اسلام میں شعر و شاعری کا تصور

From Religion
Jump to navigation Jump to search

Warning: Page language "ur" overrides earlier page language "".

مجلہ البصیرۃ
عنوان اسلام میں شعر و شاعری کا تصور
انگریزی عنوان
The Concept of Poetry in Islam
مصنف مدنی، نور زمان، حيات اللہ
جلد 8
شمارہ 1
سال 2019
صفحات 23-39
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Islamic Poetry, Islamic Teachings Regarding Poetry, Defence of Islam, Praise of the Holy Prophet
شکاگو 16 مدنی، نور زمان، حيات اللہ۔ "اسلام میں شعر و شاعری کا تصور۔" البصیرۃ 8, شمارہ۔ 1 (2019)۔
اسلام میں تبدیلی مذہب کا مطالعہ: ایک تنقیدی تجزیہ
اسلام میں شعر و شاعری کا تصور
انسانی حقوق کا جدید فلسفہ اسلامی تناظر میں
پاکستانی دستور میں حکمرانوں کا تصور استحقاق اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
حدیث افتراق اور اتحاد امت عصر حاضر كے تناظر ميں تجزياتى مطالعہ
الفتح الربانى لترتيب مسند الامام احمد بن حنبل الشيبانى میں شیخ احمد عبدالرحمن البنا الساعاتی کا منہج و اسلوب
جهود العلامة إحسان إلهي ظهير في الدفاع عن العقيدة وتفنيده على الفرق المنحرفة والعقائد القاديانية كنموزج
الحبك النصي وعلاقته بالنص القرآنيدراسة نظرية في ضوء التراث النقدي والبلاغي
دلالة التركيز في قوله تعالى: فلا تقل لهمآ أفٍ
قاعدة الأصالة والتبعية وأثرها في المعاملات المالية المعاصرة
مشاركة المسلم في الأعمال السياسية بالبلاد غير الإسلامية وحكمها
Discourse on Madrassah Education Reform in Pakistan:Challenges to State Narrative and its Implications
Discourse on Modernity and Tradition in Madrassa Education
Psychosocial Nurturing of Children in Islam
Radical Feminism and its Major Socio-Religious Impact a Critical Analysis from Islamic Perspective


The position of poetry remained unchanged in Islam as it was before Islam, however with due some changes it was used as a weapon for the sake of Islam. This article will explain that how the poetry played a vital role in preaching of Islam. Islam absolutely encourages good wholesome poetry, which inspires one towards the fear of Allah, towards His awe and obedience, and towards anything that is good and made permissible by Allah and His Messenger (ﷺ) . Following discussions are made in this article: Firstly Qur’anic views towards poetry; as the word poet came in Qur’an four times while the word poetry once. The total verses in which we see the word poetry are six. Secondly preaching of ethics through poetry; as we see that before Islam the Arab society was without any ethics, the Muslim poet called them for an exemplary life like of the Holy Prophet (ﷺ) Using of Qur’anic notion in poetry. Thirdly the Qur’anic notion was used largely in the beginning of Islam, especially by Ḥassān bin Thābit, ʻAbdullāh Bin Rawāḥah, Kaʻb Bin Zubayr and Nābighah Al Jaʻdī etc. Fourthly Answer to non-believers through poetry; as Ḥassān bin Thābit did through his poetry, and answer to the opposition, which impacts more sharp than sword and lastly using of Poetry during the war; it was considered as one of the biggest source for encouraging towards holly wars, the example of Haḍrat Khansā is most prominent. The research article basically focuses upon the importance of poetry in Islam, moreover how the weapon of poetry has been used by Islamic poets for defending Islam and how Islamic poetry vastly used for spreading of golden teachings of Islam.

شعر کی جو اہمیت و حیثیت زمانہ جاہلیت میں تھی وہ اہمیت صدر اسلا م میں بھی باقی رہی اور جس طرح منکرین وحی اشعار کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرتے اور شعر گوئی کو ابلاغ کا وسیلہ بنا کر عام لوگوں کو دین اسلام سے بدظن کرنے کی سعی کرتے تو جواب میں مسلمان بھی اسی طرح شعر کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے ایک طرف تبلیغ کا کام کرتے تو دوسری طرف منکرین وحی کے پروپیگنڈے کا جواب بھی دیتے تھے۔ آپ ﷺ کی خدمت میں چند صحابہ کرام ﷢ ایسے تھے جو رسالت مآب ﷺ کی مدح سرائی کرتے اور ہجو کرنے والوں کو منہ توڑ جواب بھی دیتے۔ غرض صدر اسلام اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی شعر کو تبلیغ اور اسلام کی سر بلندی کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا اسی نقطہ نظر کی وضاحت اور ثبوت کے لیے یہ مقالہ ترتیب دیا گیا۔

مقالہ کے شروع میں بطور تمہید شعر سے متعلق قرآن و سنت کے مؤقف کی وضاحت پیش کی گئی ہے اور اس کے بعد تبلیغ و اسلام کی سربلندی کے ليےشعر کے کردار و استعمال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے :

1۔اشعار کے ذریعے اخلاقیات کی تعلیم

2۔اشعار میں قرآنی مفاہیم کا استعمال

3۔اشعار میں کفار ومشرکین کو جواب

4۔جنگوں کے دوران اشعار کا استعمال

اشعار سے متعلق قرآن مجید کا مؤقف

اگر ہم قرآن مجید کی طرف رجوع کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ”شاعر“کا لفظ قرآن میں چار دفعہ مذکور ہوا ہےاور لفظ”شعر“ایک بار وارد ہوا ہے جبکہ شعراء کا عمومی ذکر بھی ایک دفعہ آیا ہے، یوں مجموعی طور پر چھ آیات ایسی ہیں جن میں شعر وشعراء کا ذکر آیا ہے۔

قرآن مجید کی تین آیات ایسی ہیں جن میں اللہ تعالی نے کفار مشرکین کے اس دعوے کو رد کیا ہے کہ پیغمبر اسلام حقیقت میں شاعر ہیں، وہ تین آیات یہ ہیں :

﴿بَلْ قَالُواْ أَضْغَاثُ أَحْلاَمٍ بَلِ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الأَوَّلُونَ﴾([1])

بلکہ (ظالم) کہنے لگے کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں۔   (نہیں) بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ (یہ شعر ہے جو اس) شاعر (کا نتیجۂ طبع) ہے۔   تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے  کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے ۔

قرآن مجید میں ایک آیت ایسی وارد ہوئی ہے جس میں اللہ تعالی نے منکرین رسالت کے دعوے کا ذکر کیے بغیر پیغمبر اسلام کی ذات سےشاعریت کی نفی کی ہے،فرمان الہی ہے:

﴿وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ﴾([2])

اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں۔ مگر تم لوگ بہت ہی کم ایمان لاتے ہو ، اور نہ کسی کاہن کے مزخرفات ہیں۔ لیکن تم لوگ بہت ہی کم فکر کرتے ہو۔

