مذاہب عالم میں زنا کی سزاؤں اور متعلقہ تعلیمات کا تقابلی جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ مجلہ علوم اسلامیہ و دینیہ
عنوان مذاہب عالم میں زنا کی سزاؤں اور متعلقہ تعلیمات کا تقابلی جائزہ
انگریزی عنوان
A Comparative Study of the Punishments and related Teachings about adultery in World Religions
مصنف Khan، Abzahir، Muhammad Adil
جلد 2
شمارہ 1
سال 2017
صفحات 83-94
ڈی او آئی
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Adultery, Semitic Religions, Religions, Punishment, Hudood
شکاگو 16 Khan، Abzahir، Muhammad Adil۔ "مذاہب عالم میں زنا کی سزاؤں اور متعلقہ تعلیمات کا تقابلی جائزہ۔" مجلہ علوم اسلامیہ و دینیہ 2, شمارہ۔ 1 (2017)۔
مصحف ابن مسعود کی تاریخی حیثیت کے بارے میں ابن وراق کی آراء کا تنقیدی جائزہ
استحسان کی اصلیت و ماہیت کے بارے میں مستشرقین کی آراء کا تنقیدی جائزہ
اندلس میں مسلمانوں کے ادوار حکومت کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ
تحقیقات حدیث میں پروفیسر جوزف شاخت کی طرز تحقیق کا تنقیدی جائزہ
اسلام اور یہودیت کا قانون حلال و حرام: مشترکات اور مختلفات کا جا ئزہ
اسلامی نظام قضاء اور ثبو ت دعو ی کے احکام: تحقیقی جائزہ
مذاہب عالم میں زنا کی سزاؤں اور متعلقہ تعلیمات کا تقابلی جائزہ
چائنہ نمک کی حلت و حرمت کا تجزیاتی مطالعہ
علامہ ابن جوزی کی تفسیر "زاد المسیر فی علم التفسیر" کا منہج اور خصوصیات
ابن ہمام اور ان کی کتاب فتح القدیر کا تعارف و منہج
غریب الحدیث کی مشہور کتابوں کے مناہج تألیف کا تحقیقی جائزہ
توریہ کے اصطلاحی مفاہیم اور اس کی شرعی حیثیت
Muslim-Christian Dialogue from Pakistani Perspective: Evaluation of the Contribution of Christian Study Center
Right of Progeny and Cairo Declaration of Human Rights in Islam
Modernism and Postmodernism
العلامة المفكر البروفسير عون الشريف قاسم السوداني: حياته وفكره ومؤلفاته
من تأثيرات العلامة إقبال في نجيب الكيلاني من خلال كتابه إقبال الشاعر الثائر
ثنائية الفصل والوصل في البحث البلاغي
اختلاف الدلالات للكلمات المشتركة بين العربية والأردية وأثره في تعليم اللغة العربية
الأخلاق الإسلامية في شعر عبد الله بن الـمبارك
صلة تأويل النّص بأصول التخاطب في العربية

Abstract

Acquisition of peace, eradication of crimes and cleaning a society of all immoral activities is the basic and equal need of all human beings without any differentiation of any worldly and divine religions, on the basis of this need, Imam Ghazali declared “peace” is the purpose of Islamic jurisprudence. Islamic jurisprudence expects protection of faith, life, reason, race and property from humans for the humans. Protection and prevalence of theses five purposes is called peace in Islamic jurisprudence. In the religion of our world, there are two ways of acquisition of peace, eradication of crimes and protection of property, First awareness and fright of divine punishments on committing a sin or sins, Secondly, to punish the wrong doer on the basis of the nature of his/her crime in the circle of pure justice. These worldly punishments have remained different in different ages and religions while in our modern world and revolted era, punishments of Islamic Jurisprudence are considered stick and against the humans rights, especially punishments relating to adultery and fornication. It is therefore, considered imperative to compare these punishment relating to adultery and fornication , we have in our Islamic jurisprudence to those of other religion in order to unearth the relating of considering Islamic punishments strict and against the human rights.


تمہید:

امن کا حصول، جرائم کی روک تھا م ، غیر اخلاقی سرگرمیوں سے معاشرے کی پاکیزگی بلا تفریقِ مذہب تمام انسانوں کی یکساں ضرورت ہے ۔ امام غزالیؒ نے اسی ضرورت کی بنیاد پر امن کو مقصود شریعت قرار دیا : "مخلوق سے مقصود شرع پانچ ہیں:یہ کہ ان کے دین،جان،عقل ،نسل اور مال کی حفاظت کی جائے۔" [1]) انہی مقاصد شریعت کے تحفظ و بقا کو امن کہا جاتا ہے۔مذاہب عالم میں امن کے حصول ، جرائم کی روک تھام اور معاشرے کو غیر اخلاقی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے دو طریقے اپنائے گئے ہیں ۔پہلا جرم کا ارتکاب کرنے پر اخروی عذاب سے ڈرانا جبکہ دوسرا طریقہ دنیا ہی میں مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر جرم کی نوعیت کی بنیاد پر پر مختلف سزائیں دینا ہے ۔ مختلف ادوار و مذاہب میں جرائم پر دی جانے والی دنیوی سزائیں مختلف رہی ہے۔لیکن عصر حاضر میں مختلف فورمز پر شریعت اسلامی میں مقرر کردہ سزاؤں کے متعلق یہ بات تسلسل کے ساتھ کہی جارہی ہے کہ یہ سزائیں انتہائی سخت اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے،پھر اس میں خاص طور پر زنا پر مقرر کردہ سزاؤں کے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے ۔اس لئے یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ زنا سے متعلق شریعت اسلامی کی سزاؤں کے طریقوں کا دیگر مذاہب میں زنا پر مقرر کردہ سزا ؤں سے تقابل کرکے مذکورہ بالا تصور کی حقیقت معلوم کی جا سکے۔

