روایتی بینکاری نظام کے ارتقائی مراحل کا تحقیقی جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search
کتابیات
مجلہ مجلة قسم أصول الدين العالمية
عنوان روایتی بینکاری نظام کے ارتقائی مراحل کا تحقیقی جائزہ
انگریزی عنوان
Research Study on the Evolution of Traditional Banking System
مصنف مصطفائی، عارف محمود، محمد احسن الدین، مومن فياض شيخ
جلد 2
شمارہ 2
سال 2018
صفحات 42-54
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
کلیدی الفاظ
Banking, Wealth, Currency, Transactions, Precious metals
شکاگو 16 مصطفائی، عارف محمود، محمد احسن الدین، مومن فياض شيخ۔ "روایتی بینکاری نظام کے ارتقائی مراحل کا تحقیقی جائزہ۔" مجلة قسم أصول الدين العالمية 2, شمارہ۔ 2 (2018)۔

Abstract

The concept of keeping wealth in a safe place dates to centuries. Ancient civilizations had diverse means of storing wealth in the form of crops, cattle, precious metals etc. The evolution of modern banking practice began with the introduction of receipts which were exchanged against precious metals and coins deposited to goldsmiths for safe keeping. Whenever the need for payments and transactions arose the holder of the receipts used to utilize the receipts as guarantee. The society used to honor these receipts as they carried the same weight as other precious metals. Receipts were swapped in place of precious metals and thus for all practical purposes paper was introduced as currency in the society. With the advent of currency notes the system of traditional banking came into being. Since then the banking system has gone through continuous change. The present banking system is geared up to meet the present and the future requirements of modern age. In the contemporary world money is now being steadily replaced by banknotes, cheques, pay orders, bank draft, ATM cards, debit cards, credit cards, ebanking.

ابتدائیہ

بلاشبہ بنی آدم نے روزِ اول سے اپنی زندگی خوب تربنانے اور معاشرے میں روابط قائم کرنے کیلئے بے حساب محنت و مشقت کی جس کی وجہ سے معاشی، مالیاتی واقتصادی نظام وجود میں آئے ۔مؤرخین اورمحقیقن کے مطابق دولت کو محفوظ رکھنے کا نظریہ صدیوں پرانا ہے۔ قدیم تہذیبوں میں دولت مختلف طریقوں سے محفوظ کی جاتی تھی جن میں فصلیں، مویشی اورقیمتی دھاتوں کا رکھنا شامل تھا۔


روایتی بینکاری نظام کا آغازان رسیدوں سے ہوا جو کہ سنار اس مال پر دیتے تھے جو وہ اپنی حفاظت میں رکھتے تھے۔ جب کبھی لین دین کی ضرورت درپیش ہوتی حامل رسید اس کو ضمانت کے طور پر دیتا۔ معاشرے میں ان رسیدوں کی وقعت شروع ہوگئی کیونکہ انھیں قیمتی دھاتوں کے متبادل مانا جانے لگا۔پھرآہستہ آہستہ یہ رسیدیں قیمتی دھاتوں کی جگہ استعمال ہونے لگیں اور اس طرح معاشرے میں نوٹ’’زر‘‘کا تعارف ہوا۔ کرنسی نوٹ کے آغاز سے روایتی بینکاری نظام باقاعدہ وجود میں آیا۔زمانہ گزرتا گیا اور تجربے کی بدولت عقل و فہم آتی گئی اس طرح اس نظام میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوتی چلی گئیں۔


بہر کیف ہم اپنے اس مضمون میں اسی روایتی بینکاری نظام کے ارتقائی مراحل کا جائزہ پیش کریں گے لیکن اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کرنے سے قبل بینکاری نظام کو جاننا بے حد ضروری ہے۔اس لیےپہلے ہم اپنے مضمون میں روایتی بینکاری نظام کا تعارف بیان کرنے کے بعد روایتی بینکاری نظام کے ارتقائی مراحل کا تفصیلی جائزہ پیش کریں گے۔


روایتی بینکاری نظام کا تعارف 

بینک ایک ایسے ادارہ کا نام ہے جو لوگوں کی رقوم اپنے پاس جمع کرنے کے بعد سرمایہ کاری کرکے خود بھی نفع کماتا ہے اور ان کو بھی منافع دیتا ہے جن کی رقوم بینک نے اپنے پاس جمع کی تھیں۔بچت کرنے والوں یا سرمایہ کاری کرنے والوں کی رقوم اپنے پاس جمع کرنا، ضرورت مندوں یا کاروباری لوگوں کو قرض دینا، نوٹ جاری کرنا، زیور، قیمتی اشیاء، ضروری کاغذات، مالی معاملات میں حکومت کو مشورے دینا وغیرہ کاکام بینک ہی انجام دیتا ہے۔بہرحال روایتی بینک کی تعریف لغت اورماہرینِ معیشت کچھ اس طرح کرتے ہیں:


Dr. Herbert L. Hart کے مطابق:


"A banker is one who in the ordinary course of business honors cheques drawn upon him by persons for whom he receives money on current account. " (۱)


’’بینکار وہ شخص ہے جو عام کاروباری عمل میں ان لوگوں کے چیک قبول کرے جن کی رقوم اس نے کرنٹ اکاؤنٹ کے طور پر وصول کی ہوں۔‘‘


جامع فیروز اللغات اردو میں بینک کی تعریف اس طرح بیان کی گئی ہے:


’’بینک ایسا معاشی ادارہ ہوتا ہے جو لوگوں کی رقم محفوظ رکھنے کے لیے جمع کرتا ہے اور اس رقم کو قرض دینے کے لیے استعمال کرتا ہے۔لوگوں سے رقم لے کر اْن کو کم شرحِ سود ادا کرتا ہے اور لوگوں کو رقم دے کر ان سے زیادہ شرحِ سود وصول کرتا ہے۔ شرحِ سود کا یہ فرق ہی بینک کا منافع ہوتا ہے۔بینک کے پیشہ کو بینکاری کہتے ہیں۔‘‘ (۲)


سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ بینک کی تعریف اس طرح کرتے ہیں:


’’چند صاحبِ سرمایہ لوگ مل کر ایک ادارہ ساہوکاری قائم کرتے ہیں جس کا نام بینک ہے۔ اس ادارے میں دو طرح کا سرمایہ استعمال ہوتا ہے۔ایک حصہ داروں کا سرمایہ جس سے کام کی ابتداء کی جاتی ہے۔ دوسرا امانت داروں یا کھاتہ داروں کا سرمایہ جو بینک کا کام اور نام بڑھنے کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ تعداد میں ملتا جاتا ہے اور اسی کی بدولت بینک کے اثر اور اس کی طاقت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔بینک کی کامیابی کا اصل معیار یہ ہے کہ اس کے پاس اس کا اپنا ذاتی سرمایہ کم سے کم ہو اور لوگوں کی رکھوائی ہوئی رقمیں زیادہ سے زیادہ ہوں۔‘‘ (۳)


مولانا مشتاق احمد کریمی بینک کی تعریف کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:


’’لفظ بینک (Bank) اٹلی زبان کے لفظ (Banco) سے ماخوذ ہے، جس کا معنی اٹلی زبان میں ڈسک (Desk) یا ٹیبل (Table) کے ہیں۔ چونکہ اس زمانہ میں روپے کے اس طرح کے کاروبار کرنے والے ڈسک یا ٹیبل لگاکر بیٹھتے تھے، اس لئے اس کا نام بینک مشہور ہوگیا۔


کاروباری اصطلاح میں’’بینک‘‘ایک ایسے تجارتی ادارہ کانام ہے جو لوگوں کی رقمیں اپنے پاس جمع کرکے تاجروں، صنعتکاروں اور دیگر ضرورت مند افراد کو قرض فراہم کرتا ہے۔ آج کل روایتی بینک ان قرضوں پر سود وصول کرتےہیں اور اپنے امانت داروں کو کم شرح پر سود دیتے ہیں اور سود کا درمیانی فرق بینک کا نفع ہوتا ہے۔‘‘ (۴)


معروف ماہرِ معیشت ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ بینک کی تعریف کرتے ہیں:


’’بینک وہ ادارہ ہے جو قرضوں اور قابل بیع و شراء دستاویزات کا کاروبار کرتا ہے۔ اب چونکہ بینک کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ قرضوں کا کاروبار کرتا ہے، قرضوں میں تجارت کرتا ہے۔ اس لیے وہ اثاثوں کی تجارت نہیں کرسکتا۔‘‘ (۵)


مفتی محمدتقی عثمانی صاحب بینک کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں:


’’بینک ایک ایسے تجارتی ادارے کا نام ہے جو لوگوں کی رقمیں اپنے پاس جمع کرکے تاجروں، صنعت کاروں اور دیگر ضرورت مند افراد کو قرض فراہم کرتا ہے۔ آج کل روایتی بینک ان قرضوں پر سود وصول کرتے ہیں اور اپنے امانت داروں کو کم شرح پر سود دیتے ہیں اور سود کا درمیانی فرق بینکوں کا نفع ہوتا ہے۔‘‘ (۶)


مندرجہ بالا تعریفات سے واضح ہوتا ہے کہ بینک ایک ایسا ادارہ ہے جوقرض کی بنیاد پر لوگوں سے رقم جمع کرکے دوسرے لوگوں کو سود پر قرض فراہم کرتا ہے۔ سود سے حاصل ہونے والا منافع بینک اور ان لوگوں کے درمیان تقسیم ہوجاتا ہے جنہوں نے اپنی رقوم بینک میں جمع کراوئیں تھیں ۔بینک کی تعریفات جاننے کے بعداب ہم اپنے مضمون کے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں جس میں یہ تحقیق کی گئی ہے کہ روایتی بینکاری نظام کا تاریخی پسِ منظر ہے کیا؟اس کا آغاز کب، کہاں اور کیسے ہوا ؟ 


روایتی بینکاری نظام کا تاریخی پسِ منظر

روایتی بینکاری نظام کی تاریخ کے بارے میں مؤرخین اور محقیقن کی مختلف آراء ہیں، جبکہ عام طور پر اس حوالے سے یہ تأ ثر پایا جاتا ہے کہ روایتی بینکاری نظام کی تاریخ کچھ زیادہ قدیم نہیں، خودمغربی دنیا میں اس نظام کاارتقاء گزشتہ دو اڑھائی صدیوں پر مشتمل ہے۔بینکاری نظام میں استعمال ہونے والا لفظ’’بینک‘‘کا استعمال سولہویں صدی عیسوی میں اٹلی میں ہوا۔ جیسے جیسےعالمی سطح پرتجارت بڑھتی چلی گئی اسی رفتار سے یہ ادارہ بڑھتا اور پھیلتا چلا گیااور بیسویں صدی عیسوی کو اس نظام کی ترقی و پذیرائی کا دور کہا جاسکتا ہے۔ بہرحال بینکاری نظام کی تاریخ کوسید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ اپنی کتاب’’سود‘‘میں تین مرحلوں میں تقسیم کرتے ہیں۔جس کی تفصیل اس طرح بیان کی گئی ہے۔


۱۔ سناروں سے جاری کردہ رسیدوں کا دور

کاغذی کرنسی کے آغاز سے قبل لوگ اپنی دولت (نقدی) جو کہ سونا اور چاندی کی شکل میں ہوتی تھی اسے جمع کیا کرتے تھے، گھر میں رکھنے کی صورت میں چوری کا خدشہ لاحق رہتا تھا، چنانچہ وہ اپنی نقدی امانتاً سناروں کے پاس رکھوا دیا کرتے تھے۔ اسی بات کو مولانا مودودی ؒ اپنی کتاب’’سود‘‘میں یوں تحریر فرماتے ہیں:


’’مغربی ممالک میں اس کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ پہلے جب کاغذ کے نوٹ نہ چلتے تھے تو لوگ زیادہ تر اپنی دولت سونے کی شکل میں جمع کیا کرتے تھے اور اسے گھروں میں رکھنے کے بجائے حفاظت کی غرض سے سناروں کے پاس رکھوادیتے تھے۔‘‘ (۷)


