اسلامی نظام قضاء اور ثبو ت دعو ی کے احکام: تحقیقی جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ مجلہ علوم اسلامیہ و دینیہ
عنوان اسلامی نظام قضاء اور ثبو ت دعو ی کے احکام: تحقیقی جائزہ
انگریزی عنوان
Islamic Judiciary and Disposition of Testimonial Evidence (Research Analysis)
مصنف Rashid، Aasia
جلد 2
شمارہ 1
سال 2017
صفحات 67-82
ڈی او آئی
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Islamic Judiciary, Shari‘ah, Islamic Jurisprudence, Oath, Evidence, Witness.
شکاگو 16 Rashid، Aasia۔ "اسلامی نظام قضاء اور ثبو ت دعو ی کے احکام: تحقیقی جائزہ۔" مجلہ علوم اسلامیہ و دینیہ 2, شمارہ۔ 1 (2017)۔
مصحف ابن مسعود کی تاریخی حیثیت کے بارے میں ابن وراق کی آراء کا تنقیدی جائزہ
استحسان کی اصلیت و ماہیت کے بارے میں مستشرقین کی آراء کا تنقیدی جائزہ
اندلس میں مسلمانوں کے ادوار حکومت کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ
تحقیقات حدیث میں پروفیسر جوزف شاخت کی طرز تحقیق کا تنقیدی جائزہ
اسلام اور یہودیت کا قانون حلال و حرام: مشترکات اور مختلفات کا جا ئزہ
اسلامی نظام قضاء اور ثبو ت دعو ی کے احکام: تحقیقی جائزہ
مذاہب عالم میں زنا کی سزاؤں اور متعلقہ تعلیمات کا تقابلی جائزہ
چائنہ نمک کی حلت و حرمت کا تجزیاتی مطالعہ
علامہ ابن جوزی کی تفسیر "زاد المسیر فی علم التفسیر" کا منہج اور خصوصیات
ابن ہمام اور ان کی کتاب فتح القدیر کا تعارف و منہج
غریب الحدیث کی مشہور کتابوں کے مناہج تألیف کا تحقیقی جائزہ
توریہ کے اصطلاحی مفاہیم اور اس کی شرعی حیثیت
Muslim-Christian Dialogue from Pakistani Perspective: Evaluation of the Contribution of Christian Study Center
Right of Progeny and Cairo Declaration of Human Rights in Islam
Modernism and Postmodernism
العلامة المفكر البروفسير عون الشريف قاسم السوداني: حياته وفكره ومؤلفاته
من تأثيرات العلامة إقبال في نجيب الكيلاني من خلال كتابه إقبال الشاعر الثائر
ثنائية الفصل والوصل في البحث البلاغي
اختلاف الدلالات للكلمات المشتركة بين العربية والأردية وأثره في تعليم اللغة العربية
الأخلاق الإسلامية في شعر عبد الله بن الـمبارك
صلة تأويل النّص بأصول التخاطب في العربية

Abstract

The establishment and implementation of justice is the primary responsibility of the Islamic state. In every Islamic society, the establishment of the systems of justice and police become an obligation and a necessity for the betterment of society and for the solution of the problems faced. The present research deals with the issue of Islamic system of judiciary highlighting its various components in the light of Shari‘ah. Oath, Evidence, Witness and various technical terms used in the dissemination of Ajustice are explained with evidences from Qur’┐n and Sunnah of the Holy Prophet (S.A.W). So this research concludes with the note that if the system of justice be strengthened; all the problems, in particular elimination of crimes can take place, and decisions can be given in the light of the laws and orders in the light of the Shari‘ah.

تمہید

کسی بھی اسلامی معاشر ے کی بقاءکا انحصار اس بات پر ہے کہ اس کے تمام عناصر کے تعلقات اور ربط و ضبط میں تواز ن اور اعتدال پایا جا ئے ۔یہ اصول پر معاشر ے ،ملک و ملت اور قو م کے لیے ہے۔اسلامی ریاست کی تشکیل میں بھی یہی اصول ہر قدم پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی اصول پر عمل کر کے دینوی و مادی تر قی ممکن ہے اور اسی کے ذر یعے اُخروی فلاح کا حصول ممکن ہو سکتا ہے۔ فطرت کے اس اُصول تواز ن کے تحت کا رو بار حیات چلا نے کے لیے اسلامی ریاست میں حکو متی سطح پر بعض ادارو ں کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ نظام عدل و قضا بھی انہی میں سے ایک ہے۔ اسلامی تعلیمات کی رُو سے عدل کا قیام و نفاذ اسلامی ریاست کی اولین ذمہ ذاری ہے اسی ذمہ داری کو پورا کر نے کے لیے نظام قضا اور عدلیہ کے ادارے کا قیام نا گزیر ہے۔

اِسلامی نظام قضاء کی حقیقت

اسلامی نظام قضاء کی حقیقت و نو عیت کی و ضا حت سے قبل عدل کے مفہو م سے آگاہی لا زمی ہے۔

عدل کا مفہوم

آئمہ لغت نے عدل کے معنی القضاء با لحق بیان کئے ہیں یعنی حق کے مطابق فیصلہ کرنا اور قسط کے معنی ہیں النصیب یعنی حصہ اور حق دو نوں کا حاصل مر اد ایک ہے یعنی حقدار کو اس کا حق دلانا۔[1] انصاف کا لغوی معنی کسی چیز کو دو بر ابر حصو ں میں تقسیم کر دینا مگر ہمارے ہاں یہ لفظ با لعموم عدل کے معنوں میں مستعمل ہے۔[2]

المفر دات القر آن میں مذکور ہے :

’’العدالة و المعادلة لفظ یقتضی معنی المساواة ،والقسط هو النصیب بالعدل کالنصف والنصفة‘‘[3]

عدل کے معنی یعنی فیصلہ بر ابر ی کی بنیاد پرکرنا اور قسط نصیب معنی حصہ کے ہیں عدل ہے کسی چیز کو بر ابر حصوں میں تقسیم کر نا۔

اہمیت ِعدل

قر آن کر یم میں لفظ عدل کے ساتھ(۱۷)آیات مو جودہیں اور لفظ قسط بمعنی انصاف کے ساتھ(۲۳)آیات میں عدل و انصاف کی اہمیت بیان ہو ئی ہے مثلاً ار شاد ربانی ہے:

"وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْل"[4]

’’اور جب بھی لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔‘‘

اسی طرح ارشاد باری تعالی ہے :’’ وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ‘‘ [5]

(اور اگر تو فیصلہ کر ے توفیصلہ کر ان کے در میان انصاف کے ساتھ)۔

امام ابن تیمیہ ؒ،سیاست شر عیہ میں لکھتے ہیں:

’’سیاست شر عیہ کی عمارت دو ستونوں پر قائم ہے ایک یہ کہ مناصب اور عہدے اہل تر ین لو گوں کو دینا اور دوسر ے عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا۔‘‘[6]

ثابت ہوا کہ عدل ایسی چیز ہے جس سے ز ندگی کے ہر مر حلے اور ہر مو ڑ پر دو چار ہو نا پڑتا ہے اور اگر کا ئنات کے نظم پر غور کیا جا ئے تو بات عیاں ہوتی ہے کہ عدل کا ئنات کی جان ہے۔

قضاء کا مفہوم

لفظ قضاء لغت میں قضیٰ یقضی ِسے مصدر کا صیغہ ہے۔اصل میں قضا ی تھا عر بی زبان کے ایک قا عد ے کے مطابق یا ء کو ہمزہ سے بدل دیا گیا ۔لغت کی کتاب میں اس لفظ کے متعدد معنی آئے ہیں۔ان سب میں جو مفہوم مشتر ک ہے وہ کسی چیز کے مکمل اور حتمی طور پر طے کر دینے یا ختم کر دینے کے ہیں ۔چنانچہ اس کے معنی ’’حکم دینے‘‘ کے بھی ہیں۔[7]

شرعی اصطلاح میں قضا سے مراد ہے:

’’قضا کے معنی ہیں لوگوں کے در میان حق کے مطابق فیصلہ کر نا اور اس قانون کے مطابق فیصلہ کر نا جو اﷲ نے نازل کیا ہے ۔‘‘[8]

ادب القاضی میں اصطلاحی تعر یف کی تفصیل اس طر ح سے ہے:

  1. مقدمات کا بنٹانا اور جھگڑوں کا ختم کر انا۔
  2. قضا سے مر اد وا جب العمل قر ار پانے کے لیے حکم شر عی سے آگاہ کر نا۔
  3. قضادو یا دو سے زیادہ متنازعہ فر یقوں کے مابین اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جھگڑا ختم کر ادینا[9]

بنیادی بات یہ ہے کہ قضا ایک محکم فر یضہ ہے۔اور ایک ایسی سنت ہے جس پر ہمیشہ عمل ہو تا ر ہا ہے۔فقہا کر ام نے اس ادار ے کی اہمیت کے پیش نظر اس کو فر ض ِکفا یہ قر ار دیا ہے۔

نظا مِ القضاء کی اہمیت از ر و ئے قر آن

قضاء ایک نہایت با عزت منصب ہے،اس کا احتر ام اور تعظیم کرنا فر ض ہے۔دین ِاسلام میں اس کام کی جواہمیت اور مقام و مر تبہ ہے اس سے واقفیت حاصل کر نی چا ہیے۔اسی منصب کی تکمیل کے لیے اﷲ تعالیٰ نے انبیاء کرام ؑ بھیجے۔عدل اﷲ تعالیٰ کی صفت ہے ۔اس کے اسماء الحسنی میں ایک اسم مبا رک بھی ہے۔ یعنی اﷲ تعالیٰ کی بات ، فیصلہ اور حکم تواز ن و تناسب کے منافی نہیں ہو تا ، وہ حق عدل ہے اور اس کی ذات پاک سے صادر ہو نے والی ہر شے حق و عدل ہے۔ارشا د باری تعالیٰ ہے:

’’وَاللَّهُ يَقْضِي بِالْحَقِّ ‘‘[10]

اور اﷲ حق کے ساتھ فیصلہ فر مائے گا۔

اس آیت مبا رکہ میں قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ کا انسانی اعمال کے بار ے میں فیصلہ کا بیان ہے کہ اس دن اﷲ تعالیٰ بے لاگ فیصلہ فر ما ئے گا۔جس میں کسی کی بھی حق تلفی نہیں کی جا ئے گی اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر نے کا حکم دیا۔

انبیاء کر ام ؑ میں سے فیصلہ کر نے کی بصیر ت حضرت دا ؤد ؑ اور حضرت سلیمان ؑ کو بخشی گئی ۔ار شاد خداو ندی ہے:

’’ يَادَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ ‘‘[11]

اے دا ؤد ؑ!ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ مقرر کر لیا ہے لہٰذا تم لو گوں کے در میان حق کےمطابق فیصلے کر و۔

’’ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُون‘‘[12]

اور جو شخص اﷲ کے نا زل کر دہ حکم کے مطابق فیصلہ اور حکو مت نہ کر ے تو ایسے ہی لوگ کا فر ہیں۔

قر آن میں قضا سے متعلق بے شمار آیات مو جود ہیں جن میں ایک مسلمان حاکم اور قاضی کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے ہدایات مو جود ہیں ۔جن پر عمل کر کے وہ اپنی انفر ادی اور اجتماعی زندگی کو اسلام کے مطابق آسانی سے گزار سکتے ہیں۔

قضاء از ر و ئے حدیث

انبیاء کر امؑ کی بعثت کا ایک اہم تر ین مقصد عدل و انصاف پر مبنی انسانی معاشر ہ کا قیا م ہوتا ہے۔اسی لیے اﷲ تعالیٰ کے آخری رسو ل حضرت محمد ﷺنے نہ صرف انسانوں میں اعتدال و میانہ روی قائم کر کے دکھائی بلکہ ایسی اصولی ہدایات بھی عطا فرمائیں جن پر عمل پیر ا ہو کر ساری کا ئنات اور انسانی معاشر وں میں تو ازن پیدا کر کے عدل کے تقا ضوں کو پو را کیا جا سکتا ہے۔ارشاد ہو تا ہے:

۱: ’’عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لاَ حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الحَقِّ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الحِكْمَةَ فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا ‘‘[13]

"رشک دو آدمیوں پر ہی کیا جا سکتا ہے ایک وہ شخص جیسے اﷲ نے مال دیا اور پھر وہ حق کے ر استے میں بے دریغ خر چ کرے اور دو سر ا وہ جیسے اﷲ نے حکمت دین کا علم دیا اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کر ے "۔

۲: ’’ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ‘‘[14]

"سات لو گوں کو اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن سائے میں رکھے گا، جس دن کو ئی سایہ نہ ہو گا ان میں ایک امام عادل بھی ہے۔

ظالم قاضی کے بارے میں ارشاد فر مایا :

۳: ’’ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ مَعَ القَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ، فَإِذَا جَارَ تَخَلَّى عَنْهُ وَلَزِمَهُ الشَّيْطَانُ ‘‘[15]

"حضور ﷺ نے فر مایا :اﷲ اس وقت تک قاضی کے ساتھ ر ہتا ہے جب تک وہ ظلم و زیادتی نہ کر ے اور جب ر اہ حق سے ہٹ جا ئے تو اﷲ بھی اس کی مدد سے ہٹ جاتا ہے اور شیطان اس کو آن پکڑتا ہے"۔

احادیث مبار کہ سے منصب ِ قضا کی اہمیت اس کے فضا ئل اور اس منصب کی ذمہ داری پوری نہ کر ے والے کے لیے عذاب الہٰی ہے اور ایک عادل و انصاف پر ست قاضی کے لیے اﷲ کے ہاں بلند در جہ ر کھا گیا ہے۔لوگوں کے در میان عدل و انصاف کر نا نیکی کے بہتر ین اور افضل تر ین کاموں میں سے ہے اور اخروی اجر کے اعلیٰ ترین در جات کا باعث ہے۔[16]

محکمۂ قضاء مملکت کے تمام شہر یوں کے حقوق کا محافظ ہے۔محکمۂ قضا معاملات کا فیصلہ کرنے میں حکم کی حیثیت رکھتا ہے۔وہ قانون کی تشر یح کر تا ہے قانو نی حکم دیتا ہے اور قانون کے مطابق ثابت شدہ حق کو ظا ہر کر تا ہے اس لیے اس کو ادار ہ عدلیہ کا نام بھی دیا جاتا ہے اور چو نکہ اس کو جز ا اور سز ا کا حق حاصل ہے اس لیے اس کا ایک نام صیغۂ جز اء بھی ہے۔[17]

ثبو ت دعویٰ کے احکام

دعویٰ کا مفہوم

لغوی اعتبار سے ’’ وہ قو ل جس سے انسان کسی شخص کے مقابلے میں اپنا حق ثابت کر ے۔ اقر ار اس کا عکس ہے۔یعنی اپنے خلاف کسی غیر کے حق کو ماننا ‘‘[18]

"مجلۃ الاحکام العدلیہ "میں دعویٰ کا مفہوم اس طر ح بیان ہوا ہے:

’’کسی شخص کا کسی دوسر ے آدمی سے حاکم کے سامنے اپنا حق طلب کرنا ‘‘[19]

اسی طر ح اس مقدمے کو بھی جو فیصلہ کے لیے کسی ثالث کے سامنے پیش کیا جا ئے دعویٰ کہتے ہیں۔

دعویٰ کے ار کان :

دعویٰ کے ار کان در ج ذیل ہیں۔

مدعی:جو طلب کر ے یا مقدمہ دائر کر نے والا مدعی ہے۔[20]

مدعی علیہ: جس سے حق طلب کیا جا ئے وہ مدعی علیہ ہے۔

مدعیٰ :مطالبہ کا مقصد مدعیٰ کہلاتا ہے۔

مدعی بہ:جس کے لیے زیادہ ر ائج نام ’’مدعی بہ‘‘ ہے ۔

یعنی مدعی وہ ہو تا ہے جس کی بات اثبات حق پر مشتمل ہے اور مدعی علیہ وہ ہو تا ہے جس کی بات نفی

پر مشتمل ہو۔[21]

دعوی ٰ کی صحت کی شر و ط

"مجلۃ الاحکام العدلیہ "میں صحت دعویٰ کی پندرہ شر ائط در ج کی گئی ہیں۔جس کا خلاصہ در ج ذیل ہے:

  1. مد عی اورمدعا علیہ دو نوں کا عاقل ہونا شر ط ہے۔
  2. مد عی علیہ کا معلوم و متعین ہونا شر ط ہے۔
  3. دعویٰ کے وقت فر یق مخالف کا مو جود ہو نا بھی شر ط ہے
  4. جس چیز کا دعویٰ کیا جائے وہ معلو م ہو،مجہول نہ ہو۔
  5. اگر مدعی بہ کو ئی منقول شے ہو اور عدالت میں مو جود ہو تو مدعی اس شے کی طر ف اشارہ کر کے یہ کہے یہ میر ی ہے۔
  6. اگر مدعی بہ مختلف جنس اور مختلف صفات کی چیزیں ہوں تو ان کی مجمو عی قیمت کا ذکر دعویٰ میں کا فی ہو گا۔[22]
  7. اگر مدعی بہ کو ئی جا ئیداد غیر منقو لہ ہو تو لا زم ہے کہ شہر ،قر یہ ،محلہ ،گلی اور حدود ار بعہ یا تین طرف کی حدود بیان کی جائیں۔
  8. اگر مدعی نے حدود تو صحیح بتائیں مگر ر قبہ بتانے میں غلطی کر جا ئے تو اس کے دعویٰ کی صحت پر یہ بات مانع نہ ہو گی۔
  9. اگر مدعی بہ کو کو ئی دین ہو تو لا زم ہے کہ دعویٰ میں اس کی جنس نو ع ،اس کی صفت اور اس کی مقدار بیان کی جا ئے۔
  10. اگر مدعی بہ کوئی مال ہو تو لا زم نہیں کہ وجہ ملکیت بیان کی جائے۔
  11. اقر ار کا حکم یہ ہے کہ وہ حق کا دعویٰ جس کا اقر ار کیا گیا ہے۔ظاہر ہو جا ئے۔
  12. مدعیٰ بہ (یعنی جس حق کا دعویٰ کیا جا ئے )قابل ثبوت ہو نا شر ط ہے۔
  13. کسی دعویٰ کے ثبوت پر غو ر کر نے کے لیے یہ شر ط ہے کہ مدعا علیہ ایسا ہو جیسے عدالت کو ئی حکم دے سکے یا جس کے ذمہ کچھ عا ئد کیا جا سکے۔[23]

اثباتِ دعوی کے شر عی طر یقے اور احکام

دعویٰ کا بارِ ثبو ت مدعی پر ہو تا ہے۔

’’ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ‘‘[24]

ثبو ت مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعا علیہ کے ذمہ ہے۔

اثبات دعو یٰ کے شر عی طر یقے چار ہیں۔ اور ان کی تر تیب اس طر ح ہے:

۱۔اقر ار (Admission)

۲۔شہادت (Evidence of eyes witness)

۳۔قسم /یمین)(Oath)حلف)

۴۔قر ائن(Circumstantial Evidence)

جب کو ئی مدّعی دعو یٰ دائر کر تا ہے تو مدّعا علیہ کو طلب کر کے اس سے پو چھا جا ئے اگر وہ مدّعی کے مطلوبہ حق کا اقرار کرے تو یہ اثبات دعویٰ کی بہتر ین صورت ہے۔اگر وہ انکار کرے تو مدّعی کے ذمہ لازمی ہے کہ وہ شہادتیں مہیا کر کے ثبوت بہم پہنچائے اگر شہادتوں سے قانونی نقاضے پورے ہو جا ئیں تو دعویٰ ثابت ہو جا ئے گا اور فیصلہ مدعی کے حق میں ہو جا ئے گا۔اگر مدعی اس سلسلہ میں نا کام ر ہا تو پھر تیسری صورت مدعا علیہ پر قسم ہے۔اگر وہ قسم اٹھا لے کہ مدعی کا دعو یٰ بے بنیاد ہے تو مقدمہ خار ج ہو جائے گا۔اثباتِ دعوی کے شر عی طر یقوں کی تفصیل در ج ذیل ہے۔

اقر ار

اقر ارسے مر اد کہ کو ئی شخص اپنے جر م کے ار تکاب کا خود ہی اقر ار کر ے ،اقر ار میں(Confession) اور (Admission) دونوں شا مل ہوتےہیں۔ اقر ار کا ثبوت قر آن سے ثابت ہے:

’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ‘‘ [25]

اے ایمان والو! انصاف پر قا ئم ر ہو اور خدا کے لیے سچی گواہی دو خواہ گواہی کی زد تمہاری اپنی ذات پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔

اسلام نے اقر ار کو اول در جہ دیا ہے۔اور اقر ار کے بعد اسلام میں کسی تا ئید ی ثبوت کی ضر ورت باقی نہیں رہتی ، اس لیے اثبات دعویٰ کے لیے سب سے قوی دلیل اقر ار ہے اور یہ اقر ار در حقیقت مدعا علیہ کی اپنے خلاف گواہی ہو تی ہے۔

مدعا علیہ کے اقر ار کی صورتیں

مدعا علیہ کے اقرار کی دو صورتیں ہیں:

حقوق العباد میں اقر ار : اس اقر ار سے رجو ع نہیں ہو سکتا مثلاً ایک مدعا علیہ یہ اقر ار کر لیتا ہے کہ میں نے مدعی کا اتنا قر ضہ دینا ہے تو اب اس اقرار سے پھر نہیں سکتا۔

حقوق اﷲ میں اقر ار:یعنی ایسے جر ائم جن میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے سزا مقرر ہے۔ایسی صورت میں اگر مجر م اقر ار کے بعد انکار کرے تو اس کا یہ انکار جمہور علما ء کے نزدیک معتبر ہے اور اس سے حد شر عیہ ٹل جا ئے گی ،کیو نکہ اس انکار کے بعد کئی طر ح کے شکوک پیدا ہو سکتے ہیں۔[26]

حضورﷺ نے اس بارے میں ارشاد فرمایا :

’’ ادْرَءُوا الحُدُودَ عَنِ المُسْلِمِينَ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنْ كَانَ لَهُ مَخْرَجٌ فَخَلُّوا سَبِيلَهُ‘‘[27]

ادنی شبہ کی بنا پر مسلمانوں سے حدود کو سا قط کر دیا کرو

اقرار اور شہادت میں فرق

اقرار کا اثر صرف اقرار کرنے والے تک محدود ہوتا ہے یعنی اقرار کا اثر صرف ایک شخص پر پڑتا ہے۔ بخلاف شہادت کے کہ وہ غیر پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ [28]مثلاً کہ چند افراد پر قرض کا وعویٰ کیاگیا ہے۔ الگ دو نے تو اس قرض کا اقرار کر لیا مگر باقی نے اقرار نہیں کیا تو بعض کا اقرار ان کی اپنی ذات تک محدود رہے گا لیکن جب مدعی اپنے ثبوت دعویٰ میں گواہ پیش کرتا ہے تو اس کا اثر تمام مدعا علیہ پر ہو گا۔[29]

صحت اقرار کی شرائط

  1. مدعی علیہ عاقل اور بالغ ہو۔ اس پر کسی قسم کا جبر نہ کیا جائے۔ارشاد رسو لﷺ ہے:

’’رُفِع َالقَلَمُ عَن ثَلاَثِ الصَّبِیُّ والمجنون والمُکْره‘‘[30]

تین قسم کے لوگوں کی بات کا اعتبار نہیں بچہ، مجنون یا پاگل اور جو مجبور ہو

لہذا ایسا اقرار جو ملزم دباؤ میں آ کر کر رہا ہے ایسے اقرار کی کوئی اہمیت نہیں۔

  1. جب مقّر کے اقرار میں جانبداری کا شبہ ہو تو ایسا اقرار معتبر نہیں ہو گا۔ اگر کوئی شخص موت کے قریب کسی رشتہ دار کو کچھ دینے کا اقرار کرتا ہے۔ جس کا دوسروں کو علم نہیں تو اس میں یہ شبہ ہے کہ شاید وہ اس کو مالی فائدہ پہنچانا چاہتا ہو۔ اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا:’’ لاَ وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ ‘‘ [31](وارث کے لئے و صیت نہیں)

دیوانی مقدمات میں ایک دفعہ کا اقرار کا فی ہے لیکن شدید جر ائم میں احتیاط یہ ہے کہ جتنی شہادتیں در کار ہوں اتنی دفعہ مجر م سے اقر ار لیا جائے۔