مذاہب عالم اور خاص طور پر سامی مذاہب میں جرم وسزا کے حوالے سے مختلف تحقیقات منظر عام پر آئی ہیں۔ ان کتب میں" کتاب المقارنات والمقابلات"سرفہرست ہے۔جو محمد حافظ صبری کی تصنیف ہے۔اس کتاب حافظ صبری نے یہودیت واسلام کے حدود و معاملات کے تقابل کو موضوع بحث بنایا ہے ۔یہ کتاب۱۳۲۰ھ میں مطبعہ ہندیہ مصر سے شائع ہوئی۔

اس سلسلے کی دوسری کاوش پشاور یونیورسٹی میں لکھا گیا ایک پی ایچ ڈی تحقیقی مقالہ ہے جس کا عنوان "اسلام اور دیگر ابراہیمی مذاہب کی اساسی نصوص کے تناظر میں انسداد ِ فساد اور اقامت امن کا تقابلی مطالعہ " ہے۔یہ مقالہ ۲۰۱۱ء میں عارف اللہ نے پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر کی نگرانی میں مکمل کیا ۔ اس مقالے میں صرف ادیان ابراہیمی میں مختلف جرائم کی سزاؤں کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔

اس موضوع پر ایک تحقیقی مقالہ جامعہ پنجاب یونیورسٹی میں بھی لکھا جا چکا ہے۔اس پی ایچ ڈی مقالے کا عنوان"جرم وسزا ادیان عالم کے تناظر میں ایک تحقیقی مطالعہ "ہے۔یہ تحقیقی کے لئے مقالہ۲۰۰۵ء میں سید امجد علی نے ڈاکٹر حمید اللہ عبد القادر کی نگرانی میں مکمل کیا۔اس مقالے میں دیگر مذاہب عالم میں جرم و سزا کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔

ڈاکٹر نور احمد شاہتاز نے "تاریخ نفاذ حدود" کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے ،جس میں مختلف مذاہب میں بطور حد دی جانے والی سزاؤں کا تذکرہ کیا گیاہے۔یہ کتاب فضلی سنز لمیٹڈ کراچی سے ۱۹۹۸ء میں شائع ہوئی ہے۔

ان تحقیقات میں جرائم اور سزاؤں کا مجموعی طور پر اور مخصوص مذاہب میں جرم وسزا کے تصور کو موضوع بحث بنایا گیا ہے، لیکن مستقل طور پر زنا اور اس سے متعلقہ تعلیمات کو کو زیرِ بحث نہیں لایا گیا۔ اس لئے موجودہ کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس آرٹیکل میں زنا کے متعلق مذاہب عالم کی تعلیمات و سزاؤں کو یکجا کرکے ان کا باہمی تقابل کیا جائےگا ۔اس مقالے کو تین اجزاء میں تقسیم کیا گیا ہے ،پہلے جز میں زنا کی لغوی اور اصطلاحی تعریف کی جائے گی ،دوسرے جز میں مذاہب عالم میں زنا کی تعریف اور زنا کے متعلق نظریات ذکر کرنے کے بعد ان تقابل کیا جائے گا اور تیسرے جز میں مذاہب عالم میں زنا پر مقرر سزاؤں کو نقل کر کے باہمی تقابل کیا جائے گا۔آخر میں مقالے سے اخذ شدہ نتائج ذکر کئے جائیں گے۔

زنا کی تعریف:

لغت میں زنا الرُّقِيِّ على الشيءِ([2])(کسی چیز پر پیش رفت)کے معنیٰ میں آتا ہے ۔

اصطلاحی تعریف:

"وطیٔ الرجل المرأة في القبل في غير الملك وشبهة الملك ([3])"

ترجمہ: کوئی مرد عورت کی شرمگاہ میں دخول کرے اس شرط کے ساتھ کہ ملکیت یا ملکیت کا شبہ نہ ہو۔

زنا کی تعریف اور احکام:

شریعت اسلامی میں زنا کی تعریف مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ کی گئی ہے:

"وطیٔ مكلف طائع مشتهاة حالا أو ماضيا في القبل بلا شبهة ملك في دار الإسلام ([4])"

ترجمہ: دار الاسلام میں مکلف آدمی جو مجبور نہ ہو ، صاحب شہوت عورت کی شرمگاہ میں وطی کرے اور اسے ملکیت کا شبہ نہ ہو۔

زنا ایک قبیح فعل ہے اور اس کا قبح عقلی وشرعی دلائل سے ثابت ہے،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

"وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا([5])"

ترجمہ:اور زنا کے بھی پاس نہ جانا کہ وہ بےحیائی اور بری راہ ہے۔

امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے لَا تَزنُوا کی بجائے لَا تَقْرَبُواالزِّنَااس لئے فرمایا کہ زنا کی حرمت اور قبح بیان کرنے میں ابلغ ہے([6]

