قرآن مجید اور احادیث میں لفظ رحم کا تصور اور استعمالات

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ انٹرنیشنل ریسرچ جرنل آن اسلامک اسٹڈیز
عنوان قرآن مجید اور احادیث میں لفظ رحم کا تصور اور استعمالات
انگریزی عنوان
The Concept and Usage of the Word of Mercy in the Holy Quran and Hadith
مصنف Nasir، Muhammad Suleman
جلد 1
شمارہ 2
سال 2020
صفحات 47-61
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Mercy, Tenderness, Blessing, Quran, Hadith
شکاگو 16 Nasir، Muhammad Suleman۔ "قرآن مجید اور احادیث میں لفظ رحم کا تصور اور استعمالات۔" انٹرنیشنل ریسرچ جرنل آن اسلامک اسٹڈیز 1, شمارہ۔ 2 (2020)۔

Abstract

All praises and thanks be to Allah, the Lord of the entire Universe Muhammad, who is a symbol of mercy, peace, and love to all human beings. Islam is a universal religion. Its blessings, bounties, and auspiciousness are common to all human beings irrespective of community, caste, creed, region, and nation. Islam is the religion of peace and mercy. It is a religion for humanity. It strongly emphasis on love and mercy in general. It teaches us that we should show mercy. R-Ḥ-M (Arabic: رحم) is the tri consonantal root of many Arabic and Hebrew words, and many of those words are used in Holy Quran. Holy Quran is a complete guide for all human beings. All chapters in the Quran, except one (Repentance Chapter), begin with the words “Bismillahiar-Rahman AR-Rahim” or in the name of Allah, Most Gracious, Most Merciful. IN Islam the title "Most Merciful" (al-Rahman) is one of the names of Allah and Compassionate (al-Rahim), is the most common name occurring in the Quran. Rahman and Rahim both derive from the root Rahmat, which refers to tenderness and benevolence. Allah SWT could have used other attributes in its place, but he chooses these two which show their significance. God's Mercy precedes his other attributes. Each worshipper repeats the attribute of mercy sixty-eight times/day during his five daily prayers. Without love and mercy, there will be chaos in society. Showing mercy to Allah's creatures creates a society of peace and tolerance. That is why in Holy Quran Allah emphasized mercy and tenderness.

رحم کو عربی میں “الرحمتہ” کہتے ہیں۔ اس کے لغوی معنی لطف،رحمتہ اور شفقت کے ہیں۔[1] یہ نرمی،رِقت اور مغفرت کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔[2]

عربوں کے نزدیک لفظ رحم اگر انسانوں کے تعلق میں استعمال ہو تواس سے مراد"رِقتِ قلب ،دلی شفقت اور عطف مراد ہوتا ہےـمگر جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ سے منسوب ہو توا سے مراد اللہ تعالیٰ کی بندوں پر احسان اور رزق ہے۔" [3]

بعض اہل علم کا خیال ہے کہ رحم اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفت ہے،جس کا مقصدبندوں کو بھلائی پہنچانا اور شر سے محفوظ رکھنا ہے۔

مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کے مطابق "رحم لغت میں رِقت ِقلب اور انطاف کو کہتے ہیں،جوفضل واحسان کا متقاضی ہوـچونکہ رحمت مزاج کے تابع رہنے والی کیفیات میں سےایک کیفیت ہےاس لئےاللہ کی ذات کے لئےاس کا ستعمال حقیقی نہیں بلکہ مجازاً استعمال ہوا ہےـچونکہ اللہ تعالیٰ مزاج کی کیفیتوں سے پاک ہے اس لئے جب اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہو تواس سے مراد رحمت کا نتیجہ ہوتا ہے یعنی بندوں کی حفاظت،رعایت اور بھلائئ۔" [4]

حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا کہ،

‏‏" إن الرحم سجنة من الرحمن،‏‏‏‏فقال الله من وصلك وصلته،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ومن قطعك قطعته‏"[5]

"رحم کا تعلق رحمن سے جڑا ہوا ہے پس جو کوئی اس سے اپنے آپ کو جوڑتا ہے اللہ پاک نے فرمایا کہ میں بھی اس کو اپنے سے جوڑ لیتا ہوں اور جو کوئی اسے توڑ تا ہے میں بھی اپنے آپ کو اس سے توڑ لیتا ہوں ۔"

القاموس میں رحم کے یہ معنی بیان ہوئے ہیں۔

"الرقتہ المغفرتہ والتعطف" یعنی "دل کانرم ہونا،معاف کرنا اوررحم کرنا۔ " [6]

رِقت کا تقاضا ہے کہ احسان اور نیکی کرناـاس سے نرم دلی اورکھبی احسان کرنا بھی مراد لئے جاتے ہیں-اللہ کی رحمت سے مراد اس کا احسان اور مخلوق سے اسکی رقت قلبی مراد ہےـ

امام راغب کے مطابق رحم سے مراد ایسی نرمی مراد ہے جو احسان اور انعام کا متقاضی ہو لیکن اس انعام اوراحسان کا محرک یا باعث کسی قسم کی رِقت نہ ہو یعنی رحم اور احسان اور رِقت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہےـاولذکر کا تعلق بندوں کے دلوں اور طبیعتوں سےہے اور موءخرالذکر کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے مختص ہےـ [7]

قرآن مجید میں رحم کا تصور

قرآن مجید میں بہت سے الفاظ ،لفظ “الرحمۃ ” سے مشتق ہیں،ان میں سب سے اہم اللہ تعالی ٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے دو صفاتی نام رحمان اور رحیم ہیںـاللہ تعالیٰ اپنی ذات و صفات میں بے مثل ہے۔رحم کے معنی تو معلوم ہیں لیکن اس کی کیفیت کے ادراک سے مخلوق عاجز ہےِ۔ارشاد ِربانی ہے کہ،

"لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْر " [8]