اس آیت کا ذکر ابن کثیر ﷫ نے حضرت عمر ﷜ کے حوالے سےیوں کہا ہے کہ:

حضرت عمر﷜ فرماتے ہیں کہ اسلام قبول کرنے سے قبل میں ایک دن رسول ﷺ کا پیچھا کرنے نکلا تو دیکھا آپ ﷺ مجھ سے پہلے مسجد حرام داخل ہو چکے تھے۔ میں آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ آپ ﷺ نے سورۃ الحاقۃ کی تلاوت شروع کی، میں نے سنا تو قرآن کی تاثیر سے مغلوب ہونے لگا، پھر میں نے کہا خدا کی قسم یہ شاعر ہیں جیسا کہ قریش کہتے ہیں،حضرت عمر ﷜ فرماتے ہیں اس کے بعد آپ ﷺ نے سورۃالحاقۃ کی یہ آیات تلاوت کی:

﴿وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ﴾([3])

اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں۔ مگر تم لوگ بہت ہی کم ایمان لاتے ہو ، اور نہ کسی کاہن کے مزخرفات ہیں۔ لیکن تم لوگ بہت ہی کم فکر کرتے ہو۔

فرماتے ہیں یہ سننے کے بعد اسلام میرے دل کے ہر خانے میں داخل ہو گیا۔

قرآن کریم میں لفظ ”شعر“ایک مرتبہ آيا ہے، فرمان الٰہی ہے:

﴿وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُّبِينٌ﴾([4])

اور ہم نے ان (پیغمبر) کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایاں ہے ۔ یہ تو محض نصیحت اور صاف صاف قرآن (پُرازحکمت) ہے۔

حضرت عائشہ ﷞ سے پوچھا گیا کہ:

«هل كان رسول الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم يتمثل بشيء من الشعر؟ قالت: كان أبغض الحديث إليه، غير أنه كان يتمثَّل ببيت أخي بني قيس، فيجعل آخره أوله، وأوله آخره، فقال له أبو بكر:إنه ليس هكذا، فقال نبي الله: " إني وَاللهِ ما أنا بِشاعِرٍ، وَلا يَنْبَغِي لي»([5])

كيا رسول اللہ ﷺ شعر سے كوئى مثال ديتے تھے؟ انہوں نے (حضرت عائشہ ﷞نے) فرمايا: كہ ان كے (اللہ كے رسول ﷺ) نزديك (شعر) سب سے زيادہ ناپسنديدہ بات تھى۔ ماسوا ئے ميرے بھائى بنى قيس كے شعر (سے مثال ديتے تھے)، پس آپ ﷺشعر كے آخر كو شروع ميں اور شروع كو آخر ميں لے گئے۔ حضرت ابوبكر (صديق ﷜) نے فرمايا: يہ (شعر) ايسے نہيں ہے۔ اللہ كے نبى نے فرمايا: اللہ رب العزت كى قسم ميں شاعر نہيں ہوں اور نہ ہى يہ ميرے لائق ہے۔

حضرت علی بن ابی طلحہ ﷜حضرت ابن عباس ﷜سے روایت کرتے ہیں کہ آیت ﴿الشُّعَرَاء يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾کا مطلب یہ ہے کہ جنوں اور انسانوں کے گروہ کفار کی پیروی کرتے ہیں۔

حضرت عکرمہ﷫ فرماتے ہیں کہ دو شاعر ایک دوسرے پر بلند آواز میں چلا رہے تھے۔ دونوں میں ہر ایک کی تائید لوگوں کا ایک گروہ کر رہا تھا، اس وقت قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی ﴿الشُّعَرَاء يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾

امام سیوطی﷫ نے درالمنثور میں ان آیات کے نزول کا يہی سبب بیان کیا ہے۔([6])

اور آیت ﴿أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ﴾کی تفسیر میں ابن کثیر نے کئی اقوال ذکر کیے ہیں،آپ ﷫ اسی آیت کے بارے میں ابن عباس ﷜ سے نقل کرتے ہیں کہ:

"في كل فن من الكلام . وكذا قال مجاهد وغيره .وقال الحسن البصري: قد-والله- رأينا أوديتهم التي يهيمون فيها، مرة في شتمة فلان، ومرة في مدحة فلان .وقال قتادة: الشاعر يمدح قوما بباطل، ويذم قوما بباطل" ([7])

کلام کے ہر فن میں ہے۔مجاہد اور ان کے علاوہ نے ا بھی اسی طرح کہا ہے۔ حضرت حسن بصری﷫ سے منقول کہتے ہیں خدا کی قسم ہم نے ان کی وادیاں دیکھی ہیں جن میں وہ کبھی کسی کو برا بھلا کہتے ہیں اور کبھی کسی کی مدح سرائی کرتے ہیں، قتادہ کہتے ہیں کہ شاعر ناحق کسی کی تعریف کرتے ہیں اور ناحق کسی کی مذمت لکھتے ہیں۔

صاحب کشاف اسی آیت کی تفسیر میں یوں رقم طراز ہیں :

"﴿والشعراء﴾ مبتدأ. و﴿يَتَّبِعُهُمُ الغاوون﴾ خبره: ومعناه: أنه لا يتبعهم على باطلهم وكذبهم وفضول قولهم وما هم عليه من الهجاء وتمزيق الأعراض والقدح في الأنساب، والنسيب بالحرم والغزل والابتهار، ومدح من لا يستحق المدح، ولا يستحسن ذلك منهم ولا يطرب على قولهم إلا الغاوون والسفهاء والشطار. وقيل: الغاوون: الراوون. وقيل: الشياطين، وقيل: هم شعراء قريش: عبد الله بن الزبعري، وهبيرة بن أبي وهب المخزومي، ومسافع بن عبد مناف، وأبو عزة الجمحيّ. ومن ثقيف: أمية ابن أبي الصلت. قالوا: نحن نقول مثل قول محمد وكانوا يهجونه، ويجتمع إليهم الأعراب من قومهم يستمعون أشعارهم وأهاجيهم"([8])

﴿وَالشُّعَرَاء﴾مبتدا ہے اور﴿يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾ اس کی خبر ہے۔ اللہ تعالی کافرمان ﴿وَالشُّعَرَاء يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾ کا مطلب یہ ہے کہ شعراء کی باطل، لغویات،جھوٹ،ہجا،کسی کی بےقدری، انساب میں یہ وہ گوئی، غزلیات، اور ناحق مدح، اور ان جیسے دیگر تصرفات کی پذیرائی صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو بے وقوف،کم عقل اور گھٹیا ہوتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ غاوون سے مراد روات شعر ہیں،بعض کا کہنا ہے کہ اس سے شیاطین مراد ہیں، جبکہ بعض کی رائے ہے کہ اس سے مراد قریش کے یہ شعراء ہیں عبداللہ بن الزبعری اور ہبیرہ بن ابي وہب المخزومي ومسافع بن عبدمناف وابو عزّۃ الجمحى اور ثقيف سے اميۃ ابن ابي الصلت، یہ لوگوں کو مخاطب کر کے کہتے تھے کہ ہم بھی ویسا کلام کرتے ہیں جیسے محمد ﷺ کرتا ہے،یہ اپنے اشعار میں پیغمبر ﷺ کی ہجا اور ذم بیان کرتے تھے اور ان کی قوم کے بدو ان کو سنتے اور ان کی پذیرائی کرتے۔