سورۃ الفرقان میں اللہ تعالیٰ اپنے خصوصی بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا([7])"

ترجمہ: وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ودسرے حاکم نہیں پکارتے اور نہ ہی خون کرتے ہیں جان کا کو منع کردی اللہ نے مگر جہاں چاہیئے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو کوئی کرے یہ کام وہ جا پڑا گناہ میں۔

رسول اللہ ﷺ سے جب بڑے گناہوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نےفرمایا:

"أن تزاني بحليلة جارك([8])"

ترجمہ: یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرے۔

زنا یہودیت کی نظر میں :

یہودیت میں زنا کی تعریف ان الفاظ کے ساتھ کی گئی ہے:

"کل اتصال جنسی غیر شرعی کان یضاجع رجل امرأة غیره او فتاة مخطوبة لرجل آخر او فتاة حرة غیر مخطوبة([9])"

ترجمہ:ہر وہ غیر شرعی جنسی ملاپ جو کسی دوسرے کی بیوی ،منگیتر یا ایسی عورت سے کی جائے جس کی منگنی نہیں ہوئی ہو۔

دین اسلام کی طرح یہودیت میں بھی زنا کو ایک قبیح فعل تصور کیا جاتا ہے،شریعت موسوی میں خاص اہمیت کے حامل احکام عشرہ میں بھی زنا سے واضح الفاظ میں منع کیا گیا ہے جیسے خروج باب ۲۰ میں ہے:

"تو زنا نہ کرنا([10])"۔

یہودیت میں زنا کی قباحت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مذہبی پیشوا کاہن کو بدکار عورتوں سے شادی کرنے سے منع کیا گیا ہے([11]

زنا مسیحیت کی نظر میں :

مسیحیت میں زنا کی تعریف میں عموم پیدا کرکے ان میں ہر قسم کی برائیوں کو شامل تصور کیا جاتا ہے:

"کل نجاسة فی الفکر و الکلام الاعمال وکل مایشتم شیٔ میں ذلک([12])"

ترجمہ: فکری نجاست ، کلام کی نجاست ،اعمال کی نجاست اور ہر وہ شے جس سے نجاست کی بو محسوس ہو زنا ہے۔

عہد نامہ جدید میں زنا کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک شادی مرد اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت سے یا شادی عورت اپنے شوہرکے علاوہ کسی اور مرد سے جنسی تعلقات قائم کرے([13]

مسیحیت میں زنا کی حرمت وقباحت کا اندازہ اس با ت سے لگایا جا سکتا ہے کہ متی کی انجیل باب ۵ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب ایک قول میں کہا گیا کہ:

"تم زنا نہ کرنا ، لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ جو کوئی کسی عورت پر بری نظر ڈالتا ہے ،وہ اپنے دل میں پہلے ہی اس کے ساتھ زنا کر چکا ہے([14])"۔

زنا ہندو مت کی نظر میں:

ہندمت میں زنا کی تعریف ان الفاظ کے ساتھ کی گئی ہے:

“Adultery is sexual intercourse between a married man and a woman not his wife, or between a married woman and a man not her husband ([15])”.

ترجمہ:زنا ان جنسی تعلقات کا نام ہے جو ایک شادی شدہ مرد کا اپنی بیوی کے علاوہ کسی یا شادی شدہ عورت اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور مرد سے قائم کریں۔

ہندو مت مت میں زنا ایک ایسا قبیح فعل تصور کیا جاتا ہے کہ بدکاری کا سبب بننے والے افعال کو بھی زنا قرار دیا گیا ہے،منو سمرتی باب ۸میں زنا کے متعلق کہا گیا ہے:

"کسی پرائی عورت کو تحفہ دینا، اس کے زیورات یا کپڑوں کو چھونا یا اس کے ساتھ چارپائی پر بیٹھنا بدکاروں کے افعال تصور ہوں گے([16])"۔

ہندومت میں زنا کے متعلق البیرونی کتا ب الہند میں لکھتے ہیں:

"لوگ سمجھتے ہیں کہ ہندوؤں کے نزدیک زنا کاری جائز ہے حالانکہ حقیقت وہ نہیں جو لوگ سمجھتے ہیں بلکہ قصہ یہ ہے کہ یہ لوگ زنا کی سزا میں سختی نہیں کرتے([17])"۔

زنا بدھ مت کی نظر میں:

بدھ مت میں زنا کی تعریف ن الفاظ کے ساتھ کی گئی ہے:

“Adultery is having sexual relations with another person while married or with a person married to another” ([18]).

ترجمہ:کسی شادی شدہ مرد کا اپنی بیوی کے علاہ کسی دوسری عورت ،یا کسی شادی شدہ عورت کا اپنے شوہر کے علاوہ کسی دوسرے مرد سے جنسی تعلقات رکھنا زنا کہلاتا ہے۔

بدھ مت میں زنا کو ایک ناجائز عمل تصور کیا جاتا ہے۔بدھی اخلاقیات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے دس احکامات ،جن میں پہلے پانچ کو " پنج شل " کہا جاتا ہے ،ان پانچ احکامات پر عمل ہر بدھی پیروکار پر فرض ہےچاہے وہ سنگھ کا رکن ہو، بھکشو ہو یا گھریلوں معتقد۔ان احکامات میں ایک یہ ہے کہ ناجائز جنسی تعلقات استوار نہ کی جائے([19])۔اسی طرح بدھ تعلیمات میں گناہوں سے بچنے کی ترغیب دیتے ہوئے دس گناہوں سے انتہائی سختی سے منع کیا گیا ہے جن میں سے ایک ناجائز جنسی تعلقات بنانا ہے([20]

