خون حرا م ہے: حلال انڈسٹری کے بنیادی قرآنی معیار کا تحقیقی جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ مجلة قسم أصول الدين العالمية
عنوان خون حرا م ہے: حلال انڈسٹری کے بنیادی قرآنی معیار کا تحقیقی جائزہ
انگریزی عنوان
The Blood is Ḥarām a Critical Review of Halal Industry’s Standard, Based on the Qur’anic Criterion
مصنف Alhusaini، Syed Arif Ali Shah، Muhammad Ishaq
جلد 4
شمارہ 2
سال 2019
صفحات 1-19
ڈی او آئی
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Ḥalal Industry, Animal Feeds, Fish Meals, Meat Protein, Blood, Pharma, Cosmetics Industry
شکاگو 16 Alhusaini، Syed Arif Ali Shah، Muhammad Ishaq۔ "خون حرا م ہے: حلال انڈسٹری کے بنیادی قرآنی معیار کا تحقیقی جائزہ۔" مجلة قسم أصول الدين العالمية 4, شمارہ۔ 2 (2019)۔
خون حرا م ہے: حلال انڈسٹری کے بنیادی قرآنی معیار کا تحقیقی جائزہ
برصغیر میں اصول تفسیر: ارتقاء، تنوع اور اس کے اسباب
جنین کا عصری اور شرعی تناظر میں تحقیقی جائزہ
اسلامی فوجداریت کا ضابطۂ قرائن
روایاتِ اسباب النزول کے تفسیری ادب پر اثرات کا جائزہ
تاریخ کبیر میں امام بخاری کا رواۃ پر تنقید کے اسلوب کاجائزہ
ماحولیاتی آلودگی اور اس کا سدباب: سیرت نبویﷺکی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ
تاريخية السنة بين المثبتين والنافين
تعقبات ابن العراقي واستدراكاته في تحفة التحصيل على العلائي في جامع التحصيل
دعوى رد الإمام مالك خبر الآحاد الصحيح: دراسة تطبيقية
قواعد الترجيح المتعلقة بالنص القرآني: دراسة وصفية تطبيقية
Status of Abandoned Children: A Comparative Study of Islamic and Pakistani Law
Exploring the Role of Female Successor “Amrah Bint Abd Al-Raḥmān” in Narration of Prophetic Traditions
An Analytical Study of the Outcomes and Impacts of Religious Education of Pakistan, the Challenges and Opportunities
Education As a Catalyst of Personality Development: A Case Study of ‘Omar Bin Khattāb R. A
Islam and Woman in the Contemporary Arab World: An Interpretation of Rajaa Al-Sanea’s Girls of Riyadh from Islamic Feminist Perspective
Cognitive Semantic Study of the Preposition ‘Min’ in the Quran

Abstract

Healthy nourishment depends on healthy food. General consideration of people is of being the food safe and edible for human consumption not its effect on their spiritual selves but the Islamic terms Ḥalāl and Ḥarām emphasis on both physical and internal safety. Islam commands to avoid doubtful and dubious things rather than to use Ḥarām. The unprecedented evolution and advancement of science and technology caused a revolution in the food-science and technology as well. Many new and innovative flavors etc. took place of organic and natural consumables. Accordingly, the Muslims were in dire need of a robust system which would be able to convince them of the Ḥalāl status of the daily consumables. The article investigates the Sharī’ah stand on the issue of blood in the light of Qur’ān, Sunnah and comparative jurisprudence study, and modern sciences related to blood. Keeping in mind the Globalized Halal Industry all the researched is coupled with combined comparative study of all Schools of Islamic Fiqh, to make easy the way of Unified Halaal Standard regarding the blood. Under the main title The paper comprises subtopics of an introduction and few chapters, which deal with definition and functions of blood, types of blood, difference between blood of aquatic and land animals, comparative study of modern sciences related to blood and Shariah status of use of the blood in various industries in term of Halal and Haram.


تعارف اور اہمیتِ موضوع :

اسلام میں کچھ چیزوں کا قرآن میں نام لے کر حرام قرار دیا گیا ہے جن کو محرماتِ قرآنیہ یا منصوص محرمات کہا جاتا ہے، بالفاظِ دیگر ان چیزوں کو حلال وحرام کے منصوص معیارات بھی کہا جاسکتا ہے ، جن میں سے ایک اہم شرعی معیار خون کا حرام ہونا ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

"إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ"[1]

"ا س نے تمارے لیے بس مردار ، خون اور سور کو حرام کیا ہے ، نیز وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکار اگیا ہو ۔ ہاں اگر کوئی شخص انتہائی مجبوری کی حالت میں ہو (اور ان چیزوں میں سے کچھ کھالے ) جبکہ ا س کا مقصد نہ لذت حاصل کرنا ہو اور نہ وہ (ضرورت کی ) حد سے آگے بڑھے ، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ یقیناً اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے ۔"

شرعی نقطہ نظر سے خون کے بارے میں درجِ ذیل پہلو قابلِ تحقیق ہیں :

  1. خون کی تعریف
  2. خون کی مختلف قسمیں
  3. خون کی مختلف قسموں سے متعلق شرعی احکام

خون کی تعریف اور جسم میں اس کا کام

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں ہے :

Blood: Fluid that transports oxygen and nutrients to the cells and carries away carbon dioxide and other waste products. In the lungs, blood acquires oxygen and releases carbon dioxide transported from the tissues. The kidneys remove excess water and dissolved waste products.”[2]

"خون ایک بہتا ہوا مادہ ہے جو جسم کے مختلف خلیات کو آکسیجن اور دیگر نشوونما کی ضروری چیزیں منتقل کرتا ہے جبکہ جسم کے مختلف حصوں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر فضلات کو باہر لاتا ہے ۔خون پھیپھڑوں سے آکسیجن حاصل کرتا ہے اور پھیپھڑوں میں ہی جسم کے مختلف حصوں سے منتقل شدہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو خارج کرتا ہے ، جو بعد ازاں گردوں کے ذریعے فضلات کی شکل میں جسم سے باہر نکلتا ہے۔"

فقہ اسلامی اور عربی لغت میں بھی خون کی یہی تعریف ذکر کی گئی ہے ، چنانچہ "معجم متن اللغة" میں ہے :

"الدم هو ذلك السائل الأحمر الذي يجري في عروق جميع الحيوانات وعليه تقوم الحياة."[3]

"خون سے مراد وہ بہتا ہوا سرخ مادہ ہے ، جو تمام جاندار چیزوں کی رگوں میں گردش کرتا ہے اور اس پر زندگی کا قوام ومدار ہوتا ہے ۔"

یہی تعریف "معجم لغة الفقهاء" اور "لسان العرب " میں خون کی تعریف میں منقول ہے ۔

"الدم: أصله دمي ج دماء ودمي، السائل الاحمر الذي يجري في عروق الانسان والحيوان.[4]

نیز فقہاء کرام نے بھی اسی مفہوم میں لفظِ خون کا مفہوم لیا ہے ۔[5]

خون کی قسمیں :

خون کی حقیقت ، اجزاء ترکیبی کے بارے میں جدید سائنسی تفصیلات اور تحقیقات سے ہٹ کر شرعی نقطہ نظر سے خون کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں، چنانچہ قرآن مجید کی روسے جس خون سے حلال وحرام کے احکام متعلق ہیں، اس کی دو قسمیں ہیں: بہنے والا خون (دم مسفوح ) اور نہ بہنے والا خون (دم غیر مسفوح )۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

"قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ"[6]

"(اے پیغمبر ان سے )کہو کہ جو وحی مجھ پر نازل کی گئی ہے اس میں تو میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس کا کھانا کسی کھانے والے کے لیے حرام ہو، الّا یہ کہ وہ مردار ہو، یا بہتا ہوا خون ہو، یا سور کا گوشت ہو،کیونکہ وہ ناپاک ہے، یا جو ایسا گناہ کا جانور ہو جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو ۔ ہاں جو شخص (ان چیزوں میں سے کسی کے کھانے پر) انتہائی مجبور ہوجائے ، جبکہ وہ نہ لذت حاصل کرنے کی غرض سے ایسا کر رہا ہو اور نہ ضرورت کی حد سے آگے بڑھے، تو بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔"[7]

جبکہ سورۃا لبقرۃ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

"إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ"[8]

" ا س نے تمارے لیے بس مردار ، خون اور سور کو حرام کیا ہے ، نیز وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکار اگیا ہو ۔ ہاں اگر کوئی شخص انتہائی مجبوری کی حالت میں ہو (اور ان چیزوں میں سے کچھ کھالے ) جبکہ ا س کا مقصد نہ لذت حاصل کرنا ہو اور نہ وہ (ضرورت کی ) حد سے آگے بڑھے ، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ یقیناً اللہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے ۔[9]

اسی مفہوم کے ساتھ خون کا حکم سورۃ المائدہ) [10](اور سورۃ النحل )[11](میں مذکور ہے ۔

مذکورہ بالا سورۂ بقرۃ ، سورۂ مائدۃ اور سورۂ نحل میں مطلق خون کے حرام ہونے کا ذکر ہے ، چاہے وہ بہتا ہوا خون ہو یا نہ ہو ، جبکہ سورہ انعام میں خون کے حکم کو "مسفوح" کے ساتھ مقید کیا گیا ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف وہ خون نجس اور حرام ہے جو بہنے ولاخون ہو ۔اس حوالے سے تمام مفسرین اور اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ سورہ بقرہ ، سورہ مائدہ اور سورہ نحل میں مذکور خون اس شرط کے ساتھ ہو جب وہ بہتا ہوا ہو اور رگوں سے الگ ہو ۔تفسیر قرطبی میں ہے :