عصر حاضر کے ایک مفکر محمد ہدارہ([9])کہتے ہیں کہ غاوون سے مراد روات شعر یہ شیاطین لینا زیادہ قرین قیاس نہيں ہے، بلکہ افضل یہ ہےکہ اس کا مصداق وہ اعراب اور بدو ہیں جو غیر مسلم شعراء کی مجالس میں حاضر ہو کر پیغمبرﷺ کی ہجا اور ذم میں اشعار سنتے تھے۔([10])

زمخشری فرماتے ہیں کہ:

”وہ شعراء جو مندجہ ذيل چار صفات کے حامل ہوں، ان شعراء کی صف میں شمار نہیں ہوں گے جن کی قرآن کریم میں مذمت وارد ہوئی ہے،اور اس کی وجہ انہی آیات کے آخر میں آنے والا استثناء ہے:

﴿ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا ﴾([11])

مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور خدا کو بہت یاد کرتے رہے۔

وہ چار صفات یہ ہیں: 1۔ایمان 2۔عمل صالح 3۔مقصود دعوت حق ہو 4۔ناحق کسی کی ہجواور ذم نہ ہو“ ([12])

یہی وجہ ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئی تو صحابہ﷢ میں وہ شعراء جو آپ ﷺ کی مدح میں شعر کہتے تھےاور منکرین وحی کی ہجا ئیہ اشعار کا جواب دیتے تھے آپﷺ کے پاس تشریف لائےاور سوال کیا کہ ہم شعر کہیں یا چھوڑ دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مؤمن اپنی تلوار اور زبان دونوں سے جہاد کرتا ہے اور تم جو شعر کہتے ہو اس کا مقصد پیغمبر ﷺ کی عزت اور شرف کا تحفظ ہے۔

شعر گوئی اور نبی کریم ﷺ کا طرز عمل

اگر ہم شعر گوئی سے متعلق پیغمبر اسلام ﷺ کےاقوال واشعار کا جائزہ لیں تو نظر آتا ہے کہ آپ ﷺ کا رویہ اس ضمن میں تین طرح کا تھا (1)نا پسند یدگی (2)خاموشی (3)حوصلہ افزائی # ناپسندیدگی

احادیث میں چند روایات ایسی ملتی ہیں جن سے شعر گوئی سے متعلق آپﷺ کی ناپسندیدگی کا اظہار ہوتا ہے،لیکن یہ ناپسندیدگی مطلقا نہیں ہے بلکہ ان اشعار اور شعراء سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے جو فحش گوئی اور لغویات کے ساتھ متصف ہے۔ ایک روایت میں آپ ﷺنے امرؤالقیس کی مذمت کی ہے اور جہنمی شعراءکا سردار قرار دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ امرؤالقیس کے اشعار فحش گوئی کا مرقع ہیں۔ ابن قتیبہ نے اپنی کتاب ”الشعر والشعراء“ میں امرؤالقیس کے متعلق آپ ﷺکا یہ قول نقل کیا :

"ذات رجل مذکور في الدنیا شریف فیها، منسي في الآخرة حامل فیها، یحي یوم القیامة ومعه لواء الشعراء في النار"([13])

آپ ﷺ نے فرمایا یہ شخص دنیا میں مشہور اور قابل احترام ہے مگر آخرت میں مجہول اور ناکام ہے، اسکو قیامت کے دن اس طرح اٹھایا جائے گا کہ اس کے ہا تھ میں جہنمی شعراء کی سرداری کا جھنڈا ہو گا۔

اس کے علاوہ ایسے اشعار جن میں آپ ﷺکی یا مسلمانوں کی ہجو اور ذم بیان کی گئی ان سے بھی آپ ﷺ نےسخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں بعض مشرک شعراء ایسے تھے جو یہی مذموم حرکت کرتے تھے،آپ ﷺ ان سے شدید ناگواری ظاہر کرتے، اور بعض شعراء جو حد سے تجاوز کر گئے تھے ان کو قتل کر دینے کا بھی حکم صادر کیا، ان میں سے ایک شخص کعب بن الاشرف بھی تھا ۔

جب آپ ﷺ کو معلوم ہوا کہ کعب بن اشرف مسلمانوں کی عورتوں کے بارے میں غزل اور فحش گوئی کہتا ہے تو آپ ﷺ نے ایک دن فرمایا: میری ذات کی خاطر ابن الاشرف کو کون قتل کرے گا ؟ محمد بن مسلمہ نے کہا یہ کام آپ ﷺ کے لیے میں انجام دوں گا۔اس کو میں قتل کروں گا،آپ ﷺ نے جواب دیا اگر تم کرسکو تو انجام دے دو،پھر مسلمانوںميں سے چند افراد نے منصوبہ بندی کے ذریعے کعب بن اشرف کو قتل کردیا۔ ([14])# خاموشی

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اشعار سے متعلق آپ ﷺنے نہ تو ناپسندیدگی اور کراہیت کا اظہار کیا ہے اور نہ ہی ان کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔آپ ﷺ کے سامنے جب ایسے اشعار کہتے جو فحش گوئی یا لغویات پر مشتمل نہ ہوتے تو آپ ﷺ ان کے بارے میں کوئی حکم صادر نہ فرماتے تھے۔ اس طرح کے اشعار عمومًا وہ ہوتے تھے جن ميں حکمت اور دانائی کی باتیں بیان کی گئی ہوتی تھی۔ خود آپ ﷺ کوئی شعر مکمل نہیں پڑھتے تھے۔شعر کا صرف ایک مصرع ذکر کرنے پر اکتفاء فرماتے تھے اور اگر پورا شعر پڑھتے تو اس میں وزن کو توڑ دیتے تھے۔ حضرت عائشہ ﷞ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ آپﷺ نے طرفہ بن الاعبد کا یہ شعر پڑھا :

ستبدی لك الأیام ما کنت جاهلاویاتیك بالأخبار من لم تزود

عنقریب وقت تم پر وہ ظاہر کرے گا جس کی تم توقع نہیں رکھتے، بعض اوقات تمہیں وہ شخص خبر لا دیتا ہے جن سے تم توقع نہیں رکھتے۔

حضرت ابو بکر صدیق ﷜مجلس میں حاضر تھے، انہوں نے سنا تو فرمایا: اے اللہ کے رسول ﷺ یہ "ویاتیك بالأخبار من لم تزود" نہیں بلکہ "ویاتیك من لم تزود بالأخبار"ہے، آپﷺ نے جواب میں فرمایا :

"إني لست بشاعر ولاینبغي لي"