اس جیسی کوئی چیز نہیں وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

اس طرح وہ رحمان اور رحیم تو ضرور ہےلیکن اس کی رحمت کا اندازہ کسی کو نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی مہربانی عموماً تو سب کے لئے ہے لیکن خصوصی مہربانی صرف اور صرف مومنوں کے لئے ہے۔قرآن پاک کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی ہر سورۃ بِسْمِ اللّٰهِ الرّحْمٰنِ الرّحِيْمِ سے شروع ہوتی ہے(سوائے سورۃتوبہ کے)۔جس کا یہ مطلب ہے کہ اس کتاب کے احکامات مہربان اوررحم کرنے والے بادشاہ کے ہیں اور اس کے تمام قوانین رحم پر مبنی ہیں،اس میں ایسی کوئی بات نہیں کو ناانصافی پر مبنی ہو تا کہ اس کی تلاوت کرنے والےاس کو ذوق وشوق سے اور تدبر سے پڑھیںاورسمجھیں درحقیقت اللہ تعالیٰ کی مہربانیاںاور رحمتیں اس دریا کی مانند ہیں جس کا کوئی کنارہ نہ ہو۔رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ و الہ وسلم کا ارشاد پاک ہے۔کہ،

"قدم على النبي صلى الله عليه وسلم سبى ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإذا امرأة من السبى قد تحلب ثديها تسقي ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ إذا وجد ت صبيا في السبى أخذته فألصقته ببطنها وأرضعته ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقال لنا النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أترون هذه طارحة ولدها في النار ‏"‏‏.‏ قلنا لا وهى تقدر على أن لا تطرحه‏.‏ فقال ‏"‏ الله أرحم بعباده من هذه بولدها ‏"‏‏.‏ [9]

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے قیدیوں میں ایک عورت تھی جس کا پستان دودھ سے بھرا ہوا تھا اور وہ دوڑ رہی تھی ، اتنے میں ایک بچہ اس کو قیدیوں میں ملا اس نے جھٹ اپنے پیٹ سے لگا لیا اور اس کو دودھ پلانے لگی ۔ ہم سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم خیال کر سکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈال سکتی ہے ہم نے عرض کیا کہ نہیں جب تک اس کو قدرت ہو گی یہ اپنے بچہ کو آگ میں نہیں پھینک سکتی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔ جتنا یہ عورت اپنے بچہ پر مہربان ہو سکتی ہے ۔"

ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہوتا ہے،

‏‏‏‏ "أن أبا هريرة ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ جعل الله الرحمة مائة جزء ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فأمسك عنده تسعة وتسعين جزءا ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأنزل في الأرض جزءا واحدا ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فمن ذلك الجزء يتراحم الخلق ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حتى ترفع الفرس حافرها عن ولدها خشية أن تصيبه ‏"‏‏ [10]

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے رحمت کے سو حصے بنائے اور اپنے پاس ان میں سے ننانوے حصے رکھے صرف ایک حصہ زمین پر اتارا اور اسی کی وجہ سے تم دیکھتے ہو کہ مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے ، یہاں تک کہ گھوڑی بھی اپنے بچہ کو اپنے سم نہیں لگنے دیتی بلکہ سموں کواٹھا لیتی ہے کہ کہیں اس سے اس بچہ کو تکلیف نہ پہنچے ۔گویا دنیا میں کسی کے پاس رحم کا اگر ایک ذرہ بھی موجودہےاس کی وجہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مہربانی ہے۔مثلاً والدین کااولاد پر مہربان ہونا،حاکم کا رعیت پر،دوست کی دوست کے ساتھ رحمت اور مہربانی کا معاملہ،سب اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے ہے۔یہاں تک اگر کوئی ظلم کرنے والا کسی مظلوم پر رحم کھاتا ہے تورحم بھی اللہ تعالیٰ کی جانب سےاس کے دل میں ڈالا گیا ہے۔

حضرت محمدصلی اللہ علیہ و الہ وسلم تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے آپﷺکی شان یوں بیان فرمائی ہے۔

"لَقَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ [11]

تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں- جن کو تمہارے نقصان کی بات نہایت گراں گزرتی ہے - جو تمہارے فائدے کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں ، ایمانداروں کے ساتھ بڑے شفیق اور مہربان ہیں-

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی ذات کامومنوں کے لئے اس قدر مہربا ن اور شفیق ہونابھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے ہے کیونکہ اللہ نے آپﷺ کی طبیعت اور فطرت ہی ایسی بنا دی ہے کہ اس مین رحم کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھر دیا۔جیسے فرمایا،

"فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَھُمْ " [12]

"اللہ تعالٰی کی رحمت کے باعث آپ ان پر رحم دل ہیں"

زوجین کے درمیان مودت اور رحمت بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔

"وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ" [13]

"اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں -تاکہ تم آرام پاؤ - اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی - یقیناً غورو فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت نشانیاں ہیں۔"

الغرض کسی سے بھی اگر کوئی مہربانی ہو یا کوئی نعمت حاصل ہوتو یہ واحد لا شریک ذات کی رحمت کا نتیجہ ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا فرمان ہے کہ،

"حدثنا قتيبة بن سعيد ،‏‏‏‏ حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن ،‏‏‏‏ عن عمرو بن أبي عمرو ،‏‏‏‏ عن سعيد بن أبي سعيد المقبري ،‏‏‏‏ عن أبي هريرة ـ قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ إن الله خلق الرحمة يوم خلقها مائة رحمة ،‏‏‏‏ فأمسك عنده تسعا وتسعين رحمة ،‏‏‏‏ وأرسل في خلقه كلهم رحمة واحدة ،‏‏‏‏ فلو يعلم الكافر بكل الذي عند الله من الرحمة لم ييأس من الجنة ،‏‏‏‏ ولو يعلم المؤمن بكل الذي عند الله من العذاب لم يأمن من النار ‏"‏‏. [14]

"ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا ، ان سے سعید بن ابی مقبری نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضیاللہعنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رحمت کو جس دن بنایا تو اس کے سوحصے کئے اور اپنے پاس ان میں سے نناوے رکھے ۔ اس کے بعد تمام مخلوق کے لئے صرف ایک حصہ رحمت کا بھیجا ۔ پس اگر کافر کو وہ تمام رحم معلوم ہو جائے جو اللہ کے پاس ہے تو وہ جنت سے ناامید نہ ہو اور اگر مومن کو وہ تمام عذاب معلوم ہو جائیں جو اللہ کے پاس ہیں تو دوزخ سے کبھی بےخوف نہ ہو ۔"

قرآن مجید کا تصور رحمت ،مغرب کے،انسان کے فطری گناہ گاری اور کفرہ کے تصور سے یکسر مختلف ہے۔مغرب کے نزدیک کفارہ اس فطری گناہ گاری کا علاج ہے،اس کے سوا انسان کے لئےدنیا میں امن و امان اور عاقبت میں کوئی بخشش نہیں۔قرآنِ پاک میں حضرت آدم علیہ السلام کی لغزش کے ساتھ ساتھ توبہ کا تصور بھی موجود ہے۔انسانی فطرت مین خیروشر کا مادہ برابر پایا جاتا ہے یعنی انسانی فطرت ہموار ہےاور اس میں خیر وشردونوں کو قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہےاور انسان کی یہ فطرت اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہےمزید یہ کہ انسان فطری طور پر گناہ گار نہیں۔لہذہ رحمت کا سبب یہ دائمی گناہ گاری نہیں بلکہ ربوبیت ہے۔یوں اللہ تعالیٰ کی رحمت گناہ گاروں کے لئے بھی ہے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کی رحمت پر بڑا زور دیا گیا ہےمثلاً ارشاد ہوتا ہے کہ،

"وَاِذَا جَاۗءَكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ " [15]

"یہ لوگ جب آپ کے پاس آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تو (یوں) کہہ دیجئے کہ تم پر سلامتی تمہارے رب نے مہربانی فرمانا اپنے ذمہ مقرر کر لیا ہے ۔"

اسی طرح فرمایا،

"رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ " [16]

"تمہارا رب بڑی وسیع رحمت والا ہے"

"وَرَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ " [17]

"تیرا پروردگار بہت ہی بخشش والا اور مہربانی والا ہے"

"وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ ۭ" [18]

"اور میری رحمت تمام اشیا پر محیط ہے ۔"

اس کے ساتھ ساتھ ایک مسلمان کو اللہ تعالٰی کی رحمت سےناامید نہ ہونےکی تعلیم دی گئی ہے ارشاد پاک ہے،

"لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ" [19]

"تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالٰی سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وہ بڑی، بخشش بڑی رحمت والا ہے ۔"

مزید یہ کہ اسکی رحمت کی طلب ہر وقت رکھنی چاہئے چنانچہ قرآن کی بہت سی دعاؤں میں رحمت کی طلب کا ذکر موجود ہےمثلاً،

" رَبَّنَآ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً " [20]

"اے ہمارے پروردگار! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما ۔"

"رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ" [21]

" اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بڑی عطا دینے والا ہے۔"

" قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنۡفُسَنَا ٜ وَ اِنۡ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیۡنَ" [22]

"دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے ۔"

"رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْم"[23]

"اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے اور ایمانداروں کی طرف ہمارے دل میں کہیں (اور دشمنی) نہ ڈال - اے ہمارے رب بیشک تو شفقت و مہربانی کرنے والا ہے۔"

"رَبَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ "[24]

"میرے بندوں کی ایک جماعت تھی جو برابر یہی کہتی رہی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان لا چکے ہیں تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم فرما تو سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔

احادیث میں رحم کا تصور

احادیث پاک میں بھی جا بجا ایسی دُعائیں موجود ہیں جن مین اللہ تعالیٰ سے رحمت طلب کی گئی ہےمثلا

"حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا کَامِلٌ أَبُو الْعَلَائِ حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي"[25]

“محمدبن مسعود،زیدبن حباب،کامل ابوعلاء، حبیب بن ابی ثابت،سعید،بن جبیر،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسجدوں کےدرمیان یہ دعاپڑھتےتھے اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي (یعنی اےاللہ میری مغفرت فرما،مجھ پررحم کر،مجھےعافیت دے،ہدایت دےاوررزق دے۔

”حدثنا قتيبة بن سعيد ،‏‏‏‏ قال حدثنا الليث ،‏‏‏‏ عن يزيد بن أبي حبيب ،‏‏‏‏ عن أبي الخير ،‏‏‏‏ عن عبد الله بن عمرو ،‏‏‏‏ عن أبي بكر الصديق ـ رضى الله عنه ـ‏.‏ أنه قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم علمني دعاء أدعو به في صلاتي‏.‏ قال ‏"‏ قل اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت ،‏‏‏‏ فاغفر لي مغفرة من عندك ،‏‏‏‏ وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم ‏"[26]

‏"ہم سے قتیبہ بن سعیدنےبیان کیا،کہاکہ ہم سےلیث بن سعدنے یزید بن ابی حبیب سےبیان کیا،ان سےابوالخیرمرثدبن عبداللہ نےان سےعبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہم نے،ان سےابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نےکہانہوں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےعرض کیاکہآپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھےکوئی ایسی دعاسکھادیجئیےجسےمیں نمازمیں پڑھاکروں ۔ آپنےفرمایاکہ یہ دعاپڑھاکر ،‏"‏ قل اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت ،‏‏‏‏ فاغفر لي مغفرة من عندك ،‏‏‏‏ وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم ‏"۔اےاللہ ! میں نےاپنی جان پر ( گناہ کرکے ) بہت زیادہ ظلم کیاپس گناہوںکوتیرےسواکوئی دوسرامعاف کرنےوالانہیں ۔ مجھےاپنےپاس سےبھرپورمغفرت عطافرمااورمجھ پررحم کرکہ مغفرت کرنےوالااوررحم کرنےوالابیشک وشبہ توہی ہے۔"