"والمسفوح: الجاري الذي يسيل وهو المحرم وغيره معفو عنه وعليه إجماع العلماء. وقال عكرمة: لولا هذه الآية لاتبع المسلمون من العروق ما تتبع اليهود. وقال إبراهيم النخعي: لا بأس بالدم في عرق أو مخ."[12]

"مسفوح سے مراد بہنے والا جاری خون ہے اور وہی حرام ہے اس کے علاوہ معاف ہے ۔ اور اسی پر علماء کا اجماع ہے ، حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ آیت نہ ہوتی تو مسلمان رگوں کے اندر سے خون اس طرح تلاش کرتے جیسے یہودی تلاش کرتے ہیں ۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ رگوں اور مغز کے اندر رہنے والا خون معاف ہے ۔"

امام طبری فرماتے ہیں :

"وفي اشتراطه جل ثناؤه في الدم عند إعلامه عبادَه تحريمه إياه، المسفوحَ منه دون غيره، الدليلُ الواضح أنَّ ما لم يكن منه مسفوحًا، فحلال غير نجس."[13]

"اس آیت میں اللہ تعالی کی طرف سے اپنے بندوں کےلیے خون کی حرمت کا اعلان کرتے ہوئے مسفوح کی شرط اس بات کی دلیل ہے کہ جو خون مسفوح نہیں وہ حرام اور نجس نہیں ۔"

امام طبری نے اس کے بعد اس بات کی دلیل کے طور پر حضرت عائشہ ، حضرت ابن عباس ، حضرت عکرمہ ، حضرت ابوقتادہ اور حضرت ابو مجلز رضی اللہ عنہم کی روایات نقل کی ہے ، جس میں ہے کہ دم مسفوح کے علاوہ باقی خون معاف ہے اور اس کے اندرونی یا بیرونی استعمال میں کوئی حرج نہیں ۔[14]

تفسیر مظھری میں ہے :

"والدم أراد به الجاري منه اجماعا."[15]

"خون سے مراد بالاجماع جاری یعنی بہتاہوا خون ہے ۔"

تفسیر ماتریدی میں ہے :

"وفي قوله: (أو دما مسفوحا).: دلالة أن المحرم من الدم هو المسفوح، والدم الذي يكون في اللحم ويخالط اللحم ليس بحرام."[16]

"اللہ تعالی کے اس قول "دما مسفوحا "میں اس بات کی دلیل ہے کہ حرام صرف بہنے ولا خون ہے اور جو خون گوشت کے اندر ہوتا ہے اور گوشت کے ساتھ مخلوط ہوتاہے وہ حرام نہیں ۔"

تفسیر بغوی میں ہے :

"أو دما مسفوحا، أي: مهراقا سائلا، قال ابن عباس: يريد ما خرج من الحيوان، وهن أحياء وما يخرج من الأوداج عند الذبح، ولا يدخل فيه الكبد والطحال، لأنهما جامدان. وقد جاء الشرع بإباحتهما ولا ما اختلط باللحم من الدم" [17]

"دم مسفوح سے مراد وہ ہے جو بہتا ہو ، ابنِ عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ خون ہے جو حیوان سے حالتِ زندگی یا ذبح کے بعد رگوں سے نکلتا ہے اور اس حکم میں جگر اور تلی کا خون شامل نہیں کیونکہ وہ جامد ہے، بہنے والا نہیں اور شریعت نے ان دونوں کو مباح قرار دیا ہے۔ اس حکم میں وہ خون بھی شامل نہیں جو گوشت کے ساتھ مل گیا ہو۔"

اس کے علاوہ دیگر مفسرین حضرات جیسے تفسیر "زاد المسير"، تفسیر "النسفي"، تفسیر "البحر المحيط"، تفسیر " ابن كثير"، تفسیر "الجلالين"، تفسیر "السراج المنير"، تفسیر "روح البيان"، تفسیر "فتح القدير" اور تفسیر "الوسيط" وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے ۔[18]

خلاصہ :

مذکورہ بالا تفصیل سے یہ واضح ہوا کہ خون کی دو قسمیں ہیں، ایک بہنے والا خون اور دوسرا نہ بہنے والا خون ۔ نیز یہ بھی واضح ہوا کہ قرآن مجید ، سنت اور اجماع ِ امت کی روسے حرمت کے احکام کا اطلاق دم ِ مسفوح یعنی بہنے والے خون پر ہوتا ہے ۔

بری اور بحری حیوانات کے خون میں فرق :

خون کے اعتبار سے بری اور بحری حیوانات کے حکم میں فقہاءکرام کی آراء مختلف ہیں :

فقہ حنفی کی رو سے تمام بحری حیوانات کا خون پاک ہے اس لیےکہ ان کے نزدیک بحری حیوانات کا خون اصطلاحی خون نہیں بلکہ ایک رطوبت ہے جو خشک ہونے پر سیاہ ہو جاتی ہے ۔ اس لیے ان کے نزدیک تمام سمندری حیوانات کا خون پاک ہے اور اسی وجہ سے تمام سمندری حیوانات کا مردار بھی پاک ہے ، لہٰذا اگر بحری حیوان کی موت پانی یا کسی اور مائع (Liquid) کے اندر واقع ہوجائے تو وہ چیز نجس نہیں ہوتی۔ علامہ ابن الہمام فرماتے ہیں :

"قال (وموت ما يعيش في الماء فيه لا يفسده كالسمك والضفدع والسرطان) لأن ما يعيش في الماء لا دم فيه."[19]

"پانی میں رہنے والی چیز کی موت اگر پانی میں ہوجائے تو اس سےپانی ناپاک نہیں ہوتا ، جیسے مچھلی ، مینڈک ،کیکڑا وغیرہ کیونکہ پانی میں رہنے والے جانوروں میں خون نہیں ہوتا ۔"

امام محمد ؒ فرماتے ہیں :

"ليس دم السمك بشيء ولا يفسد شيئا."[20]

"مچھلی کا خون کوئی (نجس) چیز نہیں اور اس کی وجہ سے کوئی چیز ناپاک نہیں ہوتی۔"

امام سرخسی فرماتے ہیں :

"دم السمك ليس بشيء يعني ليس بنجس، وقد بينا أنه ليس بدم حقيقة، وروى الحسن بن زياد عن أبي حنيفة في الكبار الذي يسيل منه دم كثير أنه نجس، ولا اعتماد على تلك الرواية."[21]

"مچھلی کا خون کوئی خون نہیں یعنی ناپاک نہیں ، اور ہم نے ہی بیان کیا ہے کہ یہ حقیقت میں خون نہیں ۔ البتہ حسن بن زیاد نے امام ابوحنیفہ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ بڑی مچھلیاں جن سے زیادہ مقدار میں خون بہتا ہے وہ نجس ہے ، لیکن یہ روایت قابلِ اعتماد نہیں ۔ "

یعنی مچھلی چھوٹی ہو یا بڑی اس کا خون نجس نہیں ۔

علامہ کاسانی ؒ فرماتے ہیں :

"(وأما) دم السمك فقد روي عن أبي يوسف أنه نجس وبه أخذ الشافعي اعتبارا بسائر الدماء، وعند أبي حنيفة ومحمد طاهر لإجماع الأمة على إباحة تناوله مع دمه، ولو كان نجسا لما أبيح لأنه ليس بدم حقيقة بل هو ماء تلون بلون الدم؛ لأن الدموي لا يعيش في الماء."[22]

"مچھلی کا خون امام ابویوسف ؒ اور امام شافعی ؒ کے نزدیک دوسرے عام خون پر قیاس کی وجہ سے نجس ہے ، جبکہ امام ابوحنیفہ اور امام محمدؒ کے نزدیک مچھلی کا خون پاک ہے ا س لیے کہ اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ مچھلی کو خون سمیت کھانا جائز ہے اور اگر یہ نجس ہوتا تو یہ جائز نہ ہوتا کیونکہ مچھلی کا خون درحقیقت خون نہیں ، بلکہ یہ پانی ہے جس نے خون کی بظاہر شکل اختیار کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خون والا حیوان پانی کے اندر زندہ نہیں رہ سکتا ۔"

صاحبِ ھدایہ نے بھی یہی بات فرمائی ہے ۔[23] علامہ أبو بكر بن علي بن محمد الحدادي، صاحبِ جوہرہ فرماتے ہیں :

"(قوله: وموت) (ما يعيش في الماء) إذا مات في الماء لا يفسده سواء كان له دم سائل أو لا"[24]

"پانی میں رہنے والی چیز کی پانی میں موت سے پانی ناپاک نہیں ہوتا ، چاہے اس چیز میں بہتا ہوا خون ہو یا نہ ہو۔"

علامہ ابن نجیم ؒ فرماتے ہیں :

"دم السمك فلأنه ليس بدم على التحقيق، وإنما هو دم صورة؛ لأنه إذا يبس يبيض والدم يسود وأيضا الحرارة خاصية الدم والبرودة خاصية الماء فلو كان للسمك دم لم يدم سكونه في الماء، أطلقه فشمل السمك الكبير إذا سال منه شيء، فإن ظاهر الرواية طهارة دم السمك مطلقا"[25]