اس معاملے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ سنار اس سونا یا چاندی کو اپنے پاس رکھنے کے بعد ایک تحریری رسید لکھ دیا کرتے تھے کہ آپ کا اتنا سونا ہمارے پاس رکھا ہوا ہے، جب یہ رسید اس سنار کو دکھائی جاتی تو وہ رسید واپس لے کر اتنا سونا یا چاندی حامل رقعہ کے حوالہ کردیتے۔ لوگوں کو آسانی اسی میں معلوم ہوتی تھی کہ بجائے یہ رسید سنار کے پاس لے جائیں، سونا یا چاندی واپس لے کر پھر سونا یا چاندی کسی اور کے حوالے کریں اور پھر وہ شخص واپس سنار کے پاس آکرسونا یا چاندی کو امانت رکھوا کر اس کی رسید بنوائے۔لہٰذا بعد ازاں سنار ہی کی رسیدیں آگے حسابات کو چکانے کے لئے دوسرے لوگوں کے حوالےکی جانے لگیں ۔


جب تک خود کسی کو سونے کی ضرورت پیش نہ آتی اس وقت تک یہ رسیدیں بازار میں گردش کرتی رہتی تھیں اور ضرورت پیش آنے پر جو بھی شخص یہ رسید سنار کے پاس لے جاتا سونا اسے مل جاتاتھا۔ گویا کہ اس زمانہ میں سنار کی رسید ہی تمام کاروباری مقاصد کے لئے سونے کا قائم مقام بنتی چلی گئیں۔ زرمبادلہ کے طور پر جو کام سونے سے لیا جاتا تھا اب وہی کام سنار کی جانب سے جاری کردہ ان ہلکی پھلکی رسیدوں سے ہوجاتا تھا۔ اسی بات کا تذکرہ کرتے ہوئے مولاناسید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ کچھ آگے چل کر رقم طراز ہیں:


’’اب تجربہ سے سُناروں کو معلوم ہوا کہ جو سونا ان کے پاس لوگوں کی امانتوں کا جمع ہے اس کا بمشکل دسواں حصّہ نکلوایا جاتا ہے، باقی ۹ حِصّے ان کی تجوریوں میں بے کار پڑے رہتے ہیں۔انہوں نے سوچاکہ ۹ حصّوں کو استعمال کیوں نہ کیا جائے، چنانچہ انہوں نے یہ سونا لوگوں کو قرض دے کر اس پر سود وصول کرنا شروع کردیا اور اسے اس طرح استعمال کرنے لگے گویاکہ وہ ان کی اپنی مِلک ہے۔حالانکہ دراصل وہ لوگوں کی مِلک تھا۔مزید یہ کہ وہ اس سونے کے مالکوں سے اس کی حفاظت کا معاوضہ بھی وصول کرتے تھے اور چپکے چپکے اسی سونے کو قرض پر چلا کر اس کا سودبھی وصول کرلیتے تھے۔‘‘ (۸)


سناروں نے اپنے تجربہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعل سازی کا بازار یہیں پر ہی نہ روکا کیونکہ انھیں اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کی طرف سے جاری کردہ رسیدیں بازار میں وہ سارے کام سرانجام دیتی ہیں جو لین دین کے معاملہ میں سونا کرتا تھا۔ اس لیے انھوں نے اصل سونا قرض پر دینے کے بجائے بڑی چا لاکی سے بازار میں اصل سونے کی قوّت پر کاغذی رسیدیں چلانا شروع کر دیں۔ مزید دھوکا دہی یہ کی کہ اصل سونا جس کاعموماً دسواں حصہ ہی لوگ واپس لینے آتے تھے انہوں نے ۹ حصوں کی جگہ ۹۰ حصوں کی جعلی رسیدیں بناڈالیں اور ان جعلی رسیدوں پر قرض دینا شروع کر دیا ۔اس بات کو مولانا مودودی ؒ اس طرح سمجھاتے ہیں:


’’اگر سنار کے پاس ایک شخص نے سو روپے کا سونا جمع کرایا، تو سنار نے سو سو روپے کی دس رسیدیں بنائیں جن میں سے ہر ایک پر لکھا کہ اس رسید کے پیچھے سو روپے کا سونا میرے پاس جمع ہے۔ ان دس رسیدوں میں سے ایک اس نے سونا جمع کرانے والے کے حوالہ کی اور باقی نو سوروپے کی نو رسیدیں دوسرے لوگوں کو قرض دیں اور اس پر ان سے سود وصول کرنا شروع کردیا۔‘‘ (۹)


اس دغابازی اور جعل سازی کا نتیجہ یہ نکلا کہ سنارملک کی ۹۰ فیصد دولت کے مالک بن چکے تھے۔سناروں نے ۹۰ فیصد بے بنیاد جعلی روپیہ بازار میں چلانا شروع کیا، اشیاء و خدمات حاصل کیں اوردھوکا دہی کے ذریعے اسی جعلی روپیہ کو قرض پردینے لگے اور اس پر خواہ مخواہ دس سے بارہ فیصدسود وصول کرنے لگے۔ یہ وہ پیسہ تھا جو انہوں نے نہ کمایا تھا اور نہ ہی کسی جائز طریقہ سے اس کے مالک بنے تھے۔اس حوالے سے مولانا مودودی ؒ فرماتے ہیں:


’’ظاہر ہے کہ یہ ایک سخت قسم کا دھوکا اور فریب تھا۔ اس دغا بازی اور جعل سازی کے ذریعہ سے اُن لوگوں نے ۹۰ فیصد جعلی روپیہ بالکل بے بنیاد کرنسی کی شکل میں بنا ڈالا اور خواہ مخواہ اس کے مالک بن بیٹھے اور سوسائٹی کے سر پر اس کو قرض کے طور پر لاد لاد کراس پر دس بارہ فیصد سود وصول کرنے لگے۔ حالانکہ انہوں نے اس مال کونہ کمایا تھا، نہ کسی جائز طریقہ سے اس کے حقوق ملکیت انہیں پہنچتے تھے، اور نہ وہ کوئی حقیقی روپیہ تھا جس کو ذریعہ تبادلہ کے طور پر بازار میں چلانا اور اس کے عوض اشیاء اور خدمات حاصل کرنا کس اصولِ اخلاق و معیشت و قانون کی رُو سے جائز ہو سکتا تھا۔ یہ سُنار اس مسلسل جعل سازی سے ملک کی ۹۰ فیصد دولت کے مالک ہوچکے تھے۔‘‘ (۱۰)


