Playstore.png

آزادی اظہار کی حدود قیود: مسئلہ عصمت انبیاء اور اقوام متحدہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ مجلہ علوم اسلامیہ و دینیہ
عنوان آزادی اظہار کی حدود قیود: مسئلہ عصمت انبیاء اور اقوام متحدہ
انگریزی عنوان
Limitations of the Freedom of Speech issue of the Infallibility of Prophets and United Nations
مصنف Abdullah، Farooq، Muhammad Abdullah
جلد 3
شمارہ 2
سال 2018
صفحات 57-82
ڈی او آئی
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Blasphemy, United Nations, Defamation, Peace, Freedom of Speech
شکاگو 16 Abdullah، Farooq، Muhammad Abdullah۔ "آزادی اظہار کی حدود قیود: مسئلہ عصمت انبیاء اور اقوام متحدہ۔" مجلہ علوم اسلامیہ و دینیہ 3, شمارہ۔ 2 (2018)۔
خیبر پختونخوا کے علماء کی تحریر کردہ شروح صحیح بخاری کا تعارفی مطالعہ
جج پر ضمان: فقہی قواعد اور پاکستانی قانون میں تطبیق
اسلامی علوم و فنون میں ضلع ہری پور کی دینی شخصیات کی کتب کا تحقیقی جائزہ
آزادی اظہار کی حدود قیود: مسئلہ عصمت انبیاء اور اقوام متحدہ
آلودہ پانی کی مروجہ تحلیل و تطہیر کا سائنسی و شرعی جائزہ
فقہ اسلامی اور مغربی قانون کی روشنی میں حقوق دانش کے قوانین کاتحقیقی مطالعہ
دین کامل اور اختلاف: روح المعانی کی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ
مطبوعہ پاکستانی مصاحف سے متعلق چند فنی مسائل کا جائزہ
Participatory Based Transactions in Sharī‘ah (Islamic Commercial Law) and Their Role in the Development of Rural Local Agricultural Sector in Khyber Pakhtunkhwa
Kitabiyyah Mother and Ḥaḍanah of the Muslim Child: Religious and Legal Practices in Pakistan
Huizu Between Religious Control and Freedom in Communist China: A Study of Chinese Muslim Minority
Historical Contribution of Islamic Waqf in Human Capital Development Through Funding Education
أحكام الخنثى بين العلم والأحوال الشخصية: دراسة فقهية مقارنة
أثر الروابط الاجتماعية في تحقيق الأخوة الإسلامية في عهد النبوة
روائع التشبيه في معلقة الملك الضليل امرئ القيس
أسلوب التوكيد في تفسير أبي السعود

Abstract

West generally blames the Muslim world on the grounds that it does not accede to freedom of expression. But in fact, Islam gave the right of freedom of expression for the first time in history. In Rome before Islam was introduced, the rulers used to enslave the masses. Greek ministers, Roman Catholic pastorates, Spanish Inquisitions and the ministerial experts used to rebuff the individuals who used to articulate unapproved religious perspectives. The British Parliament passed a Bill of Rights in 1689. This bill proclaimed the right to speak freely. It returned amid the French Revolution of 1789 which declared speaking freely as a natural right of each person. As indicated by Holy Quran there might be no impulse in acknowledgment of the religion which is also proved from Sunnah and through the actions of the companions of Prophet Muhammad (PBUH). Blasphemy law is a law related to blasphemy, or irreverence toward holy prophets, or beliefs or religious traditions. In the provisions of Article 18 and 19 of the U.N. Charter, no limitations were made for expression which has left the room open for the defamation on name of freedom of speech. According to Islam, maintaining the honor and respect of all people is essential for regional, national and universal peace. Any articulation which abuses peace, honor and pride of any individual, race, religious gathering or any minority assembly as a rule and so forth cannot be incorporated into the meaning of flexibility of articulation or freedom of speech.

تمہید

اہل مغرب کی جانب سےعام طور پر عالم اسلام پر الزام لگایا جاتاہے کہ وہ اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ہےمگر حقیقت میں اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے سب سے پہلے اظہار رائے کی آزادی کا فلسفہ دیا، اس سے پہلے لوگ غلام تھے، مصنوعی خداؤں کے آگے جھکتے تھے، ان کے بارے کچھ نہیں کہہ سکتے تھے، جو کوئی ان کے بارے میں لب کھولتاپوری سوسائٹی اس کی دشمن بن جاتی۔ اسلام سے قبل روم وفارس میں لوگ حکمرانوں کے غلام تھے، ان کے خلاف ایک لفظ کہنے کی اجازت تک نہ تھی، یونان کا کلیسا مقدس خدائی کا دعویدار تھا، جس سے اختلاف رائے کا مطلب موت تھی۔اہل مغرب کے نزدیک یونان وہ مقام ہے جہاں سے تہذیب کا آغاز ہوا تھا۔بلکہ جمہوریت کی پیدائش بھی اسی مقام سے ہوئی تھی اظہار رائے اور تقریر کی آزادی اس کا نمایاں افتخار ہیں۔لیکن مغرب کے نزدیک ثقافتی اور جمہوری اعتبار سے اس بہترین معاشرے میں بھی یونانی تصورات و روایات سےکفرو بغاوت ممنوع تھی۔اور ایسی بغاوت و توہین یونانی ثقافت میں Blasphemy ہی سمجھی جاتی تھی۔چنانچہ یونان میں کسی بھی قسم کی زبانی بدسلوکی یا مذمت اور خاص طور پر گستاخانہ تقریر گناہ تصور کی جاتی تھی۔ایک فرد اظہار رائے کی آزادی کا حق حاصل کر سکتا تھا،لیکن دیوتاؤں کا ابطال یا حقارت اور بیزاری سختی سے ممنوع تھی۔چنانچہ بہت سارے مصنفین، طلباء اور علماء کے ساتھ نازیبا برتاؤ،ظلم اور سزا کا معاملہ پیش آیا۔

چنانچہ Leonard Williams Levy لکھتا ہے:

"Anaxagoras (circa 500-428 B.C) was the first philosopher to reside in Athens and probably the first freethinker to be condemned for his beliefs…He regarded the conventional gods as mythic abstraction endowed with anthropomorphic attributes"[1]

"انازاگورس یونان میں رہنے والا پہلا فلسفی تھا اور غالبا پہلا آزاد خیال فرد جس کے عقائد و نظریات کی مذمت کی گئی۔اس نے روایتی خداؤں کو فرضی قرار دیا اور ان کو قائم بالغیراور تشبیہی صفات پر مبنی قرار دیا۔"

Henderson اس بارے میں لکھتا ہے:

"Greek priests, Roman Catholic clergies, the Spanish Inquisitions and the ecclesiastical authorities used to punish those who uttered unauthorized religious views. Joseph remarks, whereas the early Christians fought one another (in the literal meaning of the word) in the streets of Alexandra and elsewhere over questions of theology."[2]

"یونانی کاہنوں،رومن کیتھولک پادریوں ، سپین کے محققین اور کلیسائی حکام ایسے افراد کو سزا دیتے تھے جو مذہبی نظریات کے خلاف بات کرتے تھے۔بقول جوزف ابتدائی مسیحی ایک لفظ کے لغوی معنیٰ کرتے ہوئے ایک دوسرے سے الیگزینڈرا کی گلیوں اور دیگر مقامات پر لڑتے تھے کہ کسی شخص نے الٰہیات سے متعلق سوال کیوں کیا۔"

انسانی حقوق کی تاریخ کے بارے میںGail, Bossenga لکھتا ہے:

"The linguistic right of freedom of expression has been considered a fundamental human right. It has its origin in the ancient Greek history. For the first time in the history of the world the British Parliament passed a Bill of Rights in 1689 declaring freedom of speech for members of the Parliament. It reappeared during the 1789 French Revolution which guaranteed freedom of speech as an inalienable right of every human being."[3]

"اظہار رائے کی آزادی کا حق بنیادی لسانی حق سمجھا جاتا رہا ہےجوقدیم یونانی تاریخ میں بھی ملتا ہے۔دنیا کی تاریخ میں پہلی باربرطانوی پارلیمنٹ نے انسانی حقوق کا بل ۱۶۸۹ء میں پاس کیا جس میں پارلیمنٹ کے اراکین کے لیے اظہار رائے کی آزادی کا اعلان کیا گیا۔پھر ۱۷۸۹ء میں فرانس میں انقلاب میں یہ ظاہر ہوا جس میں ہر انسان کےناقابل تردید حق کے طور پر اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت دی گئی۔"

آزادی اظہار رائے کا مفہوم

عربی میں آزادی اظہار کے لئے حریۃ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔قاموس المحیط میں لکھا ہے:

"الحر خلاف العبد، و تحریر الرقبة ای اعتاقها"[4]

"آزادی غلامی کا برعکس ہے،گردن کی آزادی یعنی اسے چھڑوا دینا ۔"

معجم متن اللغۃ میں لکھا ہے:

"حر حرارا عتق، و العبد صار حرا، و حریة من حریة الاصل، وحرر العبداعتقه، و محرر افرده لطاعة الله و خدمة المسجد۔[5]

"حر آزادی دینا آزاد کرنا،غلام آزاد ہو گیا،حریت اصل میں آزادی کے معنی میں ہے۔بندے کو کام کی آزادی،اور محرر وہ ہے جس کو مسجد اور اللہ تعالیٰ کی خدمت اور اطاعت کے لئے آزاد کیا جائے۔"

واضح رہے کہ آزادی کا مفہوم بہت زیادہ وسیع ہے۔جس کی مختلف نوعیتیں ہیں جیسا کہ سیاسی آزادی،اقتصادی آزادی،تنظیم اور اجتماع کی آزادی،تجارت کی آزادی لیکن یہاں پر ہم رائے کی آزادی مراد لیں گے۔جیسا کہ عربی موسوعة السیاسیة میں حریة کا مفہوم یوں مذکور ہے۔

"حریة المواطن فی التعبیر عن رائیه فی الامور العامة کافة دون التعرض لای عقاب"[6]

"اس سے مرادتمام طرح کے عوامی معاملات میں شہری کو اپنی رائے کی تعبیر میں آزادی دینا، ،نہ کہ اس پر باز پرس کرنا یعنی سزا دینا۔"

حریة کا دوسرا مفہوم یوں مذکور ہے:

"و تتخذ حریة التعبیر قوالب و اطارات عدیدة مختلفة، فمن حریة القول، الیٰ حریة الکتابة الیٰ حریة الادبیه و الفنیه، وبذالک تتضمن: حریة الصحافة و وسائل الاعلام و حریة الخطابة"[7]

"تعبیر،خیال اور منظر کشی کے اختلاف کی آزادی،اس سے مراد قول کی آزادی ،تحریر کی آزادی،ادبی نگارشات کی آزادی،آرٹ اور فن کی آزادی ہےاور اسی میں صحافت اور میڈیا کی آزادی اور خطابت کی آزادی بھی شامل ہے۔"

اسلام کا تصور اظہارآزادی رائے

اسلام میں ہر انسان آزاد ہے، وہ جو چاہے کرسکتا ہے، جو چاہے بول سکتا ہے لیکن اس کی مخصوص حدود ہیں یہ آزادی لامحدود نہیں بلکہ حق کے اظہار کا سختی سے حکم ہے۔ لیکن واضح رہے کہ اظہار حق میں صرف بے باکی مطلوب نہیں ہوتی، بلکہ بے باکی کے ساتھ حکمت و دانائی کو ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے اور حکمت ہی سے عقل و قلب کی گرہیں کھلتی ہیں چنانچہ حکمت سے مراد ایسا کلام یا سلوک ہے، جس میں اکراہ کا پہلو موجود نہ ہو اور طبع انسانی اسے فوراً قبول کرلے اور وہ عقل و قلب ہر دو کو متاثر کرے۔ اس طرح حکمت اس درست کلام اور مؤثر طرز ابلاغ کا نام ہے، جو انسان کے دل میں اتر جائے اور مخاطب کو مسحور کردے۔

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا"

" لَآ اِكْـرَاهَ فِى الدِّيْنِ ،قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ"[8]

"دین کے معاملے میں زبردستی نہیں ہے، بے شک ہدایت یقیناً گمراہی سے ممتاز ہو چکی ہے۔"

دوسری جگہ ارشاد فرمایا :

" لَا يُكَلِّفُ اللّـٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا"[9]

"اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں سونپتا۔"