احادیث میں رحم پر بہت زور دیا گیا ہے مثلاً

"حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ حَدَّثَنَا قَيْسٌ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ لَا يَرْحَمُهُ اللَّهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو" [27]

“محمد بن بشار، یحیی بن سعید، اسماعیل بن ابوخالد، قیس بن ابوحازم، حضرت جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ اس پر رحم نہیں فرماتا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں حضرت عبدالرحمن بن عوف، ابوسعید، ابن عمر، ابوہریرہ سے بھی احادیث منقول ہیں۔"

”حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ شَرَفَ کَبِيرِنَا" [28]

"ابوبکر محمد بن ابان، محمد بن فضیل، محمد بن اسحاق، حضرت عمر بن شعیب بواسطہ والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور بڑوں کا احترام نہ کرے۔"

"حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي قَابُوسَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمْ الرَّحْمَنُ ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْکُمْ مَنْ فِي السَّمَائِ الرَّحِمُ شُجْنَةٌ مِنْ الرَّحْمَنِ فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعَهُ اللَّهُ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ" [29]

"ابن ابی عمر سفیان، عمرو بن دینار، ابوقابوس، حضرت عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا رحم کرنے والوں پر رحمن بھی رحم کرتا ہے تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ رحم بھی رحمن کی شاخ ہے جس نے اس کو جوڑا اللہ بھی اس سے رشتہ جوڑ لیں گے۔ اور جو اسے قطع کرے گا اللہ بھی اس سے قطع تعلق کر لیں گے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔"

"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ هَذِهِ الْحُجْرَةِ يَقُولُ لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ"[30]

"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوالقاسم صادق المصدوق اس حجرے میں رہنے والے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ مہربانی اور رحم دلی سوائے بدبخت کے کسی سے نہیں چھینی جاسکتی۔"

ایک حدیث میں یہ فرمایا گیا ہے کہ درودِ پاک پڑنے سے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔

"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا"

" ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو مجھ پر ایک مرتبہ دردو بھیجتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالی اس پر دس مرتبہ رحمت نازل فرماتا ہے" [31]

قرآن وحدیث سے ثابت ہےکہ اسلام نے بندوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی ظلب اور حصول کے متعدد مواقع فرہم کئے ہیں ۔

عن أبي هريرة ـ رضى الله عنه ـ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لما قضى الله الخلق كتب في كتابه ،‏‏‏‏ فهو عنده فوق العرش إن رحمتي غلبت غضبي ‏"‏‏.

"ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا کر چکا تو اپنی کتاب ( لوح محفوظ ) میں ، جو اس کے پاس عرش پر موجود ہے ، اس نے لکھا کہ میری رحمت میرے غصہ پر غالب ہے "[32]

لیکن یہ رحمت قیامت کے دن صرف اہل ایمان کے لئے ہو گی،کافروں کے لئے نہیں۔مطلب یہ کہ دنیا میں تو اس کی رحمت عام ہے ،جس سے مومن اور کافر،فرمانبردار و نافرمان سب فیض یاب ہو رہے ہیں لیکن آخرت میں صرف اہل ایمان دامانِ رحمت میں جگہ پا سکیں گے اور کافروں کا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور کسی سے عذاب کا ٹلنا جو ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی،وہ اللہ تعالی ٰ کی رحمت کی وجہ سےہو گا ۔

مولانا ابولکلام آذاد بیان القرآن میں نے رحمت کے تصور کو یوں بیان فرمایا ہے،

"کائنات کاجمال اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمت کا عکس ہےاور یہی صفت زندگی کی تمام نشو ارتقاء کی ذمہ دار ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفتِ قہریہ اپنی جگہ ہیں مگر اس کی صفاتِ رحمت عام اور وسیع تر ہیں جو صرف گناہ گاروں تک محدود نہیں بلکہ ساری کائنات کے لئےآفادہ اور فیضانِ عام کا سرچشمہ ہے"[33]

قرآن مجید میں لفظ رحم کےاستعمالات

لفظ رحم اور اس کے مشتقات قرآن پاک میں بڑی کثرت سے استعمال ہوئے ہیں۔مثلاً= مشکلات سےنجات دینا =

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

"وَلَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ "[34]

"اور اگر ہم ان پر رحم فرمائیں اور ان کی تکلیفیں دور کر دیں تو یہ تو اپنی اپنی سرکشی میں جم کر اور بہکنے لگیں"= بیوی یا اولاد بخشنا یا بیماری سے شفا دینا =

جیسے حضرت ایوبؑ کے بارے میں فرمایا،

"فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّاٰتَيْنٰهُ اَهْلَهٗ وَمِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَذِكْرٰي لِلْعٰبِدِيْنَ" [35]

"تو ہم نے اس کی سن لی اور جو دکھ انہیں تھا اسے دور کر دیا اور اس کو اہل و عیال عطا فرمائے بلکہ ان کے ساتھ ویسے ہی اور، اپنی خاص مہربانی سے تاکہ سچے بندوں کے لئے سبب نصیحت ہو۔"

اسی طرح یونس ؑ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات اللہ کی رحمت سے ملیـارشا د ہوتا ہے کہ،

"لَوْلَآ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَاۗءِ وَهُوَ مَذْمُوْمٌ " [36]

"اگر اسے اس کے رب کی نعمت نہ پالیتی تو یقیناً وہ برے حالوں میں چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا۔"= امن وحفاظت =