مذاہب عالم میں زنا کے متعلق تعلیمات کا تقابلی جائزہ:

اسلام ، یہودیت ، عیسائیت ، ہندومت اور بدھ مت کے مقدس کتب میں سے زنا کے متعلق عبارات سے ثابت ہوتا ہے کہ زنا تمام سامی مذاہب اور غیر سامی مذاہب میں حرام ہے۔

اس کے ساتھ یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ تمام مذاہب میں زنا سے قریب کرنے والے افعال جیسے ،بد نظری ، تحفے تحائف دینا ، چھونا وغیرہ سے منع کیا گیا ہے، تاکہ ہر طرح سے یہ بات یقینی بنائی جائے کہ معاشرے میں غیر اخلاقی سرگرمیاں فروغ نہ پائے۔اسی طرح تمام مذاہب میں ظاہری برائی کے ساتھ زنا کو روحانی طور پر بھی برے اثرات کا پیش خیمہ بھی بتایا گیا ۔

شریعت اسلامی میں زنا کی سزا:

شریعت اسلامی میں زنا ان جرائم میں شامل ہے ،جس کی سزا اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمائی ہے۔شریعت کی اصطلاح میں سزاؤں کو حد کہا جاتا ہے([21])۔ابتدائے اسلام زنا کے ارتکاب پر عورت کوتا حیات گھر میں قید رکھنے اور مرد کو ایذاء دینے کا حکم تھا ۔لیکن ساتھ ہی اس بات کو بیان کیا گیا کہ یہ سزائیں اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کوئی راہ نہیں نکال لیتے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ تَوَّابًا رَحِيمًا([22])"

ترجمہ: مسلمانو تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں ان پر اپنے لوگوں میں سے چار شخصوں کی شہادت لو۔ اگر وہ (ان کی بدکاری کی)گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کردے یا خدا ان کے لئے کوئی اور سبیل (پیدا) کرے۔اور جو دو مرد تم میں سے بدکاری کریں تو ان کو ایذا دو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیکوکار ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا (اور) مہربان ہے۔

یہ حکم بعد میں منسوخ ہوگیا اور اس کی جگہ مستقل سزا ؤں نے لے لی۔حد زنا میں دو قسم کی سزائیں شامل ہیں:

1: غیر محصن (غیر شادی شدہ )کو سو کوڑے مارنا،جس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

"الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ([23])"

ترجمہ: بدکاری کرنے والی عورت اور بدکاری کرنے والا مرد (جب ان کی بدکاری ثابت ہوجائے تو)دونوں میں سے ہر ایک کو سو درے مارو۔

غیر شادی شدہ کے لئے سو کوروں کی سزا احادیث مبارکہ سے بھی ثابت ہے،جیسے رسول اللہﷺ نے فرمایا

"خذوا عني قد جعل الله لهن سبيلا البكر بالبكر جلد مائة وتغريب عام والثيب بالثيب الجلد والرجم([24])"

ترجمہ:مجھ سے لے لواللہ تعالیٰ عورتوں کے لئے راہ نکال لی،کنوارے مرد اور کنواری عورت کو سو کوڑے مارواور ایک سال کے لئے ملک بدر کردواور شادی شدہ مرد و عورت کو کوڑے مارو اور سنگسار کردو۔

2: محصن (شادی شدہ) سنگسار کرنا،اہل سنت والجماعت کااس بات اتفاق ہے کہ محصن(شادی شدہ) مرد وعورت کو بطور حد زنا سنگسار کیا جائے گا۔رجم کے ثبوت پر مندرجہ ذیل احادیث دلالت کرتی ہیں:

۱: "اذهبوا به فارجموه ([25])"

ترجمہ:اس (ماعزؓ) کو لے جاؤ اور سنگسار کردو۔

۲:رسول اللہ ﷺ سے جب زنا کے مقدمے میں رجوع کیا گیا تو آپ نے سیدنا انیس ؓ سے فرمایا:

"فإن اعترفت فارجمها([26])"

ترجمہ:اگر وہ عورت زنا کا اقرار کرلے ،تو اس کو سنگسار کردو۔

۳: "أن النبي صلى الله عليه وسلم رجم يهوديين([27])"

ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے دو یہودیوں(مرد وعورت)کو سنگسار کیا)ہے۔

اس علاوہ حد زنا میں تیسری سزا جلا وطنی بھی شامل ہے لیکن وہ سزا کی مستقل قسم نہیں بلکہ وہ کوڑوں کے ساتھ ضمناً سزا میں داخل ہے اور اس کو حاکم کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ اگر وہ مناسب سمجھیں تو سو (۱۰۰) کوڑے مارنے کے بعد جلاوطن بھی کر سکتا ہے۔

یہودیت میں زنا کی سزا:

یہود کی مقدس کتب تورات یا عہد نامہ عتیق (Old testament) اور تالمود شامل ہیں ۔تورات اگرچہ تحریف کی وجہ سے اپنے اصلی حالت میں محفوظ نہیں رہی لیکن پھر بھی یہودیت کے ماننے والوں کے نزدیک مقدس سمجھی جاتی ہیں۔لہٰذا ان کتب سے زنا کی سزا سے متعلق آیات(Verses)نقل کی جائیں گی ۔