اس مکاری اور عیاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ ارباب اختیار حکمران، بادشاہ و امراء بلکہ خودحکومتیں اندرونی مشکلات دور کرنے اورلڑائیوں میں مالی مدد حاصل کرنے کے لئے ان سناروں سے بھاری قرض وصول کر نے لگیں ۔ جس کا نقصان یہ ہوا کہ اب کسی کی مجال نہ تھی کہ وہ ان سناروں سے یہ سوال کر سکے کہ وہ اتنے بڑے سرمائے کے کیسے مالک بنے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ سنار قانون کی گرفت سے نہ صرف محفوظ رہے بلکہ ان کو قانونی طورپربینکر اور فینانشیر تسلیم کیا گیا۔ان کو نوٹ جاری کرنے کی اجازت دے دی گئی اور وہی نوٹ آگے چل کرکاروباری دنیا میں باقاعدہ ’’کاغذی زر ‘‘کی حیثیت سے پہچانے جانے لگے۔


۲۔ سناروں کی جعل سازی

سناروں نے کاغذی کرنسی کوپوری طرح اپنے اختیار میں کرنے کے بعد ایک نیا جعل سازی کاروبار شروع کیا جس کا مقصد ان لوگوں کی مال و دولت کو اپنے قابو میں کرنا تھا جو کچھ نہ کچھ کر کے اپنی آمدنی میں سے بچانے کے عادی تھے۔یہ فتنہ پہلے سے بھی زیادہ خطرناک تھا۔اس دور کے حوالے سے مولانا مودودی ؒ تحریر فرماتے ہیں:


’’قدیم سُناروں اور دورِ جدید کے ساہوکار وں نے اس کے بعد ایک قدم اور بڑھایا جو پہلے قدم سے بھی زیادہ فتنہ انگیز تھا۔ وہ چال یہ تھی کہ انہوں نے سود کا لالچ دے کر تمام ایسے لوگوں کا سرمایہ بھی اپنے پاس کھینچنا شروع کردیا جو اپنی ضرورت سے زیادہ آمدنی بچا رکھتے تھے، یا اپنی ضرورتیں روک کر کچھ نہ کچھ پس انداز کرنے کے عادی تھے۔اب جو انہوں نے دیکھا کہ یہ لوگ اپنے سرمائے کو کاروبار میں لگانے لگے ہیں اور ان کی پسِ انداز کی ہوئی رقوم ہمارے پاس آنے کے بجائے کمپنیوں کے حصّے خریدنے میں زیادہ صرف ہونے لگی ہیں، تو انہوں نے کہا کہ آپ لوگ اس زحمت میں کہاں پڑتے ہیں؟ اس طرح تو آپ کو خود شرکت کے معاملات طے کرنے ہوں گے۔ خود حساب کتاب رکھنا ہوگا، اور سب سے زیادہ یہ کہ اس طریقہ سے آپ نقصان کے خطرے میں بھی پڑیں گے۔ اور نفع کا اُتار چڑھاؤ بھی آپ کی آمدنی پر اثر انداز ہوتا رہے گا۔ اس کے بجائے آپ اپنی رقمیں ہمارے پاس جمع کرائیے۔ ہم ان کی حفاظت بھی بلامعاوضہ کریں گے، ان کا حساب کتاب بھی مفت رکھیں گے، اور آپ سے کچھ لینے کے بجائے الٹا آپ کو سُود دیں گے۔‘‘ (۱۱)


اس دھوکا دہی اور چالاکی سے سناروں اور ساہوکاروں نے لوگوں کو طرح طرح کے لالچ دے کران کی جمع کردہ رقوم کو معیشت و تمدن کے کاموں میں لگنے کے بجائے اپنے دست تصرف میں کر لیا اور اس طرح وہ آہستہ آہستہ پورے قابل حصول سرمائے پر قابض ہوگے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے ہی سنار اور ساہوکار اپنے جعلی سرمائے کو توسود پر چلا ہی رہے تھے لیکن اس جعل سازی کے ذریعے وہ دوسروں کے سرمایہ کو کم شرحِ سود پر لے کر زیادہ شرحِ سود پر بھی دینے لگے۔اس طریق کار سے ان سناروں اور ساہوکاروں نے امیر و غریب، کسان و مزدور، تجارتی و صنعتی اداروں بلکہ حکومتوں اور سلطنتوں تک کو اپنے ماتحت کر لیا۔


۳۔ سناروں کا مشترکہ کاروبارکا آغاز

سناروں اورساہوکاروں نے کاغذی کرنسی اور سرمایہ کاری کو اپنے تصرف میں کرنے کے بعد ایک اورقدم اُٹھایا جسے ہم بینکاری نظام کا دور بھی کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے انفرادی طور پر کام کرنے کے بجائے مشترکہ کام کرنا شروع کیااور اس طرح نوٹ کے کام کرنے والی کمپنیاں یعنی بینک وجود میں آئے۔ مولانا مودودی ؒ اس ضمن میں تحریر فرماتے ہیں:


’’سناروں اور ساہوکاروں نے تیسرا قدم اُٹھایا اور اپنے کاروبار کو وہ شکل دی جسے اب جدید نظام ساہوکاری کہا جاتا ہے۔ پہلے یہ لوگ انفرادی طور پر کام کرتے تھے۔ اگر چہ بعض ساہوکارگھرانوں کا مالیاتی کاروبار بڑھتے بڑھتے عظیم الشان اداروں کی صورت اختیار کر گیا تھا۔ جن کی شاخیں دُور دراز مقامات پر قائم ہوگئی تھیں، لیکن بہر حال یہ الگ الگ گھرانے تھے اور اپنے ہی نام پر کام کرتے تھے۔ پھر ان کو یہ سُوجھی کہ جس طرح کاروبار کے سارے شعبوں میں مشترک سرمائے کی کمپنیاں بن رہی ہیں، روپے کے کاروبار کی بھی کمپنیاں بنائی جائیں اور بڑے پیمانے پر ان کی تنظیم کی جائے۔ اس طرح یہ بینک وجود میں آئے جو آج تمام دنیا کے نظام مالیات پر قابض و متصرف ہیں۔‘‘ (۱۲)