پیغمبر اسلام کو معاشرہ چلانے کے لیے "وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ"[10] یعنی معاملات میں لوگوں سے مشورہ کرو۔جیسے سنہری اصولوں سے واضح کردیا کہ اسلام اظہاررائے کی آزادی کاحامی ہے۔لیکن اسلام اعتدال پسند ہے، فساد کے خلاف ہے، چنانچہ اسلام نے رائے کی آزادی کے ساتھ یہ فلسفہ بھی پیش کیا کہ انسان رائے دینے میں حیوانوں کی طرح بے مہار نہیں، بلکہ اس کی اظہار رائے کی آزادی کچھ حدود کی پابندہے۔ ان پر تنبیہ کرنے کے لیے ارشاد فرمایا:

"مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَـدَيْهِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ"[11]

"انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا مگر اس پر نگران مقرر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کے لیے) تیار۔"

اسی طرح سورہ حجرات میں اظہار رائے کی آزادی کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرمایا

"يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّنْ نِّسَاءٍ عَسٰى اَنْ يَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوْا اَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِيْمَانِ"[12]

"اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ کسی کو برے لقب دو ، ایمان کے بعد فسق برا نام ہے۔"

یعنی انسان کسی کا تمسخر نہیں کرسکتا، کسی کی غیبت نہیں کرسکتا، کسی پر بہتان، الزام تراشی، یاکسی کی ذاتی زندگی کے عیب نہیں ٹٹول سکتا، حتی کہ کسی کو برے نام اور القاب سے نہیں پکارسکتا۔ اظہار رائے کی آزادی میں اسلام نے ایک طرف یہ بہترین اخلاقی اقدار فراہم کیں تو دوسری طرف انسان کو رائے دہی میں آزاد کیا اور جبر اور طاقت سے زیادہ ذمہ داری سونپنے کی حوصلہ شکنی کی۔

واضح رہے کہ قرآن و سنت میں حریۃ کا لفظ کہیں بھی مذکور نہیں ہے۔لیکن لفظ کا وارد نہ ہونا اس کے معنیٰ کے عدم ورود کی دلیل نہیں ہے۔کیونکہ اسلام کی بہت سی نصوص میں ہمیں اس کی وضاحت ملتی ہےکہ دینی معاملات سے متعلق انسان کی حریت اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کے احکام میں مقید ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّىْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِيْ بَطْنِىْ مُحَرَّرًا"[13]

"جب عمران کی بیوی نے دعا مانگی تھی کہ ’’ اے اللہ! میرے پیٹ میں جو بچہ ہے میں اسے دنیا کے دھندوں سے آزاد کر کے تیرے لیے نذر کرتی ہوں۔"

 انہوں نے اپنے زمانہ کے رواج کے موافق منت مانی تھی کہ خدا وندا! جو بچہ میرے پیٹ میں ہے میں اسے "مُحرر" (تیرے نام پر آزاد کرتی ہوں)۔امام قرطبی کے مطابق (آیت) ’’لک ‘‘ میں لام تعلیل ہے یعنی مخصوص تیری خدمت وعبادت کے لیے ۔ای لعبادتک ،لخدمة بیتک (روح) محررا ۔ ای حقیقا خالصا الله تعالیٰ خادما للکنیسة حبیسا علیها[14]جبکہ ابن کثیرؒ [15]اور امام شوکانی ؒ[16] کہتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ تمام دنیاوی مشاغل اور قید نکاح وغیرہ سے آزاد رہ کر ہمیشہ خدا کی عبادت اور بیت المقدس کی خدمت میں لگا رہے گا۔

اسی طرح دینی معاملات میں آپ ﷺکے احکام کی پابندی سے متعلق ایک حدیث حضرت عبادہ بن صامتؓ سے مروی ہے۔

"عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ دَعَانَا النَّبِيُّ ﷺ فَبَايَعْنَاهُ فَقَالَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ بَايَعَنَا عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَکْرَهِنَا وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَأَثَرَةً عَلَيْنَا وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَنْ تَرَوْا کُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَکُمْ مِنْ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَان"[17]

"انہوں نے کہا نبی ﷺ نے ہم لوگوں کو بلایا اور ہم نے آپ کی بیعت کی آپ نے جن باتوں کی ہم سے بیعت لی وہ یہ تھیں، کہ ہم بیعت کرتے ہیں اس بات پر ہم اپنی خوشی اور اپنے غم میں اور تنگدستی اور خوشحالی اور اپنے اوپر ترجیح دئیے جانے کی صورت میں سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور حکومت کے لئے حاکموں سے نزاع نہیں کریں گے لیکن اعلانیہ کفر پر، جس پر اللہ کی طرف سے دلیل ہو۔ "

حضرت ابوسعیدخدریؓ فرماتے ہیں"

"قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْقِرْ أَحَدُکُمْ نَفْسَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ يَحْقِرُ أَحَدُنَا نَفْسَهُ قَالَ يَرَی أَمْرًا لِلَّهِ عَلَيْهِ فِيهِ مَقَالٌ ثُمَّ لَا يَقُولُ فِيهِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَقُولَ فِي کَذَا وَکَذَا فَيَقُولُ خَشْيَةُ النَّاسِ فَيَقُولُ فَإِيَّايَ کُنْتَ أَحَقَّ أَنْ تَخْشَی"[18]

"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی اپنی تحقیر نہ کرے۔ صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم میں سے کوئی اپنی تحقیر کیسے کرسکتا ہے ؟ فرمایا اس طرح کہ کوئی معاملہ دیکھے اس بارے میں اللہ کا حکم اسے معلوم ہو پھر بیان نہ کرے تو روز قیامت اللہ عزوجل فرمائیں گے تمہیں فلاں معاملہ میں (حق بات) کہنے سے کیا مانع ہوا؟ جواب دے گا لوگوں کا خوف تو اللہ رب العزت فرمائیں گے صرف مجھ ہی سے تمہیں ڈرنا چاہئے تھا۔ "

اس حدیث سے واضح ہوا کہ اظہار حق میں مخلوق سے ڈرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن مجید بار بار مسلمانوں کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور اللہ کے احکامات کی حکمتیں جاننے کی تلقین کرتا ہے۔

"وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمّاً وَعُمْيَاناً"[19]

جب انہیں اللہ کی آیات سے نصیحت دلائی جاتی ہے تو وہ ان پر اندھے بہرے ہو کر نہیں گرتے۔

"إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ۔  الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَاماً وَقُعُوداً وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ"[20]

" بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے ادل بدل میں اہل عقل کے لیے (بڑی) نشانیاں ہیں،یہ ایسے ہیں کہ جو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر (برابر) یاد کرتے رہتے ہیں ۔ اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں ۔ اے ہمارے پروردگار تو نے یہ (سب) لا یعنی نہیں پیدا کیا ہے تو پاک ہے ۔ سو محفوظ رکھ ہم کو دوزخ کے عذاب سے۔"

قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر یہ بیان ہوا ہے کہ نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو "اولوا الباب" یعنی صاحب عقل اور سوچنے سمجھنے والے لوگ ہیں۔

آزادی اظہار سے متعلق نبی اکرم ﷺ کا طرز عمل

آپﷺ کا طرز عمل اختلاف رائے کے حوالے سے بہت حکیمانہ ہوتا تھا آپﷺ مختلف آراء کوبڑے مثبت انداز میں سنتے تھے اور بسا اوقات کسی ایک فرد کی رائے کو حتمی قرار دے دیا کرتے تھے،اختلاف کی صورت میں احسن انداز میں اتفاق رائے کی کوشش فرماتے تھے۔ اظہار رائے کی آزادی سے متعلق مثالیں ملاحظہ ہوں۔

"عن رافع بن خديج قال:  قدم نبي الله صلى الله عليه وسلم المدينة. وهم يأبرون النخل. يقولون يلقحون النخل. فقال "ما تصنعون؟". قالوا: كنا نصنعه. قال "لعلكم لو لم تفعلوا كان خيرا" فتركوه. فنفضت أو فنقصت. قال فذكروا ذلك له فقال "إنما أنا بشر. إذا أمرتكم بشيء من دينكم فخذوا به. وإذا أمرتكم بشيء من رأي. فإنما أن بشر، انتم أعلم بأمر دنياكم" [21]

"سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ کھجوروں کی پیوند کاری کیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا، "تم لوگ یہ کیا کرتے ہو۔" وہ بولے، "ہم تو یہی کرتے آ رہے ہیں۔" آپ نے فرمایا، "ہو سکتا ہے کہ اگر تم یہ نہ کرو تو بہتر ہو۔" انہوں نے پیوند کاری چھوڑ دی جس کے نتیجے میں پیداوار کم ہو گئی۔ انہوں نے جب آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا، "میں تو ایک انسان ہوں (مگر اللہ کا رسول ہوں۔) اگر میں تمہیں دین سے متعلق کوئی حکم دوں تو اس پر عمل کرو اور اگر اپنی رائے سے تمہیں کوئی بات کہوں تو میں انسان ہی ہوں۔ تم اپنے دنیاوی امور کو خود بہتر جانتے ہو۔"

اس سے یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ یہ ارشاد محض عاجزی و انکساری کے اظہار کی وجہ سے نہیں تھا،حتیٰ کہ جنگوں کی منصوبہ بندی میں بھی آپﷺ مشاورت فرمایا کرتے تھے۔کیونکہ قرآن حکیم میں آپ ﷺ کو اس بارے میں حکم دیا گیا:

"فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الأَمْرِ"[22]

"سو آپ ان سے درگزر کیجئے اور ان کے لیے استغفار کردیجئے اور ان سے معاملات میں مشورہ لیتے رہیے"

"وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ"[23]

"(اہل ایمان کی نشانی یہ ہے) جو حکم مانتے ہیں اپنے رب کا اور قائم رکھتے ہیں (فرض) نماز کو اور جو اپنے (اہم) معاملات باہمی مشورے سے چلاتے ہیں۔"

جنگ خندق میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے سے خندق کھودنے کا فیصلہ فرمایا۔سن پانچ ہجری میں غزوۂ خندق پیش آیا تو مدینہ کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ۔ دس ہزار کا لشکر ، پورے عرب سے سمٹ سمٹا کر مدینہ کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ اس موقع پر آپؐ نے جہاں تمام صحابہؓ سے مشورہ کیا وہاں حضرت سلمانؓ فارسی سے بھی مشورہ کیا اور ان کا مشورہ رسول ﷺ سمیت سب نے پسند کیا۔وہ یہ کہ پورے مدینے کے ارد گرد ایک خندق کھودی جائے ۔ جنگ کے اس طریقہ پر صحابہ بہت حیران ہوئے کیونکہ یہ طریقہ اہل عرب میں رائج نہیں تھا۔چنانچہ جب کفار کا لشکر مدینہ پہنچا تو ایک ناقابل عبور خندق دیکھ کر حیران رہ گیا۔ کفار نے اکیس بائیس دن محاصرہ کئے رکھا، پھر اللہ نے ان پر خوف مسلط کر دیا تو وہ میدان سے بھاگ نکلے ۔[24]

اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے صحابہ کو اظہار رائے کی مکمل آزادی تھی اور ہر شخص کو رائے دینے کا پورا حق حاصل تھا۔آپﷺ نے جب سیدنا اسامہ بن زید ؓ کو ایک جنگی مہم کا امیر بنا کر بھیجا تو اس پر کچھ افراد نے اعتراض کیا۔ آپ ﷺنے انہیں مثبت انداز میں قائل فرمایا۔

"عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث بعثا، وأمر عليهم أسامة بن زيد، فطعن الناس في إمارته، فقام النبي صلى الله عليه وسلم فقال: (إن تطعنوا في إمارته فقد كنتم تطعنون في إمارة أبيه من قبل، وايم الله إن كان لخليفا للإمارة، وإن كان لمن أحب الناس لي، وإن هذا لمن أحب الناس إلي بعده"[25]

"حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر اسامہ بن زید ؓ کو بنا کر بھیجا۔ لوگوں نے ان کے امیر ہونے پر اعتراض کیا تو آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا، "تم لوگ ان کی امارت پر اعتراض کر رہے ہو جبہ تم نے اس سے پہلے ان کے والد کی امارت پر بھی اعتراض کیا تھا۔ خدا کی قسم وہ امارت کے سب سے زیادہ اہل تھے۔ وہ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ پسند تھے اور ان کے بعد اسامہ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔"