احبار باب ۲۰ اور استثنیٰ باب ۲۳ میں بدکاری کے مرتکب مرد وعورت دونوں کو جان سے مارنے کا حکم دیا گیا ہے:

"اگر کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی یعنی اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے،تو زانی اور زانیہ دونوں ما ردئیے جائیں([28])([29])"۔

استثنیٰ باب ۲۳ میں کنواری لڑکی سے زنا کرنے والے کے متعلق سنگسار کرنے کا حکم دیا گیا ہے:

"کنواری لڑکی جس کی نسبت طے پاچکی ہو اور کوئی دوسرا آدمی اس سے صحبت کرلے ،تو تم ان دونوں کو شہر کے پھاٹک پر لے آنا اور انہیں سنگسار کر کے مار ڈالنا([30])"۔

تالمود میں مختلف جرائم کی سزا رجم مقرر کی گئی ہے ۔ان جرائم میں زنا بھی شامل ہے ([31]

احبار باب ۲۱ میں زانیہ کے لئے آگ میں جلانے کی سزا تجویز کی گئی ہے:

"اگر کسی کاہن کی بیٹی فاحشہ بن کر اپنے آپ کو ناپاک کرتی ہے تو وپ اپنے باپ کی رسوائی کا سبب بنتی ہے،لازم ہے کہ وہ آگ میں جلا دی جائے([32])"۔

تالمود میں کاہن کی فاحشہ بیٹی جو اپنے باپ کی رسوائی کا باعث بنتی ہے۔اس کو بطور سزا آگ میں جالنے کا حکم دیا گیا ہے([33]

یہودیت میں زنا بالجبر کے لئے بھی سزائے موت مقرر کی گئی ہے:

"اگر کوئی آدمی کسی لڑکی کو جس کی نسبت طے ہو چکی ہے کسی میدان میں پاکر اس کے ساتھ زنا کرتا ہے تو صرف اس آدمی کو مار ڈالا جائے اور لڑکی کو کچھ نہ کہا جائے([34])"۔

استثنیٰ باب ۲۲ میں زنا کی سزا جرمانے کی صورت دینے کا بھی حکم موجود ہے:

"ایسی کنواری لڑکی جس کی نسبت کسی سے طے نہیں ہوئی ،اس سے کوئی زنا بالجبر کرتا ہے تو وہ آدمی لڑکی کے باپ کو پچاس(۵۰) مثقال چاندی ادا کرے اور لڑکی سے شادی کر لے([35])"۔

مسیحیت میں زنا کی سزا:

عیسائیوں کے ہاں دو کتابیں مقدس سمجھی جاتی ہیں یعنی عہد نامہ عتیق اور عہدنامہ جدید۔عہدنامہ جدید میں زنا کی سزا سے متعلق براہ راست احکامات موجود نہیں البتہ بعض آیات سے مسیحیت میں زنا کی سزا پر دلالت ہوتی ہے،جیسے انجیل میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب قول ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے ۔

"یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کو رد کرنے آیا ہوں۔میں انہیں رد نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں،کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین نابود نہیں ہوجاتےشریعت کا چھوٹا سا شوشہ تک مٹنے نہ پائے گا([36])"۔

یہ قول اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ عہد نامہ عتیق میں جو احکامات موجود ہیں وہی عیسائیوں پر بھی لاگو ہوتے ہیں،اس لئے عیسائیت میں بھی زنا کی وہی سزا ہونی چاہیئے جو تورات میں ذکر کی گئی ہے۔

یوحنا کی انجیل میں ایک واقعہ نقل ہے جس میں کہا گیا کہ کچھ لوگ ایک عورت کو لائے جو زنا میں پکڑی گئی تھی اور یسوع مسیح سے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے احکامات کے مطابق اس عورت کو سنگسار کرنے کا فیصلہ کرنے کو کہا تو آپ علیہ السلام نے جواباٍ فرمایا کہ تم سے جو بے گناہ ہے وہی پہلے اس کو پتھر مارے([37]

ڈاکٹر نور احمد شاہتاز اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

"کتاب مقدس کے اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عیسائیوں کے ہاں بھی زانیہ کی رجم مقرر ہے([38])"۔

ہندو مت میں زنا کی سزا:

ہندومت میں قانون کے حوالے سے اہم کتب میں منوسمرتی ،ارتھ شاستر اوردھرم شاستر شامل ہیں ۔ہندو مت میں زنا کی سزا سے متعلق احکامات انہی کتب میں موجود ہیں۔لیکن یہ بات رکھنی چاہئیے کہ ذات پات کے نظام کی وجہ سے زنا کے احکامات بھی مختلف ذاتوں کے لئے مختلف ہیں۔ ذیل میں ان کتب سے عبارات نقل کی جائے گی۔

"کسی اعلیٰ نسب کی حامل خاتون سے جنسی زیادتی کرے ،تو موت کی سزاکا حق دار ہوگا([39])"۔

ایک اور جگہ لکھا ہے:

"برہمن عورت سے زنا کرنے والے شودر کو چٹائی میں لپیٹ کر جلا دیا جائے۔ اسی طرح بادشاہ ی بیوی سے زنا کرنے والے کو مٹکے میں بند کرکے جلا دیا جائے([40])"۔