"مچھلی کا خون درحقیقت کوئی خون نہیں اور یہ صر ف ظاہری صورت میں خون ہے ، اس لیے کہ یہ جب خشک ہوجائے تو سفید ہوجاتا ہے جبکہ خون خشک ہونے پر کالا ہوجاتا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ خون کا مزاج گرم ہےاسے گرمی چاہیے، اور پانی کا مزاج ہے ٹھنڈا ، تو اگر مچھلی میں خون ہوتا تو وہ دائمی طور پر پانی میں نہ رہتی۔ یہ حکم بڑی اور چھوٹی ہر طرح کی مچھلی کا ہے جب اس سے کوئی چیز بہہ نکلے، کیونکہ ظاہر روایت کے مطابق مچھلی کا خون مطلقاً (Absolutely) پاک ہے ۔"

علامہ ابن عابدین ؒ فرماتے ہیں :

"المذهب أن دم السمك طاهر؛ لأنه دم صورة لا حقيقة"[26]

"فقہ حنفی کا موقف یہ ہے مچھلی کا خون پاک ہے کیونکہ یہ صورتاً خون ہے ، حقیقتا نہیں ۔"

احناف کی فقہی رائے کی طرح مچھلی اور دیگر حیوانات کے خون کا یہ فرق عربی لغت کی کتابوں سے بھی مفہوم ہوتا ہے۔

چنانچہ لسان العرب میں خون کی تعریف کے ضمن میں یہ مذکور ہے:

"وكلُّ شيءٍ في لوْنِهِ سَوادٌ وحُمْرة فهو مُدَمّىً، والمدمَّى السهم الذي عليه حُمْرة الدَّمِ وقد جَسِدَ به حتى يضرِبَ إلى السَّواد"[27]

"ہر وہ چیز جس کی رنگت میں سیاہی اور سرخی ہو وہ خون کا رنگ ہے ۔ اسی طرح "مدمی " عربی میں اس تیر کو کہتے ہیں جس کو خون لگا ہو اور تھوڑا بہت خشک ہونے کے بعد سیاہ مائل ہو گیا ہو۔"

جبکہ مچھلی کے خون میں اصالۃً کالا رنگ نہیں ہے جو کہ عام مشاہدے سے واضح ہے ۔نیز مچھلی کے اندر بہتا ہوا خون نہ ہونے کی وجہ سے مچھلی کے حلال ہونے کے لیے ذبح شرط نہیں کیونکہ ذبح بنیادی طور پر نجس خون کے اخراج کے لیے ہوتا ہے جبکہ مچھلی کے اندر نجس خون ہوتا نہیں۔ علامہ سرخسی ؒ فرماتے ہیں :

"والحيوانات نوعان: نوع منها ما لا دم له، فلا يحل تناول شيء منها إلا السمك، والجراد؛ لأن شرط تناول الحيوانات الذكاة شرعا، وذلك لا يتحقق له فيما لا دم له."[28]

"حیوانات کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جن میں خون نہیں ہوتا ان میں سوائے مچھلی اور ٹڈی کے کسی اور چیز کا کھانا جائز نہیں اس لیے کہ حیوانات کے حلال ہونے کے لیے ذبح شرط ہے اور ذبح اس چیز میں ہوتا ہے جس میں خون ہوتا ہے ۔"(لہذا مچھلی اور ٹڈی بغیر ذبح کے حلال ہے )

امام جصاص فرماتے ہیں :

"أما السمك فإن ذكاته بحدوث الموت فيه عن سبب من خارج."[29]

"مچھلی کا ذبح بس یہ ہے کہ اس کی موت کسی خارجی سبب سے ہو۔"

علامہ کاسانی ؒ فرماتے ہیں :

"الحرمة في الحيوان المأكول لمكان الدم المسفوح وأنه لا يزول إلا بالذبح والنحر."[30]

"حلال حیوانات میں حرام ہونے کی اصل وجہ اس کے اندر دم مسفوح کا ہونا ہے اور دمِ مسفوح بغیر ذبح و نحر کے زائل نہیں ہوتا۔"(گویا کہ جس چیز میں دم مسفوح نہیں اس کا ذبح بھی نہیں ۔)

جدید سائنس بھی بظاہر احناف کے موقف کی تائید کرتی ہے :

جدید سائنس کی رو سے مچھلی کا نظامِ تنفس (Respiratory System) اور دورانِ خون کا نظام (Circulatory System) بری حیوانات سے مختلف ہے ۔ جس سے احناف کے موقف کی تائید ہوتی ہے ۔ چنانچہ جدید سائنس کے مطابق عام طور پر بری حیوانات کے جسم میں اندرونی طور پر آکسیجن کے حصول اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا کام رگوں میں بہنے والے خون کے ذریعے ہوتا ہے ، جبکہ مچھلی اور دیگر پانی میں رہنے والے بحری حیوانات کے جسم میں اندرونی طور پر آکسیجن کے حصول اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا کام رگوں میں بہنے والے خون کی بجائے بنیادی طور پر پانی کے ذریعے گلپھڑوں کے راستے سے ہوتا ہے۔

مچھلی کے نظامِ تنفس (Respiratory System) کے بارے میں انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں ہے :

The Respiratory System: Oxygen and carbon dioxide dissolve in water, and most fishes exchange dissolved oxygen and carbon dioxide in water by means of the gills.”[31]

"آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ پانی میں تحلیل (Dissolve) ہوجاتے ہیں اور اکثر مچھلیاں پانی میں تحلیل شدہ آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا گلپھڑوں کے ذریعے تبادلہ کرتی ہیں ۔"

جبکہ مچھلی کے دورانِ خون کے نظام (Circulatory System) کے بارے میں انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں ہے :

"The Circulatory System: The circulation of fishes thus differs from that of the reptiles, birds, and mammals, in that oxygenated blood, is not returned to the heart prior to distribution to the other parts of the body."[32]

"مچھلیوں کے کا دورانِ خون کا نظام دوسرے حیوانات مثلاً پرندوں ، ممالیہ اور رینگنے والے جانوروں سے مختلف ہوتا ہے، کہ مچھلیوں میں آکسیجن ملا خون (Oxygenated Blood) جسم کے دیگر حصوں کو تقسیم ہونے سے پہلے دل کو واپس نہیں آتا۔" (جبکہ بری حیوانات میں اس کے خلاف ہوتا ہے ۔)

اسی طرح جیسا کہ علامہ ابنِ نجیم نے فرمایا کہ خون کا مزاج وفطرت (Nature) گرم ہے اور پانی کا مزاج ٹھنڈا ہے ، لہذادو متضاد چیزیں ایک جگہ نہیں رہ سکتیں۔ جدید سائنس بھی یہی کہتی ہے کہ خون کا مزاج گرم ہے اور اس کے دوران کو بحال رکھنے کے لیے جسم کے اندر ہر وقت گرمی کی ضرورت ہوتی ہے ، اگر کسی بھی وقت یہ میسر نہیں رہی اور خون منجمد ہوگیا تو چند منٹوں میں حیوان کی موت واقع ہو جاتی ہے ۔چنانچہ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں ہے :

"Blood is both a tissue and a fluid. It is a tissue because it is a collection of similar specialized cells that serve particular functions. These cells are suspended in a liquid matrix (plasma), which makes the blood a fluid. If blood flow ceases, death will occur within minutes because of the effects of an unfavorable environment on highly susceptible cells. The constancy of the  composition of the blood is made possible by the  circulation, which conveys blood through the organs that regulate the concentrations of its components."[33]

"خون ٹشوز اور سیال مادے کا مجموعہ ہے یہ ٹشو اس لیے ہے کہ یہ بھی خلیات کا مجموعہ ہے جو مختلف کام سرانجام دیتا ہے ۔ یہ خلیات ایک سیال پلازما (Liquid Plasma)کی صورت اختیار کرتے ہیں جو خون کو مائع کی صورت میں رکھتا ہے۔ اگر کسی وقت خون کا بہاؤ منجمد ہوجائے تو اس وقت انتہائی حساس خلیات پر نامناسب ماحول کے اثرات کی وجہ سے، چند منٹوں میں جاندار کی موت واقع ہوجائے گی کیونکہ اس کی اصل ساخت کو برقرار رکھنا صرف بہاؤ اور دوران کی وجہ سے ممکن ہے، جس کی بدولت خون مختلف اعضاء کے راستے پہنچ کر مطلوبہ اجزاء کی ترکیز کو قائم رکھتا ہے ۔"

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کی ان عبارات سے احناف کے موقف کی بظاہر تائید ہوتی ہے ، کیونکہ فقہ حنفی کے مطابق مچھلیوں کے اندر قوامِ زندگی کے مادے کا انکار نہیں کیا جاتا ، بلکہ اس بہنے والے مادے پر اصطلاحی نجس خون کا اطلاق نہیں ہوتا ۔ جس کی تعبیر فقہ حنفی کی عبارات میں اس طرح کی گئی ہے کہ عام طور پر خون خشک ہونے پر کالا پڑ جاتا ہے ، جبکہ مچھلیوں کا خون خشک ہونے پر کالا ہونےکی بجائے سفید زردی مائل ہوجا تا ہے ، جس سے دونوں کا فرق واضح ہوجاتا ہے ۔

خون کی مختلف قسموں کا شرعی حکم

خون سے متعلق بہت سے شرعی احکام ہیں، جن کو کتبِ فقہ میں مختلف ابواب میں ذکر کیا جاتا ہے ، مثلاً عبادات میں طہارت ونجاست کے باب میں جیسے ناقضِ وضو ہونا، نماز کے دوران خون کا نکلنا، حیض ونفاس کے مسائل میں، روزے کے لیے مفسد ہونا، حیض کے مسائل میں، قربانی کے جانور اور جنایات کے معنی میں اس کا استعمال، حلال و حرام، عقیقہ، قصاص وغیرہ بہت سے ابواب میں اس کا ذکر ہے ۔[34]