امن وحفاظت کے لئے بھی قرآن میں رحم کا لفط استعمال ہواہےـجیسے،

"هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَيْهِ اِلَّا كَمَآ اَمِنْتُكُمْ عَلٰٓي اَخِيْهِ مِنْ قَبْلُ ۭ فَاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا ۠ وَّهُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ " [37]

"(یعقوب علیہ السلام نے) کہا مجھے تو اس کی بابت تمہارا بس ویسا ہی اعتبار ہے، جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں تھا - بس اللہ ہی بہترین محافظ ہے اور وہ سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے۔"= نقصان سےبچنےکےلئے =

جیسے ارشاد ہوتا ہے کہ،

"قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ " [38]

"اور جب نادم ہوئے اور معلوم ہوا کہ واقعی وہ لوگ گمراہی میں پڑ گئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور ہمارا گناہ معاف نہ کرے تم ہم بالکل گئے گزرے ہوجائیں گے۔"= قرآن کانازل کرنابھی رحمت ہے =

ارشاد ربانی ہے کہ،

"تَنْزِيْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ " [39]

"اتاری ہوئی ہے بڑے مہربان بہت رحم والے کی طرف سے۔"= سواریوںکاانتظام کرنا =

قرآن میں ارشاد ہوتا ہے،

"وَتَحْمِلُ اَثْقَالَكُمْ اِلٰى بَلَدٍ لَّمْ تَكُوْنُوْا بٰلِغِيْهِ اِلَّا بِشِقِّ الْاَنْفُسِ ۭاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ " [40]

“اور وہ تمہارے بوجھ ان شہروں تک اٹھا لے جاتے ہیں جہاں تم آدھی جان کیئے پہنچ ہی نہیں سکتے تھے۔ یقیناً تمہارا رب بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔اسی طرح فرمایا ،”

"رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ ۭ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِـيْمًا" [41]

"تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔ وہ تمہارے اوپر بہت مہربان ہے ۔"= اللہ کی طرف سے توبہ کی توفیق دینا اور قبول کرنارحمت ہے جیسے، =

"فَتَلَـقّيٰٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ اِنَّهٗ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ "[42]

(حضرت) آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں (١) اور اللہ تعالٰی نے ان کی توبہ قبول فرمائی، بیشک وہ ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔= ثابت قدمی اوراللہ کی طرف سےاحکام کی تعلیم دینا بھی اللہ کی جانب سے رحمت ہے =

"رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ۠ وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ"[43]

"اے ہمارے رب ہمیں اپنا فرمانبردار بنا لے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنی اطاعت گزار رکھ اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما، تو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے"= نفس کی سرکشی سےبچنا =

"وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْۗءِ اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّيْ ۭ اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ "[44]

"میں اپنے نفس کی پاکیزگی بیان نہیں کرتا -بیشک نفس تو برائی پر ابھارنے والا ہی ہے -مگر یہ کہ میرا پروردگار ہی اپنا رحم کے یقیناً میرا رب پالنے والا بڑی بخشش کرنے والا اور بہت مہربانی فرمانے والا ہے۔ "= رہنمائی کرنا اور اندھرے سے روشنی کی طرف لانا =

"هُوَ الَّذِيْ يُصَلِّيْ عَلَيْكُمْ وَمَلٰۗىِٕكَتُهٗ لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ۭ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا"[45]

"وہی ہے جو تم پر رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں) تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جائے اور اللہ تعالٰی مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے۔"= دنیا میں رسول ﷺ کا آنا رحمت ہے۔ =

"وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ"[46]

"اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔"= آپﷺ کاسخت مخالفت ،تکالیف اور لالچ کے باوجود بھی ثابت قدم رہنا اللہ کی رحمت کے باعث ہے =

"وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْھُمْ اَنْ يُّضِلُّوْكَ ۭوَمَا يُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَيْءٍ ۭ وَاَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ ۭ وَكَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا "[47]

" اگر اللہ تعالٰی کا فضل اور رحم تجھ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے تو تجھے بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا - مگر دراصل یہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں، یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتےـ"= بارش کا برسنا =

بارش کا برسنا اور برسانا بھی اللہ کی رحمت ہے۔

"وَهُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ الرِّيٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ۚ وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً طَهُوْرًا" [48]

“اور وہی ہے جو باران رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیںـ“

"وَهُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ ۭ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ" [49]

"اور وہی ہے جو لوگوں کے نا امید ہو جانے کے بعد بارش برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے وہی ہے کارساز اور قابل حمد و ثنا ۔"= کشتیوں کا منزل مقصود تک سلامتی سےپہنچنا =

ارشاد ہوتا ہے،

"وَقَالَ ارْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْــرٖىهَا وَمُرْسٰىهَا ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ " [50]

"نوح نے کہا اس کشتی میں بیٹھ جاؤ اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے، یقیناً میرا رب بڑی بخشش اور بڑے رحم والا ہے۔"= اختلاف اور فرقہ بندی سے بچنا =

"وَّلَا يَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِيْنَ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ ۭ" [51]

"وہ تو برابر اختلاف کرنے والے ہی رہیں گے۔ بجز ان کے جن پر آپ کا رب رحم فرمائے-"= دنیااورآخرت میں بھلائیوںکالکھاجانا =

"اَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الْغٰفِرِيْنَ- وَاكْتُبْ لَنَا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَآ اِلَيْكَ"[52]

"تو ہی ہمارا کارساز ہے پس ہم پر مغفرت اور رحمت فرما اور تو سب معافی دینے والوں سے زیادہ اچھا ہے ۔اور ہم لوگوں کے نام دنیا میں بھی نیک حالی لکھ دے اور آخرت میں بھی ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں ۔"= شیطان کی پیروی سے بچنا =

"وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰنَ اِلَّا قَلِيْلًا "[53]

"اور اگر اللہ تعالٰی کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو معدودے چند کے علاوہ تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے۔"= اللہ تعالیٰ کا عذاب میں جلدی نہ کرنا =