شہادت اور اُس کے احکام

’’عربی لغت کے اعتبار سے لفظ شہادت یعنی گواہی جس کو انگریزی زبان میں Evidenceکہا جاتا ہے۔ (ش،ہ،د) کے مادہ پر مبنی ہے۔ لغت میں اس ماد ے کے تحت مختلف معانی بیان ہوئے ہیں۔ مجلس میں حاضر ہونا، معائنہ کرنا، دیکھنا، کسی کوگواہ بنانا، گواہی دینے کے لیے کہنا۔ [32]نیز شاھدبمعنی گواہ شہادۃ سے ماخوذ ہے اور اسم فاعل مذکرکا صیغہ ہے ۔اسلامی شر یعت کی اصطلاح میں شہادۃ کا لفظ خالص قانونی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے شہادت اس قطعی اور فیصلہ کن بیان کا نام ہے جو قانونی عدالت میں حاضر ہو کر کسی اپنے معاملے کے متعلق دیا جاتا ہے۔ ‘‘[33]

شہادت کے ارکان

شہادت کے ضمن میں چار اصطلاحات کی ضرورت کثرت سے پیش آتی ہے:

  1. جو گواہی دے، وہ شاہد ہے۔
  2. جس کے موافق گواہی دے ،وہ مشہودلہُ ہے
  3. جس کے خلاف گواہی دے، وہ مشہودعلیہ ہے۔
  4. جس چیز کی شہادت دی جائے ،وہ مشہود بہ ہے۔[34]

گواہی دینے کا حکم

اسلام کے قانون میں گواہی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اسلامی قانون دنیا کے تمام نظام ہائے قوانین میں اس اعتبار سے منفرد ہے کہ اس نے ہر جرم یا واقعے کو ثابت کرنے کے لیے کم از کم تعدادگواہان کا تعین کر دیا ہے۔اسلام میں گواہی کی اہمیت کے پیش نظر گواہ کے اوصاف بھی متعین ہیں کہ گواہ کوکن اوصاف کا حامل ہونا چاہے۔ چنانچہ گواہی کی بنیادی شرط یہ ہے کہ گواہی دینے والا عادل ہواور فسق وفجور کے لیے مشہور نہ ہو۔[35]

کسی شخص کے جائز حق کو ثابت کرنے کے عندالطلب گواہی دینا بہت ضروری ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آَثِمٌ قَلْبُهُ‘‘[36]

اور گواہی کو چھپاؤ نہیں اور جو چھپاتا ہے اس کا دل گنہگار ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ شہادت کو چھپانا شہادت نہ دینے سے بھی بڑا گناہ ہے۔ جو شخص عدالت میں چلا تو جاتا ہے اور سب کچھ جانتے ہوئے حقیقت حال کو ظاہر نہیں کرتا وہ اس شخص سے زیادہ مجرم ہے جو گواہی دیتا ہی نہیں۔ اس لیے حضور ﷺ نے کتمان شہادت کو جھوٹی شہادت کے برابر قرار دیا ہے۔

جھو ٹی گواہی کی مذمت

اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کی ایک صفت یہ بھی فر مائی ہے:

’’ وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ‘‘ [37](وہ لو گ جھو ٹی گواہی نہیں دیتے)

جھوٹے گو اہ کے متعلق آپ ﷺ نے ار شاد فر مایا :

’’ لَنْ تَزُولَ قَدَمُ شَاهِدِ الزُّورِ حَتَّى يُوجِبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ ‘‘[38]

قیامت کے دن چھو ٹے گواہ کے قدم کہیں ٹک نہ سکیں گے ۔حتٰی کہ اﷲ تعالی اس کے لیے دوزخ واجب کردے گا۔

گواہی کی صحت کی شر ائط

  1. گواہ مسلمان ہو:بالخصوص ایسے معاملات میں جن کا تعلق اﷲ سے ہے۔عہد نبوی ﷺ میں ایک اعر ابی ر رمضان المبارک کے نئے چاند کی گواہی دینے آیا۔آپ ﷺ نے پو چھا:

’’ أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟» قَالَ: نَعَمْ، فَنَادَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ صُومُوا‘‘[39]

اس نے کہا : ہاں ، پھر آپ ﷺ نے فر مایا ’’ کیا تم ،اشهد ان محمد رسول اللہ کی گواہی دیتے ہو ،‘‘اعرابی نے کہا ہاں ۔اس پر آپ ﷺ نے اس کی گواہی قبول فر مائی۔

  1. گواہ کا عادل ہونا شر ط ہے: ارشاد خداوندی ہے :

’’ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ ‘‘ [40](اور مسلمانوں میں دو صاحب عدل گواہ بنالو)

اور عادل وہ شخص ہوتا ہے جس کی خوبیاں اس کی بر ائیوں پر غالب ہوں۔[41]

  1. کسی خبر متواتر کے خلاف قا ئم کردہ دلیل قابل قبول نہ ہو گی ۔
  2. شہادت کے لیے یہ شر ط ہے کہ شہادت دینے کی و جہ سے کسی مضرت کا دفع کرنا یا کسی ذاتی منفعت کا حصول نہ ہو۔
  3. شہادت کے لیے یہ بھی شر ط ہے کہ شا ہد اور مشہود علیہ کے در میان کو ئی دنیاوی عداوت نہ ہو اور دنیاوی عدا وت کی تعریف عر ف عام کے بمو جب ہو گی۔
  4. کو ئی شخص خود ہی شا ہد اور خود ہی مدعی نہیں ہو سکتا ۔[42]
  5. جو گواہ سے عدالت میں جھو ٹی گواہی دے چکا ہو۔اس کی گواہی بھی مردود ہو گی۔

درج ذیل تین قسم کے افراد کی گواہی بھی قابل قبول نہیں:

’’ لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ، وَلَا زَانٍ وَلَا زَانِيَةٍ، وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ‘‘[43]

خائن ،خائنہ ،زانی ،زانیہ اور اس شخص کی بھی شہادت قبول نہیں جو اپنے بھائی سے دشمنی ر کھتا ہو

8) حواس: یعنی گواہ عقل و بصارت ر کھتا ہو جو کچھ دیکھے یا سُنے اسے سمجھنے کی اہلیت ر کھتا ہو۔ارشاد ربانی ہے:

’’مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ‘‘[44](جو حق کے ساتھ شہادت دے جبکہ وہ جانتا ہو)۔

عورت کی گواہی:

قرآن ِ کریم کی آیت نمبر ۲۸۲ کے مطابق دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں عام حالات میں گواہ بن سکتے ہیں، البتہ جو معاملات عو رتو ں سے تعلق ر کھتے ہیں ان میں صرف عورت کی گواہی معتبر سمجھی جا ئے گی۔مثلاً ر ضاعت اور بچہ کی پیدائش و غیر ہ۔ آپ ﷺ نے بچے کی پیدائش کے سلسلہ میں صر ف ایک دائی کی گواہی کو جائز قر ار دیا ۔اور رضا عت کے ثبوت کے لئے بھی صرف ایک عو رت کی شہادت کو تسلیم کیا۔

’’عقبہ بن الحارث سے مروی ہے کہ ابو اہاب کی بیٹی سے نکاح کیا ۔ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے عقبہ اور اس کی بیوی دونوں کو دو دھ پلایا۔عقبہ کہنے لگے مجھے تو معلوم نہیں کہ تو نے مجھے دودھ پلایا ہے پھر آل ابو اہاب کے پاس آدمی بھیجا تا کہ واقعہ کی تحقیق کر ے ،انہوں نے بھی لا علمی کا اظہار کیا ۔عقبہ حضور ﷺ کے پاس آئے اور صورت حال سے آگا ہ کیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر نکاح کیسے ہو سکتا ہے جب وہ تم دونوں کی رضائی ماں بننے کا دعویٰ کرتی۔ عقبہ نے پھر دوسر ا نکاح کر لیا۔‘‘[45]

گواہوں کی تعداد

۱۔ چار مر دوں کی شہادت: چار شہادتو ں کی ضر ورت صرف ز نا کے معا ملہ میں پیش آتی ہے۔چو نکہ ز نا کی سزا شدید ترین ہے لہٰذا شہادت میں احتیاط بھی زیادہ ضروری ہے۔