گزشتہ سطور میں قرآنِ مجید کی آیات اور مختلف تفاسیر کے حوالے سے یہ بات تفصیل سے گزری ہے کہ قرآن مجید میں جس خون کو حرام کہا گیا ہے اس سے مراد بہنے والا خون یعنی دم مسفوح ہے اور یہ کہ ایسا خون بالاجماع نجس اور حرام ہے ۔[35]

احادیث ِمبارکہ میں خون کی حرمت کا بیان :

خون کے حرام ہونے کے بارے میں احادیث شریف میں ایک واقعہ مذکور ہے :

"عن أبي أمامة رضي الله عنه، قال: بعثني رسول الله إلى قومي أدعوهم إلى الله تبارك وتعالى، وأعرض عليهم شرائع الإسلام، فأتيتهم وقد سقوا إبلهم، وأحلبوها، وشربوا فلما رأوني، قالوا: مرحبا بالصدي بن عجلان، ثم قالوا: بلغنا أنك صبوت إلى هذا الرجل قلت: «لا ولكن آمنت بالله وبرسوله، وبعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إليكم أعرض عليكم الإسلام وشرائعه، فبينا نحن كذلك إذ جاءوا بقصعة دم فوضعوها، واجتمعوا عليها يأكلوها» فقالوا: هلم يا صدي، فقلت: «ويحكم إنما أتيتكم من عند من يحرم هذا عليكم بما أنزله الله عليه» ، قالوا: وما ذاك؟ قلت: " نزلت عليه هذه الآية {حرمت عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير} [المائدة: 3] إلى قوله {إلا ما ذكيتم} [المائدة: 3] فجعلت أدعوهم إلى الإسلام ويأبون فقلت لهم: ويحكم ايتوني بشيء من ماء، فإني شديد العطش، قالوا: لا، ولكن ندعك تموت عطشا، قال: «فاعتممت وضربت رأسي في العمامة، ونمت في الرمضاء في حر شديد، فأتاني آت في منامي بقدح زجاج لم ير الناس أحسن منه وفيه شراب لم ير الناس ألذ منه فأمكنني منها، فشربتها فحيث فرغت من شرابي استيقظت ولا، والله ما عطشت، ولا عرفت عطشا بعد تلك الشربة» فسمعتهم يقولون: أتاكم رجل من سراة قومكم فلم تمجعوه بمذقة فأتوني بمذيقتهم فقلت: «لا حاجة لي فيها إن الله تبارك وتعالى أطعمني وسقاني فأريتهم بطني فأسلموا عن آخرهم»."[36]

"حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے میری قوم کی طرف بھیجا تاکہ میں ان کو اللہ کی طرف دعوت دوں، اور ا ن کے سامنے اسلام کے احکام رکھوں۔ پس میں ان کے پاس آیا، اسی وقت انھوں نے اپنے اونٹوں کو پانی پلایا، ان کا دودھ نکالا اور پیا ۔ جب انھوں نے مجھے دیکھا تو کہا کہ مرحبا اے صدی ابن عجلان! اس کے بعد انھوں نے کہا کہ ہمیں خبر پہنچی ہے کہ آپ نے اپنا دین چھوڑ کر اس آدمی (نبی کریم ﷺ) کا دین اختیار کیا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں، بلکہ میں تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا ہوں اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے آپ کی طر ف بھیجا ہے تاکہ آپ کی خدمت میں اسلام اور اس کے احکام پیش کروں۔ اس دوران وہ خون کا ایک برتن لا ئے اور اس کے گرد جمع ہوکر کھانے لگے، انھوں نے مجھے بھی کہا کہ آؤ، صدی! آپ بھی کھائیں۔ میں نے کہا کہ تمہارا ستیاناس ہو ، میں تو آپ لوگوں کے پاس اس شخص کی طر ف سے آیا ہوں جو یہ خون آپ لوگوں پر اس قرآن کی وجہ سے حرام کرتا ہے جو اس کے اوپر نازل ہوا ہے ،انھوں نے کہا کہ وہ کونسی آیت ہے جس کی وجہ سے یہ حرام ہوا ہے ؟ میں نے ان کو سور ۂ مائدۃ کی آیت نمبر تین "حرمت عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير" سنائی۔ اس کے بعد میں ان کو اسلام کی دعوت دیتا رہا اور اور وہ انکار کرتے رہے ۔ تھوڑی دیر بعد میں نے کہا مجھے پانی پلا دو کیونکہ مجھے شدید پیاس لگی ہے ، انھوں نے کہا کہ نہیں دیں گے حتی کہ تو مرجائے ۔ (ابوامامہ کہتے ہیں کہ) اس کے بعد مجھ پر غنودگی آئی اور میں عمامہ پر سر رکھ کر ریتلی زمین پر سخت گرمی میں سو گیا ۔ خواب میں ایک شخص میرے پاس انتہائی خوبصورت شیشے کے برتن میں کوئی مشروب لے آیا کہ اس سے زیادہ لذیذ مشروب کسی نے نہیں دیکھا اور مجھے پکڑایا ، وہ میں نے پیا ، تو جیسے میں وہ پی کر فارغ ہوا میری آنکھ کھل گئی ، اور اللہ کی قسم اس مشروب کے بعد نہ مجھے پیاس لگی ہے اور نہ ہی پیاس نام کی چیز کا احساس ہوا ہے۔اس کے بعد میں نے ان کو آپس میں کہتے ہوئے سنا کہ آپ کے پاس تمہاری قوم کا معزز شخص آیا ہوا ہے اور تم نے ان کو ایک نوالہ تک کھلانے یا پانی پلانے سے انکار کردیا ۔ یہ سن کر وہ میرے پاس کھانا لے کر آئے ، میں نے کہا کہ مجھے اب اس کی کوئی ضرورت نہیں ، کیوں اللہ تعالیٰ نے مجھے کھلایا بھی اور پلایا بھی ۔اور میں نے ان کو اپنا پیٹ دکھایا ، یہ دیکھ کر وہ سب کے سب مسلمان ہوگئے۔

زیرِ بحث موضوع سے متعلق بہنے والے خون کے تین احکام کا ذکر کرنا ضروری ہے ، ایک نجاست وطہارت ، دوسرے حلت و حرمت ، تیسرے خرید وفروخت۔

خون (دم مسفوح )کی نجاست وطہارت اور حلت وحرمت کا شرعی حکم :

بہنے والا خون کے بارے میں امتِ مسلمہ تمام مفسرین کرام ، محدثین عظام اور فقہاء کرام کی بالاجماع یہ رائے ہے کہ یہ نجس ، ناپاک اور حرام ہے ۔ذیل میں مختصرا ً مختلف فقہاءکرام کی آراء کا ذکر کرتے ہیں :

علامہ دردیر مالکی ؒ نجس اشیاء میں منی ، مذی اور ودی کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ دم مسفوح نجس ہے چاہے کسی بھی چیز کا بہتا ہوا خون ہو۔[37]

مالکیہ کے مشہور عالم شیخ ابن العربی ؒ فرماتے ہیں کہ اس پر تمام علماءکرام متفق ہیں کہ خون حرام اور نجس ہے اس کا کھانا اور اس سے کسی قسم کا نفع اٹھانا جائز نہیں ۔[38]

فقہ مالکی کے مشہور عالم اور قرآن کریم کے مشہور مفسر علامہ قرطبی ؒ فرماتے ہیں کہ تمام علماءکرام کے نزدیک خون بالاتفاق نجس اور حرام ہے ، اس کا کھانا اور اس سے کسی قسم کا نفع اٹھانا جائز نہیں ۔ابن ِ حویز منداد کہتے ہیں کہ خون حرام ہے جب تک اس میں عمومِ بلویٰ نہ ہو، ہاں البتہ جس میں عمومِ بلویٰ ہو وہ معاف ہے۔ عمومِ بلویٰ کے خون کی مثالیں وہ خون ہے جو گوشت اور رگوں کے اندر رہ جائے ۔ ایسے خون کی تھوڑی سی مقدار معاف ہے اور اس کے ساتھ نماز جائز ہے ۔[39]

اس کے علاوہ مالکیہ کی دیگر کتب میں اسی بات کی تصریح ہے ۔[40]

فقہ حنفی کے مشہور عالم علامہ شامی ؒ امام ابوحنیفہ ؒ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ خون حرام ہے ، کیوں کہ اس کی حرمت دلیلِ قطعی یعنی قرآن مجید کی آیت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے ۔[41]

علامہ عینی ؒ فرماتے ہیں کہ خون باجماعِ امت نجس ہے ۔[42] ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ خون نجسِ مغلظ ہے ۔[43]

فقہ شافعی کے مشہور عالم اور قرآن کریم کے مشہور مفسر امام رازی ؒ فرماتے ہیں کہ امام شافعی ؒ کے نزدیک ہر قسم کا خون نجس اور حرام ہے ، چاہے وہ خون بہنے والا ہو یا نہ بہنے والا ہو، چاہے وہ بری جانوروں کا ہو یا بحری جانوروں کا ہو۔ ہاں البتہ اتنی بات ہے کہ اس میں انسان اتنا مکلف ہے کہ جتنا اس سے بچ سکتاہے ، اور جہاں جہاں حرج ہو وہ جائز ہے، مثلاً گوشت کے اندر رہنے والا خون وغیرہ جس کے نکالنے اور الگ کرنے میں بہت زیادہ حرج ومشقت ہوتی ہے ۔[44]

