Playstore.png

روایاتِ اسباب النزول کے تفسیری ادب پر اثرات کا جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ مجلة قسم أصول الدين العالمية
عنوان روایاتِ اسباب النزول کے تفسیری ادب پر اثرات کا جائزہ
انگریزی عنوان
The Traditions of Revelationan Analytical Study of Their Effects on Tafsīr Literature
مصنف Rouf، Abdul، Hafiz Muhammad Abdul Qayyum
جلد 4
شمارہ 2
سال 2019
صفحات 85-102
ڈی او آئی
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Reasons of Revelation, Interpretation, Narrations, Tafsīr Literature, Qur’anic Commands, Qur’Ānic Verses, Asbab-E-Nuzūl, Alwaḥidī, Al-Sayūṭī
شکاگو 16 Rouf، Abdul، Hafiz Muhammad Abdul Qayyum۔ "روایاتِ اسباب النزول کے تفسیری ادب پر اثرات کا جائزہ۔" مجلة قسم أصول الدين العالمية 4, شمارہ۔ 2 (2019)۔
خون حرا م ہے: حلال انڈسٹری کے بنیادی قرآنی معیار کا تحقیقی جائزہ
برصغیر میں اصول تفسیر: ارتقاء، تنوع اور اس کے اسباب
جنین کا عصری اور شرعی تناظر میں تحقیقی جائزہ
اسلامی فوجداریت کا ضابطۂ قرائن
روایاتِ اسباب النزول کے تفسیری ادب پر اثرات کا جائزہ
تاریخ کبیر میں امام بخاری کا رواۃ پر تنقید کے اسلوب کاجائزہ
ماحولیاتی آلودگی اور اس کا سدباب: سیرت نبویﷺکی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ
تاريخية السنة بين المثبتين والنافين
تعقبات ابن العراقي واستدراكاته في تحفة التحصيل على العلائي في جامع التحصيل
دعوى رد الإمام مالك خبر الآحاد الصحيح: دراسة تطبيقية
قواعد الترجيح المتعلقة بالنص القرآني: دراسة وصفية تطبيقية
Status of Abandoned Children: A Comparative Study of Islamic and Pakistani Law
Exploring the Role of Female Successor “Amrah Bint Abd Al-Raḥmān” in Narration of Prophetic Traditions
An Analytical Study of the Outcomes and Impacts of Religious Education of Pakistan, the Challenges and Opportunities
Education As a Catalyst of Personality Development: A Case Study of ‘Omar Bin Khattāb R. A
Islam and Woman in the Contemporary Arab World: An Interpretation of Rajaa Al-Sanea’s Girls of Riyadh from Islamic Feminist Perspective
Cognitive Semantic Study of the Preposition ‘Min’ in the Quran

Abstract

Sabab al-Nuzūl (cause of revelation) in Qur'anic studies means the time, context, cause, and the situation in which Allah has revealed verses. Cause of revelation has an important role in the interpretation of Qur’ān. Nevertheless,most of the verses and suras of Qur’ān are revealed independent of events, these verses are revealed to fulfill the general aim of Waḥī which is the guidance of people. Such knowledge is an invaluable tool for grasping the meaning of this type of Qur’ānic verse. Many Muslim scholars consider the studying of Asbāb alNuzūl and their related discussions as necessary. Some exegetes have written books studying the subject. The earliest and the most important work in this genre is undoubtedly Kitab Asbāb al-Nuzūl (Book of Occasions of Revelation) of ‘Alī bin Aḥmad al-Wāḥidī (d. 1075 CE). Another important work is by al-Suyūṭī (d. 1505 CE) which is a slight improvement of al-Wāḥidī’s book. In this paper descriptive method and comparative study are used to analysis traditions of revelation and their effects on Tafsīr literature. This paper proves the value of the causes of revelation in Qur’ānic Interptation and their effects on Tafsīr Literature, so that verification and authencity of traditions of causes of revelation are mandatory for Tafsīr.

تعارف:

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا انسانیت کیلئے آخری و دائمی نسخہ رشد و ہدایت ہے جس سے زندگی کے تمام شعبہ جات میں راہنمائی اور استفادہ کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کے فہم حقیقی اور مرادِ الٰہی کو جاننے کا واحد مستند ذریعہ تفسیر بالماثور ہے جو منشاء خداوندی تک پہنچنے کا واحدنبوی طریق ہے۔قرآن مجید کی تفسیر میں اسباب النزول کی اہمیت وافادیت سے انکار کسی بھی طرح ممکن نہیں،کیونکہ علمِ سبب النزول فہم قرآن میں نہ صرف ممد و معاون ہے بلکہ قرآنی احکامات کی نوعیت اورفقہی استنباط کیلئے بھی معرفت ضروری ہے۔سبب النزول کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:

"وَاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ غَيْرُهُ مَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ إِلاَّ أَنَا أَعْلَمُ أَيْنَ أُنْزِلَتْ وَلاَ أُنْزِلَتْ آيَةٌ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ إِلاَّ أَنَا أَعْلَمُ فِيمَ أُنْزِلَتْ، وَلَوْ أَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنِّي بِكِتَابِ اللَّهِ تُبَلِّغُهُ الإِبِلُ لَرَكِبْتُ إِلَيْهِ"[1]

"اس ذات کی قسم! جس کے سواکوئی معبود نہیں۔ اللہ کی کتاب کی ہر آیت کے بارے میں مجھے معلوم ہے کہ وہ کس بارےمیں نازل ہوئی اور کب نازل ہوئی۔اگر مجھے یہ معلوم ہوا کہ کسی کے پاس مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کا علم ہے اور اونٹ وہاں تک پہنچ سکتا ہو تو میں ضرور سفر کروں گا۔"

حضرت علیؓ بن ابی طالب سبب النزول کی اہمیت کے پیش نظرفرماتے ہیں:

"سلوني فوالله لا تسألوني عن شيء إلا أخبرتكم ، وسلوني عن كتاب الله ، فوالله ما من آية إلا وأنا أعلم أبليل نزلت أم بنهار أم في سهل أم في جبل "[2]

" مجھ سے سوال کرو۔خدا کی قسم تم مجھ سے جو سوال کرو گے ،میں تمہیں خبر دوں گا! میں ہر ہر آیت کے بارے میں جانتاہوں کہ وہ رات میں نازل ہوئی یا دن کو، میدانی علاقہ میں اتری یا پہاڑیوں میں۔"

علامہ ابن تیمیہؒ سبب النزول کی افادیت کے پیش نظر فرماتے ہیں:

"معرفة سبب النزول يعين على فهم الآية، فإن العلم بالسبب يورث العلم بالمسبب"[3]

"سببِ نزول کی معرفت آیت کے سمجھنے میں معاون ہے کیونکہ سبب کی معرفت کے ذریعے مسبّب تک رسائی ہو تی ہے۔"

شاہ ولی اللہ دہلویؒ سبب النزول کی معرفت اور افادیت سے متعلق یوں رقمطراز ہیں:

"وقد ذکر المفسّرون تلک الحادثة بقصد الإحاطة بالآثار المناسبة للآیة أو بقصد بیان ماصدق علیة العموم ولیس هذا القسم من الضروریات ۔وکان غرضهم تصویر ما صدقت علیه الآیة "[4]

" بسا اوقات مفسرین آیت کے تحت کوئی واقعہ اس مقصد سے ذکر کر دیتے ہیں کہ اس آیت سے مناسبت رکھنے والے واقعات جمع ہو جائیں یا جس امر کی عموم تصدیق کر رہا ہو اس کی وضاحت ان کا مقصود ہوتی ہے ۔ یہ قسم ضروری اسبابِ نزول میں سے نہیں ہے ۔ اس سے ان کامقصد اس امر کی تصویر کشی کرنا ہوتا ہے جس پر آیت صادق آ سکتی ہے۔"

تفسیر میں اسبا ب النزول کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مفسرین نے تفسیر کرتے ہوئے اس امر کو ملحوظ رکھا ہے کہ آیاتِ قرآنیہ کے اسباب النزول کو بھی خصوصی طور پر ذکر کیا ہے۔ اسباب النزول کی تفسیر میں اہمیت سے متعلق علماء کے ہاں دو موقف ہیں:

  1. وہ علماء جو تفسیر میں اسباب النزول کو ضروری قرار دیتے تھے انہوں نے کتب تفاسیر میں روایاتِ اسبا ب النزول کو کثرت سے ذکر کیا اور قرآن مجید کے احکامات کو بسا اوقات عموم اور بسا اوقات خصوص پر محمول کرتے ہیں۔
  2. دوسری طرف جو علماء کرام قرآن مجید کی تفسیر میں اسباب النزول کو ضروری علم نہیں گردانتے، انہوں نے آیات کے شان نزول سے بے نیاز ہو کر تفسیر بالماثور کی ضرورت سے بھی انکار کیا اور قرآن مجید کے تمام احکامات کو عموم پر ہی محمول کیا ہے۔

قرآن مجید کی تفسیر کرتے ہوئے جمہور مفسرین کرامؒ آیتِ قرآنیہ کی تفسیر و تشریح کیلئے واقعات کے پس منظر اور قرآنی آیات کے نزول کا سبب بننے والے واقعات اور حادثات کو ذکر کرتے ہیں تاکہ آیات اور سورتوں کا صحیح مفہوم اور وجہِ نزول سامنے آسکے۔جن مفسرین کرام نےقرآنی تفسیر کیلئے اسباب النزول کو ضروری سمجھا انہوں نے کتبِ تفاسیر میں روایاتِ اسباب النزول بکثرت ذکر کیں۔ دوسری طرف جن مفسرین کے ہاں تفسیر میں اسباب النزول کی معرفت ضروری نہیں انہوں نے روایات کا ذکر کرنا غیر ضروری سمجھا۔ جس کے نتیجہ میں ایسی آراء اور تفسیری اشکالات سامنے آئے جو روحِ اسلامی کے یکسر منافی تھے۔مفسرین کرام کے روایاتِ اسبا ب النزول کو کتبِ تفاسیر میں ذکر کرنے سے تفسیری ادب پر متعدد اثرات مرتب ہوئے ہیں جو تفسیری ادب میں تحقیق و تخریج اور مستند تفسیر کیلئے پیش بہا قیمتی سرمایہ ہے۔

سابقہ تحقیقی کام کا جائزہ:

اسباب النزول پر ہونیوالےسابقہ تحقیقی کام کا اگر جائزہ لیا جائے تو اسباب النزول پر مستقل کتب بھی تحریر کی گئی ہیں جن میں سر فہرست علی بن مدینی(م 324ھ) کی"اسباب نزول" امام عبدالرحمن اندلسی (م 402ھ) کی"القصص واسالیب التی نزل من اجلہا القرآن"، علامہ عبدالرحمن ابن جوزی ؒ (م۔۵۷۹ھ) کی "اسباب نزول القرآن"، ابو الحسین علی بن احمد واحدی(م۔ 468ھ)کی " اسبابِ نزول"، حافظ ابن حجرؒ (م۔ 852ھ) کی "العجاب فی بیان الاسباب" اور جلال الدین سیوطیؒ کی کتاب "لباب النقول فی اسباب النزول" قابل ذکر ہیں لیکن روایات ِاسباب النزول کے تفسیری ا دب پر اثرات کے جائزہ کے سلسلہ میں ابھی تک کوئی مستقل تصنیف سامنے نہیں آئی۔ زیر نظرموضوع سے متعلق تحقیقی کام کی ضرورت کے پیش نظر موضوع کو مقالہ ہذا میں بیان کیاگیا ہے۔

منہج تحقیق:

مقالہ کا منہج بیانیہ (Descriptive Method)و تجزیاتی (Comparative Study) ہے، لہٰذا کتبِ تفاسیر سے روایات کو بیان کرتے ہوئے تفسیری ادب پر ہونےوالے نمایاں اثرات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔

بنیادی سوالاتِ تحقیق:

مقالہ ہذا کے بنیادی سوالات درج ذیل ہیں:

  1. کیاروایاتِ اسباب النزول کے تفسیری ادب پر اثرات مرتب ہوئے ہیں؟
  2. کیا روایاتِ اسباب النزول کا روایتی ودرایتی مطالعہ ضروری ہے؟

روایاتِ اسبا ب النزول اور تفسیرِ قرآن پر اثرات:

مفسرین کا سبب النزول کے ضمن میں روایات پر انحصار کرنا اور آیاتِ قرآنی کے ضمن میں حتیٰ الوسع روایات کو درج کرنا کئی مقاصد کا حامل ہے جو کہ قرآنی تفسیر میں بیش بہا قیمتی اضافہ ہے۔ مفسرین کے روایاتِ سبب النزول کے التزام و اہتمام کے تفسیری ادب پر اثرات کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ سبب النزول کے ضمن میں مفسرین کا روایات پر اعتماد کرنے سے تفسیر ِ قرآن مجید کی اہمیت میں کس قدر اضافہ ہوا ہے اور تفسیری ادب پرکیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ذیل میں اہم تفسیری اثرات کا ذکر کیا جاتا ہے:

1۔ قرآنی احکامات کا نزول اور تدریجی مراحل کی معرفت:

قرآنی احکامات کے نزول کی واقفیت اور حقیقی فہم کیلئے احکامات کے نزول کے تدریجی مراحل کا جاننا بھی ضروری ہے ۔ اگر قرآنی آیات کے سبب النزول معلوم نہ ہوں اور مفسرین اِن روایات کا التزام نہ کریں تو کئی ایک اہم آیاتِ قرآنیہ کے تدریجی نزول کے مراحل کی معرفت حا صل نہیں ہو سکتی۔ شراب کی حرمت بتدریج کئی ایک مراحل میں ہوئی اور حرمتِ شراب کے سلسلہ میں قرآن مجید کا نزول بھی متعددبار ہوا۔ کتبِ تفاسیر میں حرمت ِ خمر کے تدریجی مراحل، اسباب اور واقعات کا حقیقی فہم سبب النزول کے ضمن میں وارد روایات کی بدولت ہی ممکن ہے۔

قرآن مجید کی آیت "یأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ"[5] کے سبب النزول میں ابن جریر طبریؒ، علی بن احمد واحدیؒ، ابن عطیہ اندلسیؒ اورمحمد بن احمدقرطبیؒ یہ روایت ذکر کرتے ہیں:

"عن عمر بن الخطاب رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال: لما نزل تحريم الخمر، قال: اللهم بيّن لنا في الخمر بيانًا شفاءً فنزلت هذه الآية التي في البقرة (يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ) قال: فدُعي عمر، فقرئت عليه، فقال: اللهم بيّن لنا في الخمر بيانًا شفاءً فنزلت الآية التي في النساء (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى) فكان منادي رسول اللَّه ﷺ إذا أقام الصلاة نادى: أن لا يقربن الصلاة سكران، فدعي عمر فقرئت عليه، فقال: اللهم بيّن لنا في الخمر بيانًا شفاءً فنزلت الآية التي في المائدة، فدعي عمر فقرئت عليه فلما بلغ (فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ) قال: فقال عمر: انتهينا انتهينا. "[6]

"حضرت عمرؓ بن خطاب فرماتے ہیں:جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو انہوں نے کہا : اے اللہ! ہمارے لئے شراب کے متعلق اطمینان بخش وضاحت فرما، تو یہ آیت نازل ہوئی جو سورۃ بقرۃ میں ہے "یسئلونك عن الخمر والمیسر قل فیهما إثم کبیر" فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا ، یہ آیت پڑھی گئی تو انہوں نے کہا : اے اللہ! ہمارے لئے شراب کے متعلق دل کو مطمئن کردینے والی وضاحت فرما، تو یہ آیت نازل ہوئی جو سورۃ نساء میں ہے "یا أیها الذین آمنوا لا تقربوا الصلوة وأنتم سکریٰ" تو رسول اللہ ﷺ کا منادی جب نماز کھڑی ہوتی تو اعلان کرتا: نماز کے لئے کوئی نشے کی حالت میں نہ آئے۔ پھر عمرؓ کو بلایا گیا ، ان پر اس آیت کی تلاوت کی گئی تو انہوں نے فرمایا: اے اللہ! ہمارے لئے شراب کے متعلق دل کو تسلی دینے والی وضاحت فرما، تو یہ آیت نازل ہوئی جو سورۃ مائدہ میں ہے، تو عمرؓ کو بلایا گیا ، ان پر یہ آیت پڑھی گئی ، جب قاری"فهل انتم منتهون" پر پہنچا تو عمرؓ نے فرمایا: ہم رک گئے، ہم باز آگئے۔"

