ابن ہمام اور ان کی کتاب فتح القدیر کا تعارف و منہج

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ مجلہ علوم اسلامیہ و دینیہ
عنوان ابن ہمام اور ان کی کتاب فتح القدیر کا تعارف و منہج
انگریزی عنوان
Ibn e Hummam and his Book Fath ul Qadeer: Introduction and Methodology
مصنف Hussain، Mumtaz، Ata ur Rahman
جلد 2
شمارہ 1
سال 2017
صفحات 115-121
ڈی او آئی
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Fath Ul Qadeer, Ibn E Hamam, Hedaya, Fiqh, Usool E Fiqh
شکاگو 16 Hussain، Mumtaz، Ata ur Rahman۔ "ابن ہمام اور ان کی کتاب فتح القدیر کا تعارف و منہج۔" مجلہ علوم اسلامیہ و دینیہ 2, شمارہ۔ 1 (2017)۔
مصحف ابن مسعود کی تاریخی حیثیت کے بارے میں ابن وراق کی آراء کا تنقیدی جائزہ
استحسان کی اصلیت و ماہیت کے بارے میں مستشرقین کی آراء کا تنقیدی جائزہ
اندلس میں مسلمانوں کے ادوار حکومت کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ
تحقیقات حدیث میں پروفیسر جوزف شاخت کی طرز تحقیق کا تنقیدی جائزہ
اسلام اور یہودیت کا قانون حلال و حرام: مشترکات اور مختلفات کا جا ئزہ
اسلامی نظام قضاء اور ثبو ت دعو ی کے احکام: تحقیقی جائزہ
مذاہب عالم میں زنا کی سزاؤں اور متعلقہ تعلیمات کا تقابلی جائزہ
چائنہ نمک کی حلت و حرمت کا تجزیاتی مطالعہ
علامہ ابن جوزی کی تفسیر "زاد المسیر فی علم التفسیر" کا منہج اور خصوصیات
ابن ہمام اور ان کی کتاب فتح القدیر کا تعارف و منہج
غریب الحدیث کی مشہور کتابوں کے مناہج تألیف کا تحقیقی جائزہ
توریہ کے اصطلاحی مفاہیم اور اس کی شرعی حیثیت
Muslim-Christian Dialogue from Pakistani Perspective: Evaluation of the Contribution of Christian Study Center
Right of Progeny and Cairo Declaration of Human Rights in Islam
Modernism and Postmodernism
العلامة المفكر البروفسير عون الشريف قاسم السوداني: حياته وفكره ومؤلفاته
من تأثيرات العلامة إقبال في نجيب الكيلاني من خلال كتابه إقبال الشاعر الثائر
ثنائية الفصل والوصل في البحث البلاغي
اختلاف الدلالات للكلمات المشتركة بين العربية والأردية وأثره في تعليم اللغة العربية
الأخلاق الإسلامية في شعر عبد الله بن الـمبارك
صلة تأويل النّص بأصول التخاطب في العربية

Abstract

Fath ul Qadeer is one of the most comprehensive and well organized works in the Hanafi School of thought. Full name of this book is Fath ul Qadeer Lel ‘Aajez el Faqeer. It is a commentary and illustration of Hedaya, the most popular and authentic book in Islamic jurisprudence and in Islamic schools of thought. It is compendium of Islamic knowledge with a discussion on various subjects that are from various types of fiqh and Usool-e-fiqh. Author, Ibn e Hamam used a critical explanation of words from lexical to technical, their grammatical analysis, connection on the basis of grammatical and syntax regulations and illustration of differences between synonyms. The methodology of this book is unique as it provide unprejudiced and impartial in analysis of various topics under discussion and the rational and logical arguments given by the author in support of his view make this book a significant work and a remarkable milestone in fiqh collections. The paper concludes with a comprehensive analysis of the aspects dealt with in terms of methodology and its characteristics.


