاق کو احسن یا حسن کہتے ہیں۔ اور اس ضابطے کے خلاف دی گئی طلاق کو طلاقِ بدعی کہہ کر آگاہ کردیا گیا کہ اگر طلاق دینی ہی ہے تو طلاقِ احسن یا طلاقِ حسن دو، طلاقِ بدعی نہ دو۔ مفسرِ قرآن حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی تحریر فرماتے ہیں:


"شریعت نے معاہدہ نکاح کو توڑنے اور فسخ کرنے کا وہ طریقہ نہیں رکھا جو عام خریدوفروخت کے معاملات اور معاہدات کا ہےکہ ایک مرتبہ معاہدہ فسخ کردیا تو اسی وقت، اسی منٹ فریقین آزاد ہوگئے اور پہلا معاملہ بالکل ختم ہوگیا اور ہر ایک کو اختیار ہوگیا کہ دوسرے سے معاہدہ کرلے، بلکہ معاہدہ نکاح کو بالکل ختم کرنے کے لئے اول تو اس کے تین درجے طلاقوں کی صورت میں رکھے گئے۔ پھر اس پر عدت کی پابندی لگادی گئی۔")[10](


افسوس مسلمانوں نے طلاق کو ایک کھلونا بنالیا ہے۔ بعض شوہر ذرا ذرا سی بات پر طلاق کی دھمکی دیتے ہیں۔ صرف دھمکی ہی نہیں دیتے بلکہ اس دھمکی پر عمل بھی کر بیٹھتے ہیں۔ حالانکہ اگر طلاق دینی ہی ہے توپہلے اہلِ علم سے اس کی تفصیلات معلوم کریں، اس کا طریقہ کار سمجھیں اس کے بعد یہ قدم اٹھائیں۔ میاں بیوی میں اختلاف پیدا ہوسکتا ہے۔ بعض اوقات یہ اختلاف بڑھ بھی جاتا ہے۔ ایسی صورت میں کوشش یہ ہی کرنی چاہئے کہ آپس میں ہی معاملات حل کرلئے جائیں۔ بیوی کی غلطی ہو تو اس کو زجروتوبیخ کی جاسکتی ہے۔ اس کا بستر بھی الگ کیا جاسکتا ہے۔اس سے بھی کام نہ چلے تو دونوں خاندانوں کے صاحب الرائے لوگ جمع ہوکرمعاملے کو سلجھنے کی کوشش کریں۔خاندان کے بڑے حضرات ان دونوں میاں بیوی کو سمجھائیں۔ یہ کوشش بھی کارگر نہ ہو تو اب طلاق دی جاسکتی ہے۔


مگر اس حق کے استعمال میں بھی مرد کو یہ ہدایت ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ایسےطہر کی حالت میں جس میں ہم بستری نہ کی گئی ہو ایک طلاق دے کر رک جائے۔ دوسری اور تیسری طلاق نہ دے۔ عدت پوری ہونے پر یہ رشتہ نکاح خود بخود ختم ہوجائے گا۔ یہی طلاقِ احسن ہے جو شریعت میں مطلوب ہے، اسے طلاقِ رجعی کہتے ہیں یعنی اگر شوہر چاہے تو وہ عدت کے اندر اندر رجوع کرسکتا ہے۔ طلاقِ رجعی کی صورت میں عدت کے اندر رجوع کرنے کے لئے دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہے، نہ عورت کی رضامندی شرط ہے۔ عدت گزرنے کے بعد اب اگر دونوں دوبارہ ملنا چاہیں تو صرف نکاح کافی ہوگا، حلالہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اب اگر کسی وجہ سے دوسری اور تیسری طلاق دینی ہی ہے تودوسرے طہر میں دوسری اور تیسرے طہر میں تیسری طلاق دے۔ دو طلاق تک تو عدت کے اندر رجوع اور عدت گزرنے کے بعد بلاحلالہ تجدیدِ نکاح کی گنجائش ہے۔ تیسری طلاق میں یہ گنجائش باقی نہیں رہتی۔


اسباب

جب ہم طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں درج ذیل اسباب سرفہرست نظر آتے ہیں:


دین سے دوری

آج کا مسلمان برائے نام مسلمان رہ گیا ہے۔ اسے شریعت کے بنیادی احکامات تک کا علم نہیں ہے۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کے کن الفاظ کی ادائیگی سے کیا حکم لگ سکتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ عموما لوگ علماء کے پاس آکر کہتے ہیں کہ حضرت ہمیں تو علم ہی نہیں تھا کہ ہم ہمیشہ کے لئے جدا ہوجائیں گے یا کہتے ہیں کہ حضرت میں نے تو غصے میں طلاق دی تھی۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ کیا کوئی پیار سے بھی طلاق دیتا ہے؟