ارشادہوتاہےکہ،

"وَرَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ ۭ لَوْ يُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ"[54]

"تیرا پروردگار بہت ہی بخشش والا اور مہربانی والا ہے وہ اگر ان کے اعمال کی سزا میں پکڑے تو بیشک انہیں جلدی عذاب کردےـ"= عذاب سے پناہ دینا =

"قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ وَمَنْ مَّعِيَ اَوْ رَحِمَنَا ۙ فَمَنْ يُّجِيْرُ الْكٰفِرِيْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ"[55]

" آپ کہہ دیجئے! اچھا اگر مجھے اور میرے ساتھیوں کو اللہ تعالٰی ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے (بہر صورت یہ تو بتاؤ) کہ کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا؟"= بھول چوک کی معافی =

"لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيْمَآ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ ۙ وَلٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِـيْمًا " [56]

"تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہو جائے اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں البتہ گناہ وہ ہے جسکا تم ارادہ دل سے کرو اللہ تعالٰی بڑا ہی بخشنے والا ہے۔"= آذاد عورتوں سے نکاح مشکل ہونے کی صورت میں لونڈیوں سے نکاح کی اجازت بھی رحمت ہے =

"وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ يَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَيٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ۭ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِـاِيْمَانِكُمْ ۭ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ ۚ فَانْكِحُوْھُنَّ بِاِذْنِ اَھْلِهِنَّ وَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ----ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ ۭ وَاَنْ تَصْبِرُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ " [57]

"اور تم میں سے جس کسی کو آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی پوری وسعت و طاقت نہ ہو وہ مسلمان لونڈیوں سے جن کے تم مالک ہو اپنا نکاح کر لو اللہ تمہارے اعمال کو بخوبی جاننے والا ہے، تم سب آپس میں ایک ہی تو ہو اس لئے ان کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کر لو اور قاعدہ کے مطابق ان کے مہر ان کو دے دو، کنیزوں سے نکاح کا یہ حکم تم میں سے ان لوگوں کے لئے ہے جنہیں گناہ اور تکلیف کا اندیشہ ہو اور تمہارا ضبط کرنا بہت بہتر ہے اور اللہ تعالٰی بڑا بخشنے والا اور بڑی رحمت والا ہے ۔"= تزکیہ نفس اور پاکی اختیار کرنا =

ارشادِربانی ہے،

"وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ مَا زَكٰي مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ" [58]

"اور اگر اللہ تعالٰی کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک صاف نہ ہوتا۔"= رزق کی تنگی کو کشادگی میں بدلنا =

"وَاِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَاۗءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّيْسُوْرًا " [59]

"اور اگر تجھے ان سے منہ پھیر لینا پڑے اپنے رب کی رحمت (رزق)کی جستجو میں، جس کی امید رکھتا ہے تو بھی تجھے چاہیے کہ عمدگی اور نرمی سے انہیں سمجھا دے ۔"= قصاص کے احکام رحمت ہیں =

"ذٰلِكَ تَخْفِيْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَرَحْمَـةٌ " [60]

"یہ تمہارے رب کی طرف سے یہ تخفیف اور رحمت ہے ۔"= نیک بندوں میں داخل کرنا =

"وَاَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ" [61]

"اور مجھے اپنی رحمت سے نیک بندوں میں شامل کر لے۔"= قیامت کے عذاب کی برائیوں سے بچانا =

"وَمَنْ تَقِ السَّيِّاٰتِ يَوْمَىِٕذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ ۭ وَذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ" [62]

“حق تو یہ ہے کہ اس دن تو نے جسے برائیوں سے بچا لیا اس پر تو نے رحمت کر دی اور بہت بڑی کامیابی ہے۔”= قیامت کے دن مومنون کے چہروں کا روشن ہونا =

ارشادہوتا ہے کہ،

"وَاَمَّا الَّذِيْنَ ابْيَضَّتْ وُجُوْھُھُمْ فَفِيْ رَحْمَةِ اللّٰهِ ۭ ھُمْ فِيْھَا خٰلِدُوْنَ" [63]

"اور سفید چہرے والے اللہ تعالٰی کی رحمت میں داخل ہونگے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔"= رات اور دن کا آنا جانا لوگوں کے لئے رحمت ہے =

اللہ تعالیٰ نے دن کومعاش کےلئےاوررات کو آرام کے لئے پیدافرمایاـ

"وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ" [64]

"اس نے تو تمہارے لئے اپنے فضل و کرم سے دن رات مقرر کر دیئے ہیں کہ تم رات میں آرام کرو اور دن میں اس کی بھیجی ہوئی روزی تلاش کرو یہ اس لئے کہ تم شکر ادا کرو ۔"= کائنات کی ہر چیز رحمت ہے =

جیسےارشادہوتاہے،

"وَاِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ ١٦٣؀ۧ اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِىْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ مَّاۗءٍ فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلِّ دَاۗبَّةٍ ۠ وَّتَـصْرِيْفِ الرِّيٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ"[65]

"تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ بہت رحم کرنے والا اور بڑا مہربان ہے۔آسمانوں اور زمین کی پیدائش، رات دن کا ہیر پھیر، کشتیوں کا لوگوں کونفع دینے والی چیزیں کو لئے ہوئے سمندروں میں چلنا۔ آسمان سے پانی اتار کر، مردہ زمین کو زندہ کر دینا ۔ اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلا دینا، ہواؤں کے رخ بدلنا، اور بادل، جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں، ان میں عقلمندوں کے لئے قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں۔"

عیسائی کہتے ہیں کہ ہم میں رحمت اور مہربانی کا عنصر زیادہ ہے ـمگرقرآن میں ان سے مرا د حواری ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے رحمت اور مہربانی ڈال دی تھیـارشاد ہوتا ہے کہ،