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب بریرہ رضی اللہ عنہا کو خرید کر آزاد کیا تو اس موقع پر انہیں اسلام کے قانون کی رو سے یہ حق حاصل تھا کہ وہ نکاح کو فسخ کے ذریعے سےاپنے خاوند سے علیحدگی حاصل کر لیں۔حضرت بریرہ ؓاور مغیث کے معاملے میں حضرت بریرہ ؓنے اپنے خاوند کے خلاف ناپسندیدگی کے حوالے سے کھل کراپنی رائے کا اظہارکیا اور اس پر عمل کرکے دکھایا۔ مغیثؓ نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ حضرت بریرہ ؓسے اس کے لئے سفارش فرمائیں کہ وہ ان کو نہ چھوڑیں اور حسب سابق ان کے نکاح میں رہےلیکن بریرہ ؓنے علیحدگی کا فیصلہ کیا، آپ ﷺ نے ان کو عدت گزارنے کا حکم فرمایا اور کسی قسم کا زور نہیں دیا۔، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئےکہتے ہیں:

"عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ کَانَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْکِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَی لِحْيَتِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعبَّاسٍ يَا عَبَّاسُ أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ رَاجَعْتِهِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْمُرُنِي قَالَ إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ قَالَتْ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ"[26]

"بریرہ کا شوہر ایک مغیث نامی غلام تھا، گویا میں اسے دیکھ رہاہوں کہ وہ بریرہ کے پیچھے روتا ہوا گھوم رہاہے، آنسو اس کی داڑھی پر گر رہے ہیں، آپ ﷺ نے حضرت عباس ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے عباسؓ! کیا تمہیں بریرہ سے مغیث کی محبت اور بریرہ کی مغیث سے عداوت پر تعجب نہیں ہوتا، پھر آپ ﷺ نے بریرہ سے فرمایا کاش! تو اسے لوٹا لے، یعنی رجوع کرلے، بریرہ نے کہا یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے ایسا کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا (نہیں بلکہ) میں تو صرف سفارش کر رہا ہوں، بریرہ نے کہا تو پھر مجھے مغیث کی ضرورت نہیں۔ "

صحابہ کرام ؓ حلال و حرام کو چھوڑ کر رسول اللہﷺسے اکثر اوقات سوال کیا کرتے تھے اور آپﷺ ہمیشہ انہیں اطمینان بخش جواب دیا کرتے تھے۔

"وعن أبي ثعلبة الخشني قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله فرض فرائض فلا تضيعوها وحرم حرمات فلا تنتهكوها وحد حدودا فلا تعتدوها وسكت عن أشياء من غير نسيان فلا تبحثوا عنها"[27]

"سیدنا ابو ثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، "اللہ نے کچھ فرائض لازم کئے ہیں، انہیں ضائع مت کرو۔ اس نے کچھ کام حرام قرار دیے ہیں، ان کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اس نے کچھ حدود مقرر کی ہیں، ان کی خلاف ورزی مت کرو۔ لیکن اس نے کچھ چیزوں کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے، ان کے بارے میں تفتیش میں پڑو سوائے اس کے کہ بھول کر کچھ کر گزرو۔"

حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ، نبی اکرم ﷺ کے چچازاد بھائی ہیں- آپ نہایت دلیر اور بہادر ہونے کے ساتھ زیرک، معاملہ فہم اور حکیم و دانا تھے۔ جب مسلمان حبشہ میں رہائش پزیر ہوئے تو کفار مکہ کو تکلیف ہوئی۔ انھوں نے حبشہ کے مہاجرین کو مکہ مکرمہ واپس لانے کے لئے دو افراد عبد اللہ بن ربیعہ اور عمرو بن العاص کو شاہ حبشہ کے پاس قیمتی تحائف کے ساتھ بھیجا۔ انھوں نے بادشاہ اور اس کے درباریوں کو اپنے گراں قدر تحائف اور چرب زبانی سے متاثر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور بادشاہ سے کہا ’’یہ ہمارے باندی اور غلام بے دین ہوکر یہاں پناہ گزیں ہوئے ہیں‘‘۔ بادشاہ کو بھی تعجب ہوا کہ نہ وہ اپنے آبا و اجداد کے دین پر ہیں اور نہ ہی بادشاہ کے دین و مذہب کو قبول کیا، آخر وہ کس مذہب کے پیروکار ہیں۔ بادشاہ نے کسی فیصلہ سے قبل اہل اسلام کی بات سننا مناسب سمجھا۔ اس موقع پر حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے حکمت و دانائی کا مظاہرہ فرمایا، جس کی وجہ سے کفار مکہ کے سارے ارادوں پر پانی پھر گیا۔انہوں نے نجاشی کو مخاطب کر کے فرمایا۔

"أيها الملك، كنا قوما أهل جاهلية، نعبد الأصنام ونأكل الميتة، ونأتي الفواحش، ونقطع الأرحام، ونسيء الجوار، ويأكل منا القوي الضعيف، فكنا على ذلك، حتى بعث الله إلينا رسولا منا، نعرف نسبه وصدقه وأمانته وعفافه، فدعانا إلى الله لنوحده ونعبده، ونخلع ما كنا نعبد نحن وآباؤنا من دونه من الحجارة والأوثان، وأمرنا بصدق الحديث، وأداء الأمانة، وصلة الرحم، وحسن الجوار، والكف عن المحارم والدماء، ونهانا عن الفواحش، وقول الزور، وأكل مال اليتيم، وقذف المحصنات، وأمرنا أن نعبد الله وحده، لا نشرك به شيئا، وأمرنا بالصلاة والزكاة والصيام- فعدد عليه أمور الإسلام- فصدقناه، وآمنا به، واتبعناه على ما جاءنا به من دين الله، فعبدنا الله وحده، فلم نشرك به شيئا، وحرمنا ما حرم علينا، وأحللنا ما أحلّ لنا، فعدا علينا قومنا، فعذبونا، وفتنونا عن ديننا، ليردونا إلى عبادة الأوثان من عبادة الله تعالى، وأن نستحل ما كنا نستحل من الخبائث، فلما قهرونا وظلمونا وضيقوا علينا، وحالوا بيننا وبين ديننا، خرجنا إلى بلادك، واخترناك على من سواك، ورغبنا في جوارك، ورجونا ألانظلم عندك أيها الملك"[28]

"بادشاہ سلامت! ہم جاہل لوگ تھے، بتوں کو پوجتے تھے، مردار کھاتے تھے، بےحیائی کے کام کرتے تھے، رشتہ داریاں توڑ دیا کرتے تھے، پڑوسیوں کے ساتھ بد سلوکی کرتے تھے اور ہمارا طاقتور ہمارے کمزور کو کھاجاتا تھا ، ہم اسی طرز زندگی پر چلتے رہے، حتی کہ اللہ نے ہماری طرف ہم ہی میں سے ایک پیغمبر کو بھیجا جس کے حسب نسب، صدق و امانت اور عفت و عصمت کو ہم جانتے ہیں، انہوں نے ہمیں اللہ کو ایک ماننے، اس کی عبادت کرنے اور اس کے علاوہ پتھروں اور بتوں کو جنہیں ہمارے آباؤ اجداد پوجا کرتے تھے کی عبادت چھوڑ دینے کی دعوت پیش کی، انہوں نے ہمیں بات میں سچائی، امانت کی ادائیگی، صلہ رحمی، پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے، حرام کاموں اور قتل وغارت گری سے بچنے کا حکم دیا، انہوں نے ہمیں بےحیائی کے کاموں سے بچنے، جھوٹ بولنے، یتیم کا مال ناحق کھانے اور پاکدامن عورت پر بدکاری کی تہمت لگانے سے روکا، انہوں نے ہمیں حکم دیا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور انہوں نے ہمیں نماز، زکوٰۃ اور روزے کا حکم دیا، ہم نے ان کی تصدیق کی، ان پر ایمان لائے، ان کی لائی ہوئی شریعت اور تعلیمات کی پیروی کی، ہم نے ایک اللہ کی عبادت شروع کر دی، ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے تھے، ہم نے ان کی حرام کردہ چیزوں کو حرام اور حلال قرار دی ہوئی اشیاء کو حلال سمجھنا شروع کر دیا، جس پر ہماری قوم نے ہم پر ظلم وستم شروع کر دیا، ہمیں طرح طرح کی سزائیں دینے لگے، ہمیں ہمارے دین سے برگشتہ کرنے لگے تاکہ ہم دوبارہ اللہ کی عبادت چھوڑ کر بتوں کی پوجا شروع کردیں اور پہلے جن گندی چیزوں کو زمانہ جاہلیت میں حلال سمجھتے تھے، انہیں دوبارہ حلال سمجھنا شروع کردیں ۔ جب انہوں نے ہم پر حد سے زیادہ ظلم شروع کردیا اور ہماے لئے مشکلات کھڑی کرنا شروع کردیں اور ہمارے اور ہمارے دین کے درمیان رکاوٹ بن کر حائل ہونے لگے تو ہم وہاں سے نکل کر آپ کے ملک میں آگئے، ہم نے دوسروں پر آپ کو ترجیح دی، ہم نے آپ کے پڑوس میں اپنے لئے رغبت محسوس کی اور بادشاہ سلامت! ہمیں امید ہے کہ آپ کی موجودگی میں ہم پر ظلم نہیں ہوگا۔ "

مندرجہ بالا تفصیل سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں اظہار رائے کو پوری طرح سے تسلیم کیا جاتا ،اسلام اظہاررائے کی آزادی کے خلاف ہر گز نہیں ہے۔دوسری طرف مغرب کے ہاں آزادی اظہار رائے کاجو تصور پایا جاتاہے وہ منافقت اورتضاد سے بھرپورہے۔

مولانا زاہد الراشدی اس بارے میں رقمطراز ہیں:

"جہاں تک مغرب کا تعلق ہے تو وہ اپنے ذہن سے وحی اور پیغمبر دونوں کو اتار چکاہے ۔اور اس کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ مغرب کے پاس نہ وحی اصل حالت میں موجود ہے اور نہ ہی پیغمبروں کے حالات وتعلیمات کاکوئی مستند ذخیرہ اسے میسر ہے، اس لیے اس نے سرے سے ان دونوں سے پیچھا ہی چھڑا لیا ہے۔ اور اب وہ مسلمانوں سے یہ توقع اور پر زور مطالبہ کررہا ہے کہ وہ بھی وحی اور پیغمبر کو اپنے ذہن سے اتار دیں اور اپنے جذبات اور احساسات کے دائرے میں انہیں کوئی جگہ نہ دیں۔ لیکن مغرب یہ توقع اور مطالبہ کرتے ہوئے یہ معروضی حقیقت بھول جاتاہے کہ مسلمانوں کے پاس یہ دونوں چیزیں اصلی حالت میں موجود ومحفوظ ہیں۔ قرآن کریم بھی اصلی حالت میں ہے اور جناب نبی کریمﷺ کے حالات زندگی، تعلیمات اورارشادات بھی پورے استناد اور تفصیل کے ساتھ مسلمانوں کے پاس موجود ہیں، اور صرف لائبریریوں کی زینت نہیں بلکہ یہ دونوں چیزیں پڑھی جاتی ہیں، پڑھائی جاتی ہیں، لکھی جاتی ہیں ،شائع ہوتی ہیں اوردنیا کے کسی بھی خطے کے مسلمان ان دونوں یا ان میں سے کسی ایک سے محروم نہیں ہیں۔ اس لیے مسلمانوں سے مغرب کی یہ توقع اور مطالبہ کہ وہ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے دست بردار ہوجائیں گے، ایک سراب کے پیچھے بھاگنے کے سوا کوئی معنویت نہیں رکھتا۔"[29]

مسئلہ عصمت انبیاء اور مغربی طرز عمل

انبیاء کرام علیہم السلام کی عصمت اورعزت و ناموس کے تحفظ اور مذہب کے احترام کا مسئلہ ایک عرصہ سے عالمی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ مغرب نے جب سے مذہب کو اپنی معاشرتی اور سماجی زندگی سے لاتعلق کیا ہے اس فلسفہ کے علمبردار انسانی سماج سے مذہب اور مذہبی اقدار کے کردار کو لاتعلق کر دینے کے نعرہ کے ساتھ ساتھ مذہب، مذہبی اقدار اور شخصیات کی حرمت و ناموس کو بھی منفی سرگرمیوں کا ہدف بنائے ہوئے ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک شاید یہ ضروری ہے کہ دنیا بھر میں مذہب اور مذہبی اقدار کو انسانی سماج سے عملاً لا تعلق کرنے کے لیے مذہب اور مذہبی شخصیات کے خلاف بے زاری اور نفرت کی فضا قائم کی جائے جس کے لیے ایک عرصہ سے سیکولر حکومتوں، حلقوں، لابیوں اور دیگر عناصر کی طرف سے مختلف شعبوں میں سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں۔ حالانکہ نفرت، توہین اور استخفاف تمام مذاہب اور قوانین کے نزدیک جرم ہے اور کم و بیش ہر ملک میں کسی بھی عام شہری کو توہین اور ہتک عزت سے بچانے کے لیے قوانین موجود ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی ہو رہا ہے۔