فقہ حنبلی کی مشہور کتاب "الکافی " کے مصنف ابن قدامہ مقدسی فرماتے ہیں کہ خون نجس ہے اس حدیث کی وجہ سے جس میں حضرت اسماء نے نبی کریم ﷺ سے ارشاد فر مایا کہ خون کو پانی سے دھو لیا کریں اور اس وجہ سے کہ قرآن کی آیت کی رو سے خون مردار کی طرح نجس العین ہے ، سوائے مچھلی کے خون کے کہ اس کا مردار بھی پاک ہے اور جن حیوانات میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا ، مثلاً مکھی ، جوں وغیرہ۔ ان کے خون کے بارے میں فقہ حنبلی کے دو قول ہیں، ایک کے مطابق ناپاک ہے کیونکہ خون تو ہے اور دوسرے کے مطابق پاک ہے کیونکہ یہ ایسےحیوانات کا خون ہوتا ہے جس کا مردار پاک ہے تو اس کا خون بھی پاک ہے ، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآن میں دم مسفوح کو حرام قرار دیا ہے۔[45]

علامہ ابن ِ حزم ظاہری ؒ فرماتے ہیں کہ خون میں سے کوئی چیز کھانا یا اس کا استعمال حلال نہیں ، چاہے وہ بہتا ہوا خون ہو یا نہ ہو ، البتہ خون سے بننے والا مشک حلال ہے۔ اس کے علاوہ رگوں کے اندر رہنے والا خون جب ظاہر نہیں تو اس پر خون کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔ مشک اس وجہ سے حلال اور پاک ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ مشک کاا ستعمال فرمایا کرتے تھے اور اللہ تعالی نے ان کو اس پر برقرار رکھا، ان کے لیے اور ہمارے لیے بھی اس کو مباح کیا، اور یہ بات اللہ کو خوب معلوم ہے کہ مشک دراصل خون ہی ہے جو حیوان کے اندر پیدا ہوتا ہے ۔[46] ابن حزم کی اس عبارت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک شرعی احکام میں انقلابِ ماہیت کا اصول مؤثر ہے۔

خلاصہ:

خون کے بارے میں قرآن وسنت ، اجماع اور تمام فقہاء کرام کی آراء کا خلاصہ یہ ہے کہ حرام اور نجس ہے، اس سے براہِ راست کسی بھی قسم کا انتفاع جائز نہیں ۔

خون کی خرید وفروخت کا شرعی حکم :

جیسا کہ ذکر ہوا کہ خون نجس اور حرام ہے ، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے لیے خون کا براہ ِ راست استعمال بھی حرام ہے لہٰذا اس کی خرید وفروخت بھی اصالۃً ناجائز ہے، تاہم عصر حاضر میں ٹیکنالوجی کی وجہ سے فوڈ سائنس کے بعض شعبوں میں خون کا استعمال ہوتا ہے جیسا کہ حیوانات کی خورا ک میں خون کا استعمال ہوتا ہے ، اس کا حکم آگے آئے گا۔

خون حرام ہونے کی علت وحکمت :

خون کی حرمت کی اصل علت تو قرآن مجید کی وہ آیات ہیں ، جن میں اللہ تعالی نے خون کو حرام قرار دیا ہے ، جس کا ذکر گزر گیا ہے ۔البتہ اس کی حکمت کے طور پر علماء کرام فرماتے ہیں کہ خون اس وجہ سے حرام ہے کہ یہ انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔ چنانچہ علامہ وہبہ زحیلیؒ فرماتےہیں :

"سبب تحريم الدم المسفوح: اشتماله على أنواع الجراثيم والميكروبات لأن الدم بيئة صالحة لتفريخ الميكروبات ومباءة للجراثيم."[47]

خون کے حرام ہونے کا سبب یہ ہے کہ یہ مختلف جراثیم اور مائکروبئل پر مشتمل ہے کیوں کہ خون مائکروبئل اور جراثیم کے لیے ایک بہترین ماحول فراہم کرتا ہے ۔"

فقہاء کرام نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ شرعی ذبیحہ کامقصد وحکمت دراصل نجس و مضر خون کا بہانا ہے ، اسی وجہ سے جن حلال حیوانات کے اندر دم مسفوح نہیں ہوتا وہ ذبیحہ کے بغیر حلا ل ہیں ۔[48]

انڈسٹری وائز خون (Blood) کے استعمال کا شرعی حکم

واضح رہے کہ سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی کی بدولت موجودہ دور میں مختلف چیزوں میں کئی مقاصد کے لیے خون استعمال ہوتاہے۔ ذیل میں چند انڈسٹریز کا بطورِ مثال شرعی حکم ذکر کرتے ہیں، تاہم کسی بھی انڈسٹری میں خون کے استعمال کی عملی صورت کے شرعی حکم کے لیے کسی مستند شرعی تحقیقاتی ادارے یا شرعی ماہرین سے رجوع کرنا ضروری ہے ۔

فوڈ انڈسٹری میں خون کے استعمال کا شرعی حکم

خون کا استعمال فوڈ انڈسٹری کی مصنوعات میں کسی بھی مقدار میں جائز نہیں ۔

کھانے پینے کی مصنوعات میں استعمال ہونے والے کیمیکل اور فلیور انڈسٹری میں خون کے استعمال کا شرعی حکم

خون کا استعمال کھانے پینے کی اشیاء میں استعمال ہونے والے کیمیکل اور فلیور انڈسٹری کی مصنوعات (Food Grade Chemicals & Flavors) میں کسی بھی مقدار میں جائز نہیں ۔

مشروبات کی انڈسٹری میں خون کے استعمال کا شرعی حکم

مشروبات (Beverages) میں خون کا استعمال کسی بھی مقدار میں جائز نہیں۔

فارما انڈسٹری میں خون کے استعمال کا شرعی حکم

فارما انڈسٹری کی مصنوعات میں عام طور پر خون کا استعمال حرام ہے۔ فارما انڈسٹری کی مصنوعات میں اگر کسی دوا میں حلال وپاک متبادل نہ ہونے کی بناء پر خون استعمال ہوا ہے تو اس پر تداوی بالحرام کے شرعی احکام وشرائط جاری ہوں گے۔

سنگھار اور ذاتی استعمال کی صنعت (Cosmetics & Personal Care Products Industry) میں خون کے استعمال کا شرعی حکم

خون کا استعمال کاسمیٹکس اورپرسنل کئیر پراڈکٹس انڈسٹری کی مصنوعات میں جائز نہیں ۔

حیوانات کی خوراک کی صنعت(Animal Feeds Industry) میں خون کے استعمال کا شرعی حکم

  • تمام بری وبرمائی جانوروں ( حلال ہوں یا حرام،شرعی طریقہ پر ذبح شدہ ہوں یا غیر شرعی طریقہ پر )کی رگوں سے نکلنے والا بہتا ہوا خون بالاجماع ناپاک اورحرام ہے، لہٰذا خالص خون کی بیع ناجائزہےاور اس کی کمائی بھی حرام ہے۔[49]
  • تمام جانوروں کی رگوں سے نکلنے والے بہتے ہوئے خالص خون کی بطورِ خام مال (Raw Material) ہر قسم کے حیوانات کی خوراک کے لیے وصولی وفراہمی(Supply & Handling)، اس کی خرید و فروخت(Sale & Purchase) ، اس کا کاروبار (Business) کرنا اور اس سے حاصل شدہ آمدنی (Income) جائز نہیں ۔[50]
  • تمام جانوروں کی رگوں سے نکلنے والا بہتا ہوا خالص خون اگر کسی پاک چیز کے ساتھ خود مخلوط (Mix) ہوجائے[51]یا بہتا ہوا خالص خون اگر سپلائی یا فیکٹری میں حیوانات کی خوراک کی تیاری سے پہلے کسی پاک چیز کے ساتھ قصداً ملایا گیا ، تو اس طرح خون کا ملانا ایک ناجائز عمل ہے جس کا گناہ ہوگا،[52] البتہ اگر اس مخلوط چیز میں پاک چیز غالب اور خون مغلوب ہو تو ہر قسم کے حیوانات کی خوراک کے لیے ایسے مخلوط خام مال (Raw Material) کی وصولی وفراہمی، خرید و فروخت، کاروبار اور اس سے حاصل شدہ آمدنی، خرید وفروخت کی دیگر شرعی شرائط کو مدِ نظر رکھتے ہوئے خام مال کی حد تک جائز ہے۔[53]
  • شرعی طریقے پر ذبح شدہ حلال حیوانات کی رگوں سے نکلنے والے بہتے ہوئے خون کے علاوہ باقی خون ضرورت اور حرج کی وجہ سے پاک ہے ، جیسے حلال گوشت کے اندر بھی کچھ نہ کچھ خون باقی رہتا ہے ، لہٰذا ایسا خون کسی پاک چیز کے تابع ہو کر بیچنے میں کوئی حرج نہیں اوراس سے کمائی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔[54]
  • ناپاک چیزیں انقلابِ ماہیت کے بعد احناف کے نزدیک پاک ہوجاتی ہیں لہٰذا انقلابِ ماہیت مثلاً جلا کر راکھ کر دینے کے بعد، ہر قسم کے حیوانات کی خوراک کے لیے خون کی بطورِ خام مال ترسیل، استعمال، کاروبار اور اس سے حاصل شدہ آمدنی جائز ہے۔[55]
  • حیوانات کی خوراک کی صنعت میں بحری حیوانات کے خون سمیت تمام اجزاء کا استعمال جائز ہے ۔[56]