شراب سے متعلق حرمت کے احکامات بتدریج حالات کی رعایت کرتے ہوئے مختلف ادوار میں نازل ہوئے جیسا کہ ابن جریر طبریؒ،اور ابن عطیہؒ و دیگر مفسرین حرمتِ خمر کے متعدد نزول اور حوادث سے متعلق مختلف روایات ذکر کرتے ہیں جن میں یہ صراحت ہے کہ شراب کی حرمت تین مراحل میں تین مرتبہ نزول کے ساتھ ہوئی۔لہذا معلوم ہوا کہ تحریم خمر میں تدریجی مراحل کا تعین اور دیگر شرعی احکامات میں مقاصد شرعیت کے تحت احکامات کاحقیقی فہم سبب النزول کی روایات سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

2۔ناقص تفسیری فہم کا حل وتعین:

قرآن مجید کی تفسیر و تشریح میں تفسیر قرآن مجید کے صحیح اور درست معانی و مفاہیم کا تعین نہایت ضروری و ناگزیر ہے تاکہ مرادِ الٰہی تک پہنچا جا سکے۔ کتبِ تفاسیر کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بسا اوقات قرآن مجید کی آیت کے معانی و مفاہیم کے تعین میں ایسی غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں کہ جمہور مفسرین کی پیش کردہ تفسیر سے متضاد آراء سامنے آتی ہیں۔ روایات اسباب النزول کی بدولت مفسرین کیلئے تفسیر قرآن کا فہم حقیقی متعین کرنا آسان ہوتا ہے، کیونکہ روایات وآثارسے مدد لیے بغیرفہم حقیقی اور مراد الٰہی تک پہنچنا دشوار ہے۔ ذیل میں ایسی امثلہ پیش کی جاتی ہیں:

سورۃ الحجر کی آیت:"وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ ‘‘[7]کے سبب النزول میں ابن عطیہ اندلسیؒ یہ روایت ذکر کرتے ہیں:

"وقال ابن عباس ومروان بن الحكم وأبو الجوزاء: نزل قوله: وَلَقَدْ عَلِمْنَا الآية، في قوم كانوا يصلون مع النبي صلى الله عليه وسلم وكانت تصلي وراءه امرأة جميلة، فكان بعض القوم يتقدم في الصفوف لئلا تفتنه، وكان بعضهم يتأخر ليسرق النظر إليها في الصلاة، فنزلت الآية فيهم."[8]

"ابن عباسؓ، مروان بن حکم اور ابوالجوزاء فرماتے ہیں: یہ آیت "ولقد علمنا المستقدمین..." ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے، جبکہ آپ ﷺ کے پیچھے ایک خوبصورت عورت بھی نماز پڑھتی تھی تو بعض لوگ اگلی صفوں کی طرف بڑھتے تاکہ وہ ان کو فتنہ میں نہ ڈال دے اور بعض لوگ پیچھے کھڑے ہوتے تاکہ وہ حالت نماز میں اس کو دیکھیں تو یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی۔"

علی بن احمدواحدیؒ لکھتے ہیں:

"كانت امرأة حسناء تصلي خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكان قوم يتقدمون إلى الصف الأول لئلا يروها، وآخرون يتأخرون ليروها،إذا ركعوا وجافوا أيديهم لينظروا من تحت آباطهم۔ فأنزل الله هذه الآية"[9]

"ایک خوبصورت عورت نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی توکچھ لوگ پہلی صف کی طرف بڑھتے تاکہ اس کو نہ دیکھیں اور دوسرے لوگ پیچھے رہتے تاکہ اس کو دیکھ سکیں، جب وہ رکوع کرتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے دیکھنے کے لئے بازوؤں کو پھیلا دیتے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔"

تفسیر البسیط کے محققین روایت بالا کی تحقیق سے متعلق لکھتے ہیں:

" أما النكارة الشديدة التي ذكرها ابن كثير، فلعله يقصد مضمون الرواية؛ أنها توهم طعنًا في الصحابة، وجوابه: إذا ورد الأثر بطل النظر، ولأن هذا المسلك يفتح باباً لرد كثير من الأحاديث، ويمكن دفع التهمة عن الصحابة بتخصيص الخبر على بعض المنافقين أو حديثي العهد بالإسلام "[10]

" ابن کثیر کی ذکر کردہ شدید نفی شاید اس لئے ہے کہ وہ اس روایت کے مضمون کا قصد کرتے ہوں، یقیناً یہ صحابہؓ کے بارے میں طعن ہے ، کیونکہ یہ راستہ بہت سی احادیث کو رد کرنے کا دروازہ کھولتا ہے۔ اس حدیث کو بعض منافقین اور نئے نئے مسلمانوں کے ساتھ خاص کر کے صحابہؓ سے الزام کو رفع اور دور کرنا ممکن ہے۔"

درج بالا روایت سند کے لحاظ سے درست نہیں۔روایتی اور درایتی لحاظ سے کمزور روایت سے استدلال کرتے ہوئے ایسی تفسیر و تشریح کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔مذکورہ بالا روایتِ سبب النزول سند اور متن کے لحا ظ سے درست نہیں البتہ علی بن احمدواحدیؒ تفسیر الوجیز میں آیت بالا کا ایک اور سبب النزول بیان کرتے ہیں جو سند کے اعتبار سے صحیح ہے اور نظم قرآنی کے بھی موافق ہے:

"ولقد علمنا المستقدمين} الآية خص رسول الله صلى الله عليه وسلم عَلَى الصَّفِّ الأَوَّلِ فِي الصَّلاةِ فَازْدَحَمَ النَّاسُ عليه فأنزل الله سبحانه هذه الآية يقول: قد علمنا جميعهم وإنَّما نجزيهم على نياتهم "[11]

""ولقد علمنا المستقدمین..." رسول اللہ ﷺ نے نماز میں پہلی صف کو خصوصیت عطا فرمائی تو لوگ اس پر ایک دوسرے کو دھکیلنے لگے، پھر اللہ تعالیٰ نے یہی آیت نازل فرمائی، فرمایا: ہم ان سب کو جانتے ہیں اور یقیناً ہم ان کی نیتوں کے مطابق انہیں بدلے سے نوازیں گے۔"

عماد الدین ابن کثیر ؒروایت بالا کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"وهذا الحديث فيه نكارة شديدة ... إلى أن قال: فالظاهر أنه من كلام أبي الجوزاء فقط ليس فيه لابن عبَّاسٍ ذكر"[12]

"اور اس حدیث میں راوی کی سخت جہالت ہے۔ ظاہر یہی ہے کہ یہ صرف ابوالجوزاء کا ہی کلام ہے، ابن عباسؓ کا تو اس میں کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔"

درج بالا تحقیق سے واضح ہے کہ آیت بالا کے سبب النزول سے متعلق بیان کردہ روایت درایتی اعتبار سے درست نہیں اور یہ روایت صحابہ کرامؓ کی شان اور عظمت کےخلاف اور قرآنی سیاق و سباق کی مخالفت کرتی ہے۔مزید برآں یہ روایت استنادی حیثیت سے بھی شدید ضعف کی حامل ہے، چنانچہ آیت بالا کا سبب قرار دینا تحقیق کی رو سے درست نہیں۔ آیت بالا کے سبب النزول کے ضمن میں بیان کردہ مذکورہ روایت کی بناء پریہ شائبہ ہو تا ہےکہ اس آیت میں منافقین سے متعلق بات کی گئی ہے جو مسجد میں اس لیے تاخیر سے آتے تاکہ پچھلی صفوں میں عورتوں کو دیکھ پائیں، حالانکہ آیت بالا پہلی اور آخری صفوں کی فضیلت سے متعلق نازل ہوئی جیسا کہ بیان گیا گیا ہے۔درج بالا بحث سے معلوم ہوا روایاتِ اسباب النزول سے تفسیری فہم میں حائل اشکالات اور ناقص فہم کےازالہ کا حل موجود ہے۔

3۔قرآنی الفاظ کے مدلولات کا تعین :

مفسرین کتب ِ تفاسیر میں قرآنی الفاظ کے تعین اور کسی خا ص قوم یا شخص کے تعین میں اختلاف کے رفع کیلئے بھی روایات اسباب النزول سے مدد لیتے ہیں۔چونکہ قرآنی الفاظ کے مدلولات کا تعین ذاتی رائے یا محض اجتہادی بصیرت سے طے نہیں کیا جا سکتا اس لیے مفسرین روایاتِ اسباب النزول سے مدد لیتے ہیں۔ جیسا کہ ذیل میں دی گئی مثال سے واضح ہے:

سورۃ آل عمران کی آیت"كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُولَ حَقٌّ وَجَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ"[13] میں لفظ "قَوْمًا كَفَرُوا" کی دلالت میں مفسرین یہ روایت ذکر کرتے ہیں:

"عن ابن عبَّاس قال: كان رجل من الأنصار أسلم ثم ارتد ولحق بالشرك ثم ندم فأرسل إلى قومه: سلوا رسول اللَّه ﷺ هل لي من توبة؟ فجاء قومه إلى رسول اللَّه ﷺ فقالوا: إن فلانًا قد ندم، دانه قد أمرنا أن نسألك: هل له من توبة؟ فنزلت: (كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ) إلى (غَفُورٌ رَحِيمٌ) فأرسل إليه فأسلم"[14]

" ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی مرتد ہو کر اہل شرک کے ساتھ مل گیا۔بعد ازاں اس نے نادم و پشیمان ہو کر نبی ﷺ کے پاس اپنی قوم کو بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھو میرے لئے توبہ کی کوئی صورت باقی ہے؟ تو اس کی قوم نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر کہا: بے شک فلا ں آدمی نادم و پشیمان ہو کر مطیع ہو گیا ہے اور اس نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم سوال کریں کہ اس کے لئے توبہ کی کوئی صورت باقی ہے؟ تو یہ آیت نازل ہوئی "کیف یهدی الله قوما کفروا بعد إیمانهم" پھر اس کی طرف پیغام بھیجا گیا تو وہ اسلام لایا اور مطیع و فرمانبردار ہو گیا۔"

درج بالا روایت سے معلوم ہواکہ آیت میں مذکورہ شخص قبیلہ انصار میں سے تھا لیکن علی بن احمدواحدیؒ روایت سبب النزول کو ذکر کرتے ہوئےآیت کے مدلول کی و ضا حت میں لکھتے ہیں کہ یہ آیت حارث بن سوید انصاری کے بارے میں نازل ہوئی، یہ شخص مسلمان تھا پھر مرتد ہو کر اہل شرک کے ساتھ مل گیا، بعد ازاں اس نے نادم و پشیمان ہو کر اپنی قوم کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا کہ میرے لئے توبہ کی کوئی صورت باقی ہے؟ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ [15]

اسی طرح سورۃ احزاب کی آیت "وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَك"[16] کی تفسیر"تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ" کی تعیین میں مفسرین صحیح بخاری کی یہ روایت پیش کرتے ہیں جیسا کہ جلال الدین سیوطیؒ نے للباب النقول میں ذکر کیا ہے:

" عن أنس بن مالك أنها أنزلت في شأن زينب بنت جحش وزيد بن حارثة"[17]

" حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت زینب بنت جحشؓ اور زید بن حارثہ ؓکے متعلق نازل ہوئی۔"

مذکورہ بالا دونوں آیات کے الفاظ "قَوْمًا كَفَرُوا" کی و ضا حت میں مفسرین نے روایتِ سبب النزول کو پیش کر کے یہ ثابت کیا کہ اس لفظ کا اصل خطاب حارث بن سوید انصاری تھا اور سورۃ احزاب کی آیت "تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ" کا مخاطب حضرت زید بن حارثہؓ کو قرار دیا ہے۔ کتب تفاسیر میں قرآنی آیات کے الفاظ کی تفسیر و تشریح اور مدلولات کے تعین میں سبب النزول کی روایات سے استفادہ سے سبب النزول کی تفسیر قرآن مجید میں اہمیت وافادیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

4۔تفسیر قرآن میں روایتی معیار کا تعین:

کتبِ تفاسیر کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ روایاتِ اسباب النزول کی بدولت تفسیر قرآن مجید میں روایت کی صحت کا التزام اور روایتی معیار کے رجحان کا آغاز ہوا ہے۔ محدثین کے ہاں کسی بھی روایت کی صحت کیلئے سند کا ہونا اولین اور بنیادی شرط ہے۔ جیسا کہ مسلم بن حجاج قشیریؒ نے صحیح مسلم کے مقدمہ میں عبداللہ بن مبارکؒ کا قول نقل کیاہے:

"الاسناد من الدین لو لا الاسناد لقال من شاء ما شاء"[18]

"اسناد دین کا حصہ ہیں اگر اسناد نہ ہوں تو ہر شخص جو چاہتا کہتا۔"

روایات و آثار میں اسناد کی حثییت کے پیش نظر مفسرین کرام کتب تفاسیر میں روایات کی اسناد کا اہتمام کرتے ہیں چونکہ قرآن مجید کی تفسیر میں اسباب النزول کی مدد سے آیت کا سیاق و سباق اور پس منظر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر روایات کے روایتی پہلو سے صرف نظر کیا جائے تو کئی روایات ایسی ہیں جو نہ صرف روایتاً غیر صحیح ہیں بلکہ تفسیر قرآن مجید میں غیر متعلقہ ہونے کے ساتھ ساتھ باطل عقائد کی ترویج کا باعث بنتی ہیں جیسا کہ ذیل میں دی گئی امثلہ سے واضح ہے:

سورۃ المائدۃ کی آیت:"انَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ"[19] کے سبب النزول سے متعلق مفسرین یہ روایت پیش کرتے ہیں:

ابو البرکات نسفیؒ آیت بالا کے سبب النزول سے متعلق یہ روایت لکھتے ہیں:

"قيل إنها نزلت في علي حين سأله سائل وهو راكع في صلاته فطرح له خاتمه كأنه كان مرجاً في خنصره فلم يتكلف لخلعه كثير عمل يفسد صلاته"[20]

" کہا گیا ہے کہ بے شک یہ آیت حضرت علیؓ کے بارے میں نازل ہوئی جب ان سے کسی سائل نے مانگا جبکہ وہ نماز کی حالت میں تھے تو انہوں نے اس سائل کے لئے اپنی انگوٹھی پھینک دی چونکہ وہ انگلی میں کھلی کھلی تھی تو آپ کو اس کے اتارنے میں کسی زیادہ عمل تکلف نہیں کرنا پڑا کہ جس سے نماز فاسد ہو۔"

جار اللہ زمخشری آیت بالا کے سبب النزول میں روایت پیش کرتے ہوئے صراحت سے لکھتے ہیں:

"وإنها نزلت في علىّ كرم اللَّه وجهه حين سأله سائل وهو راكع في صلاته فطرح له خاتمه ، كأنه كان مرجا في خنصره، فلم يتكلف لخلعه كثير عمل تفسد بمثله صلاته. فإن قلت: كيف صح أن يكون لعلىّ رضى اللَّه عنه واللفظ لفظ جماعة؟ قلت: جيء به على لفظ الجمع وإن كان السبب فيه رجلا واحداً، ليرغب الناس في مثل فعله فينالوا مثل ثوابه، ولينبه على أن سجية المؤمنين يجب أن تكون على هذه الغاية من الحرص على البرّ والإحسان وتفقد الفقراء، حتى إن لزهم أمر لا يقبل التأخير وهم في الصلاة، لم يؤخروه إلى الفراغ منها"[21]

"اور بے شک یہ آیت حضرت علی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی، جب کسی سائل نے ان سے مانگا تو وہ نماز میں رکوع کی حالت میں تھے، اپنی انگوٹھی اس کی طرف پھینک دی، کیونکہ وہ ان کی انگلی میں کھلی تھی تو انہوں نے اپنے آپ کو کسی زیادہ عمل کا مکلف نہیں کیا کہ جس سے نماز خراب ہو۔ اگر آپ کہیں: کیسے یہ بات صحیح ہے کہ یہ آیت حضرت علیؓ کے بارے میں نازل ہوئی جبکہ الفاظ تو جمع کے ہیں۔تو میں جواباً کہوں گا کہ اس کو جمع کے لفظ پر اس لئے لایا گیا ہے، اگرچہ اس کا سبب نزول ایک ہی آدمی تھا تاکہ لوگ اس جیسے کام میں رغبت اختیار کریں گے تو اس کی طرح ثواب حاصل کریں گے۔اور اس بات سے بھی خبردار رہنا چاہئیے کہ مومن کی عادت کا ایسا ہونا ضروری ہے کہ وہ اچھائی اور نیکی پر حرص رکھے اورفقراء کا متلاشی ہو حتی کہ اگرکوئی ایسا معاملہ درپیش ہو کہ جو تاخیر کو قبول نہ کرے اور وہ نماز کی حالت میں ہوں تو اس عمل کو نماز سے فراغت تک مؤخر نہ کریں۔"