آزادی اظہار کا مغربی تصور

آزادی اظہار کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے۔

"Freedom of speech is the right to articulate one's opinions and ideas without fear of government retaliation or censorship, or societal sanction."[30]

"اظہار رائے کی آزادی سے مراد آراء کے اظہار کا وہ حق ہے۔ جس میں کوئی فرداپنی رائےاور خیالات حکومت انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیریا سنسرشپ،یا معاشرتی منظوری کے بغیر ظاہر کرے۔"

نگل وار برٹن اظہار رائے کے بارے میں لکھتا ہے۔

"Free speech is a particular value in democratic society. In a democracy voters have an interest in hearing and contesting a wide range of opinions and in having access to facts and interpretations, as well as contrasting views, even when they believe that the expressed views are politically, morally, or personally offensive. These opinions may not always be communicated directly through newspapers and radio and television, but are often presented in novels, poems, films, cartoons, and lyrics. They can also be expressed symbolically by acts such as burning a flag, or as many anti-Vietnam War protestors did."[31]

"آزادی اظہار کی ایک جمہوری معاشرے میں خاص اہمیت ہے۔جمہوریت میں ایک ووٹر کو مختلف آراء کی سماعت اور تقابل میں اور حقائق اور تشریحات تک رسائی رکھنے میں، خاص دلچسپی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متضاد خیالات کے طور پر جن پر وہ یقین رکھتے ہیں خواہ وہ سیاسی ہوں یا اخلاقی اور یا پھر انفرادی طور پر جارحانہ ہوں۔ان آراء کو ہمیشہ اخبارات،ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعے براہ راست مطلع نہیں کیا جا سکتا لیکن اکثر ناولوں، نظمیں، فلموں، کارٹون، اور دھن میں پیش کئے جاتے ہیں۔ ان آراءکاپرچم جلانے والی کارروائیوں کے زریعے سے علامتی اظہار بھی کیا جا سکتا ہےجیسا کہ ویت نام کے جنگ کے مخالفین نے کیا۔"

آزادیٔ مذہب ورائے اور اقوام متحدہ کا بین الاقوامی منشور

اقوام متحدہ کے بین الاقوامی منشور میں مغربی دنیا کے تہذیبی، سیاسی اور مذہبی پس منظر کو بنیاد بنایا گیا ہے اور انقلاب فرانس سے پہلے کی صورت حال اور جنگ عظیم اول اور دوم کا باعث بننے والے اسباب کو سامنے رکھا گیا ہے۔ یہ مغربی دنیا کا پس منظر ضرور ہے لیکن عالم اسلام کا پس منظر قطعی طور پر یہ نہیں ہے، عالم اسلام میں قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کی پاسداری اور معاشرتی انصاف کی فراہمی کی ایک شاندار تاریخ موجود ہے جسے بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اور مغرب اپنے علاقائی پس منظر کے رد عمل میں جس معاشرتی اور تہذیبی نتیجہ تک پہنچا ہے اسے پوری دنیا میں اور خاص طور پر اس پس منظر سے قطعی مختلف ماضی رکھنے والے عالم اسلام پر مسلط کرنے کے درپے ہے جو انصاف کا تقاضہ نہیں ہے۔

مذہب اور مذہبی قیادت نے یورپی ممالک میں یقینًا بادشاہت اور جاگیرداری کی پشت پناہی کی ہے لیکن عالم اسلام میں مذہبی قیادت علمی و فکری طور پر ہمیشہ آزاد رہی ہے اور حکمرانوں کے مظالم کے مقابلہ میں عوام کے ساتھ رہی ہے، اس لیے جو سزا مغرب نے اپنے مذہب کے لیے تجویز کی ہے اسے عالم اسلام اور دین اسلام پر چسپاں کرنا سراسر ظلم اور زیادتی ہے۔

اظہار رائے کی آزادی کو Freedom of Speech and Expression سے تعبیر کیا جاتاہے۔جس کا سادہ مفہوم بولنے کی آزادی ہے۔ عمل اور لکھنے کی آزادی کو بھی اظہار رائے کی آزادی میں شمار کیا جاتاہے۔ یعنی ہر انسان تقریر وتحریر اورعمل کرنے میں آزاد ہے۔ اقوام متحدہ کے بین الاقوامی چارٹر کی شق نمبر ۱۸ کے مطابق

"Everyone has the right to freedom of thought, conscience and religion; this right includes freedom to change his religion or belief, and freedom, either alone or in community with others and in public or private, to manifest his religion or belief in teaching, practice, worship and observance." [32]

"ہر انسان کو آزادیٔ فکر، آزادیٔ ضمیر، آزادیٔ مذہب کا پورا حق ہے۔ اس حق میں مذہب یا عقیدے کو تبدیل کرنے، پبلک یا نجی طور پر تنہا یا دوسروں کے ساتھ مل کر عقیدے کی تبلیغ، عمل، عبادت اور مذہبی رسوم پوری کرنے کی آزادی بھی شامل ہے۔"

اقوام متحدہ کے بین الاقوامی چارٹر کی شق نمبر ۱۹ کے مطابق

"Everyone has the right to freedom of opinion and expression; this right includes freedom to hold opinions without interference and to seek, receive and impart information and ideas through any media and regardless of frontiers. [33]

"ہرشخص کو اپنی رائے رکھنے اور اظہارِ رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں یہ امر بھی شامل ہے کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنی رائے قائم کرے اور جس ذریعے سے چاہے بغیر ملکی سرحدوں کا خیال کئے علم اور خیالات کی تلاش کرے۔ انہیں حاصل کرے اور ان کی تبلیغ کرے۔"

دین اسلام میں ہدایت کا پورا نظام موجود ہے جو ہم تک انبیاء علیہم السلام ، صحابہ، تابعین اور تبع تابعین، علمائے اسلام اور صوفیاء عظام کے ذریعے پہنچا ہے۔ اسی وجہ سے جس طرح ہم خدا کے سامنے اپنے عبد و غلام ہونے کا اقرار کرتے ہیں اسی طرح تمام انبیاء علیہم السلام کو بھی ہمارے ہاں تقدیس حاصل ہے۔ اور پھر درجہ بہ درجہ جو جس قدر عبدیت میں بڑھا ہوا ہو گا اور تقویٰ و خشیت کے جتنے بلند مقام پر ہو گا اس کی اہمیت و فضیلت دوسرے افراد سے اسی نسبت سے بلند ہو گی۔ یہ آزادی دراصل انکار ہے عبدیت کا، انسان جب اپنے عبد ہونے سے انکاری ہو جاتا ہے تو حقوق العباد بجا لانے کی بجائے حقوق انسانی کا طالب ہو جاتا ہے۔ یہ مساوات دراصل نظام ہدایت کی رَد ہے۔

اقوام متحدہ کے بین الاقوامی چارٹر کی شق نمبر ۱۸ اور ۱۹کی دفعات میں کہیں اظہار رائے کی آزادی کی کوئی حدود بیان نہیں کی گئیں،جس کا واضح مطلب اظہاررائے کی آزادی کی آڑ میں ہتک عزت کا دروازہ کھولنا ہے۔ یہ دو دفعات پر عالم اسلام اور مغرب کے درمیان دو بڑے تنازعات کی بنیاد ہے۔ ایک جھگڑا آزادیٔ مذہب کے عنوان سے ہے اور دوسرے تنازعہ کا عنوان آزادیٔ رائے ہے۔ آزادیٔ مذہب اور آزادیٔ رائے کی حدود کیا ہیں اور ان کے بارے میں آج کی دنیا کے ساتھ ہم مسلمانوں کا تنازعہ کیا ہے؟ اس کی عملی صورتیں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور توہین رسالت پر موت کی سزا کے قانون کے حوالہ سے ہے جو ایک عرصہ سے جاری ہے۔ چنانچہ موجودہ عالمی کشمکش اور مباحثہ کو اس کے اصل تناظر میں سمجھنا بہت ضروری ہے۔

مغرب چونکہ ریاستی، حکومتی اور معاشرتی معاملات میں مذہب کے کردار سے دست بردار ہو چکا ہے اور اس کے نزدیک مذہب صرف فرد کی ذاتی رائے اور ترجیح کا معاملہ ہے اس لیے اس کا خیال ہے کہ ریاست اور حکومت کو مذہبی معاملات میں فریق نہیں بننا چاہیے، یہ فرد کا ذاتی حق ہے کہ وہ کوئی عقیدہ رکھے یا نہ رکھے، کسی کی عبادت کرے یا نہ کرے، ایک مذہب ترک کر کے دوسرا مذہب اختیار کر لے، اپنے مذہب کا کھلم کھلا پرچار کرے، دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے اور اپنی مذہبی رسوم آزادی کے ساتھ ادا کرے، اس کے اس حق میں مداخلت کا حکومت یا ریاست کو حق حاصل نہیں ہے، اسی طرح ریاست و حکومت کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ مذہب کے حوالہ سے اپنے شہریوں کے درمیان کوئی فرق روا رکھے اور مختلف مذاہب کے لوگوں کے لیے الگ الگ قانون اور احکام نافذ کرے، اگر حکومت کسی فرد یا گروہ کے مذہبی معاملات میں مداخلت کرتی ہے تو اسے مذہبی آزادی میں مداخلت قرار دیا جاتا ہے اور اگر مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے بارے میں الگ الگ احکام و قوانین کا نفاذ کرتی ہے تو اسے مذہبی امتیاز کا قانون کہا جاتا ہے اور اسے ختم کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔

پاکستان اپنے وجود اور دستور دونوں حوالوں سے ایک نظریاتی اسلامی ریاست ہے۔[34] جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حدود میں اس نظریہ و مذہب کا نہ صرف تحفظ کرے بلکہ اس کے احکام و قوانین کا نفاذ عمل میں لائے اور ملک میں ایک اسلامی معاشرہ کی تشکیل کرے۔ اس لیے اسلامی عقیدہ و ثقافت کی حفاظت اور اسلامی احکام و قوانین کی عملداری حکومت پاکستان کی ریاستی ذمے داری قرار پاتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے کسی بھی ملک کی حکومت کا یہ اولین فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے دستور کا تحفظ کرے، اس کا نفاذ کرے اور اس کے منافی کوئی کام اپنے ملک میں نہ ہونے دے، کسی بھی ملک کے دستور کی بنیادوں اور اصولوں سے اتفاق یا اختلاف ایک الگ امر ہے لیکن ملک کے اندر اس کے تحفظ و نفاذ کا معاملہ اس سے مختلف امر ہے۔ مثلاً فرانس کے دستور کی بہت سی باتوں سے خود اس ملک کے بہت سے شہریوں کو نظری طور پر اختلاف ہوگا لیکن ملک کے شہری کی حیثیت سے اس اختلاف کے باوجود اس دستور کو ماننا اور اس پر عمل کرنا اس کی ذمہ داری ہے اور اس سے اس پر عمل کرانا حکومت کا فرض ہے۔ اگر وہ اختلاف کی بنیاد پر ملک کے دستور کی کسی بات پر عمل کرنے سے انکار کرے گا تو یہ اختلاف نہیں رہے گا بلکہ بغاوت کی شکل اختیار کر لے گا جس کی اجازت دنیا کا کوئی ملک یا حکومت دینے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

توہین رسالت اور آزادئ اظہارِ رائے کی حقیقت

درحقیقت ہرتصور علمیت کے پیچھے کچھ مابعد الطبیعاتی تصورات پائے جاتے ہیں تحریک تنویر[35]نے جو مابعد الطبیعاتی تصورات انسان کے بارے میں قائم کیے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

آزادی

یعنی انسان خود مختار ہستی ہے، انسان قائم بالذات ہے اس پر کوئی خارجی قدغن نہیں لگائی جا سکتی، کسی بیرونی چیز کو کوئی تقدیس حاصل نہیں ہے۔ انسان خود اپنے لیے پیمانہ معیار خیرو شر مقرر کر سکتا ہے۔ اور وہ جیسے بھی چاہے تشریح خیر و شر کر سکتا ہے گویا تحریک تنویر کا بنیادی کلمہ لا الٰہ الا انسان قرار پایا اور خدا کی حرمت اور تقدیس کی بالکل کوئی جگہ نہیں رہی۔ [36]

اسی فلسفے کی وضاحت کرتے ہوئے حسن عسکری رقمطراز ہیں:

"اس سارے فلسفے کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنی ماہیت کا تعین انسان خود کرتا ہے خدا نہیں،اس ماہیت کا تعین عمل کےذریعے ہوتا ہے،یہ ماہیت مستقل چیز نہیں ،بلکہ بدلتی رہتی ہےظاہر ہے کہ یہ سارے خیالات دین کی نفی کرتے ہیں۔"[37]

مساوات

اللہ کی خدائی کا کلمہ پڑھنے والےتمام انسان مذہب انسانیت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ کوئی فرد محض اپنی چاہت کی بناء پر کسی دوسرے فرد سے افضل یا کمتر نہیں ہوسکتا۔ گویا ہر قسم کے تصورات خیر و شر کی یکساں قدر ہے، انہیں معنوں میں تمام افراد بھی مساوی القدر ہیں۔ ان میں کوئی درجہ بندی نہیں ہے۔ اس مذہب انسانیت میں شامل افراد ہی مہذب دنیا کا حصہ ہیں۔[38]

آزادی اور مساوات کی انہی اقدار کا شور و غوغا مغربی تہذیب میں ہر جا نظر آتا ہے۔ چاہے انفرادی زندگی ہو چاہے معاشرتی صف بندی ہو اور چاہے سیاسی ادارے۔ مغرب میں جنم لینے والے تمام نظریات لبرلزم، سوشلزم یا نیشنل ازم میں معمولی فروعی اختلافات کے ساتھ ان بنیادی اقدار پر اجماع پایا جاتا ہے۔ آزادی رائے کی عمارت کی تشکیل بھی انہی اصولوں پر ہوتی ہے۔

آزادی اظہار کا مغربی تصور

مغربی معاشروں میں آزادی (Freedom) کے بارے میں مختلف طرح کے تصورات موجود ہیں، مجموعی طور پر غالب تصور یہی ہے کہ انسان اپنے خیر و شر کے معیارات کے تعین کا نہ صرف خود مجاز بلکہ حق دار ہے اور اس کی انسانیت کا جوہر یہی ہے کہ وہ اپنی متعین کردہ اقدار کو آزادانہ اپنا سکے اور ان کے مطابق زندگی گزار سکے۔ چنانچہ مغرب میں اگر کوئی شخص نکاح کو فضول چیز سمجھتا ہے اور اسے اپنی ترقی میں رکاوٹ سمجھتا ہے تو اسے آزادی حاصل ہے کہ وہ کسی عورت سے وقتی تعلق رکھ سکے، یا وہ شراب پینے کو بہتر خیال کرتا ہے تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اسے شراب مہیا ہونے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ مغربی معاشرے میں ایک رائٹر اپنی نگارشات میں جوچاہے پیش کر سکتا ہے ، وہ اپنے خیالات کے اظہار میں آزاد ہے، ایک آرٹسٹ اپنے فن کے اعتبار سے آزاد ہے۔ وہ کارٹونسٹ ہے تو اسے آزادی ہے کہ وہ جیسا چاہے کارٹون بنا سکے، ڈرامہ نگار ہے تو اپنی مرضی سے کردار اور مکالمے تجویز کر سکتا ہے۔ وہ افسانہ نویس اور کہانی نگار ہے تو وہ اس بات میں آزاد ہے کہ اپنی کہانی اور افسانے کا پلاٹ اپنی مرضی کا منتخب کر سکے، قطع نظر اس بات کے کہ اس کے کرداروں ، مکالموں اور کہانیوں سے الحاد، عریانیت اور بدعقیدگی کا پرچار ہوتا ہو یا کوئی بھی مقدس شخصیت ہدف تنقید بنتی ہو۔

چنانچہ مغربی گمراہیوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حسن عسکری کی تحریر کا ملخص ملاحظہ ہو:

اہل مغرب کے نزدیک عقائد مذہب کا لازمی حصہ نہیں یہ ذہنیت پروٹسٹنٹ مذہب والوں کی ہے۔جس کی وجہ سے اسلامی عقائد کو بھی تحقیر کرتے ہوئےDogma کہا جاتا ہے،اور ان کا خیال ہے کہ عقائد میں وقت کے ساتھ تبدیلی آ سکتی ہے،ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عقائد میں صداقت نہیں تلاش کرنی چاہئے کیونکہ عقائد محض جذباتی تسکین کے لئے ہوتے ہیں،اور عقیدے کو محض جذباتی سمجھنا اور اسے تحقیر کے لئے'منجمد جذبہ' قرار دینا۔چنانچہ عام آدمی اور اس کی سمجھ بوجھ کو ہر چیز کا معیار بنانا اور ان تمام دینی تصورات کا انکار کرنا جو عام آدمی کی سمجھ میں نہ آ سکیں۔اور مذہب پر ذہنی اور مادی جمود کا الزام لگانا۔اور اسلامی تصورات کو عیسوی تصورات کے معیار سے جانچنا اور ڈھالنا،اور صحت مند جانور کو انسانی زندگی کا معیار بنانا مغربی گمراہیوں کی مختلف شکلیں ہیں۔[39]

حضرت رسالت ﷺ کے توہین آمیز کارٹونوں کے واقعات کے رد عمل کے تناظر میں جب فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کے وکیل Richard Malkaنے یہ کہا :

"Naturally​, we will not give​​ in​,​ otherwise all this won't have meant anything"[40]

" ہم شکست تسلیم نہیں کریں گے،وگرنہ جو ہم کر رہے ہیں وہ بے معنیٰ ہو جائے گا"۔

تو اس ایک جملے میں پورے مغرب کی سوچ اور فکر سمٹ کر آ گئی کہ اہلِ مغرب اپنی آزادی کے سلسلے میں کسی قسم کی حدبندیوں کے قائل نہیں۔ ڈینش حکومت کو امریکا و برطانیہ کی تھپکی اس بات کی غماز ہے کہ وہ اس معاملے میں کسی قسم کی مفاہمت یا معذرت پر مبنی رویہ اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ حقوق انسانی کا تحفظ اسی میں سمجھتے ہیں کہ ہر فرد اپنے دائرہ اختیار میں آزاد رہ سکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسا منشور جو حضور رسالت مآب ﷺکی عصمت کی توہین کے ارتکاب میں نہ صرف یہ کہ رکاوٹ نہ ہو بلکہ اس جسارت کو مزید ممکن بناتا ہو، کسی صاحبِ ایمان کیلئے قابلِ تسلیم ہو سکتا ہے؟ یقیناًاس کا جواب نفی میں ہو گا۔ مغربی طاقتوں کا مرتب کردہ حقوق انسانی کا منشور اصلاً غلبۂ کفر کا منشور ہے اور ان طاقتوں کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ حضرت محمدﷺ مسلمانوں کے نزدیک کس مقام و منصب کے حامل ہیں اور عصمت نبی ﷺ سے متعلق کوئی بھی توہین آمیز جملہ پوری امتِ مسلمہ کے جذبات کو آگ لگا سکتا ہے۔

آزادیٔ اظہار رائے کی تحدید

اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ ۱۹ میں آزادیٔ رائے کی بات کی گئی ہے جس کی بنیاد پر کہا جا تا ہے کہ مذہب اور مذہبی شخصیات سے اختلاف اور ان پر تنقید بھی آزادیٔ رائے کا حصہ ہے اور اس کو جرم قرار دے کر اس پر موت کی سزا مقرر کرنا آزادیٔ رائے اور آزادیٔ ضمیر کے انسانی حق کے منافی ہے۔ یہ بات مغالطہ کے سوا کچھ نہیں، اس لیے کہ اختلاف رائے اور چیز ہے اور توہین اس سے بالکل مختلف چیز ہے۔ مسلمانوں نے علمی اختلاف کا جواب ہمیشہ علمی انداز سے دیا ہے، صدیوں سے مستشرقین اسلام پر، قرآن کریم پر اور جناب نبی اکرمؐ کی شخصیت اور کردار پر اعتراضات کر رہے ہیں اور مسلمان دانش ور ان کے جوابات دے رہے ہیں، لیکن جناب نبی اکرمؐ یا کسی بھی سچے رسول اور نبی کی توہین کو انہوں نے کبھی برداشت نہیں کیا اور نہ ہی آئندہ کبھی یہ بات برداشت ہو سکتی ہے۔

تقسیم سے قبل لاہور میں ہی ایک ہندو پبلشر راج پال نے ’’رنگیلا رسول‘‘[41] کے نام سے کتاب شائع کی[42] جس کا نام ہی توہین آمیز تھا، اسے برداشت نہیں کیا گیا اور غازی علم الدین شہیدؒ نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیااس کتاب میں نبی کریمﷺ کی ذات بابرکات پر نہایت رکیک ،کمینے اور غیر مہذب اعتراضات کئے گئےتھے۔اس کتاب کے بازار میں آتے ہی مسلمانوں میں انتہائی اشتعال پیدا ہو گیا اور اس کا جواب لکھنے کے مطالبے سامنے آنے لگے۔چنانچہ مولانا ثناء اللہ امرتسری میدان میں آئے اور (مقدس رسولﷺ)کے نام سے اس کانہایت متین،معقول،محققانہ اور قاطع جواب لکھا۔اور اس کتاب میں موجود جہالتوں اور حماقتوں کا نہایت متانت اور سنجیدگی سے جواب دیا۔ [43]

مغرب کے ایک دانش ور سرولیم میور نے جناب نبی اکرمؐ کی سیرت طیبہ پر کتاب لکھی اور اس میں بعض اعتراضات کیے،[44] ان میں اعتراضات کا جواب سر سید احمد خان کی طرف سے "خطبات احمدیہ" کی صورت میں جواب بھی دیا گیا، [45]لیکن سلمان رشدی نے "شیطانی آیات" کے نام سے خرافات کا مجموعہ مرتب کیا ، [46]جس کی بنیاد علمی یا تاریخی اشکالات پر نہیں بلکہ توہین و استخفاف اور طنز و استہزاء پر تھی، اس لیے اسےمسلمانوں کی طرف سے برداشت نہیں کیا گیا۔ جس پر امام خمینی کی طرف سے رشدی کے قتل پر فتویٰ اور انعام کا اعلان کیا گیا۔[47]

اختلاف اور توہین میں فرق ہے اور توہین رسالتﷺ کو جرم قرار دینے پر اعتراض در حقیقت توہین کو حقوق میں شامل کرنے کی بات ہے جو قطعی طور پر غیر معقول اور ناقابل قبول ہے۔ واضح رہے کہ دنیا کے ہر ملک میں ’’ہتک عزت‘‘ پر قانونی چارہ جوئی کا حق شہریوں کو حاصل ہے اور "ازالۂ حیثیت عرفی" سے شہریوں کو قانونی تحفظ دیا جاتا ہے۔[48] اب تو خود امریکا میں بھی انٹرنیٹ کے حوالے سے بھی ایسے قوانین مرتب ہو چکے ہیں۔[49] جبکہ اسی تناظر میں پاکستان میں بھی سائبر کرائم بل پاس ہو چکا ہے۔

جبکہ یورپ ہی میں آزادئ اظہارِ رائے کا معاملہ یہ ہے کہ بہت سے صحافی محض اس وجہ سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں کہ انہوں نے "ہولوکاسٹ" کے دوران ہلاک ہونے والے یہودیوں کی ساٹھ لاکھ تعداد کو چیلنج کیا تھا۔ ان صحافیوں پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے یہودی قوم کی دل آزاری کی ہے لہٰذا وہ سزا کے مستحق ہیں،حتیٰ کہ جب سابقہ ایرانی صدر احمدی نژاد نے ہولوکاسٹ کو جھٹلایا تو جرمنی کے سیاست دانوں نے ان کی شدید مذمت کی۔

جرمن صحافی Klaus Dahmann لکھتا ہے:

"Germany's parliament passed legislation in 1985, making it a crime to deny the extermination of the Jews. In 1994, the law was tightened. Now, anyone who publicly endorses, denies or plays down the genocide against the Jews faces a maximum penalty of five years in jail and no less than the imposition of a fine." [50]

" جرمنی کی پارلیمان نے ۱۹۸۵ ء میں ایک بل پاس کیا ہے کہ یہودیوں کے قتل عام کا انکار کرنا ایک جرم ہے۔۱۹۹۴ء میں اس قانون میں مزید سختی کی گئی کہ جو کوئی بھی یہودیوں کے خلاف عوام میں ہولوکاسٹ کا انکار کرے یا اس کی تردید کرے تو اس کو لازمی جرمانے کے ساتھ ۵ سال کی قید کا سامنا کرنا ہو گا۔"