نہ تو میں شاعر ہوں اور نہ یہ میرے شایانِ شان ہے۔([15])# حوصلہ افزائی

عہد رسالت میں عرب شعر کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے اور اپنی بات عام لوگوں تک پہنچانے کا ایک وسیع ذریعہ سمجھا جاتا تھا، اس لیے عرب شعر کو بطور ہتھیار کے بھی استعمال کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ کی دعوت عام ہوئی اور لوگ اسلام کی طرف راغب ہونے لگے تو منکرین وحی نے شعر گوئی کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا،جواب میں صحابہ کرام ﷢میں سے وہ حضرات جو شعر کہنے پر قدرت رکھتے تھے، منکرین وحی کو شعر کی زبان میں جواب دیتے جسے آپ ﷺ پسند کرتے اور حوصلہ افزائی بھی فرماتے۔ ان مسلمان شعراء میں حضرت حسان بن ثابت ﷜،حضرت کعب بن مالک ﷜ اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ ﷜ کے نام نمایا ں ہیں۔ آپ ﷺ نےحضرت حسان بن ثابت ﷜کے لیے دعا بھی فرمائی تھی کہ اے اللہ اس کی ملائکہ کے ذریعےمدد فرما۔([16])

روایات میں آتا ہے کہ جب پیغمبر ﷺ مدینہ منورہ ہجرت کر کے تشریف لائے تو منکرین وحی نے آپ ﷺ کى اشعار میں ہجو شروع کر دی۔آپ ﷺ نے صحابہ کو فرمایا :کیا جنہوں نے تلواروں کے ذریعے میری مدد کی وہ زبان کے ذریعے نہیں کریں گے ؟ حضرت حسان کھڑے ہوئے اور فرمایا یہ فریضہ میں انجام دوں گا،آپ ﷺ نے فرمایا تم ان قریش کی ہجو کیسے کرو گے؟ حالانکہ میں بھی ان ہی میں سے ہوں، تو حضرت حسان﷜ نے جواب دیا میں آپ کو ان سے اس طر ح علیحدہ کر دوں گا جس طرح آٹے سے بال نکال دیا جاتا ہے،آپ ﷺ نے فرمایا :

«اذهب إلی أبي بکر فلیحدثك حدیث القوم وإیاهم واحسابهم ثم اهجهم و جبرائیل معك»([17])

ابو بکر﷜ کے پاس جاؤ وہ تمہیں قریش کی تعریف اور ان کے نسب کے بارے میں بتائیں گے، پھر تم ان کی ہجو کرو اور جبرائیل تمہارے ساتھ ہے۔

ایسے تمام اشعار حق کی اعانت کے لیے کہے جائیں جن کی پیغمبر ﷺ نے حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔یہ درحقیقت اسلام کا دفاع ہے۔

اشعار تبلیغ اور اسلام کی سر بلندی کا ذریعہ

جزیرہ عرب میں ابلاغ کا واحد ذریعہ شعر کو سمجھا جاتا تھا۔ جب کوئی شاعر اپنا کلام نظم کر کے لوگوں کے سامنے پڑھتا تو وہ کلام دنوں میں پورا جزیرہ عرب میں پھیل جاتا تھا۔

آپﷺ نے مکہ میں اقامت کے دوران دعوت حق کے لیے شعر کا استعمال نہیں کیا۔جب آپﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور مسلمانوں کو ایک بااثر جماعت کے طور پر تسلیم کرلیا گیا تو اس وقت آپ ﷺ نے شعراء صحابہ کرام کی صلاحیتوں کا فائدہ اٹھایا کیونکہ یہ وقت کی اشد ضرورت تھی۔ بدر میں کفر و اسلام کے سب سے پہلے معرکے میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی تو حضرت حسان﷜ نے بدر کے واقعہ اور قریش کی شکست کو اشعار میں نظم کر کے مسلم جماعت کی نمائندگی کی۔ یہ اشعار جب اہل مکہ تک پہنچے تو انہیں ان سے بڑی تکلیف پہنچی،وہ اشعار یہ ہیں :

ألا لیت شعری أتی أهل مكةابادتنا الكفار، في ساعة العسر

قتلنا یسراة القوم عند مجالنافلم یرجعوا الا بقاصمة الظهر

قتلنا أبا جهل و عتبة قبلهو شیبة یکبو للدین وللنحر

قتلنا سویدا ثم عتبة بعدهوطعمة أیضا عند تائرة القتر

فکم قد قتلنا من کریم مسودالهحسب في قومه نابه الذعر([18])

کاش کہ یہ خبر اہل مکہ تک پہنچے کہ ہم نے کفار کو وحشت کی گھڑی میں تہس نہس کر دیا۔ہم نے قریش کے امراء سے اپنی زمین پر جنگ لڑی وہ لوٹے تو ان کی كمر ٹوٹی ہوئی تھی۔ ہم نے ابو جہل کو اور اس سے قبل عتبہ کو قتل کیا اور شیبہ کو بھی جو ہاتھوں کے بل پڑا ہوا تھا۔ ہم نے سوید اور عتبہ اور طعمہ کو بھی موت کے گھاٹ اتارا جب فضا گرد سے اڑی ہوئی تھی۔ کتنے ایسے تھے جن کو ہم نے قتل کیا جو اپنی قوم میں معزز اور صاحب نسب تھےان پر شدید خوف طاری تھا۔

اشعار کے ذریعے اخلاقیات کی تعلیم

اسلام سے قبل کا عرب معاشرہ جہاں غلط عقائد کا حامل تھا وہی پر مکارم اخلاق سے بھی عاری تھا۔ صدرا سلام میں مسلمان شعراء معاشرے میں اخلاقیات کی تعلیم کو اشعار کے ذریعے عام کرتے تھے۔مسلمان شعراء لوگوں کو اس بات کی تر غیب دیتے کہ وہ اپنے عمل میں محمد ﷺ کی ذات کو اسؤہ حسنہ بنائیں اور خود کو آپ ﷺ کی طرح کی اخلاق کا حامل بنائیں۔

حضرت کعب بن زبیر ﷜کا قصیدہ ”بانت سعاد“جو کہ نہایت شہرت یافتہ ہے اور بلاغت و فصاحت کے سمندر کو سموئے ہوئے ہے،اس کے اندر حضرت کعب﷜ فرماتے ہیں کہ پیغمبر ﷺ ایسا مینارہ نور ہیں جن کی اتباع کی جاتی ہے:

إِنَّ الرَّسُولَ لَنُورٌ يُسْتَضَاءُ بِهِ مُهَنَّدٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ مَسْلُولُ  ([19])

رسول ﷺ نور ہیں جن سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں جو حق کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

حضرت صرمۃ بن انس انصاری([20])اپنے قصیدہ لامیہ میں مسلمانوں کو اسلام کے سنہری اور عظیم اخلاقیات کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس قصیدے میں انہوں نے صلہ رحمی اور یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی دعوت دی ہے،فرماتے ہیں :