"وَقَفَّيْنَا بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَاٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ ڏ وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً " [66]

"اور ان کے بعد عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا فرمائی اور ان کے ماننے والوں کے دلوں میں شفقت اور رحم پیدا کر دیا ۔"

ذولقرنین نے جب لوگوں کو یاجوج و ماوجوج کی شر سے بچایا تو اس کو اللہ کی رحمت سے تعبیر فرمایا کہ یہ کامیابی اللہ کی رحمت کی نشانی ہےـ

"قَالَ ھٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّيْ " [67]

"کہا یہ سب میرے رب کی مہربانی ہے-"

موسیؑ اور خضر ؑ کے واقعہ میں جب خضر علیہ السلام نے ایک تختہ نکال کر غریبوں کی کشتی کو بچا لیا ،ناعاقبت اندیش لڑکے کو قتل کیا اور یتیم اور مسکین لڑکوں کےخزانے کوبچانے کے لئےدیوار مرمت کی تو اسے انہوں نےاللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیاـ

"فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ يَّبْلُغَآ اَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا ڰرَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۚ وَمَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِيْ ۭ ذٰلِكَ تَاْوِيْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَيْهِ صَبْرًا"[68]

"تو تیرے رب کی چاہت تھی کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کی عمر میں آکر اپنا یہ خزانہ تیرے رب کی مہربانی اور رحمت سے نکال لیں، میں نے اپنی رائے سے کوئی کام نہیں کیا ۔ یہ تھی اصل حقیقت اور ان واقعات کی جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا۔"

خودخضرعلیہ السلام کوجوکچھ عطاہواوہ بھی رحمت ہے

"فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَآ اٰتَيْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا " [69]

"پس ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا، جسے ہم نے اپنے پاس کی خاص رحمت عطا فرما رکھی تھی اور اسے اپنے پاس سے خاص علم سکھا رکھا تھا۔"

حضرت موسی علیہ السلام کے زبان کی لکنت اور سینے میں تنگی کی وجہ سے اپؑ کے ساتھ آپ کے بڑے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو آپؑ کےساتھ پیغبر بنا کر بیھجا گیا جو اللہ تعالیٰ کی مہربانی تھی ـ

"وَوَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَآ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِيًّا " [70]

"اور اپنی خاص مہربانی سے اس کے بھائی کو نبی بنا کر عطا فرمایا-"

ابراھیم علیہ السلام کے بڑھاپے اوران کی زوجہ محترمہ کی بانجھ پن کے باوجود ان کو اولاد بخشنا خاص رحمت خداوندی تھی ـ

"قَالُوْٓا اَتَعْجَبِيْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَبَرَكٰتُهٗ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِۭ اِنَّهٗ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ" [71]

"فرشتوں نے کہا کیا تو اللہ کی قدرت سے تعجب کر رہی ہے؟ تم پر اے اس گھر کے لوگوں اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں - بیشک اللہ حمد و ثنا کا سزاوار اور بڑی شان والا ہے۔"

بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کو جو کچھ عطا ہوا وہ سب اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نتیجہ تھی ـارشاد ہوتا ہے کہ،

"وَوَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا " [72]

"اور ان سب کو ہم نے اپنی بہت سی رحمتیں عطا فرمائیں اور ہم نے ان کے ذکر جمیل کو بلند درجے کا کر دیا "

"رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ" [73]

"اے ہمارے پروردگار! تو نے ہرچیز کو اپنی بخشش اور علم سے گھیر رکھا ہے، پس انہیں بخش دے جو توبہ کریں اور تیری راہ کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے۔"

"وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ " [74]

"وہ خود اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔

خلاصہ بحث

رحم اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفت ہے اور کائنات کی یہ خوبصورتی اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمت کا عکس ہےاور یہی صفت زندگی کی تمام نشو ارتقاء کی ذمہ دار ہے قرآن و حدیث میں رحم کا تصور بہت وسیع معنون میں استعمال ہوا ہے۔قرآن میں 422 مرتبہ رحم اور اس کے مشتقات آئے ہیں ـ جن میں سے 114بار بسمہ اللہ الرحمان الرحیم اور باقی دوسری آیات میں آیا ہے ـکبھی یہ ھدایت ورحمت کے لئے آیا ہے ،کبھی مودت اور رافت کے لئے استعمال ہوا ہے- کہیں برائی اور ضرر کی ضد کےطور پرآیا ہے ـکہیں بارش،شادابی اور اللہ کے فضل و کرم کے طور پر ـکبھی آپ ﷺ کی ذات کو رحمت قرار دیا گیا اور کبھی قرآن کو رحمت سے تعبیر کیا گیا۔مشکل کشائی،امن وآمان،حفاظت،نقصان وخسارے سے بچنا،سواریوں کا انتظام کرنا،توبی کی توفیق دینا اورقبول کرنا،نفس کی سرکشی سے بچنا،رہنمائی اور دنیا و آخرت میں انعامات کا دینا،شیطان کی پیروی سے بچنا،دنیا و آخرت عذابِ خداوندی سے پناہ دینا سب رحمت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔بھول چوک کو گناہ شمار نہ کرنا ،تزکیہ نفس اور پاکیزگی اختیار کرنا،تنگیِ رزق کا کشادگی میں بدلنا،نیکی،عافیت،رات ودن کا آنا جانا،قیامت کے روز مومنون کے چہروں کا روشن ہونا رحمت ہی رحمت ہے بلکہ کائنا ت کا ذرہ ذرہ نعمت اور رحمت ہے۔احادیث میں بھی جا بجا ایسی دُعائیں موجود ہیں جن مین اللہ تعالیٰ سے رحمت طلب کی گئی ہے۔ مندرجہ بالا بحث سے یہ بات ثابت ہوتی ہےکہ رحمت کی وجہ سے دنیا کا سارا نظام قائم و دائم ہے۔دنیا سے اگر رحمت نکال لیا جائے تو قیامت آنے میں دیر نہیں ہو گی۔الغرض کائنات کی ہر چیز،زمین و آسمان،دن اور رات کا آنا جانا،دریاوں اور سمندروں میں کشتیوں کاچلنا اور فوائد حاصل کرنا،بادل،بارش،مختلف اقسام کے درخت اور پودے،ہواوں کاچاروں طرف لگنا،سب ہی اللہ کی رحم کی نشانیاں ہیںـ