اعلیٰ ذات کی عورت کو بدکاری کرنے پر سزا کی حقدار ٹھہرے گی،جیسے منوسمرتھی میں آیا ہے:

اونچے ذات کی شادی شدہ عورت کو زنا کرنے پر کتوں سے مروانے اور شادی شدہ مرد کو لوہے کی پلنگ کو آگ میں تپا کر اس میں جلانے کی سزاتجویز کی گئی ہے([41]

ہم پلہ ذات کی عورت سے زنا کرنے والے متعلق کہا گیا کہ اس کے ہاتھ کاٹ دئیے جائیں یا ۴۰۰ پن جرمانہ کیا جائے([42])([43]

اونچی ذات کا مرد کم ذات عورت سے زنا کرے تو اسکے متعلق کہا گیا :

"گھٹیا ذات کی عورت سے زنا کرنے والےکی پیشانی داغ کر ملک بدر کردیا جائے([44])"۔

البیرونی ہندوؤں میں زنا کی سزا کے متعلق لکھتے ہیں :

"زانیہ عورت کی سزا یہ ہے کہ اپنے شوہر کے گھر نکال دی جاتی اور جلا وطن کر دی جاتی تھی([45])"۔

بدھ مت میں زنا کی سزا:

بدھ مت کے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عدم تشدد اس کے اساس میں شامل ہے ۔بدھ مت میں زنا کے حوالے سے احکامات واضح طور پر موجود نہیں ۔لیکن بعض اقوال زنا کے قابل سزا ہونے پر دلالت کرتی ہے، جیسے بدھ کے ایک وعظ میں کہا گیا :

"کسی عورت کو ناپاک نگاہ سے نہ دیکھو جو کوئی دوسرے شخص کی عورت کو ناپاک نگاہ سے دیکھتا ہے وہ پاکیزگی کے قانون کو توڑنے کا مرتکب ہوتا ہے([46])"۔

اس قول میں وضح طور پر کہا گیا کہ عورت کو ناپاک نگاہ سے دیکھنا قانون توڑنے کے مترادف ہے تو زنا کرنا بطریق اولیٰ قانون شکنی اور قابل سزا جرم ہوگا۔

اسی طرح ایک موقع پر کہا گیا کہ محض عورت کوخیال میں کام کرنے کی خواہش سے متحرک دیکھو تو بطور سزا خود اپنی آنکھیں لوہے کی گرم سلاخوں سے نکالو([47]

بدھ مت کے پیروکار راجہ اشوک کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے زمانہ حکومت میں ہندو مت کی کتابوں دھرم شاستر اور دھرم شترہ میں موجود قوانین کے مطابق مختلف جرائم کی سزاؤں کا نفاذ کیا تھا۔راجہ اشوک کے لکھوائے گئے ستونی کتبوں میں بھی سزاؤں کا ذکر ملتا ہے، جیسے ستونی کتبہ چہارم میں کہا گیا ہے :

"میں نے حکم دیا کہ ایسے مجرموں کو جنہیں سزائے موت دی گئی ہے ، تین دن کی مہلت دی جائے([48])"۔

اگرچہ اس عبارت سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ راجہ اشوک نےکن جرائم پر سزائے موت مقرر تھی لیکن ہندو مت کی کتب کے قوانین کے نفاذ سے ثابت ہوتا ہے کہ قابل سزا جرائم میں زنا شامل رہی ہوگی۔

مذاہب عالم میں زنا پر مقرر سزاؤں کا تقابلی جائزہ:

یہودیت ،عیسائیت ، اسلام ، ہندومت اور بدھ مت کے مقدس کتب میں موجود زنا کی سزا سے متعلق عبارات کا جائزہ لینے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ زنا تمام مذاہب میں قابل سزا جرم ہے۔

یہودیت میں زنا پر چار قسم کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں:سنگساری، سزائے موت،آگ میں جلانا اور مالی جرمانہ۔

ہندومت میں زانی کے لئے پانچ قسم کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں:آگ میں جلانا ، سزائے موت،جلا وطن کرنا ، اعضاء کاٹنا اور جرمانہ

دین اسلام میں دو قسم کی مستقل سزاؤں کا حکم دیا گیا ہے: سنگساری اور کوڑوں کی سزا جبکہ جلاوطنی غیر مستقل سزا ہے۔

اسلام ، یہودیت ، ہندومت کےکتب مقدسہ میں تو واضح طور پر بدکاری پر سزائے موت کا ذکر کیا گیا ہے ،جبکہ عیسائیت اور بدھ مت میں واضح احکا مات نہ ہونے کے باوجود عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مذاہب میں زنا پر یہی سزا مقرر ہے۔

دیکھا جائے تو یہودیت اور ہندومت میں بعض صورتوں میں زانی کو آگ میں جلانے کا حکم ہے جبکہ شریعت اسلامی میں آگ کے ذریعے سزا دینے کی شدید ممانعت آئی ہے،حدیث مبارک میں آتا ہے:

"لا يعذب بالنار إلا رب النار([49])"

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ آگ کے ذریعے عذاب دے۔

اسلام اور یہودیت میں سنگساری کی سز تجویز کی گئی ہے لیکن اسلام میں یہ سزا صرف شادی شدہ زانی کے ساتھ خاص ہے جبکہ یہودیت میں مطلقاً اس سزا کاذکر کیا گیا ہے۔امام شاہ ولی اللہ ؒ سامی مذاہب میں رجم کے متعلق فرماتے ہیں :