۲۔تین مردوں کی گواہی: افلاس کو ثابت کرنے کے لیے تین گواہوں کی ضرورت ہو تی ہے۔

۳۔ صرف دو مر دوں کی گواہی: ز نا کے علا وہ بقیہ حدود مثلاً قصاص ،چوری، قذف و غیر ہ میں صرف دو مردوں کی گواہی شر ط ہے۔

۴۔ دومردوں یا ایک مر اور دوعور توں کی گواہی لاز می ہے۔

۵۔صرف ایک مرد کی گواہی ۔رویت ہلال کے با رے میں ایک مرد کی گواہی کافی ہے۔[46]

قسم

لفظ ایمان ، یمین کی جمع ہے ؛ اس کا معنی قسم،قوت اور دایا ں ہاتھ ہے۔ فیروز الدین ؒفر ماتے ہیں:

’’قسم کے معنی حلف ،جمع أقسام ،عہد پورا کرنا و عدہ و فا کرنا ،عہد کرنا ،قول دینا ،حلف اٹھانا۔‘‘[47]

صالح بن فو زان قسم کے اصطلاحی مفہوم کے متعلق لکھتے ہیں:

’’ قسم کو عر بی میں یمین بھی کہتے ہیں جس کی جمع أیمان آتی ہیں۔قسم کا مطلب ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ مخصوص طر یقے سے کسی کام یا حکم کو مؤکد بنانا۔قسم کو یمین کہنے کی و جہ یہ ہے کہ لغت عر ب میں دائیں ہاتھ کو یمین کہا جاتا ہے جب دو قسم اٹھا نے والے قسم اٹھائیں تو وہ اپنے دا ہنے ہاتھ کو اپنے ساتھی کے دا ہنے ہاتھ پر مارتے ہیں جیسے عہد و پیمان میں ہوتا ہے۔ ‘‘[48]

قسم کی اہمیت قر آن کی رو شنی میں

’’لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آَيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ‘‘[49]

’’اﷲ تعالیٰ تک کو لغو قسموں پر نہیں پکڑے گا البتہ ان قسموں پر پکڑے گا جو قصداًتم نے کھائی ہوں تو اس کا کفار ہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو بیچ کا (معمولی)کھانا کھلاؤ جو اپنے بال بچوں کو کھلاتے ہو یا دس مسکینوں کو کپڑا پہنا ؤ یا ایک غلام آزاد کر و پھر جس کو مقدورنہ ہو تو وہ تین رو زے ر کھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم (قصداً) قسم کھا ؤ (پھر اس کو توڑ دو) اور اپنی قسموں کو تھا مے رہو۔‘‘

قسم اٹھانے کا طر یقہ

اگر مدعی شہادت فر اہم کرنے یا ثبوت بہم پہنچانے میں ناکام رہا ہو تو پھر مدعا علیہ پر قسم کی باری آتی ہیں۔اس کی بنیاد اس نظر یہ پر ہے کہ قسم کھانے والا خدا سے ڈر کر سچی بات کہہ دے اس قسم کے ذریعہ اسے عدالت میں خدا یاد دلایا جاتا ہے۔قسم صرف اﷲ تعالیٰ کی ذات یا اس کی صفات کی اٹھائی جاسکتی ہے۔آپ ﷺ نے فر مایا:

’’ مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ‘‘ [50]

جس نے اﷲ کے علا وہ کسی دوسر ے کی قسم کھائی اس نے شر ک کیا ۔

آپ ﷺ نے ایک دفعہ مد عا علیہ سے یوں قسم اٹھوائی:

’’احْلِفْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا لَهُ عِنْدَكَ شَيْءٌ ‘‘[51]

اس اﷲ کے نام کی قسم اٹھا ؤ جس کے سوا کو ئی معبود نہیں کہ تیرے ذمہ مدّعی کا کو ئی حق نہیں۔

اگر غیر مسلم سے قسم لینے کی ضرورت ہو تو ا ﷲ کے نام کے ساتھ اﷲ کی اس صفت کو شامل کیا جا ئے۔جو اس کے عقیدہ میں شامل ہو۔مثلاً عیسائی ہے تو یوں کہے اس اﷲ کی قسم جس نے حضرت عیسٰیؑ پر انجیل نا زل فر مائی ۔ اور اگر یہودی ہے تو یوں کہے کہ اس ذات کی قسم جس نے حضرت مو سیٰؑ پر تورات نا زل فر مائی۔یہودیوں نے زنا کا مقدمہ حضور اکر م ﷺ کے سامنے پیش کیا۔اور کہنے لگے کہ ہمارے مذہب کے مطابق اس کی سزا کو ڑے مارنا اور منہ کالا کرنا ہے۔

’’ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: يَعْنِي لِابْنِ صُورِيَا: «أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي نَجَّاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ، وَأَقْطَعَكُمُ الْبَحْرَ، وَظَلَّلَ عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكُمُ الْمَنَّ، وَالسَّلْوَى، وَأَنْزَلَ عَلَيْكُمُ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى أَتَجِدُونَ فِي كِتَابِكُمُ الرَّجْمَ؟»، قَالَ: ذَكَّرْتَنِي بِعَظِيمٍ، وَلَا يَسَعُنِي أَنْ أَكْذِبَكَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ ‘‘[52]

آپ ﷺ نے یہودیوں کے ایک معتبر عالم ابن صوریا سے حلفاً یہ بات یوں پوچھی :’’میں تجھے اس اﷲ کی قسم دلواتا ہوں جس نے حضرت مو سیٰؑ پر تورات نا زل کی ۔کیا تمہاری کتاب میں زنا کا یہی حکم ہے‘‘اس نے جواباً کہا کہ میں بات ظاہر نہیں کرنا چا ہتا تھا۔مگر آپ ﷺ نے ایسی بھاری قسم دلائی ہے کہ جھوٹ نہیں کہہ سکتا۔

یعنی حقیقت یہی ہے کہ اس کی سزا رجم ہے لیکن ہم نے تحریف کر لی ہے۔

جھوٹی قسم کی مذمت

جھو ٹی قسم در اصل ا ﷲ تعالیٰ پر جھو ٹی شہادت ہے اور کسی انسان پر جھو ٹی شہادت کو حضور اکر م ﷺ نے شرک کے برابرقر ار دیا ہے تو اﷲ پر جھوٹی شہادت تو اس سے بھی زیادہ گنا ہ ہے۔

قسم کا ایک پہلو خدا سے عہد کا بھی ہے تو جو لوگ اس عہد سے غلط فا ئدہ اٹھا کر دوسر وں کا حق دبا جاتے ہیں ان کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآَخِرَةِ ‘‘[53]

جولو گ اﷲ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ثمن قلیل لیتے ہیں آخرت میں ان لوگوں کا کو ئی حصہّ نہیں۔

لہٰذا اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس گنا ہ کبیر ہ سے بچنے کے لئے قر آن کریم میں کئی مقامات پر تنبیہ فر مائی ہے۔اور حضور اکر م ﷺ نےارشا د فر مایا ہے:

’’مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ ‘‘ [54]

جس شخص نے جھو ٹی قسم کے ذر یعہ کسی مسلمان کے مال کا کچھ حاصل کر لیا ۔اﷲ تعالیٰ نے اس پر جنت حر ام کر دی ۔ صحابہ نے پو چھا ۔خواہ یہ کو ئی معمو لی سی چیز ہو ؟ فر مایا : اگر چہ وہ پہلو کے در خت (پنجابی وَنْ)کی ایک ٹہنی ہی ہو۔

قسم کے ذر یعہ ر فع نز اع قسم کے ذر یعہ تنا زع ختم کر نے کی مندر جہ ذیل تین صور تیں معر و ف ہیں۔

۱۔مدّعا علیہ کی قسم

اگر مدّعی شہادت فر اہم نہ کر سکے ۔اور مدّعاعلیہ کی قسم اٹھالے ۔خو اہ مدّعی اس کی قسم کو قبول ہی نہ کر ے۔ تو دعو یٰ خار ج ہو جا تا ہے اور اصل چیز مدّعا علیہ کی ملکیت میں ہی رہے۔اس کی مثال وہ واقعہ ہے کہ ایک خضر می اور ایک کندی ز مین کی ملکیت کے بار ے میں جھگڑا لے کر آئے۔ کندی نہ شہادت فر اہم کر سکا اور نہ قسم قبول کر نے پر آمادہ ہوا (جبکہ مدّعا علیہ قسم دینے کو تیار تھا) تو آپ ﷺ نے متنا زع زمین اس کے پاس ر ہنے دی۔