This work is licensed under an Attribution-NonCommercial 4.0 International (CC BY-NC 4.0)


حوالہ جات

  1. ۔ الیسوعی ،الاب پولیس المعلوف،“المنجد فی اللغتہ”، ایران، اتشارات اسلامی،1973ء،ص۔153
  2. ۔ ابن منظورالافریقی،جمال الدین ابو الفضل محمد بن مکرم،“لسان العرب”،ج۔16، ایران ،نشر ادب ا لجوزہ،،1495ھ،ص۔543، بلیا وی ،عبدالحفیظ،مولانا،“مصباح اللغات”، ملتان،،مکتبہ امدادیہ،ص۔284
  3. ۔ دائرہ معارف اسلامیہ،لاہور،جامعہ پنجاب ،ج۔10،ص۔228
  4. ۔ تھانوی،اشرف علی،مولانا،“کشاف”،کلکتہ،انڈیا،1862ء،ص۔588
  5. ۔ بخاری،ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل،امام،"الجامع الصحیح"، نعما نی کتب خانہ ،لاہور ،1983ء ،ح۔4830
  6. ۔ زین العابدین،قاضی،“قاموس القرآن”،ج۔8،کراچی،دارالشاعت ،1978ء،ص۔817، قاسمی ،وحیدالدین ،مولانا،“قاموس الجدید”،لاہور،ادارہ اسلامیات ،1990ء،ص۔528
  7. ۔ اصفہانی،امام راغب، ابی قاسم حسین بن محمد،"مفرادات فی غریب القرآن"،قاہرہ،مصر، 1405 ھ،ص۔283
  8. ۔ القرآن،11:42
  9. ۔ بخاری،"الجامع الصحیح" ،ح۔5999
  10. ۔ ترمذی،ابو عیسیٰ محمد بن سورہ،“الجامع ترمذی”،ناشر ملک سراج الدین، لاہو ر ،ت۔ن،ح۔3671
  11. ۔ القرآن ،128:9
  12. ۔ القرآن ،159:3
  13. ۔ القرآن ،30:21
  14. ۔بخاری ،"الجامع الصحیح"، ح۔640
  15. ۔ القرآن ،54:6
  16. ۔ القرآن ،147:6
  17. ۔ القرآن ،58:17
  18. ۔ القرآن ،156:7
  19. ۔ القرآن ،53:39
  20. ۔ القرآن ،10:18
  21. ۔ القرآن ،8:3
  22. ۔ القرآن ،23:7
  23. ۔ القرآن ،59:10
  24. ۔ القرآن ،109:23
  25. ۔ ابو داؤد،سلیمان بن اشتعت بن اسحق لجستانی،"سنن ابی داؤد" ،مکتبہ مصطفیٰ محمد،قاہرہ، مصر ،1387ھ،ح۔842
  26. ۔ بخاری، "الجامع الصحیح "،ح۔834
  27. ۔ ابن ماجہ،ابو عبداللہ محمد بن یزید“سنن ابن ماجہ”،ج۔2،داراحیاء،التراث العربی،بیروت ، 1395ھ،ص۔261
  28. ۔ ترمذی،الجامع ترمذی ،ح۔1983
  29. ۔ ایضاً،ح۔1987
  30. ۔ابو داؤد "سنن ابی داؤد"،ح۔4853
  31. ۔ ترمذی،الجامع ترمذی ،ح-467
  32. ۔ بخاری،"صحیح البخاری"،کتاب التوحید، ح-3194
  33. ۔ آذاد،ابوالکلام ،مولانا،“بیان القرآن” ج،1،کراچی ،حکمتِ قرآن انسٹیٹیوٹ ،2012،ص۔31
  34. ۔ القرآن ،75:23
  35. ۔ القرآن ،84:21
  36. ۔ القرآن ،49:68
  37. ۔ القرآن ،63:12
  38. ۔ القرآن ،49:7
  39. ۔ القرآن ،2:41
  40. ۔ القرآن ،7:16
  41. ۔ القرآن ،60:17
  42. ۔ القرآن ،37:2
  43. ۔ القرآن ،128:2
  44. ۔ القرآن ،53:12
  45. ۔ الاحزاب،43:33
  46. ۔ القرآن ،107:21
  47. ۔ القرآن ،113:4
  48. ۔ القرآن ،48:25
  49. ۔ القرآن ،25:42
  50. ۔ القرآن ،41:11
  51. ۔ القرآن ،119:11
  52. ۔ القرآن ،55،56:7
  53. ۔ القرآن ،83:4
  54. ۔ القرآن ،58:18
  55. ۔ القرآن ،28:67
  56. ۔ القرآن ،5:33
  57. ۔ القرآن ،25:4
  58. ۔ القرآن ،10:24
  59. ۔ القرآن ،28:17
  60. ۔ القرآن ،178:2
  61. ۔ القرآن ،19:27
  62. ۔ القرآن ،9:23
  63. ۔ القرآن ،107:3
  64. ۔ القرآن ،73:28
  65. ۔ القرآن ،163:2
  66. ۔ القرآن ،27:57
  67. ۔ القرآن ،98:18
  68. ۔ القرآن ،82:18
  69. ۔ القرآن ،65:18
  70. ۔ القرآن ،53:19
  71. ۔ القرآن ،73:11
  72. ۔ القرآن ،50:19
  73. ۔ القرآن ،7:23
  74. ۔ القرآن ،57:17