يَا بني الأرحام لا تقطعوهاوصلوها قصيرة من طوالواتقوا اللَّه فِي ضعاف اليتامىربما يستحل غير الحلال([21])

اے قرابت دارو قرابت کوختم نہ کرو اورصلہ رحمی کرو کہ یہ ایک سھل اور چھوٹا امر ہے بڑے امور میں سے، اور کمزور یتیموں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو اور حرام کو حلال مت کرو۔

2۔اشعار میں قرآنی مفاہیم کا استعمال

صدر اسلام میں شعر کے اندر قرآنی مفاہیم تعلیمات اور مضامین کا استعمال کثرت کے ساتھ دیکھنے کو ملتا ہےحتی کہ بعض اوقات اشعار میں قرآن کے الفاظ کومن وعن بھی نقل کر دیا جاتا ہے، خصوصا حرب و قتال سے متعلق وارد ہونے والے اشعار میں قرآنی مضامین و الفاظ کا استعمال زیادہ ہوا ہے۔ حضرت حسان بن ثابت ﷜غزوہ احد میں شہید ہونے والے صحابہ كرام ﷢کو یاد کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

فصار مع المستشهدین ثوابهجنان وملتف الحدائق اخضر([22])

(صحابی)شہداء کے ساتھ رحلت کر گئے اور ان کی جزا جنتیں اور سبز باغات ہیں۔

جنتوں اور سبز باغات کا مضمون قرآنی آیات سے ماخوذ ہے،غزوہ خندق میں شہید ہونے والے ایک صحابی کا مرثیہ کہتے ہوئے حضرت کعب بن مالک ﷜نے یہ شعر کہا :

سید خله جنانا طيبات     تكون مقامه للصالحينا ([23])

اللہ تعالی ان کو جنات طیبات میں داخل کرے گا جو صالحین کے لیے راحت کا ابدی مقام ہے۔

پیغمبر ﷺ کی وفات کے وقت حضرت حسان بن ثابت ﷜نے آپ ﷺ کے غم میں ایک قصیدہ نظم کیا۔اس میں آپ ﷺ کے وصف کے لیے ان الفاظ کو استعمال کیا جو قرآن میں آپ ﷺ کی شان میں بیان ہوئے ہیں۔ جس طرح کی صفات قرآن میں اللہ تعالی نے آپ ﷺ کے لیے پسند کی ہیں وہی صفات قصیدے میں بھی لائی گئی ہیں۔ قصیدہ کے آخری شعر میں حمد مذکور ہے اور حمد کا اسلوب بھی سورۃ فاتحہ سے مستعار لیا گیا ہے، فرماتے ہیں :

وما فقد الماضون مثل محمد و لا مثله حتی القیامة
نبی أتانا بعد یاس وفترة من الأوثان في الأرض تعبد
فامسی سراجا مستنیرا وهادیا یلوح کمالاح العقیل المهند
و انذرنا نارا وبشر جنة وعلمنا للإسلام فالله نحمد
لك الخلق والنعماء والأمر کله فإیاك نستهتدي وإیاك نعبد ([24])

نہ تو گزشتہ لوگو ں نے محمد ﷺ جیسے شخص کو کھویا اور نہ قیامت تک آنے والے اس جیسی ذات کو کھوئیں گے۔ایک ایسا نبی جو نا امیدی کے طویل عرصے کے بعد اس سرزمین سے آیا جس پر بتوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ وہ ایسا چراغ ہے جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور ایسا ہادی جو یوں چمکا جسے صیقل شدہ تلوار چمکتی ہے۔ اس نے ہمیں جہنم سے ڈرایا اور جنت کی خوشخبری دی اور اسلام کی تعلیم دی جس پر ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اے خدا سب مخلوقات اور نعمتیں تیری ہیں اور تمام کار سازی بھی،تجھ ہی سے ہدایت طلب کرتے ہیں اور تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔

سورۃ محمد میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لَا مَوْلَى لَهُمْ﴾ ([25])

یعنی اللہ مؤمنین کا مولاو کارساز ہے اور کافروں کا کوئی مولا نہیں۔

اس مفہوم کو حضرت کعب بن مالک ﷜نے اپنے شعر میں غزوہ خندق کے دن ذکر فرمایا :

ویعلم أهل مكة حین سارواوأحزابٌ أتَوا متحزٌّ بینا

بان الله لیس له شریكوأن الله مولی المؤ منینا([26])

اور اہل مکہ جہاں سے یہ احزاب اور فوجیں ہم سے لڑنے کے لیے آئی ہیں وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالی کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ خدائے تعالی مؤمنین کا مولا وکارساز ہے۔

جلیل القدر صحابی حضرت نابغۃ الجعدی﷜ نے اپنے ایک قصیدے ميں انسان کی پیدائش کے مراحل کا ذکر کیا ہے، کہ کس طرح ایک انسان نطفہ سے لے کر پیدائش تک کے متعدد مراحل سے گزرتا ہے۔بدیہی طور پر یہ تمام مراحل جو حضرت نابغہ﷜ نے قصیدے میں بیان کیے، يہ وہی ہیں جو سورۃ حج میں اللہ تعالی نے بیان کیے ہیں۔حضرت نابغہ﷜ فرماتے ہیں:

الخالق البارئ المصور الارحام ماء حتی یصیر دما

من نطفة قدرها مقدرهایخلق منها الابشار والنسما

ثم عظاما اقامها عصبنمت لحما کساه فالتاما

ثم کساه الریش والعقائقابشارا وجلدا تکاله ادما ([27])

حمدو ثنا اس خالق کی جو عدم سے وجود میں لا تا ہے اور وہ ذات جو رحم میں پانی کو خون میں بدل دینے کی قدرت رکھتی ہے، ایک نطفے کو اپنی قدرت سے حیات بخشتا ہے اور اسے لوتھڑا اور بوٹی بنا دیتا ہے، پھر ہڈیاں پیدا کرتا ہے اس کے بعد گوشت ابھرتا ہے اور درست شکل اختیار کر لیتا ہے، پھر اس پر بال اگتے ہیں اور وہ جسم انسانی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

نطفہ خون کے لوتھڑے میں تبدیل ہوتا ہے، اس کے بعد بوٹی بنتی ہے، پھر ہڈیاں بنتی ہیں، ہڈیوں پر گوشت چڑھتا ہے اور گوشت پر بال اگ آتے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن رواحہ ﷜کے اشعار میں بھی قرآنی مفاہیم و مضامین کا استعمال ملتاہے، آپ﷜ کے یہ شعر قرآنی آیات کے مطالب و مفاہیم پر مشتمل ہیں :

شهدت بأن و عدالله حقوأن النار مثوی الکفرینا

وأن العرش فوق الماءوفوق العرش رب العالمینا

و تحمله ملائکة کرامملائکة الاله مقربینا([28])