"وَاعْلَم أَنه كَانَ من شَرِيعَة من قبلنَا الْقصاص فِي الْقَتْل، وَالرَّجم فِي الزِّنَا وَالْقطع فِي السّرقَة، فَهَذِهِ الثَّلَاث كَانَت متوارثة فِي الشَّرَائِع السماوية([50])"

ترجمہ:جان لو کہ ہم سے پہلے شرائع میں قتل پر قصاص ، زنا پر سنگساری اور چوری میں ہاتھ کاٹنا مشروع تھا،پس یہ تینوں سزائیں آسمانی شرائع میں چلی آرہی ہیں۔

ہندومت اور اسلام میں جلاوطنی کی بھی سزا موجود ہے لیکن ہندومت میں مستقل سزا کی شکل میں جبکہ اسلام مستقل سزا کے طور پر نہیں بلکہ اس سزاحاکم کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے

یہودیت اور ہندومت میں زانی پر بعض صورتوں مالی جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہےجبکہ شریعت اسلامی میں زنا کے معاملے میں مالی جرمانہ سےواضح طور منع کیا گیا ہے،جیسے صحیح البخاری کی روایت ہے:

"قال إن ابني كان عسيفا على هذا زنى بامرأته فأخبروني أن على ابني الرجم فافتديت منه بمائة شاة وجارية لي ثم إني سألت أهل العلم فأخبروني أن ما على ابني جلد مائة وتغريب عام وإنما الرجم على امرأته فقال رسول الله صلى الله عليه وسلمأما والذي نفسي بيده لأقضين بينكما بكتاب الله أما غنمك وجاريتك فرد عليك وجلد ابنه مائة وغربه عاما وأمر أنيس الأسلمي أن يأتي امرأة الآخر فإن اعترفت رجمها فاعترفت فرجمها([51])"

ترجمہ: اس نے کہا میرا ایک بیٹا اس شخص کے ہاں نوکر تھا ۔اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا ۔مجھےلوگوں نے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجن (سنگساری) کی سزا جاری ہوگی،میں نے فدیہ میں اس شخص کو سو بکریاں اور ایک لونڈی دی۔پھر میں اہل علم سے دریافت کیا ،انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑوں اور ایک سال جلا وطنی کی سزا ہے اور اس کی بیوی پر رجم (سنگساری ) کی سزا ہے۔(یہ سن کر)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :سنو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ،میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا اور وہ یہ ہے کہ تیری بکریاں اور لونڈی تجھے واپس کر دی جائیں گی اور تیرے بیٹے پر سو کوڑوں کی اور ایک سال جلا وطنی کی سزا جاری ہوگیاور انیس کو حکم دیا کہ اس شخص کی بیوی کے پاس جائے ،تو اگر وہ اقرار کرے تو اسے رجم (سنگسار)کردیں ،پس اس عورت نے اقرار کیا ، تو اسے رجم(سنگسار) کر دیا گیا۔

ہندومت میں اعضاء کاٹنے کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ یہودیت اور اسلام میں زنا کے لئے ایسی کسی سزا کا ذکر موجود نہیں۔

یہودیت اور ہندومت میں سزا کے معاملے میں معاشرے میں مقام کی بنا پر سزا میں تبدیلی کا تصور موجود ہے جیسے ہندومت میں اونچے طبقے کے لئے سزا میں نرمی اور نچلے طبقے کے لئے انتہائی سختی رکھی گئی ہے ۔اسی طرح یہودیت میں کاہن کی بیٹی کو خاص طور پر آگ میں جلانے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ شریعت اسلامی میں سزا کے معاملے میں معاشرے کے افراد کی حیثیت کا لحاظ نہیں رکھا گیا بلکہ قانون کی نظر میں معاشرے کے تمام افراد برابر ہے۔

نتائج:* زنا تمام سامی وغیر سامی مذاہب میں حرام اور اخلاقی برائی تصور کی جاتی ہے۔

  • تمام مذاہب میں ایسے افعال جو زنا کی طرف لے جانے والے ہو ممنوع قرار دئیے گئے ہیں ۔
  • اکثر مذاہب میں زنا پر وہی سزائیں مقرر ہیں جو کہ دین اسلام میں مقرر ہیں۔
  • دیگر مذاہب میں بعض ایسی سزائیں بھی موجود ہیں جس کو شریعت اسلامی نے ممنوع قرار دیا ہے۔
  • تمام شرائع میں سزاؤں کے نفاذ کا مقصد مجرم کو تکلیف پہنچانے کی غرض سے نہیں بلکہ معاشرے کے امن وامان کویقینی بنانے کے لئے ہے۔