روایتی بینکاری کی تاریخ کے بارے میں ابو حمزہ پروفیسر سعید مجتبیٰ سعیدی (فاضل مدینہ یونیورسٹی) کا بھی یہی مؤقف ہے۔ آپ کیبات کا خلاصہ کچھ یوں نکلتا ہے کہ مغربی ممالک میں بینکاری کا آغاز یوں ہوا کہ ابتداءمیں جب کاغذ کے نوٹ نہ ہوتے تھے تو لوگ اس وقت اپنی دولت سونے یا چاندی کی صورت میں جمع کیا کرتے تھے۔ جس کے پاس زائد از ضرورت دولت ہوتی وہ اسے بطور امانت سنار کے پاس رکھ کر اس سے رسید لے لیتا کہ میر ی اتنی دولت فلاں سنار کے پاس بطور امانت پڑی ہے پھروہی رسیدیں خرید و فروخت کے سلسلہ میں ایک سے دوسرے کی طرف منتقل ہونے لگیں۔ ہر لین دین کے موقعہ پر سنار سے سونا لے کر ادائیگی کرنے کی بجائے محض رسیدوں پرخریدو فروخت کرنے میں لوگوں کو سہولت تھی۔ چنانچہ کاروبار کا یہ انداز لوگوں میں رائج ہوگیا۔ موجودہ زمانہ میں بینک نوٹ، چیک اور ڈرافٹ وغیرہ اسی رسید کی ترقی یافتہ صورتیں ہیں۔ آہستہ آہستہ ان سناروں اور ساہوکاروں نے محسوس کیا کہ ایسے لوگ بہت کم ہیں جو بیک وقت اپنی تمام رقم کی واپسی کا مطالبہ کریں۔ سونے چاندی کی بہت بڑی مقدار ان کے پاس یوں ہی بے کار پڑی رہتی ہے۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ اس ذخیرہ کا کچھ حصہ بطور قرض دے کر اس پر منافع کمایا جائے۔ جن سے یہ کاروبار منافع بخش ثابت ہوا تو انہوں نے لوگوں سے زیادہ سونا چاندی حاصل کرنے کی خاطر امانت پر سوددینا شروع کردیا۔ اس طرح وہ تھوڑی شرحِ سود پر رقم لے کر حاجت مندوں کو زیادہ شرحِ سود پر قرضہ دے کر منافع کمانے لگے۔بہر حالموصوف مزید لکھتے ہیں:


’’موجودہ زمانے کے بینک اسی طریقہ کی ترقی یافتہ شکل ہیں اگر چہ بینکوں میں ہونے والے لین دین کی بنیاد سود پر ہے جوکہ یقیناًناجائز، غلط اورحرام ہے اس کے باوصف بینک بہت سی ایسی خدمات بھی سرانجام دیتا ہے جو انسانوں کے لئے مفید بھی ہیں اور ناگزیر بھی۔مثلاً رقوم کا ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجنا اور ادائیگی کاانتظام کرنا، بیرونی ممالک سے لین دین کی سہولت، قیمتی اشیاء کی حفاظت وغیرہ۔کیونکہ بینک بہت تھوڑا معاوضہ لے کر وقت اور سرمایہ کو بچاتا ہے۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ ان بینکوں کو یکسر ختم کرنے کی بجائے ان نقائص کو دور کرکے اس نظام کی اصلاح کی جائے۔ اس طرح بینکاری کا نظام پاکیزہ ہوکر کئی گناہ زیادہ منافع بخش بھی ہوجائے گا۔‘‘ (۱۳)


اس حوالے سے مفتی محمدتقی عثمانی صاحب تحریر فرماتے ہیں:


’’ابتداءً لوگوں میں سامان کے بدلے سامان کی بیع کا طریقہ رائج تھا، مگر بعد میں بعض اہم اشیاء کو ہی ثمن قرار دیدیا گیا، مثلاً گندم، جوَ، چمڑا وغیرہ۔ اس کے بعد سونے اور چاندی کو ثمن قرار دیا گیا۔ اس لئے کہ یہ عالمی طور قابل قبول تھے اور ان کا نقل و حمل بھی آسان تھا۔ اس کے بعدسونے اور چاندی کے سکّے ڈھالے جانے لگے۔پھر ایک ایسا دور آیا کہ سونے، چاندی کے سکّے صرّافوں کے پاس امانت رکھوادیتے تھے اورصرّاف اس کے وثیقے کے طور پر رسید لکھ دیتے تھے، بوقت ضرورت رسید دکھا کر صرّاف سے اپنا سونا واپس لیا جاتا تھا۔پھر رفتہ رفتہ لوگوں نے صرّافوں کی دی ہوئی رسیدوں سے اشیاء خریدنی شروع کردیں، اس طرح رسیدوں سے لین دین شروع ہوگیا، اور صرّافوں سے سونا واپس لینے کی نوبت کم آنے لگی۔ جب صرّافوں نے دیکھا کہ لوگ عموماً سونا واپس لینے نہیں آتے تو انہوں نے لوگوں کا رکھا ہوا سونا دوسروں کو قرض دینا شروع کردیا۔ اس طرح نوٹ اور بینکنگ کا آغاز ہوا ۔‘‘ (۱۴)


قبل از مسیح روایتی بینکاری نظام

جیسا کہ مندرجہ بالا اقتباسات سے معلوم ہوتا ہے کہ روایتی بینکاری نظام کی ابتداء سناروں اورساہوکاروں سے منسلک ہے لیکن کہیں کہیں اس کی بنیادیں زمانہ قدیم کے مذہبی عبادت خانوں سے بھی جا ملتی ہیں۔مفتی تقی عثمانی صاحب نے اپنی کتاب’’سود پر تاریخی فیصلہ‘‘میں بینکاری نظام کی تاریخ پر جو بحث کی ہے اس کے مطابق بینکاری نظام کی تاریخ کم از کم دو ہزار سال قبل مسیح پرانی بتائی گئی ہے۔جس کا ذکر انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا میں بھی ملتا ہے۔