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کا وعدہ حق ہے اور کافروں کا ٹھکانا جہنم ہے اور یہ کہ عرش پانی کے اوپر ہے اس پر رب العالمین موجود ہے۔ اس عرش کو ملائکہ کرام نے اٹھا رکھا ہے جو کہ ا ن کے مقرب ہیں۔

حضرت حسان بن ثابت ﷜ایک شعر میں قرآنی اصطلاحات حوروں اور جنات خلد کا استعمال کرتے ہیں :

فاذهب خبیب جزاءك الله طیبةوجنة الخلد عند الحور في الرفق ([29])

خبیب جاؤاللہ آپ کو پاکیزہ جزاء دے اور حوروں کے ہاں دائمی جنت عطا ء کرے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک جگہ محمد ﷺ کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:

﴿لَقَدْ جَاءكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ﴾([30])

تحقیق تماری طرف اس رسول کو بھیجا گیا جو تم میں سے ایک ہے، ان پر وہ چیز گراں گزرتی ہے جو تمھیں تکلیف دے، وہ تمہارا خیال رکھنے ولا ہے، مؤمنوں کے ساتھ نہايت شفیق اور مہربان ہے۔

آیت کا یہی مضمون جو پیغمبر ﷺ کی شان میں قرآن میں وارد ہے، حضرت حسان بن ثابت ﷜کے شعر میں بھی موجود ہے۔فرماتے ہیں :

عزیز علیه أن یحوروا عن الهدیحریص أن یستقیموا ویهتدوا

عطوف علیم ولا یثنی جناحهإلی کنف یحنو علیهم ویمهد([31])

لوگوں کا ہدایت سے ہٹ جانا آپ ﷺ پر گراں گزرتا ہے آپ ﷺ اس بات کی شدید چاہت رکھتے ہیں کہ وہ لوگ ٹھیک راستے پر چلیں اور ہدایت حاصل کریں۔آپ ﷺ ان پر نہایت مہربان ہیں اور اس مہربانی کوختم نہیں کیا جاسکتا، ان پر شفقت کرتے اور ان کا خیال رکھتے ہیں۔

حضرت نابغہ الجہدی﷜ کا شعر ہے :

لوی الله الغیب عمن سواهو یعلم منه مامضی وتاخر([32])

اللہ تعالی نے غیب کے امور کو تمام مخلوقات سے چھپا رکھا ہے اور وہ خود باخبر ہے ہر اس امر سے جو ہو چکا اور جو ہونا ہے۔

اس شعر میں اللہ تعالی کے لیے غیب کے امور کے اختصاص کا مضمون اس آیت سے مستعار لیا گیا ہے :

﴿عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا﴾([33])

(وہی) غیب (کی بات) جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا ۔

حضرت کعب بن زبیر ﷜کا شعر ہے :

فقلت خلوا طریقي لا أبا لکمفکل ما قدر الرحمن مفعول([34])

میں نے انہیں کہا كہ تمہارا ستيا ناس ہو میرا راستہ چھوڑ دو۔ جو کچھ رحمن نے مقدر کر رکھا وہ ہو کر رہے گا۔

اس شعر کا مضمون قرآن مجید کی اس آیت سے لیا گیا ہے :

﴿وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ الْتَقَيْتُمْ فِي أَعْيُنِكُمْ قَلِيلاً وَيُقَلِّلُكُمْ فِي أَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللّهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولاً وَإِلَى اللّهِ تُرْجَعُ الاُمُورُ﴾([35])

جو امر اللہ کے ہاں مقدر ہو چکا اسے اللہ پورا کرے گا اور تمام معاملات اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔

3۔اشعار میں کفار و مشرکین کو جواب

اسلام کی دعوت عام ہو جا نے کے بعد اہل عرب دو حصوں میں تقسیم ہو گئے، ایک گروہ وہ تھا جن کے دل نور الہی کے ليےکھول دیے گئے اور انہوں نے سچائی کے ساتھ پیغمبر اسلا م کی دعوت کو قبول کر لیا، جبکہ دوسرا طبقہ ان افراد کا تھا جنہوں نے اپنی گمراہی پر اسرار کرتے ہوئے پرستش کو ترجیح دی، یہ دونوں گروہ صرف اپنے اپنے عقائد پر قائم نہیں رہے بلکہ اپنے مخالف کے خلاف ہر میدان میں مد مقابل آئے۔ کفار نے جب پیغمبر ﷺ کی ہجو کرنا شروع کی تو صحابہ کرام نے ان کو شاعری کی زبان میں منہ توڑ جواب دیا۔حضرت حسان بن ثابت ﷜کا مشہور شعر ہے،فرماتے ہیں:

هجوت محمدا فاجببت عنهوعند الله في ذاك الجزاء([36])

تم نے محمد ﷺ کی ہجو کی تو میں نے آپ ﷺ کی طرف سے جواب دیا اور اس کی جزاء خدائے تعالی کے پاس ہے۔

جب غزوہ خندق میں مدینہ کے یہودی قبائل بنو قریظہ، اور بنو نضیر نے قریش کا ساتھ دیا تو مکہ کے ایک مشرک شاعر جبل بن جوال نے انصاری قبائل کی ہجو کی کہ تم سے یہود بہتر تھے جنہوں نے مدینہ کی سرزمین پر مہاجرین کا ساتھ دینے کے بجائے قریش کی معاونت کی۔اس کے جواب میں حضرت حسان بن ثابت نے ایک قصیدہ نظم کیا،جس کے چند اشعار یہ ہیں :

تفاقد معشر نصروا قریشاولیس ببلدتهم نصیر

هم اتوالکتاب فضیعوهوهم عمی من التوراة بور

کفرتم بالقرآن وقد اتیتمبتصدیق الذی قال النذیر([37])

ایک گروہ تنہا ہوا اور اس نے قریش کی مدد کی حالانکہ ان کا اپنے وطن میں کوئی مددگار نہیں ہے، انہیں کتاب دی گئی جسے انہوں نے ضائع کر دیا اور وہ تورات کی تعلیمات سے بالکل نابلد ہیں۔تم نے قرآن کا انکار کیا اور اس امر کی تصدیق کی جو نذیر (محمد ﷺ)نے کہا (یعنی انبیاء سابقین کی تصدیق)۔

حضرت حسان بن ثابت ﷜نے خندق کے موقع پر اپنے احساسات اور عواطف کو ان اشعار میں پرویا :

واشك الهموم إلی اله وما تریمن ظلموا الرسول غضاب

ساروا باجمعهم إلیه والبواأهل القری وبوادی الأعراب

جیش عیینة وابن حربفیهم متخلبون بجلبة الأحزاب([38])

میں اپنے تمام غموں کی شکایت اللہ تعالی کے حضور کرتا ہوں، اور جو تم اس گروہ کو دیکھ رہے ہو جو غصے میں ہے اور اس نے خدا کے رسول پر ظلم ڈھائے یہ سب متحد ہو کر نکلے اور انہوں نے اپنے ساتھ شہر والوں اور دیہات کے اعراب کو بھی ساتھ کر لیا ہے، یہ عیینہ اور ابن حرب کا لشکر ہے یہ سب اتحاد کی چادر اوڑھ کر نکلے ہیں۔