صبر وبرداشت کی کمی

آج کے دور میں مرد ہو یا عورت، دونوں میں صبرو برداشت کا مادہ ختم ہوتا جا رہا ہے اور بنیادی وجہ یہی ہے کہ گھروں میں لڑائی جھگڑے ختم ہونے کے بجائے بڑھتے جاتے ہیں۔ زبان درازی عام ہے بلکہ یوں سمجھیں کہ یہ بری خصلت ہر گھر کی باندی ہے۔ چھوٹی سی بات پر تو تو میں میں ،سنگین صورت اختیار کر جاتی ہے۔مرد غصے میں ایک بات کرتا ہے تو بیوی آگے سے چار سناتی ہے۔ بس پھر یہی سلسلہ چلتا ہوا طلاق تک آ پہنچتا ہے۔ اگر دونوں صبر کا مظاہرہ کریں مرد کے ساتھ عورت بھی زبان پر قابو رکھے تو گھر کو نار کے بجائے گل گلزار بناسکتی ہے۔


بے اولادی یا لڑکوں کا نہ ہونا

ایسے واقعات بھی دیکھنے میں آتے ہیں کہ اگر کسی کے اولاد نہیں ہورہی ہے یا اولاد تو ہورہی ہے لیکن لڑکیاں ہورہی ہیں تو اس صورت میں بھی مرد طلاق دینے کا سوچنے لگتا ہے۔ حالانکہ قرآن نے واضح طور سے اس بات کو بیان کیا ہے :


"آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ تعالی کے لئے ہے، جو کچھ وہ چاہتاہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہےیا انہیں لڑکے اور لڑکیاں ملاکر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے، یقینا وہ سب کچھ جاننے والا پوری قدرت والا ہے۔")[11](


موبائل کا غلط استعمال

عورت ایسی ذات ہے جو کسی راہ پر بھی بھٹک سکتی ہے۔اب تک کتنی ایسی عورتیں ہیں جو عشق و معشوقی کے چکر میں اپنے گھروںکوبربادکئےہوئےہیں۔آئےروزقسماقسم کی خبریں اخباروں اوررسالوں کی زینت بنتی جارہی ہیں۔facebookہویا چاہے کوئی اور ذریعہ۔ ایک فرینڈ بنا بڑا ہی ہمدرد پھر چند دنوں میں ایسے سبز باغ دکھائے اپنی محبت کے ایسے نقشے کھینچے کہ بیچاری عورت نے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کر لیا ۔طلاق کا ملنا تھا کہ عورت نے خوشی سے اس لڑکے سے رابطہ کرنا چاہا مگر بے سود۔ اب عورت نہ یہاں کی رہی نہ وہاں کی۔اس لئے عورت ذات کو اتنی کھلی چھوٹ نہ دی جائے کہ وہ حد سے نکل جائے اور واپسی کا کوئی راستہ باقی نہ رہے۔


بے جوڑ رشتے

 کئی والدین اپنی اولاد کے لیے بڑے ہی سہانے سپنے دیکھا کرتے ہیں جیسے اچھا بنگلہ ہو،عیش وعشرت کی زندگی گزارنے والے ہوں،سرکاری نوکری ہو،اچھا کمانے والا ہو،خاندانی ہوں، چھوٹی فیملی ہووغیرہ وغیرہ۔ پھر ٹرکوں کے ٹرک لاد کر جہیز دیا جائے ۔ پھر ایسا ہوتا ہے کہ لاکھوں روپے کے قرضے میں جکڑ لئے جاتے ہیں۔ بیٹی جب اپنے سے اونچے گھر میں جاتی ہے تو وہاں کے ماحول میں خود کو ایڈجسٹ نہیں کر پاتی یا کبھی کبھار کچھ ایسے مسائل رونما ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ساری زندگی کے لئے طلاق کا دھبہ لئے گھر میں آبیٹھتی ہے اور بعض اوقات اس کے برعکس ہوتا ہے۔