دراصل گزشتہ اقوام مثلاً: یونان، روم اورمصر کے لوگ اپنی رقوم عبادت خانوں کے خزانوں میں جمع کروایا کرتے تھے ۔ جہاں سے ان رقوم کو متوسط شرحِ سود پر عوام اور ریاست دونوں کو قرضے فراہم کیے جاتے تھے۔ اس طرح زمانہ قدیم کے عبادت خانے بینک کی طرح خدمات سرانجام دینے لگے۔ پانچویں صدی عیسوی میں آکر سناروں، ساہوکاروں اور صرافوں نے اپنی میز پر لوگوں کی رقوم اپنے پاس جمع کرنا شروع کیں اور اس طرح وہ بینکر بنتے چلے گئے۔ زمانہ قدیم میں یہ لوگ (Trapezite) کے نام سے پہچانے گئے جس کا مطلب ’’میز کا آدمی‘‘تھا۔ پھر آہستہ آہستہ یہ نظام ترقی پاکر روم (اٹلی) اور جدید یورپ تک جا پہنچا اور اس کے لئے لفظ بینک کا استعمال کیا جانے لگا۔ اس حوالے سے مفتی تقی عثمانی صاحب مزیدتحریر فرماتے ہیں:


’’بینکاری ادارے یونان، روم، مصر وغیرہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے صدیوں قبل قائم کئے گئے، جو رقوم جمع کرتے اور سود ی قرضے جاری کیا کرتے تھے۔ یہ کسی انفرادی یا ذاتی تحریک کا نتیجہ نہ تھا، بلکہ یہ مال دار اور منظم مذہبی اداروں کی طرف سے ادا کی جانے والی ضمنی خدمت تھی۔ اس طرح بینکاری نظام نے مذہبی اداروں سے ترقی پاکر ذاتی تجارتی ادارے (Private Business Institute) کی شکل اختیار کی، یہاں تک کہ ۵۷۵ ق م میں بابل میں ایک بینکاری کا ادارہ اے جیبی (Lgibi) کے نام سے قائم کیا گیا۔ یہ بینک اپنے گاہک کے وکیل کے طور پرخریداری کرتا، فصلوں پر قرضے دیتا، ادائیگی کو یقینی بنانے کے لئے فصلوں کو پیشگی رہن رکھتا، دستخطوں اورگروی رکھ کر قرضے دیتا اور سود پر کھاتے کھولنے کا کام سرانجام دیا کرتا تھا۔‘‘ (۱۵)


قبل از اسلام روایتی بینکاری نظام

قبل از اسلام اگر عربوں کے معاشی حالات کا جائزہ لیا جائے تو عربوں کی معاشی زندگی میں تجارت عام تھی اور وہ صرف عرب تک محدود نہ تھی بلکہ عرب اپنی تجارت کے لئے دوسرے ممالک بھی آیا جایا کرتے تھے۔ زمانہ قدیم میں جب عربوں کے درمیان دو چیزوں کا تبادلہ کیا جاتا تو بطور زر سونے اور چاندی کے سکوں کا استعمال ہوتا تھا۔ سونے کے سکوں کو’’ دینار‘‘ جبکہ چاندی کے سکوں کو ’’درہم‘‘ کہا جاتا تھا۔ جن ممالک میں بطورِ زردیناراستعمال ہوتا تھا وہ’’اہل الذہب‘‘کہلاتے تھے، جیسے مصر، شام وغیرہ اور جن ممالک میں بطورِ زردرہم استعمال ہوتا تھا انہیں’’اہل الورق‘‘کہاجاتا تھا، جیسے: عراق اوربابل وغیرہ۔ اس حوالے سے ڈاکٹرنور محمد غفازی اپنی کتاب’’تجارت کے اسلامی اصول و ضوابط‘‘میں تحریر فرماتے ہیں:


’’اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں سونا اور چاندی کے سکوں کو بطور زر استعمال کیا جاتا تھا۔سونے کے سکوں کو’’دینار‘‘جبکہ چاندی کے سکوں کو’’درہم ‘‘کہا جاتا تھا۔ ان سکوں کی قدو قیمت کا تعین ان کے ظاہری قدر (Face Value) سے نہیں بلکہ ان کے وزن سے کی جاتی تھی۔‘‘ (۱۶)


قبل از اسلام عربوں کی تجارت کا دائرہ اتنا بڑھ گیا تھا کہ وہ تجارت کی غرض سے مصر، شام، یمن اور عراق وغیرہ آیا جایا کرتے تھے جہاں بڑے بڑے تجارتی بازار وں کی شکل میں ہرشخص معاشی و تجارتی سرگرمیوں میں حصہ لیا کرتا تھا۔آہستہ آہستہ عربوں کی تجارت اس قدر بڑھتی چلی گئی کہ ان کا تعارف ہی ایک تجارتی قوم کے نام سے جانا جانے لگا۔خود اس کا ذکر قرآن کریم میں اس طرح ملتا ہے:


لِاِ یْلٰفِ قُرَیْشٍo اٖلٰفِھِمْ رِحْلَۃَالشِّتَآءِ وَالصَّیْفِo (۱۷)


’’قریش کو رغبت دلانے کے سبب سے۔ انہیں سردیوں اورگرمیوں کے (تجارتی) سفر سے مانوس کردیا۔‘‘


بہرحال اسلام سے قبل بالخصوص مکہ، مدینہ اور طائف کے لوگ معاشی سرگرمیوں میں حصہ لیا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے عرب طلب و رسد کے فطری قوانین سے بخوبی واقف تھے۔قیمتوں کوبڑھاناچڑھانا، مصنوعی قلت پیداکرنا، مصنوعی قلت کی وجہ سے اپنی من مانی قیمتیں وصول کرنا، سٹہ کھیلنااور سودی وتجارتی قرضے دینا عرب تاجروں کا مشغلہ تھا۔اس حوالے سے ڈاکٹر نور محمد غفاری تحریر فرماتے ہیں:


’’ایام جاہلیت کے عرب طلب ورسدکے فطری قوانین سے بخوبی آگاہ تھے، احتکار اور اکتناز کے ذریعے مال کوروک کرمصنوعی قلت پیداکرنا اورقیمتوں کوبڑھاچڑھاکروصول کرنا ان کابھی عام فن تھا، وہ تخمین اورسٹہ بازی میں بھی ماہرتھے، وہ شہرکےباہرسے آنے والے تجارتی کاروانوں سے سامان تجارت اورخصوصاًغلہ خریداکرتے اور بازارمیں مصنوعی قلت کی حالت پیداکرکے اپنی من مانی قیمتیں وصول کرتے، کسانوں کو (بالخصوص طائف اور مدینہ میں) سودی قرضے دیتے اور ان کی تمام فصل (پیداوار) پرقبضہ کرلیتے، گویاتاجرزیادہ سے زیادہ نفع کے استحصالی حربہ کے استعمال میں آج کے سرمایہ داروں سے ملتے جلتے تھے، جواس حقیقت کابیّن ثبوت ہے کہ سرمایہ دارکی استحصالی ذہنیت ہردورمیں ایک جیسی رہی ہے۔‘‘ (۱۸)