تمہید

قران مجید اورسنت رسول ؐ کے نصوص کو روزمرہ پیش آنے والے واقعات اورحقائق پر منطبق کرنا اور ان کے مطابق زندگی کو سنوارنے کانام علم فقہ ہے،علماء نےہردورمیں لوگوں کی آسانی کی خاطر قران وحدیث سے احکام کااستنباط کرکےان کو تفصیل سےالگ کتابی شکل میں مرتب کیا،ان کتابوں میں فتح القدیر کو نمایاں مقام حاصل ہے،فتح القدیر حافظ ابن ھمام کی تالیف ہے۔

ابن ہمامؒ کا تعارف و علمی خدمات

حافظ ابن ہمامؒ کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے محمد بن عبدالواحد بن عبدالحمیدبن مسعود بن حمیدالدین بن سعد الدین،سیواسی،سکندری، قاہری، حنفی۔[1]سیواسی بلاد روم کے سیواس نامی شہر کی طرف نسبت ہے جو آج کل آسیا صغریٰ کے نام سے جانا جاتاہے،[2] آپؒ کے والدِماجد سیواس کے قاضی تھے۔ پھر قاہرہ ہجرت کرکے کچھ مدت وہاں قیام کیا۔۔ پھرا سکندریہ چلےگئے۔ جہاں قاضی مالکیؒ کی بیٹی سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ ان کے بطن سے ۷۹۰ھ / ۱۳۸۸ء بمقام اسکندریہ ایک بیٹے کی ولادت ہوئی جو بعد میں حافظ ابن ہمام ؒکے نام سے مشہور ہوئے،[3] اصل وطن سیواس کی نسبت کی وجہ سے سیواسیؔ اور جائے ولادت کی طرف نسبت کی وجہ سےاسکندری مشہور ہوئے۔ چونکہ قاہرہ میں ان کے والدنے قیام کیا تھا۔ اس لئے بسا اوقات قاہری نسبت سے بھی یاد کئے جاتے ہیں۔ ہمام الدین آپ ؒکے والد کالقب تھا۔ لہذا آپؒ اس کے ساتھ بھی مشہور ہوئے۔آپؒ کا لقب کمال الدین اور کنیت ابن ہمام ہے۔آپؒ کنیت اور لقب دونوں کے ساتھ مشہور ہیں،[4]

مولاناعبدالحیی لکھنویؒ (م:۱۳۰۴ھ)آپؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:کان اماما نظارا فروعیااصولیا محدثا مفسرا حافظا نحویا متکلما منطقیا[5] آپؒ ایک پیشوا ، عمیق نظرسے پرکھنے والے، اصول و فروع میں ماہر، تفسیر ، حدیث، حفظ، منطق، نحو اور علمِ کلام کے میدان کے شہسوار تھے۔زرکلی نے ان الفاظ کے ساتھ آپؒ کاتذکرہ کیاہے:امام من علماء الحنفيةعارف باصول الدیانات[6] آپؒ علماء احناف میں بڑے درجے کے امام تھے۔ دین کے بنیادی اصولوں ، تفسیر، میراث ، حساب، لغت ، موسیقی اورمنطق کے عالم تھے۔ زین الدین ابن نجیم مصریؒ نے آپؒ کو اہل ترجیح میں شمار کیا ہے۔[7] محمدامین بن عابدین الشامیؒ نے آپؒ کو اہل اجتہاد میں شمار کیا ہے۔[8]

حافظ ابن ہمامؒ نے جمعہ کے دن سات رمضان۸۶۱ھ /۱۴۵۷ء کو قاہرہ میں وفات پائی۔ [9]

آپؒ نے بہت سی مفید کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک ایسے علمی مباحث و فوائد پرمشتمل ہے جو دوسری کتابوں میں بہت کم ملتے ہیں۔ ان تصنیفات میں فتح القدیر ایک معرکۃ الآراء تصنیف ہے۔ یہ دراصل برہان الدین ابو الحسن علی بن ابی بکر مرغینانی کی کتاب ھدایہ کی شرح ہے۔ ھدایہ تحقیق اورعلم کی گہرائی میں اپنی نظیر نہیں رکھتی ،ہرمسئلہ پر ائمہ اربعہ کے اقوال ،ہرقول کی دلیل ایک نقلی دلیل اور ایک عقلی دلیل بیان کی،آخر میں امام ابوحینفہؒ کی ایک دلیل نقلی ایک دلیل عقلی بیان کرنے کے بعدائمہ مجتہدین کے دالائل کاجواب دیتے ہیں اس طرح چندسطروں میں دالائل کاذخیرہ سامنے آجاتاہے۔یہ اسلوب تحریر دوسری کتابوں میں نہیں ملتا۔اس منفرد حسن ترتیب و اندازبیان کی وجہ سے آٹھ صدیوں کی طویل مدت گزرنے کے بعد اس کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ گزشتہ نصف صدی میں اس کی ضرورت میں مزیداضافہ ہواہےبالخصوص ان مسلم ممالک میں جہاں نفاذاسلام کا عمل جاری ہے اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