نتائجِ بحث (Conclusion) :

  • قرآن مجید ، سنت اور اجماع ِ امت کی روسے حرمت کے احکام کا اطلاق دم ِ مسفوح یعنی بہنے والے خون پر ہوتا ہے ۔
  • بہنے والے خون کے بارے میں امتِ مسلمہ تمام مفسرین کرام ، محدثین عظام اور فقہاء کرام کی بالاجماع یہ رائے ہے کہ یہ نجس اور حرام ہے اور اس سے براہ راست کسی بھی قسم کا انتفاع جائز نہیں ۔
  • تمام بری وبرمائی جانوروں کا بہتا ہوا خون ناپاک اورحرام ہے، لہٰذا اس کی بیع اور کمائی بھی ناجائز ہے۔
  • حیوانات کی خوراک کے لیے دم مسفوح کی ترسیل ، کاروبار اور آمدنی جائز نہیں ۔
  • دم مسفوح اگر کسی پاک چیز کے ساتھ خود مخلوط ہوجائے یا بہتا ہوا خالص خون اگر سپلائی یا فیکٹری میں حیوانات کی خوراک کی تیاری سے پہلے کسی پاک چیز کے ساتھ قصداً ملایا گیا ، تو اس طرح خون کا ملانا ایک ناجائز عمل ہے جس کا گناہ ہوگا، البتہ اگر اس میں مخلوط چیز میں پاک چیز غالب ہو اور خون مغلوب ہو تو حیوانات کی خوراک کے لیے اس کے استعمال کی گنجائش ہے۔
  • شرعی طریقے پر ذبح شدہ حلال حیوانات کی رگوں سے نکلنے والے بہتے ہوئے خون کے علاوہ باقی خون ضرورت اور حرج کی وجہ سے پاک اور معاف ہے ۔
  • ناپاک چیزیں انقلابِ ماہیت کے بعد احناف کے نزدیک پاک ہوجاتی ہیں لہٰذا انقلابِ ماہیت مثلاً جلا کر راکھ کر دینے کے بعد خون کی بطورِ خام مال، ہر قسم کے حیوانات کی خوراک کے لیے، ترسیل ، استعمال ، کاروبار اور اس سے حاصل شدہ آمدنی جائز ہے۔
  • حیوانات کی خوراک کی صنعت میں بحری حیوانات کے خون سمیت تمام اجزاء کا استعمال جائز ہے ۔
  • خون کا استعمال کھانے پینے کی اشیاء میں استعمال ہونے والے کیمیکل اور فلیور انڈسٹری کی مصنوعات (Food Grade Chemicals & Flavors) میں کسی بھی مقدار میں جائز نہیں ۔
  • مشروبات (beverages) میں خون کا استعمال کسی بھی مقدار میں جائز نہیں۔
  • فارما انڈسٹری کی مصنوعات میں عام طور پر خون کاستعمال حرام ہے۔ فارما انڈسٹری کی مصنوعات میں اگر کسی دواء میں خون حلال وپاک متبادل نہ ہونے کی بناء پر خون استعمال ہوا ہے تو اس پر تداوی بالحرام کے شرعی احکام وشرائط جاری ہوں گے۔
  • خون کا استعمال کاسمیٹکس اورپرسنل کئیر پراڈکٹس انڈسٹری کی مصنوعات میں جائز نہیں ۔

This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.