اگر کسی ملک کے ایک عام شہری کی ہتک عزت اور ازالۂ حیثیت عرفی جرم ہے تو حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی ہتک عزت اور ازالۂ حیثیت عرفی اس سے کئی گنا زیادہ سنگین جرم ہے، اس لیے کہ اس کے ساتھ پیغمبر خدا ﷺ کے کروڑوں عقیدت مندوں کے دلی جذبات کی توہین بھی شامل ہو جاتی ہے۔

مولانا زاہد الراشدی اس بارے میں رقمطراز ہیں:

"ورلڈ میڈیا، بین الاقوامی لابیوں ،مغربی فکروفلسفہ کی برتری کا مسلسل ڈھنڈورا پیٹنے والے نام نہاد مسلمان دانشوروں اور مغرب نواز مسلمان حکومتوں کی تمام تر منفی کارروائیوں ،پروپیگنڈے اور پالیسیوں کے باوجود دنیا بھر کے عام مسلمان آج بھی جناب نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ بے لچک کمٹمنٹ رکھتے ہیں اور اس کمٹمنٹ کوکمزور کرنے کی کوئی کوشش کسی بھی حوالے سے کامیاب نہیں ہو رہی جو جناب نبی کریم ﷺ کے اعجاز کاآج کے دور میں کھلا اظہارہے۔"[51]

اسلامی حدود و تعزیرات پر اعتراض کی بنیاد

اقوام متحدہ کے بین الاقوامی چارٹر کی دفعہ نمبر ۵ میں کہا گیا ہے"

"No one shall be subjected to torture or to cruel, inhuman or degrading treatment or punishment". [52]

"کسی شخص کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جائے گا یا سزا نہیں دی جائے گی جو ظالمانہ ہو، جس میں جسمانی تشدد ہو اور جو گھٹیا سلوک ہو۔"

اقوام متحدہ کے ادارے اور بین الاقوامی لابیاں اس کی تشریح یہ کرتی ہیں کہ جسمانی تشدد، ذہنی اذیت اور توہین و تذلیل والا سلوک کسی شخص کے ساتھ نہیں کیا جائے گا۔ سلوک کی حد تک یہ بات ہمارے لیے بھی قابل قبول ہے بلکہ یہ اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے اور جناب نبی اکرمؐ نے بہت زیادہ وضاحت کے ساتھ اس کی ہدایت کی ہے لیکن اس دفعہ میں ’’یا سزا نہیں دی جائے گی‘‘ کہہ کر سزاؤں کو بھی اس میں شامل کر دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ کسی بھی جرم میں دی جانے والی سزا کو جسمانی تشدد، ذہنی اذیت اور توہین و تذلیل سے خالی ہونا چاہیے اور جس سزا میں ان میں سے کوئی بات پائی جاتی ہے ، وہ انسانی حقوق کے منافی تصور ہوگی۔

معاشرتی جرائم اور توہین انبیاء کی اسلامی سزاؤں کو اسی وجہ سے انسانی حقوق کے منافی قرار دیا جاتا ہے کہ ان میں قتل کرنے، سنگسار کرنے، ہاتھ پاؤں کاٹنے، قصاص میں جسمانی اعضاء قطع کرنے، کوڑے مارنے اور کھلے بندوں لوگوں کے سامنے سزا دینے کی صورتیں موجود ہیں، قرآن و سنت کی بیان کردہ ان سزاؤں کو نہ صرف انسانی حقوق کے منافی کہا جاتا ہے بلکہ نعوذ باللہ وحشیانہ، ظالمانہ اور غیر انسانی سزاؤں سے بھی تعبیر کر دیا جاتا ہے۔

یہودیت ،عیسائیت اور اسلام کے علماء کے نزدیک توہین کا مفہوم اپنی مخصوص تشریح کے مطابق ہے۔یہودیت سے متعلق Lawtonلکھتا ہے:

“Blasphemy translation in Hebrew verbs ‘nakob’ and ‘qillel; ‘to pronounce aloud’ and ‘to curse’ in the classic formulation of the Mosaic law of blasphemy in the Leviticus. The word ‘blasphemy’ combines two roots - ‘to hurt’ and ‘to speak’ (pheme as in ‘ fame’ so ‘defame’) hence ‘to harm by speaking’ as in Leviticus (a hurt sometime conceptualized in highly physical terms)” [53]

"Blasphemyکے لفظ کو عبرانی زبان میں "نقوب" یا "قلل" کے معنیٰ میں ہے جس کو روایتی موسوی ادب کے میں توریت میں توہین رسالت کا قانون کہا جاتا ہے۔Blas-phemy کےلفظ کی دو بنیادیں ہیں،کسی کی دل آزاری کرنا یا برا کہنا،کسی پر تہمت لگانا، یا الفاظ کے زریعے کسی کو تکلیف دینا۔جیسا کہ توریت کی تیسری کتاب میں بیان ہوا ہے۔بسا اوقات کسی توہین آمیز نظریہ کی تَشکِیل کَرنا۔"

جبکہ عیسائیت کے تناظر میں Blasphemy کو بیان کرتے ہوئے Blackstone لکھتا ہے:

“Blasphemy against the Almighty is denying his being or providence, or uttering contumelious reproaches on our Savior Christ. It is punished, at common law by fine and imprisonment, for Christianity is part of the laws of the land”[54]

"توہین سے مراد خداکی ہستی کو وجود کا انکار ،یا فضل الہیٰ کا انکار،حضرت مسیحؑ کی گستاخی یا توہین آمیز الزام لگانا اس کی سزا قانون میں جرمانہ اور قید پر مشتمل ہے، کیونکہ اس سرزمین کے قوانین مسیحیت پر مبنی ہیں۔"

یہ عبارت واضح کرتی ہے کہ مسیحیت کی حقیقی تعلیمات میں بھی خدا یا رسول کی توہین مغرب کے باشعور طبقے کے نزدیک ایک جرم ہے۔اور مسیحیت کی حقیقی تعلیم یہی ہے کہ انبیاء کی عصمت پر حملہ کرنے والے فرد کو سزا دینا یہ بائبل ہی کی تعلیم کے عین مطابق ہے۔

اسلام کے تناظر میں توہین رسالت کے مفہوم کو یوں بیان کیا گیا ہے:

“ The Muslim jurists explore the use of foul language primarily with regard to the Prophet. This is known as sabb al-rusul. Later on this was considered to include the use of foul language with regard to Allah (sabb Allah) or any of the angels or other prophets. Anyone using such language in relation to any of these is considered among the greatest of sinners. If the person is a Muslim, they are considered apostate and condemned to death”[55]

"مسلم فقہاء کے نزدیک Blashphemy سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص نبی اکرمﷺسے متعلق کوئی نازیبا جملہ کہے۔اسلامی اصطلاح میں اس سے مراد سبّ الرسول ہے۔بعد ازاں یہ اصطلاح اللہ تعالیٰ کی ذات سے متعلق کسی طرح کی بدزبانی سے متعلق استعمال کرنے کو بھی شامل کی گئی۔ اور ایسی حرکت کا مرکب فرد سب سے بڑا گناہ گار شمار کیا جاتا ہے۔اور اگر کرنے والا مسلمان ہو تو ایسے فرد کو مرتد قرار دے کر سزائے موت دی جائے گی۔"

خواہ وہ ہی کیوں نہ ہو جبکہ اس کی سزا خود بائبل میں بھی مذکور ہے۔

اس سلسلہ میں ایک پہلو یہ ہے کہ یہ سزائیں قرآن کریم نے از سر نو طے نہیں کیں بلکہ یہ ساری سزائیں تورات کی بیان کردہ سزائیں ہیں، انبیاء کی عصمت کی توہین کی سزائیں تو آج بھی دنیا میں پڑھی جانے والی بائبل میں اسی طرح موجود ہیں۔[56] قرآن کریم نے بعض اصلاحات کے ساتھ توریت کی ان سزاؤں کے تسلسل کو باقی رکھا ہے۔ جبکہ دوسری بات یہ ہے کہ تجربہ اور مشاہدہ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انسانی معاشرہ میں جرائم کا خاتمہ سخت سزاؤں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

آج سعودی عرب میں جرائم کی شرح کم ترین سطح بیان کی جاتی ہے۔حتیٰ کہ حرمین شریفین میں مختلف رنگوں، نسلوں اور ثقافتوں کے لوگ ہر وقت جمع رہنے کے باوجود جرائم کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وجہ حرمین شریفین کے تقدس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے عدالتی نظام کی وہ سخت سزائیں بھی ہیں جو اسلام کی شرعی سزائیں ہیں۔ [57]

عصمت انبیاء کے تین پہلو

عصمت انبیاء کے مسئلے میں تین صورتیں بنتی ہیں ۔ایک مسئلہ یہ ہے کہ کیا کسی نبی کی عصمت کی توہین اور اس کے مذہبی جذبات کی تحقیر، بالخصوص حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی عصمت و شان میں گستاخی بھی اظہار رائے کے حق کا حصہ ہے؟ دوسرا یہ کہ کیا یہ جرم اس قدر سنگین ہے کہ اس پر موت کی سزا نافذ کی جائے؟ اور تیسرا یہ کہ اگر ایسے مجرم کو موت کی سزا ہی دی جائے گی تو اس سزا کا نفاذ کون کرے گا اور اس کی اتھارٹی کس کو حاصل ہے؟

جہاں تک پہلے صورت کی بات ہے اس پر پوری دنیا میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ توہین و تحقیر کا رائے کی آزادی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ کم و بیش ہر ملک میں شہریوں کو یہ حق قانوناً حاصل ہے کہ وہ ہتک عزت اور ازالۂ حیثیت عرفی کی صورت میں عدالت سے رجوع کریں، اور ایسا کرنے والوں کو قانون کے مطابق سزا دلوائیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی بھی ملک کے عام شہری کی عزت نفس اور حیثیت عرفی کو قانونی تحفظ حاصل ہے اور اسے مجروح کرنے والا قانون کی نظر میں مجرم تصور کیا جاتا ہے[58] تو مذاہب کے پیشواؤں اور خاص طور پر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے لیے یہ حق کیوں تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ اور مذہب اور مذہبی راہ نماؤں کی توہین و تحقیر کو رائے کی آزادی کے ساتھ نتھی کر کے جرائم کی فہرست سے نکال کر حقوق کی فہرست میں کیسے شامل کیا جا رہا ہے؟

اہل مغرب کے ہاں ایک تو عملاً اظہار رائے کی آزادی کی کوئی حدود نہیں، چنانچہ چغل خوری، عیب جوئی، تمسخر، مذاق وغیرہ وہاں معمول ہے۔ دوسرا آزادی اظہار رائے کے نام پر جو چیزیں وہ خود پسند نہیں کرتے مسلمانوں سے ان کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مثلاً ہولوکاسٹ پر بات کرنا، دونوں جنگ عظیم میں ہلاک ہونے والے لوگوں پر بات کرنا، امریکہ کے قومی پرچم ، قومی پرندے کی قید ، عدلیہ اور دیگر بعض دفاعی اداروں پر بات کرنا جرم سمجھاجاتاہے۔[59]

برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق نومبر ۲۰۱۶ء میں سپین کی سپریم کورٹ نے آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کردار کشی کو جرم قرار دیا۔سپریم کورٹ نےایک تنظیم ایٹا کی ایک ممبر کی طرف سےدہشت گردی کی جنگ میں جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء کی دل آزاری پر مبنی ۱۳ ٹویٹ میسج کرنے والے ایک ۲۱ سالہ لڑکی کوڈیڑھ سال تک قید اور سات سال تک کسی سرکاری نوکری کے لئے نااہل قرار دے دیا۔ Cassandra Vera نامی لڑکی نے فیس بک اور ٹویٹر پرپاپولر پارٹی کے ایٹا کے ہاتھوں قتل ہونے والے رہنما کی اہل خانہ کی دل آزاری کی تھی۔لڑکی کے وکلاء صفائی نے مؤقف دیا تھا کہ اس نے آزادی اظہار رائے کے قانون کے مطابق ایسا کیا جس پر سپین کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا :

" آزادی اظہار رائے کی آزادی کسی بھی فرد کو سوشل میڈیا پرکسی کی کردار کشی کی اجازت نہیں دیتی"۔[60]

دوسرے مسئلہ پر پورا عالم اسلام متفق ہے۔اور دیگر مذاہب بھی اس کی تائید کرتے ہیں کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین و تحقیر سنگین ترین جرم ہے۔ [61]اس لیے کہ اس میں مذہبی پیشواؤں کی توہین کے ساتھ ساتھ ان کے کروڑوں پیروکاروں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور امن عامہ کو خطرے میں ڈالنے کے جرائم بھی شامل ہو جاتے ہیں، جس سے اس جرم کی سنگینی میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے اور قرآن و سنت، بائبل اور وید سمیت تمام مسلمہ مذہبی کتابوں میں اس کی سزا موت ہی بیان کی گئی ہے۔ کیونکہ اس سے کم سزا میں نہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے احترام کے تقاضے پورے ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کے کروڑوں پیروکاروں کے مذہبی جذبات کی جائز حد تک تسکین ہو پاتی ہے۔