فتح القدیر کامنہج اوراس کے چیدہ چیدہ خصوصیات

سند کا اہتمام :

فقہ کی کتابوں میں عام طور پرسند کا اہتمام نہیں ہوتا۔فتح القدیر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں سند کو بیان کیاگیاہے۔ حافظ ابن ہمامؒ نے ھدایہ کی سند یوں بیان کی ہے کہ میں نے اپنے استادِ محترم سراج الدین عمر بن علی کنانی کو پوری کتاب پڑھ کر سنائی جو کہ قاری ھدایہ کے لقب سے مشہور تھے۔انہوں نے اپنے استاد محترم علاؤالدین سرامی کو پڑھ کرسنائی،انہوں نے جلال الدین شارح کتاب سے،انہوں نے اپنے شیخ علاؤالدین بن عبدالعزیز بخاری سے،انہوں نے استاد العلماء حافظ الدین نسفی سے،انہوں نے شمس الدین محمد بن علی بن عبدالستار بن محمدکردری سے،انہوں نے خود صاحبِ ھدایہ شیخ الاسلام برھان الدین علی بن ابی بکر مرغینانی سے پڑھی۔[10]

ربط کا بیان :

فتح القدیر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ایک بحث کا دوسرے بحث کے ساتھ ربط بیان کیا جاتا ہے۔ مثلاً "باب صلوة الجمعة "کا" باب صلوة المسافر "کے ساتھ یوں ربط بیان کیاگیاہے۔ پہلے باب میں عارض کی وجہ سے تنصیف(نصف یعنی چار کی جگہ دورکعت پڑھنا) نماز کا بیان تھا ۔ اس میں بھی تنصیف نماز کا بیان ہے مگر یہاں صرف ایک خاص یعنی صرف ظہر کی نماز میں تنصیف ہے اور سابقہ باب میں ہر رباعی نماز میں تنصیف کا ذکر تھا۔وہ عام ہے یہ خاص ہے۔ اس لئے اس کو مقدم کیاکیونکہ عام کو مقدم کرنا بھی ایک وجہ ہے گویا کہ تخصیص بعد التعمیم کے قبیل سے ہے۔[11]

لغوی،اصطلاحی معنی اور ان کے درمیان مناسبت کا بیان :

مصنف اکثر لغوی معنی بیان کرتے ہیں پھر اصطلاحی معنی اور ان دونوں کے درمیان مناسبت بھی بیان کرتے ہیں۔ استشہاد کے طور پر آیت،حدیث، شعر اور مشہور مقولہ جا بجا پیش کرتے ہیں۔مثلاًزکوٰۃ کےلغوی حوالے سےبحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں: زکوٰۃلغت میں طہارت کو کہتے ہیں۔استشہادکے طور پر آیت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں : قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکیّٰ[12]جس نے پاکی حاصل کی وہی درحقیقت کامیاب ہوا۔دوسرا معنی نمؤ(بڑھوتری)ہے۔جب کھیتی بڑھنے لگے عرب کہتے ہیں :زکی الزرع اینماکھیتی بڑھنےلگی۔

زکوٰۃ کےصطلاحی معنی کے حوالے سے لکھتے ہیں! اصطلاحِ شرع میں زکوۃٰ عین وہ مال ہے جو اللہ کے حق کے طور پر ادا کیا جاتا ہے۔ارشاد خداوندی ہے: وَاٰتُواالزَّکوة [13]اور زکوٰۃ دیاکرو۔ فقہاء کے عرف میں فعلِ ایتاء (ادائیگی) ہی زکوٰۃ ہے کیونکہ کہ وہ اس دَین و عطا اور ادائیگی کو وجوب سے موصوف کرتے ہیں اور احکامِ شرعیہ کا تعلق بھی مکلف کے فعل کے ساتھ ہوتا ہے اشیاء کے ساتھ نہیں ۔ دونوں معنوں میں مناسبت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ زکوٰۃ کو زکوٰۃ کہنے کی وجہ واضح ہے اس لئے کہ زکوٰۃ سے مال میں بڑھوتری ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ دونوں جہانوں میں عطا کرتے ہیں۔ نفس اللہ کی مخالفت اور بخل کی بیماری سے پاک ہو جاتا ہے اور فقرا ءکو ان کا حق مل جانے سے مال بھی غیرکے حق سے پاک ہو جاتاہے۔[14]