درج بالا روایت سے معلوم ہوا مفسرین مذکورہ نے آیت کا سبب النزول حضرت علیؓ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ قرار دیا ہے، جبکہ روایت سند کے لحاظ سے صحیح نہیں ہے جیسا کہ تفسیر الکشاف کے محقق ابن المنیر الاسکندریؒ روایت بالا کی تخریج و تحقیق میں رقمطراز ہیں:

"الحديث. وفي إسناده خالد بن يزيد العمرى. وهو متروك. ورواه الثعلبي من حديث أبى ذر مطولا وإسناده ساقط"[22]

" اس حدیث کی سند میں خالد بن یزید عمری ہے جو کہ متروک راوی ہے۔ ثعلبی نے ابو ذرؓ کی ایک لمبی حدیث سے اسے روایت کیا ہے لیکن اس کی سند سے راوی ساقط ہے۔"

محقق ابو شھبہ نے روایت بالا کی تحقیق سے متعلق لکھا ہے کہ"امام ابن تیمیہ ؒ کی طرح ابن جوزی ؒ نے بھی اس روایت پر من گھڑت ہونے کا حکم لگایا ہے جبکہ راوی پر شیعیت کے اثرات کا ذکر کیا ہے۔ اس روایت کی تمام سندیں ضعف اورجہالت سے خالی نہیں۔صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی یہی عمل معروف ہے کہ وہ حالت نماز میں کسی اور کام میں مشغول نہ ہوتے، بلکہ وہ انتہائی خشوع کے ساتھ نماز میں پوری طرح متوجہ ہوتے تھے"۔[23]

درج بالا روایت کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے مفسرین بسا اوقات سبب النزول کے ضمن میں ایسی روایات بھی ذکر کرتے ہیں جو سنداً نہ صرف ضعیف ہیں بلکہ مو ضوع اور بے بنیاد بھی ہیں جیسا کہ واقعہ غرانیق اور حضرت ثعلبہؓ سے متعلق روایات جو سنداً موضوع ہیں لیکن کتبِ تفسیر میں بیان کی گئی ہیں۔ روایات کی تحقیق و تخریج اور روایتی مطالعہ سے تفسیرِ قرآن میں غیر صحیح اور موضوع روایات کی تنقیح کی گئی ہے، لہٰذا روایاتِ اسبا ب النزول کے تفسیری ادب پر اثرات میں سے ایک اہم اثر روایات سے متعلق صحت اور عدم صحت کی بنیاد پر روایات کی حیثیت کا تعین ہے جس سے تفسیری ادب میں تحقیق و تخریج کے رجحان نے فروغ پایا ہے۔

5۔ تفسیر قرآن میں درایتی معیار کا تعین:

کتب تفاسیر کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسباب النزول کے ضمن میں وارد روایات بسا اوقات با عتبار سند صحیح ہونے کے باوجود درایتی معیار پر پورا نہیں اترتی ۔روایات اسبا ب النزول کی بدولت مفسرین نے ایسی روایات کی نشاندہی کی ہے جو سنداً درست ہونے کے باوجود درایتی لحا ظ سے غیر مناسب اور شریعتِ اسلامی کی روح کے منافی ہیں۔روایات اسباب النزول کی بدولت مفسرین ایسی روایات پر نہ صرف جرح کرتے ہیں بلکہ انہیں تفسیری ادب میں ہدف تنقید بنا کر اعدائے اسلام کے مذموم مقاصد کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایسی روایات زنادقہ اور روافض کی کاوشوں کی بدولت کتب تفاسیر میں شامل کی گئی ہیں حالانکہ ایسی روایات رسول اللہ ﷺ کی شان اورصحابہ کرامؓ کی عظمت کے منافی ہیں۔ذیل میں ایسی روایات کی امثلہ پیش کی جاتی ہیں:

سورۃ الحجرات کی آیت: "یَاأَیُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ"[24]کے سبب النزول میں مفسرین یہ روایات لکھتے ہیں:

ابن عطیہ اندلسیؒ آیت بالا کا سبب النزول ذکر کرتے ہوئے ولید بن عقبہؓ کو آیت کا مصداق قرار دیتے ہیں:

"وقوله تعالى: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جاءَكُمْ فاسِقٌ بِنَبَإٍ سببها أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث الوليد بن عقبة بن أبي معيط إلى بني المصطلق مصدقا، .... فقال ما ذكرناه فنزلت الآية بهذا السبب"[25]

"اور اللہ تعالیٰ کے فرمان "یا أیها الذین آمنوا إن جاؤکم فاسق بنبأ" کا سبب نزول یہ ہے کہ نبی ﷺ نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو بنوالمصطلق کی طرف زکوٰۃ وصول کرنے والا(عامل) بنا کر بھیجا، ...، بعد ازاں فرماتے ہیں: جو ہم نے ذکر کیا آیت کا سبب نزول یہی ہے۔"

ابن عطیہ اندلسیؒ ولید بن عقبہ سے متعلق مزید لکھتے ہیں کہ فاسق سے مشار الیہ ولیدہے جیسا کہ مجاہد نے ذکر کیا ہے، اور زہراوی نے روایت کیا ہے کہ ام سلمہؓ نے فرمایا:"وہ ولیدبن عقبہ ہی ہے۔"[26]

تفسیر البسیط میں علامہ واحدی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ولید بن عقبہؓ کو ہی آیت بالا کے نزول کا سبب قرار دیتے ہیں ،چنانچہ لکھتے ہیں:

"نزلت في الوليد بن عقبة بن أبي معيط بعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم مصدقاً إلى بني المصطلق"[27]

"یہ آیت ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی جسے رسول اللہ ﷺ نے بنوالمصطلق کی طرف زکاۃ لینے کے لئے بھیجا تھا ۔"

تفسیر البسیط کے محققین درج بالا روایت کی تحقیق و تخریج کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"وقال الحافظ ابن حجر في "الكاف الشاف" ص 156: رواه ابن إسحاق والطبراني من حديث أم سلمة وفيه موسى بن عبيدة وهو ضعيف"

"حافظ ابن حجر نے "الکاف الشاف، ص:۱۵۶" میں فرمایا : اسے ابن اسحاق اور طبرانی نے ام سلمہؓ کی حدیث سے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ہے جو کہ ضعیف راوی ہے۔"

احمد بن محمد ثعلبیؒ اپنی تفسیر الکشف والبیان میں آیت بالا کے سبب النزول سے متعلق یوں لکھتے ہیں:

"فأنزل الله سبحانه: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جاءَكُمْ فاسِقٌ بِنَبَإٍ يعني الوليد بن عقبة بن أبي معيط سمّاه الله فاسقا"[28]

"تو اللہ تعالیٰ نے(یہ آیت) نازل فرمائی "یا أیها الذین آمنوا إن جائکم فاسق بنبأ" اس سے مراد ولید بن عقبہ بن ابی معیط ہے ، اللہ تعالیٰ نےاس کا نام فاسق رکھا ہے۔"

علی بن ابوبکر ہیثمیؒ مجمع الزوائد میں روایت بالا کی صحت سے متعلق لکھتے ہیں:

"رواه الطبراني وفيه موسى بن عبيدة وهو ضعيف"[29]

درج بالاتحقیق سے واضح ہے کہ جمہور مفسرین کے ہاں یہ روایت بالعموم موجود ہے۔ روایت بالا کی سنداً تحقیق سے واضح ہے کہ سند میں ضعف موجود ہے اگرچہ بعض مفسرین و محدثین نے متابعات و مشاہدات کے ذریعہ سند کو تقویت دینے کی کو شش کی ہے لیکن تحقیق کے تقاضوں اور صحابہ کرامؓ کے مناصب کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ حقیقت واضح ہے کہ حضرت ولید بن عقبہؓ جیسے صحابی کے ساتھ اس آیت کا تعلق خا ص کرنا اور لفظ "فاسق" کا مصداق قرار دینا غیر مناسب اور تحقیق سے بعیدرائے معلوم ہوتی ہے۔

درج بالا روایت اگر سنداً درست قراربھی دی جائے تب بھی یہ روایت محض روایتاً صحیح قرار پانے کی بناء پر آیت بالا کا سبب النزول قرار نہیں دی جا سکتی۔روایت بالا کو اگر درایتی اصولوں پرجانچا جائے تو درج ذیل اعتراضات نظر آتے ہیں جن کی بناء پر یہ روایت غیر معتبر اور وضع شدہ قرار پاتی ہے:

  1. سورۃ حجرات میں فاسق کی خبر پر اعتماد سے روکا گیا ہے لیکن اس آیت کے نزول سے قبل حضرت ولید بن عقبہؓ سے متعلق کوئی ایسی خبر موجود نہیں جو آپؓ کی عدالت اور ثقاہت سے متعلق عدم اعتماد پر دلیل ہو۔
  2. اگر یہ روایت درست تصوربھی کی جائے تو کیسے ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کمسن اور نعوذباللہ غیر معتبر شخص کو زکوٰۃ کی وصولی جیسے اہم کام کیلئے نامز د کیا اور بعد ازاں بھی آپؓ نےان سے متعلق کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات اور فسق کا ذکر نہیں کیا؟
  3. حضرت ولید بن عقبہؓ فتح مکہ کے موقع پر ۸ ہجری میں کمسن بچے تھے جیسا کہ وہ خود صراحت سے بیان کرتے ہیں:

"جب اللہ کے نبی ﷺ نے مکہ فتح کیا تو مکہ والے اپنے بچوں کو نبی ﷺ کے پاس لے کر آنے لگے، آپ ﷺ ان کے لئے برکت کی دعا فرماتے اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے۔ ولید بن عقبہؓ کہتے ہیں کہ مجھے آپﷺ کی طرف لایا گیا اور مجھے زعفران سے بنی خوشبو لگائی گئی تھی۔ آپ ﷺ نے مجھے اس خوشبو کی وجہ سے نہ چھوا۔"[30]

لیکن۸ ہجری ہی میں چند ماہ بعد کیسے اس قابل ہو گئے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بنی مصطلق کی طرف زکوٰۃ کی وصولی کیلئے عامل بنا کر بھیج دیا؟یقیناً ولید بن عقبہؓ سے منسلک یہ روایت سنداً اور درایتی معیار کے مطابق وضع شدہ ہے۔

  1. حضرت ولید بن عقبہؓ کو حضرت عثمان ؓ نے اپنے دورِ خلافت میں کوفہ کا گورنر بنایا ۔ اگر یہ شخص ازرؤئے قرآن مجید فاسق یا معتبر تھے تو حضرت عثمان ؓ نے ایسا کیونکر کیا۔ یقیناً یہ روایت روافض کی ایجادات میں سے ہے جس میں حضرت عثمان ؓ پر اقرباء پروری کا الزام اور طعن و تشنیع مطلوب تھا۔
  2. جن روایات میں حضرت ولید بن عقبہؓ کا نام ہے اُن روایات میں سے کوئی ایک روایت بھی صحیح اور جرح سے خالی نہیں مزید برآں ایسی تمام روایات منقطع ہیں۔ [31]

درج بالا تحقیق و بحث کے بعد یہ واضح ہے کہ آیت بالا میں لفظ فاسق کا مصداق حضرت ولید بن عقبہؓ کو قرار دینا اور ایسی روایات کو تفاسیر میں پیش کرنا تحقیق کی رو سے غیر مناسب اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ روایت بہ روایت اور درایت دونوں طرح ہی صحیح قرار نہیں پاتی جبکہ حضرت ولید بن عقبہؓ صحابہ کرامؓ میں ممتاز صحابی تھے اور رسول اللہ ﷺ کی صحبت کے شرف کے ساتھ ساتھ حضرت عثمان ؓ کی خلافت میں بھی اہم عہدوں پر فائز رہے۔درج بالا امثلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ روایات اسباب النزول کی بدولت تفسیری ادب میں درایتی پہلو کا رجحان فروغ پایا ہے۔

6۔ تفسیری اشکالات کے حل میں معاونت:

روایات اسباب النزول کا سب سے اہم اثر تفسیری ادب پر یہ ہوا کہ اِ ن روایات کی بدولت قرآن مجید کی تفسیر میں وارد اشکالات وابہامات کا ازالہ ممکن ہوا ہے۔ بسا اوقات قرآن مجید کی تفسیر میں کچھ آیات میں بظاہر تعارض اور اختلاف معلوم ہوتا ہے لیکن روایاتِ اسباب النزول کی معرفت سےتفسیری اشکالات وابہامات کا حل میسر آتا ہے۔ ذیل میں امثلہ پیش کی جاتی ہیں:

  1. قرآن مجید کی آیت "وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ"[32]کو اگر ظاہری معانی و مفہوم کے مطابق تفسیر کیا جائے تو قبلہ کی طرف استقبال ضروری بھی نہیں بلکہ جس سمت چاہے منہ کر کے نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ مزید برآں یہ آیت سورۃ البقرۃ کی آیت "قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ"[33]سے بظاہر متعارض بھی نظر آتی ہے۔لیکن کتبِ تفسیر میں موجود روایات ِاسبا ب النزول کی بدولت اس آیت کے فہم میں دشواری کا ازالہ ممکن ہے جیسا کہ عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں:

"یہ آیت "أینما تولوا فثم وجه الله" اس لئے نازل ہوئی کہ آپ سفر میں جس طرف بھی سواری کا رخ ہو نفل نماز پڑھیں، رسول اللہ ﷺ جب مکہ سے مدینہ کی جانب لوٹتے تھے تو اپنی سواری پر نفلی نماز پڑھتے تھے اور اپنے سر مبارک سے اشارہ کرتے تھے۔"[34]

درج بالا دونوں آیات میں بظاہر تعارض معلوم ہوتا ہےلیکن روایاتِ اسباب النزول کی طرف رجوع کی بدولت معلوم ہوا کہ پہلی آیت درحقیقت سواری پر نوافل نماز سے متعلق اجازت ہے وگرنہ عمومی حکم استقبالِ قبلہ کا ہی ہے اور دونوں میں کوئی تعارض نہیں۔

  1. سورۃ البقرۃ کی آیت "إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا"[35]سے متعلق جلیل القدر صحابی حضرت عروہ بن زبیرؓ یہی سمجھتے رہے کہ صفا اور مروہ کے مابین سعی فرض نہیں بلکہ مباح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے لفظ (فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ) استعمال کیا ہے۔لیکن روایت سبب النزول کی معرفت سے ہی آیت کا حقیقی فہم حا صل ہوا ، چنانچہ حضرت عائشہؓ نے انہیں سمجھایا کہ یہ آیت کس موقع پر نازل ہوئی۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے:

"عن عروة، عن عائشة قالت: قلت: أرأيت قول الله تعالى: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا } قلت: فوالله ما على أحد جناح أن لا يطَّوف بهما؟ فقالت عائشة: بئسما قلت يا ابن أختي إنها لو كانت على ما أوّلتَها عليه كانت: فلا جناح عليه ألا يطوف بهما، ولكنها إنما أنزلت أن الأنصار كانوا قبل أن يسلموا كانوا يُهِلّون لمناة الطاغية، التي كانوا يعبدونها عند المُشلَّل. وكان من أهلَّ لها يتحرج أن يطوَّف بالصفا والمروة، فسألوا عن ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالوا: يا رسول الله، إنا كنا نتحرج أن نطَّوف بالصفا والمروة في الجاهلية. فأنزل الله عز وجل: { إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ } إلى قوله: {فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا } قالت عائشة: ثم قد سنّ رسول الله صلى الله عليه وسلم الطواف بهما، فليس لأحد أن يَدع الطواف بهما"[36]

"عروہ ؓ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عائشہ ؓ سے کہا اللہ تعالیٰ کے فرمان "ان الصفا والمروة من شعائر الله..." کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میں تو سعی نہ کرنے میں کسی ایک پر کوئی حرج محسوس نہیں کرتا۔تو عائشہؓ نے فرمایا: بھانجے آپ نے ناگوار بات کی، اگر اس طرح ہوتا تو آیت یوں ہونی چاہیے تھی "فلا جناح علیه أن لا یطوف بهما" لیکن یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی، وہ اسلام لانے سے پہلے مشلل سے مناۃ طاغیۃ (بت کا نام)کے لئے احرام باندھا کرتے تھے تو اب جو احرام باندھ کر صفا و مروہ کی سعی کرتا تو وہ ناپسندیدگی کا اظہار کرتا تو انصار نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھااور کہا: ہم صفا و مروہ کی سعی میں جاہلیت میں سعی کی وجہ سے حرج محسوس کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت "إن الصفا والمروة من شعائر الله، فمن حج البیت أو اعتمر فلاح جناح علیه أن یطوف بهما" نازل فرمائی۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پھر رسول اللہ ﷺ نے صفا و مروہ کی سعی کو مسنون قرار دیا تو کسی کے لئے بھی اب یہ چھوڑنا جائز نہیں ۔"