مگر جہاں تک تیسری بات ہے اس پر توجہ کی ضرورت ہے کہ موت کی سزا کی اتھارٹی کس کو حاصل ہے؟ اس پر گفتگو اور مکالمہ کی گنجائش موجود ہے اور قانون کو ہاتھ میں لینے سے معاشرہ میں جس لا قانونیت اور افراتفری کو فروغ ملتا ہے اس پر قابو پانے اور اسے روکنے کے لیے باہمی بحث و مباحثہ کے ساتھ تمام طبقات کو متفقہ رائے اور موقف اختیار کرنا چاہیے۔ جبکہ بہتر تو یہ ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے اور از خود کاروائی کر ڈالنے کی بجائے قانون کا راستہ اختیار کرنے اور توہین و تحقیر کا سنگین جرم کرنے والوں سے قانون کے ذریعے نمٹنے کے طرز عمل کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ کیونکہ اسی صورت میں ان مفاسد سے بچا جا سکتا ہےجو اس بارے میں مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس لیے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا ارتکاب کرنے والوں کے عمل کی مذمت کرنی چاہیے۔ مگر توہین و تحقیر کے عمل کو بھی اسی طرح سنگین جرم قرار دے کر اس کی مذمت کرنا ضروری ہے۔

اس لیے ضرورت ہے کہ ارباب علم و دانش مغربی قیادت کے اس داخلی فکری تضاد کو واضح کریں اور مغربی لامذہبیت کی اس انتہا پسندی اور فکری دہشت گردی کو اجاگر کریں جو اس نے مذہب کے معاشرتی کردار کو دنیا سے ختم کر دینے کی مہم میں مسلسل ناکامی کے بعد جھنجھلاہٹ میں اختیار کر رکھی ہے۔ اور جو اس بات کی علامت ہے کہ مغرب کی لامذہبیت انسانی معاشرہ میں اپنی پسپائی کو یقینی سمجھتے ہوئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔

آزادی اظہار رائےسے متعلق بہترین تبصرہ کرتے ہوئےڈاکٹر ماریہ اسابیل رقمطراز ہیں"

"Upholding the dignity and respect of all peoples is fundamental to regional, national and international peace. Any expression which violates peace, respect and dignity of any person, race, religious group or any minority group in general etc. cannot be included in the definition of freedom of expression. Freedom of expression is a blessing but its abuse can carry serious consequences...Intellectual writing is supposed to eliminate ‘confusion’ instead of ‘creating confusion’ and similarly, freedom of speech is supposed to create a congenial and friendly environment instead of creating controversy and hurt entire communities’ feelings. Being insensitive to the cultural and/or religious idiosyncrasy of the members of other cultures and religions should not be sheltered under the umbrella of freedom of expression. The language utilized to address various communities, cultures, races, etc. needs to be carefully selected so as to not transgress on the rights of others".[62]

"تمام افراد کے وقار اور احترام کو باقی رکھنا علاقائی،قومی اور عالمی امن کے لئے بنیادی ضرورت ہے۔کوئی بھی ایسا اظہار خیال جو کسی فرد ،نسل،مذہبی طبقے یا کسی بھی اکثریتی طبقے کی عزت و وقار اور امن کو خلل پہنچائے،یہ کبھی بھی آزادی اظہار رائے کی تعریف میں شامل نہیں کیا جا سکتا ۔اظہار رائے کی آزادی ایک نعمت ہے لیکن اس کے ذریعے ناجائز فائد ہ اٹھاتے ہوئے گالی دینا انتہائی سنجیدہ مسائل پیدا کر سکتا ہے۔عالمانہ تحریر سے توقع کی جاتی ہے کہ فکری الجھنیں ختم ہوں نہ کہ اس کے برعکس وہ مزید پیدا ہوں۔بالکل اسی طرح آزادی اظہار رائےسے ایک خوشگوار اور دوستانہ ماحول پیدا کرنے کی توقع کی جاتی ہےبجائے اس کہ مزید تنازعات پیدا ہوں اور دوسرے طبقات کی دل آزاری ہو۔دیگرافراد کے مذاہب اور ثقافتوں سے بے حس ہو کر مخصوص طرز بیان کو اختیار کرکے آزادی اظہار رائے کی چھتری تلے پناہ حاصل نہیں کرنی چاہئے۔ مختلف معاشروں، ثقافتوں، نسلوں، وغیرہ سے خطاب کرنے کے لئے ایسی زبان کا استعمال ضروری ہے جو دوسروں کے حقوق پامال نہ کرے۔"

مولانا زاہد الراشدی لکھتے ہیں:

"یہ بات مغرب کے بہت سے دانش ور عرصے سے کہتے آ رہے ہیں اور آج بھی یہ بات سب سے زیادہ زور دے کر کہی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کو اپنے اندر اختلاف اور تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے۔ میرا مغرب کے ان دانش وروں سے سوال ہے کہ اختلاف وتنقید اور اہانت وتحقیر میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟ اور کیا اختلاف وتنقید کے نام پر ہم سے تمسخر واستہزا اور توہین وتحقیر کا حق تو نہیں مانگا جا رہا؟ جہاں تک اختلاف اور تنقید کا تعلق ہے، اس کو مسلمانوں سے زیادہ کس نے برداشت کیا ہے؟ مغرب کے مستشرقین صدیوں سے اسلام، قرآن کریم، جناب نبی اکرم ﷺاور مسلمانوں کی تہذیب وکلچر کے خلاف مسلسل لکھتے آ رہے ہیں اور مغرب کی یونیورسٹیوں کی لائبریریاں اس قسم کی کتابوں اور مقالات سے بھری پڑی ہیں۔ مسلمانوں نے ہمیشہ ان کا جواب مقالات اور کتابوں کی صورت میں دلائل کے ساتھ دیا ہے اور اب بھی دلیل اور متانت کے ساتھ کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دلیل اور متانت کے ساتھ ہی دیا جا رہا ہے، لیکن تمسخر واستہزا اور توہین وتحقیر کو کسی دور میں بھی برداشت نہیں کیا گیا۔ وہ آج بھی برداشت نہیں ہے اور آئندہ بھی کبھی برداشت نہیں ہوگا۔"[63]

حاصل کلام

آزادئ اظہار حقوق انسانی کے منشور کی ایک شق ہے۔ "حقوق انسانی" کا منشور مغربی طاقتوں کا ترتیب دیا ہوا ہے، چنانچہ اس پس منظر میں مغرب کے تصور انسان، اس کے تصورِخیر و شر اور مقصد حیات کو جاننا ضروری ہے۔حقوق انسانی جس کا منشور ایسے ماحول میں ترتیب دیا گیا جب ہیومنزم کی تحریک پورے مغرب میں سرایت کر چکی تھی اور مغرب عمومی طور پر مذہب کی جکڑبندیوں سے آزاد ہو کر انسان پرستی کی طرف مائل ہو چکا تھا، یعنی انسان خود اپنی پرستش میں مگن اور زیادہ سے زیادہ لذت کے حصول میں منہمک ہو چکا تھا۔ حقوق انسانی کے منشور کی تمام شقیں انسان ہی کے گرد گھومتی ہیں جو اس کی الوہیت کے امکانات کو واضح کرتی ہیں۔ اس منشور کے سرسری مطالعے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ آزادی، مساوات اور ترقی۔۔۔ یہ تینوں اس کی حقیقی روح ہیں۔ آج مغرب مسلمانوں کے احتجاج کو سمجھنے سے اس لیے قاصر ہے کہ اس کے ہاں آزادی کا تصور خالص مادی نوعیت کاہے۔ مغرب میں اس تصور کا مطلب مذہبیت ، روحانیت، عقیدۂ آخرت، حصولِ رضائے الٰہی کی خواہش کی پامالی کے سوا کچھ نہیں۔ مغرب اس بات میں راسخ ہو چکا ہے کہ کسی بھی معاشرے کے قیام اور وجود کے لئے آزادی بنیادی قدر ہے۔ آزادی کی آڑ میں مغرب کا پہلا ہدف مذہب اور مقدس شخصیات ہوتی ہیں، اس لئے کہ لبرل اور سیکولر معاشرے میں ایسے فرد کی گنجائش نہیں جو مذہبی پابندیوں میں جکڑا ہو اور اپنے تعقل و وجدان کی بنیاد پر زندگی تعمیر کرنے کی بجائے کسی شخصیت کو اپنا رہبر، مقتدیٰ اور پیشوا تسلیم کرتا ہو۔

"آزادیٔ رائے" کے حوالہ سے یہ بات پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ کم و بیش ہر ملک میں اس کی نظریاتی اساس، اس کے دستور اور قومی شخصیات کی توہین کا کسی کو حق نہیں دیا جاتا، حتیٰ کہ قومی شعائر مثلاً پرچم وغیرہ کی حرمت کے قانونی تحفظ کا اہتمام کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ فوج کی وردی، پولیس کی وردی اور ان کے سٹارز وغیرہ کو بھی قومی شعبوں کی علامات قرار دے کر ان کی توہین کو جرم سمجھا جاتا ہے، اسی طرح اسلام بھی چونکہ ایک اسلامی ریاست کی دستوری اساس ہے، اس لیے اسلام کے شعائر اور دینی علامات کی توہین بھی جرم ہے، اور انسانی حقوق کے نام سے ان شعائر اور علامات کی بے حرمتی کا جواز فراہم کرنا انصاف اور عقل کے خلاف بات ہے۔چنانچہ اہل مغرب سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اختلاف اور توہین کے فرق کو تسلیم کیا جائے اور جس طرح کسی بھی ملک کی قومی شخصیات اور قومی علامات کی حرمت و عزت کو قانونی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے اسی طرح حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی عصمت، مسلمہ مذاہب اور ان کی علامات و شعائر کے قانونی تحفظ کا حق تسلیم کیا جائے۔

معروضی صورتحال یہ ہے کہ عالم اسلام میں مغرب کے اس فلسفہ و فکر کو مسلسل اور مضبوط مزاحمت کا سامنا ہے کہ انسانی سماج کو مذہب کے اثرات اور کردار سے آزاد کرایا جائے۔ دنیا بھر کے مسلمان نہ صرف اسلام کے معاشرتی کردار پر ایمان رکھتے ہیں بلکہ اپنے اپنے معاشروں میں اسلامی احکام و قوانین کی عملداری کے خواہاں ہیں اور دنیائے اسلام میں سینکڑوں حلقے اس کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ جوں جوں مسلم ممالک میں نفاذ اسلام کی تحریکات آگے بڑھ رہی ہیں مغرب اور اس کے ہمنوا حلقوں کی جھنجھلاہٹ میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور انہیں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ انسانی سماج کو مذہبی روایات و احکام کی عملداری سے الگ کر دینے کا فلسفہ متوقع کامیابی حاصل نہیں کر پا رہا۔ایک عام شہری کی عزت کو تو دنیا کے ہر ملک میں قانونی تحفظ حاصل ہے اور ہتک عزت کے ساتھ ساتھ ازالۂ حیثیت عرفی کے معاملہ میں دنیا کے ہر ملک کا قانون اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور دادرسی کا حق دیتا ہے مگر مذہبی شخصیات اور دنیا کی مسلمہ دینی ہستیوں کے لیے یہ حق تسلیم کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ بلکہ جن ممالک میں مذہب اور مقدس شخصیات کی حرمت و ناموس کے تحفظ کے قوانین موجود ہیں انہیں آزادیٔ رائے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے کر ان سے ایسے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ مغربی فلسفہ و دانش کی اصل الجھن یہ ہے کہ اگر معاشرہ میں مذہب، مذہبی شخصیات اور مذہبی اقدار و روایات کا احترام اور ان کی تعلیمات موجود ہیں تو لوگوں کو ان کی پیروی سے روکا نہیں جا سکتا اور نہ ہی سماج میں ان کے کردار کو غیر مؤثر بنایا جا سکتا ہے جو مغربی فکر و فلسفہ کا بنیادی مقصد ہے، چنانچہ اس کے لیے اخلاقیات کے تمام دائروں کو پامال کرتے ہوئے انسانی حقوق اور آزادیٔ رائے کے مصنوعی نعرہ کی آڑ میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام تک کی عصمت اورحرمت و عزت کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حالانکہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ کسی بھی شخصیت کی توہین و استخفاف نہ تو آزادیٔ رائے کا تقاضہ ہے اور نہ ہی اسے کسی بھی درجہ میں انسانی حقوق کی فہرست میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.