مشترکہ خاندانی نظام سے بغاوت

پہلے ہمارا خاندانی نظام مضبوط تھا جس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ اگر لڑکا طلاق دینے کا سوچتا بھی تھاتو فوراً اس کے ذہن میں یہ بات آتی تھی کہ خاندان والے کیا کہیں گے؟یہ سوچ اس کو کسی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے روکنے کے لئے کافی ہوتی تھی۔ یا ایسا ہوتا کہ اگر میاں بیوی میں کوئی ناچاقی ہوتی تو خاندان کے بڑے فوراً دونوں میں صلح کروادیتے۔ جس سے اختلافات حد سے نہیں بڑھتے تھے لیکن اب خاندانی نظام کی شکست و ریخت کے بعد نہ تو کوئی بزرگ کسی کو کچھ سمجھاتا ہے اور نہ ہی چھوٹے ان کی بات سننے کو تیار ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دوریاں بڑھتی چلی جاتی ہیں اور طلاق کی نوبت آجاتی ہے۔


دوسری شادی پر قدغن

یہ اصول ہے کہ جب کسی کو اس کے جائز حق سے محروم کیا جاتا ہے تو وہ بغاوت پر اتر آتا ہے۔ اسلام نے مرد کو ایک وقت میں چار تک شادیاں کرنے کی اجازت دی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں دوسری شادی کو شجر ممنوعہ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی مرد دوسری شادی کی بات گھر میں کرے تو سب سے پہلے اسے اپنی بیوی کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر مرد نے پختہ ارادہ کررکھا ہو کہ اسے دوسری شادی کرنی ہی ہے اور پہلی بیوی اجازت نہ دے رہی ہو تو وہ بعد کے لڑائی جھگڑوں سے بچنے کے لئے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے۔


اپنی غلطی نہ ماننا

انسانی فطرت کا تقاضہ ہے کہ اس سے غلطیاں ہوتی ہیں۔ انسانیت کا شرف یہ ہے کہ انسان اپنی غلطی کو تسلیم کرلے۔یہ حقیقت ہے کہ جب انسان اپنی غلطیوں کا وکیل اور دوسروں کی غلطیوں کا جج بن جائے تو فیصلے فاصلوں کو ہی جنم دیتے ہیں۔ یہی فاصلے میاں بیوی کے دلوں میں پیدا ہوکر ان کا گھر خراب کردیتے ہیں۔


این جی اوز کا کردار

جن خواتین کو طلاق ہوتی ہے ان میں ایک بڑی تعداد ان خواتین کی ہوتی ہےجو مغربی این جی اوز کے پروگرامز سے متاثر ہوتی ہیں۔ یہ این جی اوز عورت کو بتاتی ہیں کہ یہ معاشرہ مردوں کا معاشرہ ہے جس میں خواتین استحصال کا شکار ہیں۔ اس استحصال سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ اپنے حقوق (جو اصل میں ان کے حقوق نہیں ہوتے) کے لئے آواز بلند کی جائے۔ جب کوئی عورت ایسی باتیں اپنے شوہر کے سامنے کرتی ہے تو اس سے گھر خراب ہونا شروع ہوجاتا ہے اور طلاق کی نوبت آجاتی ہے۔


محبت کی شادی

وہ شادیاں جو باقاعدہ لڑکے اور لڑکی کی پسند کے مطابق ہو جسےلَو میرج کہا جاتا ہے ، عموما ناکام رہتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شادی سے پہلے ایک دوسرے سے بہت زیادہ وعدے کئے جاتے ہیں۔ جب حقیقی زندگی شروع ہوتی ہے تو دونوں ایک دوسرے کو ان کے وعدے یاد دلاکر طعنے دیتے رہتے ہیں اور اس طرح ناچاقیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔


حرفِ آخر

اگر ہم اپنے معاشرے سے طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ کام کرنا ہونگے:


۱۔ خود کو اور نئی نسل کو دینی تعلیمات سے روشناس کرانا ہوگا۔


۲۔ خاندانی نظام کو مضبوط کرنا ہوگا۔


۳- اپنے حقوق کے مطالبے سے زیادہ اپنے فرائض کی ادائیگی پر توجہ دینا ہوگی۔

حوالہ جات

  1. - (تفسیر قرطبی:ج18، ص149)
  2. - (الروم:21)
  3. - (سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث:1837)
  4. - (فتاوی شامی:4/کتاب النکاح)
  5. - (النساء:3)
  6. - (فتح الباری:ج14،ص289)
  7. - (صحیح البخاری: 5066)
  8. - (مؤطا امام محمد، ج:2، ص:427)
  9. - (ردالمختار: ج4،ص316)
  10. - (تفسیر معارف القرآن:ج1،ص557)
  11. - (سورۃ الشوری: 50)