درج بالا آیت کا حقیقی فہم صحابی رسول ﷺ کو اُس وقت تک سمجھ نہیں آیا جب تک وہ آیت کے سبب النزول سے واقف نہ ہوئے۔ معلوم ہوا روایات اسباب النزول قرآن مجید کے حقیقی فہم اور اشکالات کے رفع میں ممدو معاون ہیں۔

7۔ تفسیر بالماثور کی ترویج وارتقاء:

روایات اسباب النزول کے لزوم سے تفسیری ادب میں تفسیر بالماثور کو ترویج اور فروغ ملاہے۔ سبب النزول کے ضمن میں مفسرین ذاتی وعقلی رائے پیش کرنے کی بجائے نقلی اسلوب اختیار کرتے ہیں اور قرآن مجید، احادیث نبویﷺ،اور اقوالِ صحابہ کرامؓ و تابعین کی روشنی میں قرآنی آیت کے معانی و مفاہیم کی تفسیر پیش کرتے ہیں، جس سے تفسیر بالماثور کو ترویج ملی ہے، جیساکہ درج ذیل مثال سے واضح ہے:

قرآن مجید کی آیت "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا"[37]کے سبب النزول کے ضمن میں تفاسیر ما ثورہ کے مفسر عماد الدین ابن کثیر ؒ یہ روایت پیش کرتے ہیں:

"قال عِكْرِمَةُ: نَزَلَتْ فِي كُبَيْشَةَ بِنْتِ مَعْنِ بْنِ عاصم من الْأَوْسِ، تُوُفِّيَ عَنْهَا أَبُو قَيْسِ بْنِ الْأَسْلَتِ، فَجَنَحَ عَلَيْهَا ابْنُهُ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:یَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا أَنَا وَرِثْتُ زَوْجِي، وَلَا أَنَا تُرِكْتُ فأنكح، فأنزل الله هَذِهِ الْآيَةُ"[38]

"عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ آیت قبیلہ اوس سے کبیشہ بنت معن بن عاصم کے بارے میں نازل ہوئی ، اس کا خاوند ابو قیس بن الاسلت فوت ہوا تو اس کابیٹا اس کی طرف مائل ہو گیا۔ چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی : میں نہ تو اپنے خاوند کی وارث بنی ہوں نہ مجھے چھوڑا گیا ہے کہ میں نکاح کر سکوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔"

ابن عطیہ اندلسیؒ آیت بالاکے ضمن میں روایت ذکر کرتے ہیں اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا یہ قول پیش کرتے ہیں:

"كانوا في الجاهلية إذا مات الرجل كان أولياؤه أحق بامرأته من أهلها، إن شاؤوا تزوجها أحدهم، وإن شاؤوا زوجوها من غيرهم، وإن شاؤوا منعوها الزواج، فنزلت الآية في ذلك"[39]

"جاہلیت میں جب کوئی آدمی مر جاتا تو اس آدمی کے ورثاء عورت کے گھر و الوں سے اس کے زیادہ مستحق قرار پاتے، اگر چاہتے تو ان میں سے کوئی شادی کر لیتا اور اگر وہ چاہتے تو اپنے علاوہ کسی اور سے بیاہ دیتے یا اگر ان کاجی چاہتا تو اس کو شادی ہی نہ کرنے دیتے، تو تب یہ آیت نازل ہوئی۔"

درج بالا آیت کی تفسیر و تشریح اور سبب النزول کے ضمن میں مفسرین کے طرز سے واضح ہے کہ مفسرین بالا تفسیر بالماثور کے طرز پر رسول اللہ ﷺ سے مروی روایت ، قول صحابی یا تابعی و تبع تابعین کو پیش کرنے کے بعد اُن روایات کی روشنی میں استدلال کرتے ہیں۔لہٰذا مفسرین کے اس طرز سے معلوم ہوا کہ سبب النزول کے ضمن میں روایات کو مقدم رکھنے اور اور روایات وآثار کی روشنی میں تفسیر و تشریح کی وجہ سے تفسیری ادب میں تفسیر بالماثور کو ترویج و فروغ ملاہے۔

نتائجِ بحث:

کتبِ تفاسیر کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مفسرین کرامؒ کے سبب النزول کے ضمن میں روایات وآثار پر انحصار کرنے اور آیاتِ قرآنی کے ضمن میں حتیٰ الوسع روایات وآثارکو درج کرنے کے کئی ایک مقاصد ہیں جو کہ تفسیر قرآن میں تحقیق و تخریج کے رجحان کے ساتھ ساتھ تفسیری اشکالات کو حل کرنے میں بھی اہمیت کے حامل ہیں۔مضمون ہذا کی تکمیل پر درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:

  1. روایاتِ اسباب النزول کی بدولت تفسیر قرآن مجید میں مستند روایات وآثار کی روشنی میں تفسیر بالماثور اورتفسیر منقول کا منہج فروغ پایا ، جبکہ روایات اسباب النزول کو تفسیر میں غیر ضروری سمجھتے ہوئے ذکر نہ کرنے کی بناء پر کتبِ تفسیر میں غیر مستند اور غیر ضروری ابحاث وافکار شامل ہوئے ہیں۔
  2. روایاتِ اسباب النزول کی بدولت تفسیری فہم میں درپیش اشکالات کا حل میسر آیا ہے کیونکہ تفسیر قرآن مجید کا حقیقی علم اللہ اور رسولﷺ کے پاس ہے لہٰذا کسی بھی قرآنی حکم سے متعلق اشکالات اور ناقص فہم کا ازالہ محض احادیث رسولﷺ یا اقوالِ صحابہ کرامؓ وتا بعین عظامؒ کی روشنی میں ہی ممکن ہے ۔
  3. روایاتِ اسباب النزول کے لزوم سے علمِ تفسیر میں روایتی ودرایتی معیارات کا تصور سامنے آیا ہے۔ کتبِ تفاسیر میں وارد روایات وآثار کی تحقیق و تخریج کے عمل سے تفسیری ادب میں مستند روایات میسرآئی ہیں جبکہ درایتی مطالعہ سے ایسی روایات کی نشاندہی بھی کی گئی ہیں جو سنداً صحیح ہونے کےباوجود فکرِ اسلامی اور مسلمہ شرعی اصولوں کے منافی ہیں۔
  4. روایاتِ اسباب النزول کی بدولت قرآنی آیات کی حکمت، بتدریج نزول کی وجہ اور شرعی احکامات کی نوعیت کاا ندازہ ہوتا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کون سا حکم کب اور کس سوال یا واقعہ کے پیش نظر نازل ہوا۔قرآنی آیات کے نزول سے متعلق ضروری معرفت سے عصری مسائل کے حل میں بھی مدد ملتی ہے۔

This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.