حوالہ جات

  1. حوالہ جات(References) Levy, L.W, Blasphemy a Verbal Offense against Sacred from Moses to Salman Rushdie, (New York: University of North Carolina Press., 1995), 4
  2. Henderson, J. B, The Construction of Orthodoxy and Heresy :Neo Confucian, Islamic, Jewish, and Early Christian Patterns, (Albany: State University of New York Press.,1998), 12
  3. Gail, Bossenga. "Policing Public Opinion in the French Revolution: The Culture of Calumny and the Problem of Free Speech (review), Journal of Interdisciplinary History, vol. 41, no. 1 (2010): 136-137
  4. احمد الزواوی،ترتیب القاموس المحیط علیٰ طریقۃ المصباح المنیر و اساس البلاغۃ، طبع عیسیٰ البابی الحلبی و شرکاہ،ص: 615 Aḥmad al Zawawi, Tartīb al Qamuws al Muḥīt ‘ala ṭarīqah al Misbāḥ al Munīr wa Asās al Balaghah, (‘Eīsa al Bābī al ḥalabi wa Shuraka’uhu), 615
  5. احمد رضا،معجم متن اللغۃ،دار المکتبۃ الحیاۃ،بیروت،2:59 Aḥmad Raḍa, Mu’jam Matn al Lughah, (Beirut: Dār al Maktabah al Ḥayāt), 2:59
  6. موسوعۃ السیاسیہ،طبعۃ المٔوسسہ العربیہ،للدراسات والنشر،بیروت، ۱۹۸۱م، 2:232 Mosuw’ah al Siyasiyyah, (Beirut: Al Mu’assasah al ‘Arabiyyah lil Dirasāt wal Nashar, 1981), 2:232
  7. ایضا ً،2:247 Ibid., 2:247
  8. سورۃ البقرۃ:256 Surah Al Baqarah: 256
  9. سورۃ البقرۃ:286 Surah Al Baqarah: 286
  10. سورۃ آل عمران: 159 Surah Aal ‘Imrān: 159
  11. سورۃ قٰ:18 Surah Qāf: 18
  12. سورۃ الحجرات:11 Surah al Ḥujarāt: 11
  13. سورۃ آل عمران:35 Surah Aal ‘Imrān: 35
  14. القرطبی،محمد بن احمد،الجامع للاحکام القرآن،دارالکتاب العربی،القاہرۃ،1387ہجری،4:66 Al Qurtabi, Muḥammad bin Aḥmad, Al Jami’ li Aḥkām al Quran, (Cairo: D ā r al Kitab al ‘Arabi, 1387), 4:66
  15. اسماعیل بن کثیر،تفسیر القرآن العظیم،1:259 Isma’il bin Kathiyr, Tafsīr al Qur’ān al ‘Aẓīm, 1:259
  16. محمد بن علی الشوکانی،فتح القدیر،دارالمعرفہ،بیروت،1:334 Al Shawkani, Muḥammad bin ‘Ali, Fatḥ al Qadīr, (Beirut: Dār al Ma’rifah), 1:334
  17. بخاري، الصحيح، کتاب الفتن، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم : سترون بعدي أمورا تنکرونها، رقم الحدیث : 6647 Al Bukharī, Al Jami’ al Ṣaḥiḥ, Ḥadith
    1. 6647
  18. سنن ابن ماجہ،کتاب الفتن،باب امر بالمعروف و نہی عن المنکر،رقم الحدیث 4006 Sunan Ibn e Majah, Ḥadith
    1. 4006
  19. سورۃ الفرقان: 73 Surah al Furqān, 73
  20. سورۃآل عمران: 190,191 Surah Aal ‘Imrān: 190,191
  21. مسلم، کتاب الفضائل، باب وجوب امتثال ما قال لہ شرعا،رقم الحديث 4484 Ṣaḥiḥ Muslim, Ḥadith
    1. 4484
  22. سورۃ آل عمران: 159 Surah Aal ‘Imrān: 159
  23. سورۃ الشوریٰ: 38 Surah al Shuwrah, 38
  24. أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل بن هلال بن أسد الشيباني ، مسند الإمام أحمد بن حنبل ،مؤسسة الرسالة، الترکی، 5:441 Aḥmad bin Ḥambal, Musnad, (Turkey: Mua’aaasah al Risalah), 5:441
  25. صحيح البخاري، كتاب فضائل الصحابة، باب مناقب زيد بن حارثة مولى النبي صلى الله عليه وسلم رقم الحدیث 3524 Al Bukhari, Al Jami’ al Ṣaḥiḥ, Ḥadith
    1. 3524
  26. ایضاً ، كتاب الطلاق، باب شفاعة النبي صلى الله عليه وسلم في زوج بريرة،رقم الحدیث 4979 Ibid., Ḥadith
    1. 4979
  27. علي بن عمر الدارقطني، سنن الدارقطني، دار المؤيد، 1422، 3:419، ابن رجب الحنبلي، جامع العلوم والحكم، مؤسسة الرسالة، 1422، 2:150 Aldār Quṭani, ‘Ali bin ‘Umar, Sunan, (Dār al Muw’ayyad, 1422), 3:419, Al Ḥambali , Ibn Rajab, Jami’ al ‘Uluwm wal Ḥikam, (Muw’ssasah al Risalah, 1422), 2:150
  28. صفی الرحمان مبارکپوری،الرحیق المختوم،دارالہلال بیروت،1427ہجری،1:184 Mubarakpuri, Ṣ afi al Raḥmān, Al Raḥīq al Makhtuwm, (Beirut: Dār al Hilāl, 1427), 1:148
  29. زاہد الراشدی،مغرب توہین رسالت اور امت مسلمہ،ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ، جلد 17 - شمارہ 10 - اکتوبر 2006ء، ص: 2 Al Rashidi, Zahid, Maghrib me Tawhiyn e Risālat awr Ummat e Muslimah, Monthly Al Shariy’ah, Gujranwala, Vol. : 17, Issue:10 (October 2006): 2
  30. https://en.wikipedia.org/wiki/Freedom_of_speech Retrieved on April 19, 2017
  31. Nigel Warburton, Free Speech: A Very Short Introduction, (Oxford, UK: Oxford University Press, 2009), 3
  32. Zeid Ra’ad Al Hussein, Universal Declaration of Human Rights, (Geneva 10, Switzerland: Office of the United Nations High Commissioner for Human Rights Regional Office for Europe (OHCHR)), 38
  33. Ibid .40
  34. کرامت حسین نیازی،اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور،ترمیم شدہ ۲۰۱۲،قومی اسمبلی اسلام آباد، پاکستان، ص: 3 Niazi, Karamat Ḥusain, Islami Jamhiriyyah Pakistan ka Dastuwr, Tarmiym Shuda 2012, National Assembly of Pakistan, 3
  35. Dan Edelstein, The Enlightenment: A Genealogy, (University of Chicago Press, 2010), 24
  36. Roger Trigg, Equality, Freedom, and Religion, (Oxford,UK: 2012): 85, John Charvet, A Critique of Freedom and Equality, (Cambridge University Press): 81
  37. حسن عسکری،جدیدیت،ادارہ فروغ اسلام لاہور،1997ء، ص: 89,90 Ḥasan ‘Askari, Jadidiyat, (Lahore: Idarah Farawgh e Islam, 1997), 89,90
  38. Roger Trigg, Equality, Freedom, and Religion, 11
  39. حسن عسکری،جدیدیت، ص: 107-138 Ḥasan ‘Askari, Jadidiyat, 107-138
  40. Bob Fredericks and Sophia Rosenbaum, Charlie Hebdo vows to publish more Muhammad cartoons, January 12, 2015, New York Post (Retrieved on April 23,2017) http://nypost.com/2015/01/12/charlie-hebdo-vows-to-publish-more-mohammed-cartoons/
  41. سوامی پنڈچمپو متی ایم -اے،ناشر مہاشےراجپال،1927، لاہور۔ Sawami, Pind Champo Mati, (Lahore: Mashay Rājpāl, 1927)
  42. معروف ہے کہ راج پال اس کا مصنف تھا لیکن یہ درست نہیں بلکہ اس کا مصنف ایک آریہ سماجی پنڈت چموپتی ایم اے یا کرشن پرشاد پرتاب ہے جس نے1927ء میں اسے پہلی بار شائع کیا۔مسلمانوں نے اس کتاب پر اپنا سخت ردعمل دکھایا، مسلمانوں کی شکایت پر اس کتاب کے پبلشر راج پال کو گرفتار کرلیا گیا لیکن پانچ سال بعد اپریل 1929ء کو اسے رہا کردیا گیا ۔کئی ناکام حملوں کے بعد ، بالآخرغازی علم دین نام کے ایک نوجوان نے 6 اپریل 1929ءکو راج پال کو خنجر سے قتل کردیا۔
  43. امرتسری،ابو الوفا ثناء اللہ،مقدس رسول ﷺ بجواب رنگیلا رسول، مکتبہ الفہیم،مؤناتھ بھنجن،یو پی،انڈیا Amritsari, Abu al Wafa Sanaullah, Muqaddas Rasuwl Bajawab Rangiyla Rasuwl, (UP India: Maktabah al Fahīm)
  44. Sir William Muir, The Life of Mahomet: From Original Sources, London: Smith, Elder, & Co, Waterloo place, (1878)
  45. Asloub Ansari, SIR SYED AHMED KHAN (A Centenary Tribute ), New Delhi: Adam Publishers & Distributors, (2001): 198
  46. Bernard Lewis, From Babel to Dragomans: Interpreting the Middle East, Oxford University Press, ( 2004): 105
  47. Arshin Adib-Moghaddam, The International Politics of the Persian Gulf: A Cultural Genealogy, Routledge, London, (2006): 26
  48. Andrew T. Kenyon, Comparative Defamation and Privacy Law, Cambridge University Press, 2016, p331
  49. Andrew Sparrow, The Law of Virtual Worlds and Internet Social Networks, CRC Press, Boca Raton, Florida, USA, 2016. p 195
  50. Klaus Dahmann, No Room for Holocaust Denial in Germany, Holocaust denial illegal (Retrieved on May 15, 2017) http://www.dw.com/en/no-room-for-holocaust-denial-in-germany/a-1833619
  51. زاہد الراشدی،مغرب میں توہین رسالت اور امت مسلمہ، ص: 2 Al Rashidi, Zahid, Maghrib me Tawhiyn e Risālat awr Ummat e Muslimah, 2
  52. Zeid Ra’ad Al Hussein, Universal Declaration of Human Rights, p.12
  53. Lawton, D. Blasphemy, London: Harvest Wheat Sheaf, (1993): 14
  54. Pelton, R. W., Baking Recipes of Our Founding Fathers, Pennsylvania: Infinity Publishers, (2004): 81)
  55. Saeed. A.,& Saeed, H., Freedom of Religion, Apostasy and Islam, Burlington: Ash gate Publishing Company, (2004):38
  56. احبار دوم 16:24، استثناء12:13-17 Leviticus, 16:24, Deuteronomy, 12:13,17
  57. Frank E. Vogel, Islamic Law and the Legal System of Saudí: Studies of Saudi Arabia, BRILL, Leiden, Netherlands, (2000): 247
  58. Andrew Sparrow, The Law of Virtual Worlds and Internet Social Networks, CRC Press, Boca Raton, Florida, USA, 205
  59. Joel Pollak, See No Evil: 19 Hard Truths the Left Can't Handle, Regnery Publishing, Washington, D.C., United States, 66,67 Erik Bleich, The Freedom to Be Racist?: How the United States and Europe Struggle to Preserve Freedom and Combat Racism, Oxford University Press, 44,45
  60. Spanish woman given jail term for tweeting jokes about Franco-era assassination, (Retrieved on April 18, 2017), https://www.theguardian.com
  61. Rudolph Peters, Crime and Punishment in Islamic Law, Cambridge University Press, (2006):180
  62. Maria Isabel Maldonado, The Metalinguistic Dilemma of Freedom of Expression: Its Limits, Journal of Political Studies, Vol. 23, Issue - 1 (2016): 320 (She is Director External Linkages, Incharge Institute of Languages University of the Punjab, Lahore. Pakistan.)
  63. زاہد الراشدی، مغرب میں توہین رسالت اور امت مسلمہ، ص: 2 Al Rashidi, Zahid, Maghrib me Tawhiyn e Risālat awr Ummat e Muslimah, 2