4۔جنگوں کے دوران اشعار کا استعمال

قرآن کریم میں دسیوں آیات ایسی ہیں جن میں مسلمانوں کو جہاد و قتال کی دعوت دی گئی ہے،اسی طرح آپ ﷺ کا اسوہ اور حدیث بھی جہاد کی بہت زیادہ اہمیت بیان کرتے ہیں۔ جنگ کے دوران حوصلہ افزائی اور ہمت بندھانے کا سب سے بڑا ذریعہ اشعار کو سمجھا جاتا تھا۔ مسلمان بھی معرکے کے دوران اس طریقے کو استعمال کرتے تھے۔ اس پر متعدد مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں لیکن ہم یہاں اسلام کی مجاہدہ اور شاعرہ حضرت خنساء کے بیٹوں کا ذکر کریں گے جو چاروں قادسیہ کی جنگ میں شریک ہوئے اور شہادت سے سرفراز ہوئے۔ حضرت خنساء خود بھی جنگ قادسیہ میں شریک تھی انہوں نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی کہ وہ ہر گز پیٹھ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے جان دے دیں۔ جب صبح ہوئی تو ان کا ایک بیٹا یہ اشعار پڑھتے ہوئے میدان میں اترا اور لڑتے ہوئے شہید ہو گیا :

یا إخوتي أن العجوز الناصحةقد نصحتنا إذ دعتنا البارحة

مقلة ذات بیان واضحةفبکروا الحرب الفردوس الکالحة

و إنما تلقون عند النصائحمن آل ساساني الکلاب النائحة

قد أیقنوا منکم بوقع الحائجةو أنتم بین حیاة صالحة([39])

اے میرے بھائیو نصیحت کرنے والی بوڑھی عورت (خنساء)نے جب ہمیں رات کو بلایا تو نصیحت کی، ایک ایسے کلام کے ساتھ جو بلیغ اور واضح تھا کہ صبح سویرے خطرناک اور تباہ کن جنگ کے لیے نکلو۔ تم صبح آل ساسان کے بھونکنے والے کتوں کو پاؤ گے جنہیں تمہاری طرف سے وحشت ناک حملے کی امید ہے اور تم حیات صالحہ پر زندہ ہو۔

جب بھائی شہید ہو گیا تو دوسرا یہ اشعار پڑتھے ہوئے میدان میں داخل ہوا اور وہ بھی شہید ہو گیا :

إن لعجوز ذات حزم و جلدوالنظر الأوفق والراي السدد

قد أمرتنا بالسداد والرشدنصیحة منها و برا بالوالد

فباکروا الحرب حماة في العددأما لفوز بارد علی الکبد

أو میتة تورثکم عز الأبدفي جنة الفردوس والعیش الرغد ([40])

پختہ عزم و ارادے کی مالک،وسیع النظر اور درست رائے رکھنے والی بوڑھی عورت نے یقین و رشد کے ساتھ ہمیں حکم دیا ہے اور اطاعت و الدین کے حکم کے پیش نظر ہمیں نصیحت کی ہے کہ ہم صبح جنگ کے لیے پہل کریں اور اس میں یا تو فاتح بنیں جو کے کلیجے کو ٹھنڈا کرنے والا ہے یا ایسی موت پائیں جوجنت الفردو س اور حیات ابدی کے ساتھ ہمیشہ کے لیے محترم بنا دے۔

اس کے بعد تیسرا بھائی مندرجہ ذیل اشعار پڑھتے ہوئے میدان میں آیا اور شہادت کے منصب پر فائز ہو گیا:

والله لا نعصي العجوز حرفاقد أمرتنا حربا و عطفا

نصحا و برا صادقا ولطفافبادروا الحرب الغروس زحفا ([41])

خدا کی قسم ہم بوڑھی عورت کی ذرہ برابر بھی نافرمانی نہیں کریں گے اس نے ہمیں محبت کے ساتھ جنگ کا حکم دیا۔اس نے اطاعت صادقہ کے تحت اور شفقت کے ساتھ نصیحت کی کہ ہم تباہ کن جنگ میں جرات کے ساتھ شامل ہوں۔

آخر میں چوتھا بھائی بھی اشعار گنگنا تے ہوئے دشمن کے مقابل آیا اور اپنے تینوں بھائیوں کے ساتھ جنت میں جا ملا، اس نے یہ اشعار پڑھے :

لست لخنساء و لا للأخرمولا لعمرو ذي السناء الأقدم

إن لم أرد في الجيش جيش الأعجمماض على الحول خضم خضرم

إما لفوز عاجل و مغنمأو لوفاة في السبيل الأكرم ([42])

نہ میں خنساء سے ہوں نہ کسی اور کا اور نہ ہی عظیم شہرت والے عمرو کا۔ اگر میں نے عجمی لشکر کا جرات بہادری اور مردانگی کے ساتھ قصد نہ کیا، يا جلد کامیابی اور مال غنیمت کے حصول کی لیے یا پھر عزت والے راستے میں قربا ن ہو جانے کے لیے۔

حاصل بحث

جس طرح عصر جاہلى ميں عرب شعر وشاعرى كو ديوان العرب يعنى تاريخ العرب سمجھتے تھے، اور اسى وجہ سے شعر اور شعراء كو بہت زيادہ اہميت ديتے تھے، اسلام كے آنے كے بعد بھى مسلمانوں نے شعر كو اسلام كى خدمت وترويج كے ليے استعمال كيا، مثال كے طور پر اسلام اور اللہ كے رسول كے دفاع كے ليے حضرت حسان بن ثابت﷜ نے شعر گوئى كى۔

اس كے علاوہ اشعار كے ذريعے مشركين مكہ كے اسلام اور مسلمانوں پر اعتراضات كا جواب ديا گيا، اسى طرح ميدان جنگ ميں صحابہ كرام نے اشعار كو جنگى حربے كے طور پر بھى استعمال كيا۔

بعينہ صدر اسلام ميں اشعار كے ذريعے مسلمانوں كو اچھے اخلاق وعادات سے روشناس كيا گيا، اور جاہلانہ رسم ورواج وعادات كى نفى كى گئ. گويا شعر كو بھى دعوت وتبليغ كا ايك مؤثر ذريعہ بنايا گيا۔

نتائج تحقیق

1۔وہ شعروشاعری جس میں عشقیہ اشعار اور فحش گوئی ہو، سیرت طیبہ کی روشنی میں بالکل بھی روا نہیں۔

2۔آپﷺ کی مدح سرائی،اسلام اور اہل اسلام کے دفاع کے لیےکہے جانے والے اشعار اور پندونصائح پر مشتمل شعر گوئی بلاشبہ قابلِ حوصلہ افزائی ہے۔


1۔انفرادی اور اجتماعی سطح پر بے مقصد شعروشاعری کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