حوالہ جات

  1. == حوالہ جات(References) == سورۃ البقرة: ۱۷۳ Surah al Baqarah: 173.
  2. https://www.britannica.com/science/blood-biochemistry, Friday, November 10, 2017, 7:10:34 PM, C. Lockard Conley, Robert S. Schwartz, Blood Biochemistry, https:// www.medicinenet.com/script/main/art.asp?articlekey=2483, Friday, Nov. 10, 2017, 6:43 PM. Medical Definition of Blood, http://www.dictionary.com/browse /blood, Friday, Nov. 10, 2017،6:47 PM
  3. احمد رضا، معجم متن اللغة، دار مكتبة الحياة، بيروت، 1380ھ، ۲:۴۵۶ Aḥmad Raḍā, Mu’jam Matn al Lughah, (Beirut: Dār Maktabah al Ḥayāt, 1380), 2:456.
  4. محمد رواس قلعجي، حامد صادق قنيبي، معجم لغة الفقهاء، دار النفائس للطباعة والنشر والتوزيع، طبع ثانی، ۱۹۸۸ء، ص: ۲۱۰ Muḥammad Rawās Qala’jī, Ḥāmid Ṣādiq Qunaybī, Mu’jam Lughah al Fuqahā‘, (Dār al Nafā‘is lil Ṭabā‘ah wal Nashr wal Tawzī’, 2nd Edition, 1988), p: 210.
  5. وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية، الكويت، الموسوعة الفقهية الكويتية، مطابع دار الصفوة، مصر، ۱۴۲۷ھ، ۲۱:۲۵۔ الدم بالتخفيف، هو ذلك السائل الأحمر الذي يجري في عروق الحيوانات، وعليه تقوم الحياة، واستعمله الفقهاء بهذا المعنى. Ministry of Awqāf and Religious Affairs, Kuwait, Al Mawsū‘ah al Fiqhiyyah al Kawaitiyyah, (Egypt: Maṭābi’ Dār al Ṣafwah, 1427), 21:25.
  6. سورۃ الأنعام: ۱۴۵ Surah al An’ām, 145.
  7. آسان ترجمہ قرآن ، مفتی محمد تقی عثمانی، مکتبہ معارف القرآن کراچی Usmānī, Muḥammad Taqī, Āsān Tarjamah Qur’ān, (Karachi: Maktabah Ma’ārif al Qur’ān).
  8. سورۃ البقرة: ۱۷۳ Surah al Baqarah, 173.
  9. آسان ترجمہ قرآن Āsān Tarjamah Qur’ān.
  10. سورۃ المائدة: ۳ Surah al Mā‘idah, 3.
  11. سورۃ النحل: ۱۱۵ Surah al Naḥal, 115.
  12. القرطبي ، محمد بن احمد، الجامع لأحكام القرآن، دار الكتب المصرية، القاهرة، طبع ثانی، ۱۹۶۴ء، ۷:۱۲۳ Al Qurṭabī, Muḥammad bin Aḥmad, Al Jāmi’ li Aḥkām al Qur’ān, (Cairo: Dār al Kutub al Miṣriyyah, 2nd Edition, 1964), 7:123.
  13. الطبري، محمد بن جرير، جامع البيان في تأويل القرآن، مؤسسة الرسالة، طبع اول، ۲۰۰۰ء، ۱۲:۱۹۳ Al Ṭabrī, Muḥammad bin Jarīr, Jāmi’ al Bayān fī Ta’vīl al Qur’ān, (Beirut: Mo’assasah al Risālah, 1st Edition, 2000), 12:193.
  14. تفسير الطبري، 12:193، الشوكاني، محمد بن علي، فتح القدير، دار الكلم الطيب، دمشق، بيروت، طبع اول ۱۴۱۴ھ، ۱:۱۹۵ Tafsīr al Ṭabrī, 12:193, Al Shawkānī, Muḥammad bin ‘Alī, Fatḥ al Qadīr, (Beirut: Dār al Kalim Al Ṭayyib, 1st Edition, 1414), 1:195.
  15. المظهري، محمد ثناء الله، التفسير المظهري، مكتبة الرشدية،پاكستان، ۱۴۱۲ھ، ۱:۱۷۰ Al Maẓharī, Muḥammad Thanā‘ Ullah, Al Tafsīr al Maẓharī, (Pakistan: Maktabah al Rashīdia, 1412), 1:170.
  16. الماتريدي ، محمد بن محمد بن محمود، تأويلات اهل السنة، دار الكتب العلمية، بيروت، لبنان، طبع اول، ۲۰۰۵ء، ۴:۲۹۹ Al Māturīdī, Muḥammad bin Muḥammad, Ta’vīlāt Ahl al Sunnah, (Beirut: Dār al Kutub al ‘Ilmiyyah, 1st Edition, 2005), 4:299.
  17. البغوي، حسين بن مسعود، معالم التنزيل في تفسير القرآن، دار إحياء التراث العربي، بيروت، طبع اول، ۱۴۲۰ھ، ۲:۱۶۶ Al Baghvī, Ḥusain bin Mas’ūd, Ma’ālim al Tanzīl fī Tafsīr al Qur’ān, (Beirut: Dār Iḥyā’ al Turath al ‘Arabī, 1st Edition, 1420), 2:166.
  18. الجوزي ، عبد الرحمن بن علي بن محمد، زاد المسير في علم التفسير، دار الكتاب العربي، بيروت، طبع اول ۱۴۲۲ھ، ۱:۳۳۔قال القاضي أبو يعلى: فأما الدم الذي يبقى في خلل اللحم بعد الذبح، وما يبقى في العروق فهو مباح. النسفي، عبد الله بن أحمد بن محمود، مدارك التنزيل وحقائق التأويل، دار الكلم الطيب، بيروت، طبع اول ۱۹۹۸ء، ۱:۱۵۱۔{والدم} يعني السائل لقوله في موضع آخر أو دما مسفوحا. ابو حيان، محمد بن يوسف، الأندلسي، البحر المحيط، دار الفكر، بيروت،۱۴۲۰ھ، ۴:۶۷۶۔ ابن كثير، اسماعيل بن عمر، تفسير القرآن العظيم، دار طيبة للنشر والتوزيع، طبع ثانی ۱۹۹۹ء، ۳:۳۵۲۔ المحلي، محمد بن احمد، السيوطي، عبد الرحمن بن أبي بكر، تفسير الجلالين، دار الحديث، القاهرة ، طبع اول، ص: ۱۸۸۔ الشربيني، محمد بن احمد، السراج المنير في الإعانة على معرفة بعض معاني كلام ربنا الحكيم الخبير، مطبعة بولاق، القاهرة، ۱۲۸۵ھ، ۱:۱۱۳۔ الخلوتي ، اسماعيل حقي بن مصطفى، روح البيان، دار الفكر، بيروت، ۳:۱۱۴۔ طنطاوي، محمد سيد، التفسير الوسيط للقرآن الكريم، دار نهضة مصر للطباعة والنشر والتوزيع، القاهرة، طبع اول جنوری ۱۹۹۷ء، ۱:۳۵۱۔ الموسوعة الفقهية الكويتية، ۵:۱۵۲ Al Jawzī, ‘Abdul Raḥmān bin ‘Alī, Zād al Masīr fī ‘Ilm al Tafsīr, (Beirut: Dār al Kitāb al ‘Arabī, 1st Edition, 1422), 1:33. Al Nasafī, ‘Abdullah bin Aḥmad, Madārik al Tanzīl wa Ḥaqā‘iq al Ta’vīl, (Beirut: Dār al Kalim Al Ṭayyib, 1st Edition, 1998), 1:151. Abū Ḥayān, Muḥammad bin Yūsuf, Al Baḥr al Muḥīṭ, (Beirut: Dār al Fikr, 1420), 4:767. Ibn Kathīr, Ismā‘īl bin ‘Umar, Tafsīr al Qur’ān al Aẓīm, (Dār Ṭayyibah lil Nashr wal Tawzī‘, 2nd Edition, 1999), 3:352. Al Maḥallī, Muḥammad bin Aḥmad, Al Sayūṭī, ‘Abdul Raḥmān bin Abī Bakr, Tafsīr al Jalālyn, (Cairo: Dār al Ḥadīth, 1st Edition), p:188. Al Sharbīnī, Muḥammad bin Aḥmad, Al Sirāj al Munīr fil I’ānah ‘Ala Ma’rifah Ba’ḍ Ma’ānī Kalām Rabbinā al Ḥakīm al Khābīr, (Cairo: Maktabah Bawlāq, 1st Edition, 1285), 1:113. Al Khalawtī, Ismā‘īl Ḥaqqī bin Muṣṭafa, Rūḥ al Bayān, (Beirut: Dār al Fikr), 3:114. Ṭanṭāvī, Muḥammad Syed, Al Tafsīr al Wasīṭ lil Qur’ān al Karīm, (Cairo: Dār Nahḍah Miṣr lil Ṭaba’ah wal Nashr wal Tawzī‘, 1st Edition, January 1997), 1:351. Al Mawsū‘ah al Fiqhiyyah al Kawaitiyyah, 5:152.
  19. ابن الهمام، محمد بن عبد الواحد، فتح القدير، دار الفكر، ۱:۸۳ Ibn al Humām, Muḥammad ‘Abdul Wāḥid, Fatḥ al Qadīr, (Dār al Fikr), 1:83.
  20. الشيباني، محمد بن الحسن، الأصل المعروف بالمبسوط، إدارة القرآن والعلوم الإسلامية، كراتشي، ۱:۷۱ Al Shaybānī, Muḥammad bin Al Ḥasan, Al Aṣal, (Karachi: Idārah al Qur’ān wal ‘Ulūm al Islāmia), 1:71.
  21. السرخسي، محمد بن احمد، المبسوط، دار المعرفة، بيروت، ۱۹۹۳ء، ۱:۸۷ Al Sarakhasī, Muḥammad bin Aḥmad, Al Mabsūt, (Beirut: Dār al Ma’rifah, 1993), 1:87.
  22. الكاساني، ابو بكر بن مسعود، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، دار الكتب العلمية، طبع ثاني، ۱۹۸۶ء، ۱:۶۱ Al Kāsānī, Abū Bakr bin Masūd, Badā‘i’ al Ṣanā‘i’ fī Tartīb al Sharā‘i’, (Beirut: Dār al Kutub al ‘Ilmiyyah, 2nd Edition, 1986), 1:61.
  23. المرغيناني، علي بن أبي بكر، الهداية في شرح بداية المبتدي، دار احياء التراث العربي، بيروت، ۱:۳۸۔ أما دم السمك فلأنه ليس بدم على التحقيق فلا يكون نجسا وعن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه اعتبر فيه الكثير الفاحش فاعتبره نجسا. Al Marghīnānī, ‘Alī bin ‘Abī Bakr, Al Hidayah, (Beirut: Dār Iḥyā’ al Turath al ‘Arabī), 1:38.
  24. الحدادي، ابو بكر بن علي، الجوهرة النيرة، المطبعة الخيرية، طبع اول، ۱۳۲۲ھ، ۱:۱۵ Al Ḥadādī, Abū Bakr bin ‘Alī, Al Jawharah al Nayyirah, (Al Maṭba’ah al Khayriyyah, 1st Edition, 1322), 1:15.
  25. ابن نجيم، زين الدين بن ابراهيم، البحر الرائق شرح كنز الدقائق، دار الكتاب الإسلامي، ۱:۲۴۷ Ibn Nujaym, Zain al Dīn bin Ibrāhīm, Al Baḥr al Rā‘iq, (Dār al Kitāb al Islāmī), 1:247.
  26. ابن عابدين، محمد امين بن عمر، رد المحتار، دار الفكر، بيروت، طبع ثاني، ۱۹۹۲ء، ۱:۳۲۲ Ibn ‘Ābidīn, Muḥammad Amīn bin ‘Umar, Radd al Muḥtār, (Beirut: Dār al Fikr, 2nd Edition, 1992), 1:322.
  27. ابن منظور ، محمد بن مكرم، لسان العرب، دار صادر، بيروت، طبع ثالث، ۱۴۱۴ھ، مادة : " دمى "۔ Ibn Manẓuwr, Muḥammad bin Mukarram, Lisān al ‘Arab, (Beurit: Dār Ṣadir, 3rd Edition, 1414).