مفردات کی تشریح :

حافظ ابن ہمامؒ بوقت ضرورت مفردات کی تشریح اور تلفظ کی تصحیح بھی کرتے ہیں۔مثلاً حضرت انسؓ کی روایت میں ہے کہ میں نے رسول پاک کو وضو کرتے ہوئے دیکھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر قطری پگڑھی تھی۔ آپ نے اس کے نیچے ہاتھ داخل کرکے سرکے آگے کی جانب مسح کیا۔[15]قطریہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:یہ لفظ قاف کے کسرے اور طا کے سکون کے ساتھ ہے۔ یہ سرخ رنگ کا لباس ہوتاہے جس پر خاص قسم کا نقش و نگار ہوتاہے۔ یہ قطر نامی جگہ کی طرف منسوب ہے جو عمان اور سیف البحرکے درمیان ہے۔ یہ ازہری کا قول ہے۔دوسرے اہل لغت کا قول ہے کہ یہ ایک قسم کی چادر ہے جس میں سرخی ہوتی ہے اور خاص قسم کے نشانات ہوتے ہیں۔ ان چادروں میں کچھ نہ کچھ کھردرا پن ضرور ہوتا ہے۔[16]

صرفی تحقیق :

اس شرح میں اگر ایک طرف آپ کو فقہ کا عظیم ذخیرہ ملے گا تو دوسری طرف دوسرے علوم و فنون کے انوکھے شہ پارےبھی ملیں گے۔ مثلا:تہمت کی صرفی تحقیق کے بارے میں لکھا ہے التهمةحرکات کے ساتھ وهمت الشئی سے ماخوذ ہےوهم يهم وهماباب ضرب سے ہے۔ ای و قع فی خلدی میرے دل میں (یہ بات)بیٹھ گئی۔دل میں جو خیال بیٹھ جاتاہے وہ وہم کہلاتا ہے۔ اتهمت فلانا بکذااصل میں اوتهمت تھا جیسے اتکلت اوتکلت تھا اعتمدت کے معنی میں ہے،میں نے اعتماد کیا، ما قبل کسرے کی وجہ سے واو کو یاکر دیااوریاکو تاسے تبدیل کرکے باب افتعال کا تا میں ادغام کردیااتهمت اوراتکلت بن گیا[17]

نحوی تحقیق :

جہاں نحوی قواعدکے لحاظ سے اشکال پیدا ہوتاہے وہاں مصنفؒ جواب دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً:فرائض الصلوۃستةاس عبارت پر اشکال یہ ہے کہ فرائض جمع ہے فریضة کی۔ یہ معدود ہے اور ستة عدد ہے۔ تین سے لے کر نو تک عدد کا قاعدہ یہ ہے کہ عدد تذکیر و تأنیث میں معدود کے خلاف ہوگا۔اب یہاں عدد بھی مؤنث ہے اور معدود بھی مؤنث ہے۔جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر فرائض کو فروض کى تاویل میں لے لیں تو اشکال وارد نہیں ہوگا کیونکہ فروض فرض کی جمع ہے۔صاحبِ عنایہ کہتے ہیں کہ بعض نسخوں میں ستة کی بجائے ست ہے سو تاویل کی ضرورت ہی نہیں۔[18]

قریب المعنی الفاظ میں فرق :

قریب المعنی الفاظ میں فرق بھی جابجا بیان کرتے ہیں۔ مثلا صفت اور وصف میں کیا فرق ہے؟صفت اور وصف اہلِ لغت کے یہاں ہم معنی اور مترادف ہیں لیکن متکلمین فرق کرتے ہیں۔ موصوف میں موجود صفت کے ذکر کرنے کا نام وصف ہے اور صفت وہی ہے جو موصوف میں موجود ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں۔صاحبِ عنایہ کہتے ہیں کہ واصف کے کلام کو وصف کہتے ہیں اور موصوف کی ذات کے ساتھ قائم معنی کو صفت کہتے ہیں۔[19]