حوالہ جات

  1. حواشی ومصادر ()محمد بن محمد الغزالی،المستصفیٰ،۱: ۱۷۴،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،۱۹۹۳ء
  2. ()زین الدین محمد بن تاج العارفین،التوقیف علی مہمات التعاریف،۱ :۱۸۷،عالم الکتب ،القاہرۃ،۱۴۱۰ھ
  3. ()علی بن ابی ابکر الرغینانی ،الہدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدیٔ، ۲ :۳۴۴، دار احیاء التراث العربی، بیروت،ت ن
  4. ()ابن ہمام محمد بن عبد الواحد،فتح القدیر، ۵ :۲۴۷،دار الفکر ،بیروت،ت ن
  5. ()الاسراء،۱۷ :۳۲
  6. ()فخر الدین محمد بن عمر الرازی، مفاتیح الغیب، ۲۰ :۳۳۱،دار احیاء التراث العربی،بیروت،۱۴۲۰ھ
  7. ()الفرقان ،۲۵ :۶۸
  8. ()محمد بن اسمٰعیل البخاری، حیح البخاری،کتاب تفسیر القرآن،باب والذین لا یدعون مع اللہ، رقم الحدیث :۴۷۶۱
  9. ()عبد الملک ،ابراہیم ،قاموس الکتاب المقدس، جون الیگزینڈر،تھامسن،۴۳۷،مجمع الکنائس ، بیروت،۱۳۹۱ھ/۱۹۷۱ء
  10. ()عہدنامہ عتیق،خروج ،۲۰ :۱۵
  11. ()عہدنامہ عتیق،احبار،۲۱ :۹
  12. ()قاموس الکتاب المقدس،۴۳۷
  13. ()عہد نامہ جدید ، مرقس،۱۰ :۱۲
  14. ()عہد نامہ جدید ،متی،۵ :۲۹
  15. ()http://www.advocatekhoj.com
  16. () Manusmriti: The Laws Of Manu, Translated by G.Bulher,52 (8 :357)
  17. ()ابو ریحان البیرونی،کتاب الہند ، ۲۷۵، بک ٹاک ،لاہور،۲۰۱۱ء
  18. ()http://www.buddhisma2z.com/content.php?id=5
  19. ()کرشن کمار،گوتم بدھ راج محل سے جنگل تک، ۲۷۴،نگارشات پبلشرز، لاہور،۲۰۰۷ء
  20. ()عبد اللہ مصطفیٰ نومسوک،البوذیۃ،۱۳۶،مکتبۃ اضواء السلف،الریاض،۱۴۲۰ھ/۱۹۹۹ء
  21. ()علی بن محمد بن علی الزین الشریف الجرجانی،کتاب التعریفات، ۱ :۸۳،دار الکتب العلمیۃ ، بیروت،۱۴۰۳ھ
  22. ()سورۃ النساء،۴: ۱۶،۱۵
  23. ()الاسراء،۱۷ :۳۲
  24. ()مسلم بن حجاج القشیری، صحیح مسلم، کتاب الحدود،باب حد الزنا،رقم الحدیث:۱۶۹۰
  25. ()صحیح البخاری،کتاب الحدود، باب سؤال الامام المقر ہل احصنت،رقم الحدیث :۶۸۲۵
  26. ()صحیح البخاری،کتاب الحدود،با الاعتراف بالزنا،حدیث:۶۸۲۷
  27. ()محمد بن یزید،سنن ابن ماجہ،کتاب الحدود،باب رجم الیہودی الیہودیۃ،رقم الحدیث:۲۵۵۶
  28. ()عہدنامہ عتیق ،احبار، ۲۰ :۱۰
  29. ()عہدنامہ عتیق ،استثنیٰ ، ۲۳ :۲۲
  30. ()نفس مصدر،۲۳ :۲۴
  31. ()تالمود،۴ :۱۷۰
  32. ()عہدنامہ عتیق ،احبار، ۲۱ :۹
  33. ()تالمود،۴ :۱۷۹
  34. ()عہد نامہ جدید،استثنیٰ، ۱۳ :۲۵
  35. ()عہد نامہ جدید،استثنیٰ، ۲۲ :۲۸۔۳۰
  36. ()عہد نامہ جدید،متی،۵:۱۷، ۱۸
  37. ()عہد نامہ جدید،یوحنا، ۸ : ۳۔۱۱
  38. ()ڈاکٹر نور احمد شاہتاز،تاریخ نفاذ حدود، ۷۷،فضلی سنز پرائیویٹ لمیٹڈ ، کراچی،۱۹۹۸ء
  39. ()Manusmriti,52 (8 :360)
  40. ()کوتلیہ چانکیہ ،ارتھ شاستر ، مترجم سلیم اختر،۳۰۸،نگارشات پبلشر ز، لاہور،۲۰۰۴ء
  41. ()Manusmriti,55 (8 :371)
  42. ()نفس مصدر،۳۰۲
  43. ()Manusmriti,55 (8 :367)
  44. ()ارتھ شاستر ،۳۰۸
  45. ()کتاب الہند ،۵۱۵
  46. ()سید امجد علی ،جرم وسزا ادیان عالم کے تناظر میں، ۲۲۶،ادارہ علوم اسلامیہ جامعہ پنجاب، لاہور،۲۰۰۵ء
  47. ()نفس مصدر
  48. ()چوہدری غلام رسول ،مذاہب عالم کا تقابلی مطالعہ، ۲۵۷،علمی کتب خانہ،لاہور،۱۹۸۸ء
  49. ()سلیمان بن اشعث ،سنن ابی داود ، کتاب الجہاد، باب کراہیۃ حرق العدو بالنار،رقم الحدیث :۲۶۷۳
  50. ()امام احمد بن عبد الرحیم شاہ ولی اللہ،حجۃ اللہ البالغۃ،۲ :۲۴۵،دار الجیل ، بیروت،۱۴۲۶ھ/۲۰۰۵ء
  51. ()ٍصحیح البخاری،کتاب الحدود،باب الاعتراف بالزنا،حدیث:۶۸۲۷