  28. المبسوط للسرخسي، ۱۱:۲۲۰ Al Sarakhasī, Al Mabsūt, 11:220.
  29. الجصاص، احمد بن علي، احكام القرآن، دار البشائر الإسلامية، طبع اول، ۲۰۱۰ء، ۲:۳۸۵ Al Jaṣāṣ, Aḥmad bin ‘Alī, Aḥkām al Qur’ān, (Dār al Bashā‘ir al Islāmia, 1st Edition, 2010), 2:385.
  30. بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ۵:۴۰ Al Kāsānī, Badā‘i’ al Ṣanā‘i’ fī Tartīb al Sharā‘i’, 5:40.
  31. https://www.britannica.com/animal/fish/The-respiratory-system#toc63638, Friday, November 10, 2017, 7:36:05 PM, The Respiratory System.
  32. https://www.britannica.com/animal/fish/The-respiratory-system#toc63638, Friday, November 10, 2017, 7:36:05 PM , The Respiratory System.
  33. https://www.britannica.com/science/blood-biochemistry, Friday, November 10, 2017, 7:10:34 PM. C. Lockard Conley, Robert S. Schwartz, Blood Biochemistry.
  34. الموسوعة الفقهية الكويتية، ۲۱:۲۵ Al Mawsū‘ah al Fiqhiyyah al Kawaitiyyah, 21:25.
  35. الزحيلي، د. وهبة بن مصطفى، التفسير المنير في العقيدة والشريعة والمنهج، دار الفكر المعاصر، دمشق، طبع ثاني، ۱۴۱۸ھ، ۲:۸۵۔ الدسوقي، محمد بن احمد، حاشية الدسوقي على الشرح الكبير، دار الفكر، ۱:۵۷ Al Zuḥaylī, Wahbah bin Muṣṭafa, Al Tafsīr al Munīr fil ‘Aqīdah wal Shari’ah wal Manhaj, (Damascus: Dār al Fikr al Mu’āṣir, 2nd Edition, 1418), 2:85. Al Dasūqī, Muḥammad bin Aḥmad, Ḥāshiyah al Dasūqī ‘Ala al Sharḥ al Kabīr, (Beirut: Dār al Fikr), 1:57.
  36. الحاكم، محمد بن عبد الله، المستدرك على الصحيحين، دار الكتب العلمية، بيروت، طبع اول، ۱۹۹۰ء، ۳:۷۴۴ Al Ḥākim, Muḥammad bin ‘Abdullah, Al Mustadrak ‘Ala al Ṣaḥīḥyn, (Beirut: Dār al Kutub al ‘Ilmiyyah, 1st Edition, 1990), 3:744.
  37. الدسوقی، حاشية الدسوقي علی الشرح الكبير، ۱:۵۶ Al Dasūqī, Ḥāshiyah al Dasūqī ‘Ala al Sharḥ al Kabīr, 1:56.
  38. ابن العربي، محمد بن عبد الله، أحكام القرآن، دار الكتب العلمية، بيروت، طبع ثالث، ۲۰۰۳ء، ۱:۷۹ Ibn al ‘Arabī, Muḥammad bin ‘Abdullah, Aḥkām al Qur’ān, (Beirut: Dār al Kutub al ‘Ilmiyyah, 3rd Edition, 2003), 1:79.
  39. تفسير القرطبي، ۲:۲۲۱ Al Qurṭabī, Al Jāmi’ li Aḥkām al Qur’ān, 2:221.
  40. المواق، محمد بن يوسف، التاج والإكليل لمختصر خليل، دار الكتب العلمية، طبع اول،۱۹۹۴ء، ۱:۱۵۱۔ الصاوي، احمد بن محمد، بلغة السالك لأقرب المسالك، دار المعارف، ۱:۵۳۔ ابن القصار، علي بن عمر، عيون الأدلة في مسائل الخلاف بين فقهاء الأمصار، مكتبة الملك فهد الوطنية، رياض، ۲۰۰۶ء، ۲:۶۰۹۔ ابن عرفة، محمد بن محمد، المختصر الفقهي، مؤسسة خلف احمد الخبتور للأعمال الخيرية، طبع اول، ۲۰۱۴ء، ۱:۸۵ Al Mawāq, Muḥammad bin Yūsuf, Al Tāj wal Iklīl li Mukhtaṣar al Khalīl, (Beirut: Dār al Kutub al ‘Ilmiyyah, 1st Edition, 1994), 1:151. Al Ṣavī, Aḥmad bin Muḥammad, Bulghah al Sālik li Aqrab al Masālik, (Dār al Ma’ārif), 1:53. Ibn al Qaṣṣār, ‘Alī bin ‘Umar, ‘Uyūn al Adillah fī Masā‘il al Khilāf byn Fuqahā‘ al Amṣār, (Riyadh: Maktabah al Malik Fahad al Waṭaniyyah, 2006), 2:609.
  41. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)، ۶:۷۴۹ Ibn ‘Ābidīn, Radd al Muḥtār, 6:749.
  42. العينى، محمود بن احمد، البناية شرح الهداية، دار الكتب العلمية، بيروت، طبع اول، ۲۰۰۰ء، ۱:۷۰۲ Al ‘Aynī, Maḥmūd bin Aḥmad, Al Binayah, (Beirut: Dār al Kutub al ‘Ilmiyyah, 1st Edition, 2000), 1:702.
  43. البناية شرح الهداية، ۱:۶۱۹۔ الدم نجس مغلظ. Al ‘Aynī, Al Binayah, 1:619.
  44. الرازي، فخر الدين، محمد بن عمر، مفاتيح الغيب، دار إحياء التراث العربي، بيروت، طبع ثالث، ۱۴۲۰ھ، ۵:۱۹۹ Al Rāḍī, Muḥammad bin ‘Umar, Mafātīḥ al Ghayb, (Beirut: Dār Iḥyā’ al Turath al ‘Arabī, 3rd Edition, 1420), 5:199.
  45. ابن قدامة، عبد الله بن احمد، الكافي في فقه الإمام احمد، دار الكتب العلمية، طبع اول ۱۹۹۴ء، ۱:۱۵۷ Ibn Qudāmah, ‘Abdullah bin Aḥmad, Al Kāfī fī Fiqh al Imām Aḥmad, (Beirut: Dār al Kutub al ‘Ilmiyyah, 1st Edition, 1994), 1:157.
  46. ابن حزم، علي بن احمد، المحلى بالآثار، دار الفكر، بيروت، ۶:۵۵ Ibn Ḥazm, ‘Alī bin Aḥmad, Al Muḥalla bil Āthār, (Dār al Fikr), 6:55.
  47. الزحيلي، التفسير المنير، ۸:۸۰ Al Zuḥaylī, Al Tafsīr al Munīr fil ‘Aqīdah wal Shari’ah wal Manhaj, 8:80.
  48. البابرتي، حمد بن محمد بن محمود، العناية شرح الهداية، دار الفكر، بیروت، ۹:۴۸۶۔ ولأن غير المذكى ميتة وهي منصوص عليها بالحرمة، ولأن الدم حرام لنجاسته لما تلونا، وهو غير متميز من اللحم، وإنما يتميز بالذكاة فلا بد منها ليتميز النجس من الطاهر، ولا يلزم الجراد والسمك لأن حلهما بلا ذبح ثبت بالنص. Al Bābrtī, Ḥamd bin Muḥammad, Al ‘Ināyah, (Beirut: Dār al Fikr), 9:486.
  49. ابن عابدين، رد المحتار، ۶:۷۴۹۔ والدم المسفوح محرم ، ایضاً حوالہ جاتِ سابقہIbn ‘Ābidīn, Radd al Muḥtār, 6:749.
  50. البناية شرح الهداية، ۹:۲۲۶۔ كل عقد لا يجوز للموكل أن يباشره بنفسه لا يجوز للموكل أن يباشره له كما وكله ببيع الدم والميتة. الكافي في فقه الإمام احمد، ۲:۶۔ ولا يجوز بيع الدم، ولا السرجين النجس، لأنه مجمع على تحريمه، ونجاسته، أشبه الميتة. ولا يجوز بيع شحم الميتة، لأنه منها.Al ‘Aynī, Al Binayah, 9:226. Al Kāfī fī fiqh al Imām Aḥmad, 2:6.
  51. المبسوط للسرخسي، ۱۰:۱۹۸۔ فأما إذا كان الغالب هو الزيت فليس له أن يتناول شيئا منه في حالة الاختيار ... ويجوز له أن ينتفع بها من حيث الاستصباح ودبغ الجلود بها فإن الغالب هو الحلال فالانتفاع إنما يلاقي الحلال مقصوداAl Sarakhasī, Al Mabsūt, 10:198.
  52. فتح القدير، ۱۰:۹۶۔ الانتفاع بالنجس حرام۔ فتح القدير، ۱۰:۱۱۳۔ الخنزير مخصوص من النص المذكور بالعقل؛ لأنه نجس العين، ... لأنه نجس العين ولا يجوز الانتفاع بهIbn al Humām, Fatḥ al Qadīr, 10:96, 10:113.
  53. أبو المعالي، محمود بن احمد، المحيط البرهاني في الفقه النعماني، دار الكتب العلمية، بیروت، 2004ء، 5:420، رد المحتار، 6:736Abū al Mu’ālī, Maḥmūd bin Aḥmad, Al Muḥīṭ al Burhānī fil Fiqh al Nu’mānī, (Beirut: Dār al Kutub al ‘Ilmiyyah, 2004), 5:420. Ibn ‘Ābidīn, Radd al Muḥtār, 6:736.
  54. ملا خسرو، محمد بن فرامرز، درر الحكام شرح غرر الأحكام، دار إحياء الكتب العربية، ۱:۱۵۔ (وما ليس بحدث) من قيء ونحوه (ليس بنجس) ...، البحر الرائق شرح كنز الدقائق، ۱:۱۲۱۔ ابن رشد الحفيد، محمد بن احمد، بداية المجتهد ونهاية المقتصد، دار الحديث، قاهرہ، ۲۰۰۴ء، ۳:۱۹۔ القرافي، احمد بن ادريس، الذخيرة، دار الغرب الإسلامي، بيروت، طبع اول،۱۹۹۴ء، ۱:۱۸۵۔ الحطاب، محمد بن محمد، مواهب الجليل في شرح مختصر خليل، دار الفكر، طبع ثالث، ۱۹۹۲ء، ۱:۹۶۔ الشرح الكبير للشيخ الدردير وحاشية الدسوقي، ۱:۵۲، الصاوي، أحمد بن محمد، بلغة السالك لأقرب المسالك، دار المعارف، ۱:۴۸۔ الموسوعة الفقهية الكويتية، ۹:۱۴۷Mullah Khusrū, Muḥammad bin Farāmraz, Durar al Ḥukkām Sharḥ Ghurar al Aḥkām, ((Dār Iḥyā’ al Kutub al ‘Arabia), 1:15. Al Baḥr al Rā‘iq, 1:121. Ibn Rashīd al Ḥafīd, Muḥammad bin Aḥmad, Bidāyatul Mujtahid wa Nihāyatul Muqtaṣid, (Cairo: Dār al Ḥadīth, 2004), 3:19. Al Qarāfī, Aḥmad bin Idrīs, Al Dhakhīrah, (Beirut: Dār al Gharb al Islāmī, 1st Edition, 1994), 1:185. Al Ḥaṭṭāb, Muḥammad bin Muḥammad, Mawāhib al Jalīl fī Sharḥ Mukhtaṣar al Khalīl, (Beirut: Dār al Fikr, 3rd Edition, 1992), 1:96. Al Dasūqī, Ḥāshiyah al Dasūqī ‘Ala al Sharḥ al Kabīr, 1:52. Al Ṣavī, Bulghah al Sālik li Aqrab al Masālik, 1:48, Al Mawsū‘ah al Fiqhiyyah al Kawaitiyyah, 9:147.
  55. ابن عابدين، رد المحتار، ۱:۳۱۵۔ (قوله: وقلب العين) كانقلاب الخنزير ملحا كما سيأتي متنا، ابن عابدين، رد المحتار، ۱:۳۱۶Ibn ‘Ābidīn, Radd al Muḥtār, 1:315,316.
  56. الشيباني، الأصل، ۵:۴۱۵۔ المبسوط للسرخسي، ۴:۹۴Al Shaybānī, Al Aṣal, 5:415. Al Sarakhasī, Al Mabsūt, 4:94.