منطقی استدلال :

حافظ ابن ہمامؒ کی طرح قاضی زادہ کو اللہ تعالیٰ نے ہر فن میں مہارت سے نوازا تھا۔اگر کہیں منطقی انداز میں بات کرنے کی ضرورت آئی ہے توکھل کر بات کی ہے۔ مثلاً ھدایہ کی عبارت ہے:الملاهى کلهاحرام لہو ولعب کے تمام آلات حرام ہیں۔دوسری طرف ارشادِ خداوندی ہے:اعلموا انماالحیاةالدنیالعب ولهو[20] جان لوکہ دنیوی زندگی لہو ولعب ہے اور لہو لعب بشمول تمام انواع کے حرام ہیں۔حالانکہ یہ خلافِ حقیقت ہے کیونکہ دنیوی زندگی میں کئی امور مطلوب ہیں۔ مثلاً حدیث میں صراحت کے ساتھ تین باتوں کی اجازت ہے گھوڑ سواری ، تیراندازی اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ شغل رکھنا۔[21]

اس کا منطقی انداز میں جواب یہ ہے کہ یہ شکل ثالث ہے۔ اس کا نتیجہ سالبہ جزئیہ آئے گا یعنی بعض لہو لعب حرام نہیں ہے اب اشکال ہی ختم ہوگیا۔منطقی انداز میں تفصیلی گفت و شنید کے بعدسادہ الفاظ میں بھی اس اشکال کا حل پیش کیا ہے کہ دنیوی زندگی لھو و لعب ہے۔یعنی کھیل کود اور تماشے کی طرح جلد ختم ہونے والی ہے گویا کہ بلیغ انداز میں دنیاکی فنا بیان کی گئی ہے۔[22]

اہم اصطلاحات کی تعریف کرنا :

جا بجا مصنفؒ بعض اصطلاحی الفاظ کی تعریف کرتے ہیں۔مثلاً سنت کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :ما واظب عليهالنبیﷺمعتركه احیانًاسنت ہر وہ عمل ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کبھار ترک کرنے کے باوجود ہمیشگی اور دوام فرمایا ہو۔

قرآن و سنت سے استدلال :

فقہاء عام طور پر قرآن و سنت سے دلیل پیش کرتے ہیں۔ تاہم فتح القدیر کو اس باب میں امتیازی مقام حاصل ہے جس کا اندازہ کتاب کے مطالعہ سے ہوتاہے۔ مثلاً "باب الماء الذی یجوزبه الوضوء" کے تحت سورہ فرقان کی درج ذیل آیت سے استدلال کیاہے:وَأَنزَلْنَا مِنْ السَّمَاءِ مَاءً طَهُوراً۔[23]ہم نے آسمان سے صا ف ستھرا پانی برسایا۔

اسی باب میں سورہ زمر کی اس آیت سے استدلال کیاہےأَلَمْ تَرَى أَنَّ اللهَ أَنْزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الأَرْض۔[24]

اسی باب میں سورہ انفال کی اس آیت سے استدلال کیاہےوَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ[25] 

اسی باب میں درج ذیل احادیث سے استدلال کیاہے:الماء طهور لا ینجسه شيئ[26] فقالﷺ هو طهور ماءه والحل میتته[27] پھر ان احادیث پر اسی باب میں تفصیلی بحث کی ہے۔[28]

تحقیق کا عادلانہ انداز :

ابن ہمامؒ اگر چہ حنفی عالم ہیں لیکن آپؒ کی تحریر مذ ہبی تعصب سے پاک ہے۔ فتح القدیر کے محقق نے آپؒ کی اس عادلانہ خصلت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

"وقد سلك في أکثر تصانیفه لاسیما في فتح القدیر مسلك الانصاف مجتنبا التعصب المذهبي والاعتساف إلا ما شاء اللّه"۔[29]

آپ ؒ نے اپنی اکثر تصانیف میں عمومًا اور فتح القدیر میں خصوصًا انصاف کی راہ کو اپنایا اور مذ ہبی تعصب سے اجتناب کیا ہے۔

مسامحات ھدایہ پر تنبیہ کرنا :