اس سلسلے میں مفتی تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں:


’’آج کی دنیامیں رائج معاشی نظام درحقیقت ایک مکمل سودی نظام ہے، جس کے تانے بانے زمانہ جاہلیت کے سودی معاملات سے ملے ہوئے ہیں، سودسے بحث کرنے والے حضرات اس بات پرمتفق ہیں کہ قبل ازاسلام عصرجاہلیت میں صرفی قرضوں کے ساتھ تجارتی اورپیداواری قرضوں کابھی بھرپوررواج تھا، جن کی عمومی بنیادسودی نفع پرتھی، مذکورہ نوعیت کے قرضے اہل عرب کے لیے اجنبی نہ تھے۔‘‘ (۱۹)


مندرجہ بالا اقتباسات سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ اُس دور میں باقاعدہ بینکاری نظام کا کوئی علیحدہ سے شعبہ تو نہ تھا لیکن دورِ جدید کی طرح بینک میں ہونے والے معاملات مثلاً: زر کا استعمال، سودی وتجارتی قرضوں کا اجراء وغیرہ وغیرہ زمانہ قدیم میں لوگوں میں پائے جاتے تھے ۔


روایتی بینکاری نظام کا باقاعدہ آغاز

معروف ماہرِمعیشت ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ اپنی کتا ب ’’محا ضرات معیشت و تجارت‘‘میں روایتی بینکوں کی تاریخ کے بارے میں جوفصل قائم کرتے ہیں اس کے مطابق مغربی بینکاری نظام ایک دو دن پرانا نہیں اورنہ ہی اس نظام کو بنانے کے لئے کبھی کسی نے باقاعدہ طورپرسوچابلکہ یہ نظام وقت گزرنے کے ساتھ وجود میں آیا۔ ماضی کے تجربوں اور وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی غرض سے اس نظام میں تبدیلیاں آتی چلی گئیں۔ چنانچہ ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ تحریر فرماتے ہیں:


’’مغرب میں رائج بینکاری کا موجودہ نظام ایک دو دن میں نہیں سامنے آیا۔ نہ کبھی کسی نے باقاعدہ بیٹھ کر یہ سوچا کہ بینکاری کا ایک نظام بنانا چاہیے اور اس کے خدوخال یہ اور یہ ہونے چاہئیں۔ وہاں یہ نظام طویل عرصے کے دوران ایک خود کار انداز میں وجود میں آیا ہے۔تجارتی مصلحت، وقت اور تجربے نے جو تبدیلیاں تجویز کیں وہ تبدیلیاں اس میں آتی گئیں۔اوران تبدیلیوں اور بین الاقوامی تجارتی قوتوں کے مفادات کے مطابق اس نظام میں تبدیلیاں آتی گئیں۔‘‘ (۲۰)


مغربی تاریخ دانوں کے مطابق بینکاری ادارہ کا قیام ایک ہزارسال قبل مسیح اور بعض کے نزدیک پندرہ سو سال قبل مسیح میں ہوا۔ اس دور میں یہ ادارہ قرض فراہم کیا کرتا تھا۔ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ان مغربی تاریخ دانوں سے اختلاف کرتے ہیں ان کے نزدیک ہندوستان میں کئی ہزار برسوں سے ہندو بنیے قرض پر سرمایہ فراہم کیا کرتے تھے چنانچہ موصوف فرماتے ہیں:


’’ بعض مغربی مصنفین بینکاری کی تاریخ کا آغاز قبل مسیح سے کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض کا دعویٰ ہے کہ ایک ہزار بلکہ پندرہ سو سال قبل مسیح میں بھی بینکاری کا ادارہ موجود تھا ۔لیکن اگر بینکاری سے مراد، جیسا کہ بعض مغربی مصنفین اس کے آغاز کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لیتے ہیں کہ یہ وہ ادارہ ہے جو قرضوں کا کاروبار کرتا ہو، تجارت کے لیے قرض پر سرمایہ فراہم کرتا ہو تو اس مفہوم میں بینکاری کا ادارہ اس سے بھی قدیم ہے۔ سود خوری، قرض اور تجارت میں سود پر سرمایہ لگانے کا کام ہندو بنیے اس سے بھی بہت پہلے سے کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں کئی ہزار برس سے سودی قرضے دینے کا اور مختلف تجارتوں میں سودی رقوم لگانے کا رواج چلا آرہا ہے۔‘‘ (۲۱)


جس مفہوم میں آج بینک کا لفظ بولا یا سمجھا جاتا ہے ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے نزدیک اس کا آغاز سولہویں صدی عیسوی میں اٹلی میں ہوا اور وقت کی رفتار کے ساتھ اس میں تبدیلی رونما ہوتی چلی گئی ۔ انیسویں صدی عیسوی کے آخر تک بینک کو وہ اہمیت حاصل نہیں تھی جو اسے بیسویں صدی عیسوی کے وسط میں ملی۔ آپ کے نزدیک بیسویں صدی عیسوی کو بینکاری نظام کی ترقی کا دورکہا جاتا ہے کیونکہ اس دور میں بینکاری نظام کی پیچیدگیاں اورخامیاں دور کی گئیں، بینک کے وظائف میں توسیع ہوئی اور اس کو باقاعدہ تعلیمی اداروں میں پڑھایا اور سکھایا جانے لگا۔ اس حوالے سے موصوف تحریر فرماتے ہیں:


’’ موجودہ مفہوم، جس مفہوم میں آج بینک کا لفظ بولا جاتا ہے، اس مفہوم میں اس کا آغاز سولہویں صدی میں اٹلی میں ہوا۔ اور جیسے جیسے بین الاقوامی تجارت بڑھی، اہل مغرب کے تجارتی مفادات پھیلتے چلے گئے، مغربی بینکاری کا نظام بھی اسی رفتار اور اسی نسبت سے بڑھتا اور پھیلتا چلا گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ انیسویں صدی کے اواخر تک بینکوں کی وہ حیثیت نہیں تھی، بین الاقوامی تجارت میں بینکوں کا وہ کردار نہیں تھا، جو بیسویں صدی کے وسط سے سامنے آنا شروع ہوا۔ایک اعتبار سے بیسویں صدی کو بینکاری کی توسیع اور ترقی کا دور قرار دیا جاسکتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بینکاری میں تنوعات، بینکوں کے وظائف میں توسیع اور بینکاری کے کام میں پیچیدگی زیادہ سے زیادہ پیدا ہوتی چلی جارہی ہے۔ آج بینکوں کے کام بہت فنی اور پیچیدہ ہوگئے ہیں۔ اتنے فنی اور پیچیدہ کہ اس فن کو سیکھنے کے لیے باقاعدہ تعلیمی ادارے قائم ہیں۔ دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں بینکاری کے ادارے اور اسکول یا شعبے قائم ہیں، جہاں بینکاری کے علم اور فن پر تحقیق بھی ہو رہی ہے اور اعلیٰ تعلیم بھی ہو رہی ہے۔‘‘ (۲۲)


اختتامیہ

مندرجہ بالا تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ بینکاری نظام کا آغاز کاغذ کے نوٹ آنے کے بعد ہوا۔زمانہ قدیم میں خرید و فروخت کے لئے پہلے سامان کے بدلے سامان، اس کے بعد گندم، جوَ، چمڑا وغیرہ کوبطور ثمن استعمال کیا جانے لگا، پھر سونے اور چاندی کو ثمن قرار دیا گیا اورپھر آہستہ آہستہ ان کی جگہ سناروں سے جاری کردہرسیدوں نے لے لی۔اس کے بعد بچت کرنے والوں کی رسیدوں کو سود پرسرمایہ کاری میں لگایا گیا اور اس سلسلے میں زمانہ قدیم کے سناروں، عبادت خانوں، عرب تاجروں اور ہندو بنیوں کا نام سرِ فہرست ہے۔اُس دور میں باقاعدہ بینکاری نظام کا کوئی علیحدہ سے شعبہ تو نہ تھا لیکن دورِ جدید کی طرح بینک میں ہونے والے معاملات زمانہ قدیم میں لوگوں میں پائے جاتے تھے ۔


اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ بینکاری نظام ایک خود کار انداز میں وجود میں آیا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں آتی چلی گئیں لیکن اس نظام کا باقاعدہ آغازسولہویں صدی عیسوی میں اٹلی میں ہوا جسے بینکاری نظام کے آغاز کا دور بھی کہہ سکتے ہیں۔بینکاری نظام کے بعد نوٹ اسی رسید کی ترقی یافتہ صورت بنی اور موجودہ زمانہ میں بینک نوٹ، ، چیک بُک، پے آرڈر، بینک ڈرافٹ، اے ٹی ایم کارڈ، ڈیبٹ کارڈ، کریڈٹ کارڈ، ای بینکنگ وغیرہ استعمال کیے جانے لگے۔ اس طرح نوٹ اورروایتی بینکاری نظام کا آغاز ہوا۔


حواشی و حوالہ جات

(۱) Asifulla A, Introduction to Electronic Banking, Educreation Publishing, 2011, New Delhi (India) , Page No: 100 (۲) فیروز الدین الحاج مولوی، جامع فیروز اللغات اردو، فیروز سنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، س ن، کراچی، صفحہ نمبر: ’’بینک سے رجوع مکرر‘‘


(۳) سید ابو الاعلیٰ مودودی، سود، اسلامک پبلیکیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، نومبر ۱۹۹۷ء، لاہور، صفحہ نمبر: ۱۰۰، ۱۰۱


(۴) مولانا مشتاق احمد کریمی، بینک کا سود حلال ہے ؟ شبہات- ازالہ، الہلال ایجوکیشنل سوسائٹی، ۲۰۰۵ء، بہار (انڈیا) ،


صفحہ نمبر: ۵۲


(۵) ڈاکٹر محمود احمد غازی، محا ضرات معیشت و تجارت، الفیصل ناشران و تاجران کتب، ۲۰۱۰ء، لاہور، صفحہ نمبر: ۴۰۶


(۶) مفتی محمد تقی عثمانی، اسلام اور جدید معیشت و تجارت، مکتبہ معارف القرآن، ۲۰۰۷ء، کراچی، صفحہ نمبر: ۱۱۵


(۷) سود، محولہ بالا، صفحہ نمبر: ۹۴ 


(۸) ایضاً، صفحہ نمبر: ۹۵


(۹) ایضاً، صفحہ نمبر: ۹۵، ۹۶


(۱۰) ایضاً، صفحہ نمبر: ۹۶


(۱۱) ایضاً، صفحہ نمبر: ۹۷ تا ۹۹


(۱۲) ایضاً، صفحہ نمبر: ۱۰۰


(۱۳) ابو حمزہ پروفیسر سعید مجتبی سعیدی، سودی معیشت اور جدید بینکاری، ، البیان، جنوری تا جون ۲۰۱۳ء، کراچی، صفحہ نمبر: ۳۸۹


(۱۴) اسلام اور جدید معیشت و تجارت، محولہ بالا، صفحہ نمبر: ۹۶


(۱۵) مفتی محمدتقی عثمانی، مترجم: محمد عمران اشرف عثمانی، سودپرتاریخی فیصلہ، مکتبہ معارف القرآن، اپریل ۲۰۰۸ء، کراچی،


صفحہ نمبر: ۵۵ تا ۵۷


(۱۶) ڈاکٹر نور محمد غفاری، نبی کریم ؐ کی معاشی زندگی، شیخ الہند اکیڈمی، س ن، کراچی، صفحہ نمبر ۳۶


(۱۷) القرآن الکریم، سورۃ القریش: ۱ تا۲


(۱۸) ڈاکٹر نور محمد غفاری، تجارت کے اسلامی اصول و ضوابط، شیخ الہند اکیڈمی، س ن، کراچی، صفحہ نمبر ۵۷


(۱۹) سودپرتاریخی فیصلہ، محولہ بالا، صفحہ نمبر: ۵۴، ۶۰، ۶۶


(۲۰) محا ضرات معیشت و تجارت، محولہ بالا، صفحہ نمبر: ۳۶۵ 


(۲۱) ایضاً 


(۲۲) ایضاً، صفحہ نمبر: ۳۶۵، ۳۶۶