حوالہ جات

  1. == حوالہ جات(References) == سیوطی،عبدالرحمن بن ابو بکر،جلال الدین، الاتقان فی علوم القرآن،دار الفکر بیروت،۱۳۹۴ھ،۱:۹ Sayūtī, ‘Abd al Raḥmān bin Abī Bakr, Al Itqān fī ‘Ulūm al Qur’ān, (Beirut: Dār al Fikr, 1394), 1: 9
  2. سیوطی،الاتقان، ۲:۱۸۷ Sayūtī, Al Itqān fī ‘Ulūm al Qur’ān, 2:187
  3. ابن تیمیہ،احمد بن عبدالحلیم ،تقی الدین،مجموع الفتاوی ،مجمع الملک فہد لطباعۃ المصحف الشریف،المدینۃالنبویۃ، ۱۴۱۶ھ،۱۳:۳۹۳ Ibn Taymiyyah, Aḥmad bin ‘Abd al Ḥalīm, Majmū‘ al Fatāwa, (Madinah: Majma’ al Malik Fahad li Ṭaba’ah al Muṣḥaf al Sharīf, 1416), 13: 393
  4. دہلوی،احمد بن عبدالرحیم ،ولی اللہ،الفوز الکبیر فی اصول التفسیر،دار الغوثانی للدراسات القرانیۃ دمشق، ۱۴۲۹ھ،ص:۷۳ Dehlavī, Aḥmad bin ‘Abd al Raḥīm, Wali Ullah, Al Fawz al Kabīr fī Uṣūl al Tafsīr, (Damascus: Dār al Ghawthānī Lil Dirāsāt al Qur’āniyah, 1429), p: 73
  5. سورۃالمائدۃ:۹۰ Sūrah Al Mā’idah, 90
  6. الشیبانی ،احمد بن حنبل، ابو عبداللہ، ، المسند ، المکتب الاسلامی، بیروت ،۱۴۲۹ھ ،رقم:۳۷۸ Al Shaybānī, Aḥmad bin Ḥambal, Al Musnad, (Beirut: Al Maktab al Islāmī, 1429), Ḥadīth
    1. 378
  7. سورۃالحجر:۲۴ Surah Al Ḥajar, 24
  8. ابن عطیہ،عبدالحق بن غالب،المحرر الوجیزفی تفسیر الکتاب العزیز،دارلکتب العلمیۃ، بیروت، ۱۴۲۲ھ،۱۰:۱۲۳ Ibn ‘Aṭiyyah, ‘Abdul Ḥaq bin Ghālib, Al Muḥarar al Wajīz fī Tafsīr al Kitāb al Azīz, (Beirut: Dār al Kutub al ‘Ilmiyyah, 1422), 10: 123
  9. ایضاً، ۱۰:۱۲۳ Ibid., 10: 123
  10. واحدی،علی بن احمد بن محمد،التفسیر البسیط،عمادۃ البحث العلمی،ریاض، ۱۴۲۴ھ،۱۲:۵۸۸ Waḥidī, ‘Alī bin Aḥmad bin Muḥammad, Al Tafsīr al Basīt, (Riyadh: ‘Imādah al Baḥath al ‘Ilmī, 1424), 12: 588
  11. واحدی، التفسیرالبسیط، ص:۵۹۱ Waḥidī, Al Tafsīr al Basīt, p: 591
  12. ابن کثیر،عماد الدین، ابو الفدا،تفسیر القرآن العظیم،دار احیاء التراث الاسلامی، بیروت،۱۴۲۴ھ، ۲:۵۴۹ Ibn Kathīr, ‘Imād al Dīn, Abū al Fidā’, Tafsīr al Qur’ān al Aẓīm, (Beirut: Dār Iḥyā’ al Turath al ‘Arabī, 1424), 2: 549
  13. سورۃ آل عمران:۸۶ Sūrah Āl ‘Imrān, 86
  14. احمد، المسند، رقم:۲۲۱۸ Aḥmad, Al Musnad, Ḥadīth
    1. 2218
  15. واحدی، التفسیر البسیط، ۵:۴۰۹ Waḥidī, Al Tafsīr al Basīt, 5: 409
  16. سورۃالاحزاب:۳۷ Sūrah Al Ahzāb, 37
  17. سیوطی،عبدالرحمن بن ابو بکر،لباب المنقول فی بیان اسباب النزول،مؤسسۃ الکتب التھافیۃ،بیروت،۱۴۳۶ھ،ص:۱۴۰ Sayūṭī, ‘Abd al Raḥmān bin Abī Bakr, Lubāb al Manqūl fī Bayān Asbāb al Nazūl, (Beirut: Mo’assasah al Kutub al Tahafiyyah, 1436), p: 140
  18. نووی،یحییٰ بن شرف،محیی الدین،المنہاج فی شرح صحیح مسلم،دار احیاء التراث الاسلامی، بیروت،۱۴۲۸ھ، ۱:۸۶ Al Nawawī, Yaḥya bin Sharf, Al Minhāj fī Sharḥ Ṣaḥīḥ Muslim, (Beirut: Dār Iḥyā’ al Turath al ‘Arabī, 1428), 1: 86
  19. سورۃ المائدۃ:۵۵ Sūrah Al Mā’idah, 55
  20. نسفی، عبداللہ بن محمود، ابو البرکات،مدارک التنزیل و حقائق التاویل،مکتبۃ النزار، ریاض،۱۴۳۶ھ ،۱:۴۵۶ Al Nasafī, ‘Abdullah bin Maḥmūd, Madārik al Tanzīl wa Ḥaqā’iq al T’awīl, (Riyadh: Maktabah al Nazzār, 1436, 1:456
  21. زمخشری، محمود بن عمرو، جار اللہ ،الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، دار الکتاب العربیۃ، بیروت،۱۴۰۷ ھ،۱:۶۴۹ Al Zamakhsharī, Maḥmūd Bin ‘Amr, Al Kashāf ‘An Ḥaqā’iq Ghawamiz al Tanzīl, (Beirut: Dār al Kitāb al ‘Arabiyyah, 1407), 1: 649
  22. زمخشری، الکشاف،۱:۶۴۹ Al Zamakhsharī, Al Kashāf ‘An Ḥaqā’iq Ghawamiz al Tanzīl, 1: 649
  23. ابو شھبہ،محمد بن محمد،الاسرائیلیات والموضوعات فی کتب التفسیر،مکتبہ المعارف للنشر والتوزیع،۱۴۳۲ھ،ص:۳۹۸ Abū Shahbah, Muḥammad bin Muḥammad, Al Isrā‘īliyyāt wal Mawzū‘āt fī Kutub al Tafsīr, (Maktabah al Ma’ārif lil Nashr wal Tawz ī’, 1432), p: 398
  24. سورۃ الحجرات:۶ Sūrah al Ḥujarāt, 06
  25. ابن عطیہ،المحرر الوجیز، ۵:۱۴۷ Ibn ‘Aṭiyyah, Al Muḥarar al Wajīz fī Tafsīr al Kitāb al Azīz, 5: 147
  26. ایضاً،۵:۱۴۷ Ibid., 5: 147
  27. واحدی،البسیط، ۲۰:۳۴۸ Waḥidī, Al Tafsīr al Basīt, 20: 348
  28. ثعلبی، احمد بن محمد، ابو اسحاق،الکشف والبیان فی تفسیر القرآن، دار احیاء التراث الاسلامی، بیروت، ۱۴۲۲ ھ،۹:۷۷ Al Tha’labī, Aḥmad bin Muḥammad, Al Kashf wal Bayān fī Tafsīr al Qur’ān, (Beirut: Dār Iḥyā’ al Turath al ‘Arabī, 1422), 9: 77
  29. الہیثمی،علی بن ابی بکر،ابو الحسن،مجمع الزوائدو منبع الفوائد،مکتبۃ القدسی، قاہرۃ، ۱۴۱۴ھ،۷:۱۱۱ Al Ḥaythamī, ‘Alī bin Abī Bakr, Majma’ al Zawā’id wa Manba’ al Fawā’id, (Cairo: Maktabah al Quda’sī, 1414), 7: 111
  30. ابوداؤد، سلیمان بن اشعث السجستانی،ا لسنن ، مکتبہ دارالسلام لاہور،۱۹۹۷ء،رقم:۴۱۸۱ Abū Dāwūd, Sulaymān bin Ash’ath, Al Sunan, (Lahore: Dār Al Salām, 1997), Ḥadīth
    1. 4181
  31. العوصم من القواصم، حاشیہ، ص:۹۱Al ‘Awāṣim min al Qawāṣim, p: 91
  32. سورۃ البقرۃ:۱۱۵Sūrah Al Baqarah, 115
  33. سورۃ البقرۃ:۱۴۴Sūrah Al Baqarah, 144
  34. مسلم بن حجاج ، القشیری ،الجامع الصحیح ،مکتبہ دارالسلام لاہور،۱۹۸۷ء،رقم:۲۳۱۴ Muslim bin Ḥajjāj, Al Jāmi’ al Ṣaḥīḥ, (Lahore: Dār al Salām, 1987), Ḥadīth
    1. 2314
  35. سورۃالبقرۃ:۱۵۸Sūrah Al Baqarah, 158
  36. بخاری،ابو عبداللہ، محمد بن اسماعیل، الجامع الصحیح ،مکتبہ دارالسلام لاہور،۱۹۹۹ء،رقم:۴۴۹۵ Al Bukhārī, Muḥammad bin Ismā’īl, Al Jāmi’ al Ṣaḥīḥ, (Lahore: Dār al Salām, 1999), Ḥadīth
    1. 4495
  37. سورۃالنساء:۱۹ Sūrah Al Nisā‘,19
  38. ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ۲:۲۱۰ Ibn Kathīr, Tafsīr al Qur’ān al Aẓīm, 2: 210
  39. ابن عطیہ،المحرر الوجیز، ۲:۲۶ Ibn ‘Aṭiyyah, Al Muḥarar al Wajīz fī Tafsīr al Kitāb al Azīz, 2:26