۲۔لعان

لعان یہ ہوتا ہے کہ اگر کو ئی شخص اپنی بیو ی پر زنا کی تہمت لگا ئے اور عو رت اس کا انکار کر ے تو دونوں عدالت کے سامنے پیش ہوں۔پہلے مردکھڑا ہو کر چار بار اﷲ کی قسم کھا کر کہے کہ اس عو رت نے زنا کیا ہے اورپانچویں با ر یوں کہے کہ اگر میں جھو ٹا ہوں تو مجھ پر اﷲ کی لعنت ہو،پھر اس کے بعد عو رت بھی اٹھ کر اس طر ح چار بار اﷲ کی قسم کھا کر کہے کہ یہ مرد جھوٹا ہے اور میں بری ہوں اور پانچویں بار یوں کہے کہ اگر میں جھو ٹی ہوں تو مجھ پر اﷲ کی لعنت ہو۔یہاں بظا ہر کو ئی سز ا معلوم نہیں ہو تی ۔لیکن اس کے بعد فر یقین میں ہمیشہ کے لئے جدائی ہو جا تی ہے جو ایک بہت بڑی سز ا ہے۔

’’عویمر عجلانی نے اپنی بیوی پر ز نا کی تہمت لگائی تو آپ ﷺ نے نصیحت فر مائی کہ دیکھو دنیا کا عذاب حد قذف بر داشت کرنا آسان ہے مگر آخرت کا عذاب بر داشت کر نے کی سکت کسی میں نہیں۔اس لئے تم خواہ بد نامی کی خاطر یا شبہ کی بنا پر الز ام لگا رہے ہو تو ابھی تو بہ کر لو خدا معاف کر دے گا ۔عو رت سے متوجہ ہو کر فر مایا کہ اگر تم سے یہ گناہ سر زد ہو گیا ہے تو رجم کی سزا، اُخر وی سز ا سے بہت ہلکی ہے۔ محض ر جم کے خوف سے انکار مت کرنا ۔ جب انہوں نے اپنے اپنے دعو ے کی صداقت پر اصر ار کیا اور ساتھ ہی یکبارگی تین طلا قیں بھی دے دیں تو آپ ﷺنے ان میں لعان فر ما کر تفر یق کردی ۔‘‘[55]

’’ہلال بن امیہ نے اپنی بیو ی شر یک بنت سمحا کو ز نا سے متہم کیا ۔ آپ ﷺ نے ان دونوں کو بھی و عظ و تلقین فرمائی اور کہا دیکھو اﷲ سے ڈر و تم دو نوں میں سے ایک ضرور جھو ٹا ہے۔ وہ پھر بھی اپنی اپنی بات پر ا ڑے رہے۔ بالآخر آپ ﷺ نے لعان کے ذر یعہ ان میں تفر یق کر ادی۔‘‘[56]

لعان سے مندر جہ ذیل مسائل پیدا ہو تے ہیں:

۱۔لعان کر نے سے مکمل تفر یق ہو جاتی ہے۔گو عویمر عجلانی نے تین بار طلاق بھی کہہ دیا تھا۔لیکن یہ ضروری نہیں چنانچہ ہلال بن امیہ نے طلا ق کے الفاظ نہیں کہے تو بھی آپ ﷺ نے ان کے در میان جدائی کر ا دی۔

۲۔حق مہر و اپس نہیں لیا جا سکتا اور اگر ادا نہیں کیا تھا تو ادا کرنا ہو گا۔ چنانچہ عویمر عجلانی نے مہر کی واپسی کا مطالبہ کیا جسے آپ ﷺنے ر د کر دیا۔[57] دور نبوی ﷺ کا و اقعہ ہے:

’’عبد اﷲ بن سہل اور محیصۃبن عبد اﷲ خیبر کی طر ف گئے۔عبد اﷲ بن سہل کو کسی آدمی نے قتل کر دیا ۔ اس کا بھائی عبد الر حمن اور اس کے دو نو ں بیٹے حو یصہ اور محیصۃ آپ ﷺ کی خدمت میں آئے اور قصہّ بیان کیا ۔ آپ ﷺ نے فر مایا :’’تم اپنے مقتول کی دیت قسم سے لے سکتے ہو کہ پچا س آدمی قسم اٹھائیں کہ اسے یہود نے قتل کیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا ’’جب ہم مو قع پر مو جو د نہیں تھے تو قسم کیسے کھا سکتے ہیں ؟’’آپ ﷺنے فر مایا :پھر یہود قسم کھائیں گے کہ انہوں نے قتل نہیں کیا ۔وار ثو ں نے کہا وہ تو جھو ٹی قسم بھی کھا جا ئیں ۔آپ ﷺنے خو ن کو رائیگاں نہ سمجھا اور دیت کے سو او نٹ بیت المال سے دے دیئے۔‘‘[58]

قسامت کی شکل کے علا وہ دور جا ہلیت میں دیت کا رو اج تھا اور قصاص کا بھی ۔اسلام نے ان تینوں چیز وں کو بحال ر کھا اور مشر وع قر ار دیا ہے۔بخاری میں ایک واقعہ آتا ہے کہ بنو ہاشم کا ایک آدمی مارا گیا ۔ قا تل کا یقینی علم نہیں تھا۔ تا ہم جس پر شک تھا اس سے جناب رسول اﷲ ﷺکے چچا ابو طالب نے کہا : ’’تین باتوں میں ایک اختیار کر لے۔ یا تو دیت کے سو او نٹ دیدے یا تیری قو م کے پچاس آدمی قسم کھائیں کہ تو نے قتل نہیں کیا یا پھر قتل کا بدلہ قتل سے دے دے۔‘‘وہ قوم کے پاس آیا قو م نے کہا ہم قسم کھاتے ہیں کہ ہم نے نہیں مارا۔اور نہ ہی ہمیں قاتل کا علم ہے۔قسم چو نکہ جھو ٹی تھی اس لئے وہ سال کے اندر اندر ہی ختم ہو گئے۔[59]

قر ائن کی تعر یف

قر ائن ،قر ینہ کی جمع ہے جس سے مر اد وہ ثبو ت ہے جوکسی و اقعہ کے بار ے میں یقین دلا سکے یا سو چنے پر مجبور کرے کہ و اقعہ اس طر ح ہو ا ہو گا ۔کسی مدہوش شخص کے با رے میں یہ اندازہ کر نا ابتدائی اور فور ی رد عمل ہے۔کہ وہ نشہ کی کیفیت میں ہے۔ منہ سے نشے کی بو محسوس ہو رہی ہو تو اس ثبو ت کی پختگی و اضح ہو جاتی ہے۔بُو نہ ہو تو انسانی ذہن کسی دوسر ی طر ف بھی سوچ سکتا ہے مد ہوش شخص کی عمو می شہر ت اور اس کے ما ضی کو پیش نظر ر کھنا بھی قر ائن میں سے ایک ہے۔غیر معمو لی اچھی شہر ت کا حامل شخص مد ہو ش نظر آئے۔تو انسانی ذہن اسے طر ح طر ح کی ر خصتیں دینے پر آمادہ ر ہتا ہے۔بد کار شخص مد ہوش نظر آئے تو ہر دیکھنے والا فر د اسے لا ئق سز اپس کہا جا سکتا ہے کہ اس معاملے میں مد ہو شی ،نشے کی مخصوص بو اور عمو می شہر ت تین قر ائن ہیں۔[60]

قر ائن کے احکام

ثبو ت دعو یٰ کا یہ طر یق کبھی تو نا مکمل اور نا قابل یقین ہوتا ہے اور کبھی مکمل اورپو را ذر یعہ ثبوت ہوتا ہے۔لہٰذا اس پر انحصار کر نے میں مکمل احتیاط لا زمی ہے۔قر ائن کے نا مکمل ہونے کی مثال یہ ہے کہ مدینہ میں ایک بد کار عو رت ر ہتی تھی۔ قرائن پوری طر ح شہادت دے رہے تھے کہ وہ بد کار ہے۔اس کے متعلق آپ ﷺ نے فر مایا :