حافظ ابن ہمامؒ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ تسامحات ھدایہ پر تنبیہ کرتے ہیں۔ مثلاً صاحب ھدایہ فرماتے ہیں کہ میت کو قبر میں رکھنے والا بسم الله وعلی ملةرسول اللّٰه پڑھے،اس لئے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو دجانہؓ کو قبر میں رکھتے وقت یہ الفاظ کہے تھے۔حافظ ابن ہمامؒ کہتے ہیں کہ یہاں صاحبِ ھدایہ سے کوتاہی اور تسامح ہوا ہے ، اس لئے کہ ابودجانہؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یمامہ میں وفات پائی تھی بلکہ یہ ذوالبجادینؓ تھے۔ پھر آگے ان الفاظ کے دہرانے پر صحیح احادیث پیش کی ہیں۔[30]

اہم مباحث کی تفصیل :

جو بحث آپؒ کے دل کو لگی ، آپؒ نے اس کو اہم سمجھا اور اس کو خوب شرح و بسط اورتفصیل کے ساتھ بیان کیا۔مثلاً حجۃ الوداع کے خطبہ کو پوری تفصیل سے لکھاہے۔[31]

احکام کی حکمت بیان کرنا :

بسا اوقات احکام کی حکمتیں بیان کرتے ہیں۔ مثلاً روزے کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سے نفس کی شہوت ٹوٹ جاتی ہے۔ مشہور مقولہ ہے کہ جب نفس بھوکا ہو تو اعضاء سیر ہوتے ہیں اور جب نفس سیر ہواعضاء بھوکے ہو جاتے ہیں۔ روزہ رکھنے سے دل کا میل صاف ہوتا ہے۔ فقرا کے ساتھ ہمدردی پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالی کی رحمتوں کے نزول کا سبب بنتا ہے۔[32]

راجح اور مرجوح اقوال کی نشان دہی کرنا :

اگر ایک مسئلہ میں متعدد آراء ہوں توآپؒ ان میں ایک رائے کو ترجیح دیتے ہیں۔مثلاًصاحبِ قدوری کہتے ہیں کہ وضو میں نیت ، استیعاب اور ترتیب مستحب ہے۔ صاحبِ ھدایہ نے تینوں کو سنت کہا ہے۔حافظ ابن ہمامؒ نے صاحبِ ھدایہ کے قول کو ترجیح دیتے ہوئے لکھا ہے کہ صاحبِ قدوری کا قول روایت و درایت دونوں کے خلاف ہے کیوں کہ مشائخ وعلماءکی تصریحات سے ان کا سنت ہونا ثابت ہوتا ہے۔[33]

نتائج

اس پوری علمی بحث سے یہ نتیجہ اخذ کیاجاسکتاہے کہ ’’ابن ھمام ‘‘کا ’’فتح القدیر‘‘میں اندازبیان کچھ حوالوں سے دیگر فقہاء سےمختلف ہیں۔جس تحقیقی اندازکومؤلف نے اختیار کیاہے اس کومختصراً درج ذیل نکات کے تحت بیان کیاجاسکتاہے۔:* ابن ھمام نے کتاب کی ابتداءمیں باقاعدہ سند صاحب ھدایہ تک ذکرکیاہے۔

  • مباحث کاایک دوسرے کے ساتھ ربط کااہتمام فرمایاہے۔
  • ہربحث کے ابتداءمیں لغوی اوراصطلاحی تحقیق اورمفردات کی تشریح اورتلفظ کی تصحیح کرتے ہیں۔قریب المعنی الفاظ میں فرق بھی جابجابیان کرتے ہیں۔
  • ہرجگہ پر قرآن وسنت سے استدلال پیش کی ہے اوراگرکہی منطقی اندازمیں بات کرنے کی ضرورت آئی توآپ نے منطقی استدلال سے بھی استشہاد کیاہے۔
  • مسائل کے بیان میں آپ کاانداز محققانہ ہے۔حنفی مسلک سے تعلق کے باوجودآپ نے مذہبی تعصب سے اپنے آپ کومحفوظ رکھاہے۔
  • صاحب ھدایہ کامقام ملحوظِ خاطر رکھنے کے باوجودآپ نے اُن کے مسامحات اورکوتاہیوں پرکھل کے گرفت کی ہے۔
  • اکثر مقامات پر بیان احکام کی ضمن میں شرعی احکام پر عقل کی ترازوں سے بحث کرکے اس کی حکمتیں ذکرفرماتے ہیں۔
  • ایک مسئلہ میں اگر فقہاء کی متعددآراءہوں توان پرعالمانہ بحث کرکے راجح ومرجوح اقوال کی نشان دہی کرتے ہیں۔