’’ لو كنت راجما أحدا بغير بينة لرجمت فلانة فقد ظهر منها الريبة في منطقها وهيئتها ومن يدخل عليها‘‘[61]

’’اگر میں بغیر گو اہوں کے کسی کو رجم کر سکتا تو میں فلاں عو رت کو ضرور ر جم کر دیتا کیو نکہ اس کی با توں ۔اس کی ہیّت اور جو لو گ اس کے پاس آتے جاتے ہیں ان تمام باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ زانیہ ہے۔‘‘

اس سے دو باتوں کا پتہ چلتا ہے:

۱۔قر ائن مکمل ذر یعہ ثبوت نہیں ہو تے۔

۲۔قاضی کو اگر ذاتی طور پر بھی کسی دعویٰ کا علم اور یقین ہو۔ لیکن اگر شہادتیں مہیا نہ ہو سکیں تو وہ ظا ہر ی علا مات پر فیصلہ نہیں دے سکتا ۔قر ائن کے معا ون(Corroborative Evidence) ثبو ت ہو نے کی مثال یہ ہے کہ ایک صحابی بلا ل بن امیہ نے بیوی کو شر یک بن سمحا کے ساتھ مہتم کیا ۔ حضور اکر م ﷺ نے مسجد نبوی میں بذر یعہ لعان ان میں تفر یق کر ادی۔ اس کے بعد فر مایااگر ایسے اعضاء والا لڑکا پیدا ہو تو وہ شر یک کا ہو گا اور اگر ایسے ایسے اعضا ء والا ہوا تو وہ بلال بن امیہ کا ہو گا ۔پھر جب بچہ پیدا ہو ا تو وہ شر یک بن سمحا کے ساتھ مشا بہت ر کھتا تھا۔ اس و قت آپ ﷺنے فر مایا:

’’ لَوْلَا الْأَيْمَانُ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ ‘‘ [62]

اگر لعان کے ذریعہ تفریق کا حکم نا زل نہ ہو چکا ہوتا تو میں اس عو رت سے نمٹ لیتا۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مدّعی کا دعو ٰے اور قر ائن ما کر مکمل ذر یعہ ثبو ت بن سکتے ہیں اور اس بنیاد پر آپ اس عو رت کو رجم کر سکتے تھے ۔قر ائن کے مکمل ثبوت ہونے کی مثال حمل ہے ۔لیکن یہ بھی اس حد تک مکمل ہے کہ واقعی زنا کا رار تکاب ہوا ہے۔ز انی کو ن تھا ؟ کس حالت میں ار تکاب جر م ہوا ۔ایسی باتو ں کا پھر بھی پتہ نہیں چلتا ۔ تاہم کسی کے دعویٰ اور حمل کی بنا پر حد جاری کی جا سکتی ہے اور دور خلفا ئے ر اشدین سے یہ ثابت ہے۔[63]

قر ائن کے مدّعا علیہ کے اقر ار سے بھی ز یادہ معتبر ہو نے کی دلیل وہ مقدمہ ہے جو حضرت دا ؤد ؑ کے سامنے پیش ہوا ۔ایک عو رت نے کسی عو رت کے بچہ کے متعلق دعویٰ کر دیا کہ یہ میر ا ہے ۔مدّعا علیہ یعنی حقیقی و الدہ بھی یہی دعویٰ کر تی تھی۔ حضرت دا ؤد ؑ نے فیصلہ کیا کہ بچے کے دو ٹکڑے کر کے ہر ایک کو ایک ایک ٹکڑا دے دیا جا ئے۔ اب حقیقی و الدہ فور اً پکار اٹھی کہ بچے کے ٹکڑے نہ کئے جائیں یہ لڑکا اس دو سری عور ت کا ہے تو آپ نے سمجھ لیا کہ مدّعا علیہ ہی اس کی حقیقی والدہ ہو سکتی ہے۔ اور اسی بنا ء پر آپ نے فیصلہ کر کے حقیقی والدہ کو بچہ دے دیا۔[64]

مدّعا علیہ کا اقر ار یہ تھا کہ بچہ اس کا نہیں، مگر قر ائن کی شہادت یہ تھی کہ بچہ اسی کا ہو سکتا ہے۔لہٰذا قر ائن کی بنیاد پر فیصلہ ہوا۔ آج کے دور سائنس اور ٹیکنالو جی نے جس قدر تر قی کی ہے اس سے قر ائن میں بہت سی چیز وں کا اضافہ ہو چکا ہے۔پوسٹ مار ٹم ،ہاتھ کے نشانات، تحریر کی شنا خت ،فو ٹو سٹیٹ ،کیمیکل ایگزامی نیشن ،فار نیز ک جانچ پڑتال ،کیمر ے ٹیلی سکوپ ،ایکس رے اور کئی دوسری چیزیں اثبات یا ردِ دعویٰ میں مؤثر کر دار ادا کر تی ہیں۔

خلاصہ بحث

مذکورہ بالا بحث سے بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ رب العزت نے امت مسلمہ کو ایسے مذہب سے نوازا ہے جو اپنے تمام تر شعبہ ہائے جات میں کامل ومکمل ہے۔جس میں انسانی زندگی سے متعلقہ اہم ترین مسائل کا حل موجود ہے۔کوئی انسان اسی وقت ہی دنیا وآخرت میں کامیابیوں سے ہمکنار ہوسکتا ہے جب وہ دین اسلام کے تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔ عدل وانصاف ،محکمہ قضاء یا دارالقضاء کی اہمیت قرآن وسنت کی روشنی میں بخوبی واضح ہوگئی۔یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامی نے امت مسلمہ کو ان کا پابند بنایا۔تاکہ کسی بھی قسم کے اختلافات کی صورت میں شریعت مطہرہ کے اصولوں پر مبنی فیصلہ کیا جائے۔تاریخ پر گہری نگاہ ڈالیں تو مسلم معاشرے کے ہرزمانہ میں ایسے واقعات کھل کرسامنے آتے ہیں جس میں خواہ حاکم ہو یا محکوم تمام نے نظام قضاء کے درخشاں اصولوں پر عمل کا اہتمام فرمایا۔لیکن افسوس کہ عصر حاضر میں امت مسلمہ نے دین اسلام کے نظام قضاء کے اصولوں کو پس پشت ڈال دیا ہے۔جس کی اہم ترین وجہ اسلامی احکام سے ناواقفیت اور دوری ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ کو دینی علوم سے روشناس کرایا جائے۔تاکہ ملت اسلامیہ میں شریعت مطہرہ کے اصولوں پر عمل درآمد کرکے معاشرہ سے جرائم و منکرات کا سدباب کیا جاسکے ۔


حوالہ جات

  1. حواشی ومصادر گوہر ر حمن ،مولانا،اسلامی سیاست ،مکتبہ تفہیم القر آن مر دان ،۲۰۱۰ء،ص:۳۹۳
  2. ذوالفقار احمد تابش ،اعجاذ اللغات ،سنگ میل پبلیکیشنز ،۱۹۹۵ء،ص:۹۲
  3. راغب اصفہانی ،علامہ ،المفر دات القر آن،کتاب العین ،القاف ،ص:۳۲۵،۴۰۳
  4. سور ۃ النساء:۵۸
  5. سورۃ المائدہ:۴۲
  6. ابن تیمیہ ،امام ،سیاست شر عیہ ،ص:۷
  7. محمود احمد غازی ،ڈاکٹر ،ادب القاضی ،ادارہ تحقیقات ِاسلامی اسلام آباد،۱۹۹۹ء،ص:۱۸۷
  8. الکا سانی ،بدا ئع الضائع فی تر تیب الشر ائع ،طبع بیر وت ،۱۹۷۴،ص:۹/۴۰۷۸
  9. ادب القاضی ،ص:۱۸۷
  10. سورۂ غافر:۲۰
  11. سورۂ ص:۲۶
  12. سورۃ المائدۃ:۴۴
  13. بخاری ،امام ،صحیح بخاری ،كِتَابُ العِلْمِ ،، بَابُ الِاغْتِبَاطِ فِي العِلْمِ وَالحِكْمَةِ ،،حدیث نمبر :73،ص:1/52 ،نیز یہی حدیث بخاری میں کتاب الزکوۃ اور کتاب الاحکام میں بھی آئی ہے دیکھئے ، کتاب الاحکام ،بَابُ أَجْرِ مَنْ قَضَى بِالحِكْمَةِ میں حدیث نمبر: 7141،اور کتاب الزکوۃ میں بَابُ إِنْفَاقِ المَالِ فِي حَقِّهِ،حدیث نمبر: 1409
  14. نسائی ،امام ،سنن نسائی ، كِتَاب آدَابِ الْقُضَاةِ بَابُ الْإِمَامُ الْعَادِلُ ،حدیث نمبر: 5380،ص:8/222
  15. تر مذی ،امام ،جامع تر مذی ،کتاب ابواب الاحکام ، بَابُ مَا جَاءَ فِي الإِمَامِ العَادِلِ ،حدیث نمبر:1330،ص:3/610
  16. حمید الر حمن عباسی ،مو لانا ،اﷲ تعالیٰ کا نظام عدل ،انجمن خدام الدین لا ہور ،س ن ،ص:۸۴
  17. حامد الانصاری ،مو لانا ،اسلام کا نظام حکو مت ،ص:۳۸۷
  18. اُردو دائر ہ معار ف اسلامیہ ،دانش گاہ پنجاب ،۱۹۸۶ء،ص:۹/۳۵۱
  19. مجلۃ الاحکام العدلیہ ،متر جم،عبد القدوس ہاشمی ، محکمہ او قاف پنجاب ،۱۹۸۱ء،دفعہ ۱۶۱۳،ص:۳۷۱
  20. ایضاً ،دفعہ :۱۶۱۴
  21. المر غیتانی ،الھدایۃ،کتاب الدعویٰ،ص:۳/۱۸۵
  22. مجلۃ الاحکام العدلیہ،دفعہ۱۶۲۲۔۱۶۱۶،ص:۳۷۳
  23. مجلۃ الاحکام العدلیہ،دفعہ ۱۶۲۷سے۱۶۳۰،ص:۳۷۴۔۳۷۵
  24. مسلم ،امام ،صحیح مسلم ، كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ ، بَابُ الْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ،حدیث نمبر: :1711،ص:3/1336
  25. سورۃ النساء:۱۳۵
  26. شمیم حسین قادری ،محمد ،اسلامی ریاست (قر آن و سنت کی رو شنی میں)علماء اکیڈمی ،۱۹۸۴ء،ص:۳۶۴
  27. جامع تر مذی ،ابواب الحدود،باب ماجاء فی درء الحدود،حدیث نمبر:۱۴۲۴
  28. اُردو دائر ہ معارف اسلامیہ ،ص:۹/۳۵۴
  29. شمیم حسین قادری ،محمد ،اسلامی ریاست،ص:۳۶۵
  30. صحیح بخاری ،کتاب الطلاق ،باب الطلاق فی الاغلاق والکترہ والسکران والمجنون وأمرھما،حدیث نمبر:۵۲۷۱
  31. لوئیس معلوف ،المنجد،ص:۶۶۰
  32. ابو الفضل عبد الحمید بلیاوی ، مصباح اللغات ،ص:۴۶۶
  33. مجلۃ الاحکام العدلیہ،دفعہ:۱۶۸۴،ص:۳۹۳،مزید ،عبد المالک عر فانی ،اسلامی قانون شہادت ،ص:۱۷
  34. تنز یل الر حمن ،ڈاکٹر ،اسلام کا نظام عدالت،ص:۶۱
  35. تنز یل الر حمن ،ڈاکٹر ،اسلام کا نظام عدالت،ص:۶۱
  36. ایضاً :۲۸۳
  37. سورۃ الفرقان:۷۲
  38. ابن ماجہ ،سنن ابن ماجہ ،ابواب الشھادت ،باب شھا دۃ الزور،ح:۲۳۷۳
  39. سنن نسائی ،کتاب الصیام ،باب شھادۃ رجلٍ واحد،ح:۲۱۱۴
  40. سورۃ الطلاق: ۲
  41. مجلۃ الاحکام العدلیہ،دفعہ،۱۷۰۵،ص:۳۹۷
  42. ایضاً
  43. سنن ابو دا ؤد ، كِتَاب الْأَقْضِيَةِ ، بَابُ مَنْ تُرَدُّ شَهَادَتُهُ ،حدیث : 3601،ص:3/306
  44. سورۃ الزخرف:۸۶
  45. صحیح البخاری ،کتاب النکاح ،باب شہادۃ المر ضعۃ،حدیث نمبر:۲۶۶۰/۵۱۰۴
  46. شمیم حسین قادری ،محمد ،اسلامی ریاست (قر آن و سنت کی رو شنی میں)،ص:۲۷۲۔۲۷۴
  47. فیروز الدین ،فیروز اللغات ،مطبوعہ فیروز سنز لمیٹڈ لا ہور،۱۹۶۸ء،ص:۹۵۵
  48. صالح بن فوزان فقہی احکام و مسا ئل ، دار السلام کر اچی ، ۲۰۰۷ء،ص:۲/۴۸۰
  49. سورۃ المائدۃ:۸۹
  50. سنن ابو داؤد، كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ ، بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلْفِ بِالْآبَاءِ ،حدیث نمبر:3251،ص:3/223
  51. سنن ابو دا ؤد ، كِتَاب الْأَقْضِيَةِ ، بَابُ كَيْفَ الْيَمِينُ ،حدیث نمبر:3260،ص۳/۳۱۱
  52. سنن ابن ماجہ ، كِتَابُ الْأَحْكَامِ ، بَابٌ بِمَا يُسْتَحْلَفُ أَهْلُ الْكِتَابِ ،ص:۲/855، نیز دیکھئے ، كِتَابُ الْحُدُودِ ،باب رجم الیھودی و الیھودیہ ،حدیث نمبر 2558،نیز دیکھئے 2327،2328، ،مز ید،سنن ابو دا ؤد ، كِتَاب الْأَقْضِيَةِ ، بَابُ كَيْفَ يَحْلِفُ الذِّمِّيُّ،، حدیث نمبر: 3624،3626،ص:3/313
  53. سورۃ آل عمران:۷۷
  54. سنن نسائی ،کتاب آدب القضاۃ، الْقَضَاءُ فِي قَلِيلِ الْمَالِ وَكَثِيرِهِ ،حدیث نمبر:۵۴۱۹،ص:۸/۲۴۶
  55. صحیح بخاری ،کتاب الطلاق ، بَابُ مَنْ أَجَازَ طَلاَقَ الثَّلاَثِ ،حدیث نمبر:۵۲۵۹،ص:7/42
  56. صحیح بخاری ،کتاب الطلاق، بَابُ يَبْدَأُ الرَّجُلُ بِالتَّلاَعُنِ ،حدیث نمبر:۵۳۰۷،ص:7/53
  57. صحیح بخاری ،کتاب الطلاق، بَابُ صَدَاقِ المُلاَعَنَةِ ،حدیث نمبر:۵۳۱۱،ص:7/55
  58. صحیح بخاری ،کتاب الا حکام ، بَابُ كِتَابِ الحَاكِمِ إِلَى عُمَّالِهِ وَالقَاضِي إِلَى أُمَنَائِهِ ٖ،حدیث نمبر:۷۱۹۲،ص:9/75
  59. صحیح بخاری ،کتاب الدّیات ،باب القسامۃ ،ح:۶۸۹۸
  60. شہزاد اقبال ،اسلامی نظام عدل و قضا ء میں شہادت کا تصور،شر یعہ اکیڈمی اسلام آباد،۱۹۹۳ء،ص:۲
  61. صحیح بخاری ،کتاب المحار بین،باب من اظہر الفاحشۃ واللطخ والتہمۃ بغیر بیننۃٍ،ح:۶۸۵۵
  62. سنن ابو دا ؤد ،کتاب الطلاق ،باب فی اللعان ،حدیث نمبر:۲۲۵۶،ص:2/276
  63. ابن تیمیہ ،امام ، اعلام المو قعین ،ص:۵۰
  64. صحیح مسلم ، كِتَابُ الْأَقْضِيَةِ ، بَابُ بَيَانِ اخْتِلَافِ الْمُجْتَهِدِينَ ،حدیث نمبر:1720،ص:3/1344