حوالہ جات

  1. حواشی ومصادر زرکلی ، خیرالدین م: ۱۳۹۶ھ،ألاعلام،ج۶، ص ۲۵۵ ، دارالعلم للملائین ، بیروت ، ۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴ء
  2. الحربی ، احمدبن عوض اللہ ، الماتریدیۃدراسۃً و تقویماً ص ۱۲۴۔۱۲۵ ، مکتبۃالریاض ، سن طباعت نامعلوم
  3. السخاوی ،شمس الدین محمدبن عبدالرحمن م:۹۰۲ھ ، الضوء اللامع لاھل قرن التاسع ،ج ۱ ، ص ۶۵، مکتبۃ القدسی ، القاہرہ،۱۳۵۴ھ /۱۹۳۵ء
  4. لکھنوی،ابوالحسنات محمد عبد الحئی بن عبد الحلیم م: ۱۲۹۲ھ ، الفوائد ا لبہیۃ فی تراجم الحنفیہ،ص۱۸۱،۲۳۴،مطبعۃ السعادۃ، القاہرہ ، ۱۳۹۳ھ/۱۹۷۳ء
  5. الفوائدالبہیہ فی تراجم الحنفیۃ ، ص ۱۸۰،۱۸۱
  6. الاعلام ، ج۱۴ ، ص ۴۸
  7. ابن نجیم،زین الدین ابن ابراھیم م:۹۷۰ھ ،البحرالرائق،ج۲،ص۲۷،مکتبہ ماجدیہ ،سن طباعت نامعلوم
  8. ابن عابدین الشامی ،محمد امین بن عمر م:۱۲۵۲ھ ،ردالمحتار ، ج ۲ ، ص ۳۸۸ ،دارالمعرفت ،بیروت ، لبنان ،۱۴۲۰ھ/۲۰۰۰ء
  9. الضوء اللامع لاھل قرن التاسع ،ج ۱ ، ص ۶۵
  10. فتح القدیر،ج۱،ص۸
  11. ایضاً،ج۲،ص۴۷
  12. الاعلیٰ:۱۴
  13. البقرہ:۳۰
  14. فتح القدیر،ج۲،ص۱۶۳
  15. ابوداؤد،سلیمان بن اشعث بن اسحاق السجستانی م:۲۷۵ھ،سنن ابوداؤد رقم:۴۷۱،مطبعہ مصطفی البابی ،القاہرہ،۱۳۷۱ھ/۱۹۵۲ء
  16. فتح القدیر،ج۱،ص۱۴
  17. ایضاً،ج۷،ص۱۶۹
  18. عنایہ علی ھامش الفتح،البابرتی،اکمل الدین م:۷۸۶ھ،عنایہ علی ھامش الھدایہ،ج۱،ص۲۸۰،مکتبہ رشیدیہ سرکئ روڈکوئٹہ،سن طباعت نامعلوم
  19. عنایہ علی ھامش الفتح،ج۱،ص۲۸۰
  20. الحدید:۲۰
  21. فتح القدیر،ج۱،ص۲۸۰
  22. قاضی زادہ،شمس الدین احمدبن قورد م:۹۸۸ھ،نتائج الافکار فی کشف الرموز والاسرار تکملہ فتح القدیر، ج۱۰،ص۱۶۔۱۷،مکتبہ رشیدیہ سرکئی روڈکوئٹہ،سن طباعت نامعلوم
  23. الفرقان:۴۸
  24. الزمر:۲۱
  25. الانفال:۱۱
  26. سنن ابوداؤد رقم:۶۶
  27. ابوداؤد،رقم:۸۳
  28. فتح القدیر،ج۱،ص۸۴
  29. مقدمۃ التحقیق لفتح القدیر،ص،د
  30. ایضاً،ج۲،ص۱۴۶
  31. ایضاً،ج۳،ص۴۱۰
  32. ایضاً،ج۲،ص۳۰۶
  33. ایضاً،ج۱،ص۳۳