2۔آپﷺکی مدح سرائی ،صحابہ کرام،اسلاف کی دادِشجاعت اور ان کی عظمت پر مبنی اشعارقابلِ تحسین ہیں ، ایسے اشعار کی حوصلہ افزائی کی جائے

حوالہ جات

  1. () سورۃ الانبیاء : 5
  2. ()سورۃ الحاقۃ:40-41
  3. ()ابن کثیر،اسماعيل بن عمر الدمشقی،تفسیر ابن کثیر،تحقیق:سامی محمد سلامۃ،دار طیبہ للنشر والتوزیع ،الریاض،1999 ء،8/218
  4. ()سورۃ یٰسین:69
  5. () سيوطى،جلال الدین ، الدرالمنثور في التفسیر بالماثور، دارالفکر، بیروت،2003ء، ص: 373
  6. ()سيوطى،الدرالمنثور في التفسیر بالماثور، 6/333
  7. ()ابن کثیر ،تفسیر ابن کثیر، 4/173
  8. ()زمخشری،ابو القاسم محمود بن عمر بن محمد بن عمر الخوارزمي،الکشاف،تحقیق:عبدالرزاق مہدی،دار احیاءالتراث العربی، بیروت، 1997ء،2/123
  9. () ڈاکٹر محمد مصطفی ہدارہ مصر کے مشہور شہر اسکندریہ میں 1930 کو پیدا ہوۓ تھے، تاریخ ادب عربی، نقد، ترجمہ اور فن الروایۃ میں آپ کا نظیر ثانی نہیں ہے، آپ کے مطبوعہ کتب اور تحقیقی مقالات کی تعداد پچاس سے زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ کو آپ کے ان بہترین علمی و ادبی کاوشوں کی وجہ سے شيخ النقاد الاسلاميين، والاصيل معاصرا، وفارس الثقافۃ العربيۃ الاصيلۃ کے القابات سے نوازا گیا ہے۔آپ کی وفات 1997 کو اسکندریہ شہر میں ہوئی تھی۔ ( محمد مصطفى ہدارہ (
  10. () محمد ہدارۃ، الشعر فی صدر الاسلام، دارالنہضۃ العربیۃ، 1995ء،ص: 77
  11. ()سورۃ الشعراء : 227
  12. ()زمخشری،الکشاف،2/125
  13. ()ابن قتیبہ، الشعر والشعراء، دار الحديث،قاہرہ، 1999ء،ص: 55
  14. () ابن عساكر،علي بن الحسن،مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الامائل او اجتاز بنواحيها من وارديها وأهلها،تحقيق: محب الدين العمروي، دار الفكر للطباعۃ والنشر والتوزيع،2015ء، 25/ 271
  15. ()ایضا، 25/86
  16. ()بخاری،محمد بن اسماعیل،صحیح البخاری،حدیث نمبر: 3212،تحقیق :محمود حسن نصار ،دارلکتب العلمیہ ،بیروت، 2005ء، 4/ 112
  17. ()ایضاً،1/204
  18. ()جب حضور نبى كريم ﷺ مدينہ منورۃ تشريف لے گئے تھے تو اس وقت ابو قيس صرمۃ بن انس بن مالك بن عدى ابن النجار نے اسلام قبول كيا تھا، عمر رسيدہ ہونے كے باوجود بہترين مسلمان اور سچ گو انسان تھے، حتى كہ جاہليت ميں بھى اللہ رب العزت كى عظمت بيان كرنے والے تھے، زمانہ جاہليت ميں بھى جو اشعار كہے اس ميں اللہ كى عظمت بيان كى۔(قرطبی،یوسف بن عبداللہ بن عبدالبر،الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب،دارالکتب العلمیۃ،بیروت،لبنان،1971ء،4/298)
  19. ()ابن القيم الجوزيۃ، امام شمس الدين ابو عبدالله ابن القيم، مؤسسۃ الرسالۃ، 1998 ء، ص: 459
  20. ()ابن القيم الجوزيۃ، امام شمس الدين ابو عبدالله ابن القيم، مؤسسۃ الرسالۃ، 1998 ء، ص: 459
  21. ()ابن ہشام، عبدالملك بن ہشام، السيرة النبويۃ، شركۃ مكتبۃ ومطبعۃ مصطفى البابي الحلبي واولاده،مصر،طبع دوم: 1955 ء،2/ 81
  22. ()عفاني،الدكتور سيد حسين، روضۃ الناظر ونُزہۃ المخاطر،مكتبۃ ابن تيميۃ،قاہرہ،طبع دوم: 1996ء، ص:31
  23. ()ابن كثير ،اسماعيل بن عمر الدمشقي،السيرة النبويۃ، دار عالم الكتب،2003ء،3/ 253
  24. ()تطاوى، عبد الله،مقدمات في تاريخ ادبنا القديم،ص: 173
  25. ()سورۃ محمد: 11
  26. ()عبہري، د۔كمال جبري ،شعر الصراع بين وخصومہ في عصر النبوة، دار الجنان للنشر والتوزيع، 2014ء، ص: 261
  27. ()سید قطب، التصویر الفنی في القرآن الکریم،دارالشروق،مصر ، 1983ء،ص: 29
  28. () عبد اللہ بن رواحہ، دیوان عبداللہ بن رواحہ،دارلکتاب العربی، بيروت، لبنان، 1998ء،ص:61
  29. ()حسان بن ثابت،دیوان حسان بن ثابت،دارالفکرالعربی،بیروت،2001ء،ص:114
  30. ()سورۃ توبۃ: 128
  31. ()حسان بن ثابت، دیوان حسان بن ثابت، ص: 116
  32. ()سید قظب، التصوير الفني في القرآن الکریم، ص: 118
  33. ()سورۃ الجن: 26
  34. ()كعب بن زہير،دیوان کعب بن زہير، دارلفکر العربی، بيروت، 2003ء، ص: 28
  35. ()سورۃالانفال: 44
  36. () حسان بن ثابت ﷠،قصيدة عفت ذات الأصابع فالجواء، الموسوعۃ العالميۃ للشعر العربي، رقم القصيدة: 12796،
  37. ()عاني، سامي مكي، دراسات في الادب الاسلامي، مطبعۃ المعارف، جامعہ ميشيجان ، 1968ء،ص: 112
  38. ()حميري، سليمان بن موسى بن سالم الكلاعي الاندلسي ، الاكتفاء بما تضمنه من مغازي رسول الله ﷺ والثلاثة الخلفاء، تحقيق: محمد عبدالقادر عطاء، دار الكتب العلميہ،بيروت،لبنان،طبع اول: 2000ء، 1/ 441
  39. ()معراف نایف،الادب الاسلامی في عہد النبوۃ، دارالنفائس،بیروت،2001ء،ص:245
  40. ()ایضا،ص: 245
  41. ()عاني،د۔سامي مكي،الاسلام والشعر،عالم المعرفۃ،سلسلۃ كتب ثقافيۃ شہريۃ يصدرہا المجلس الوطني للثقافۃوالفنون والآداب،الكويت، 1978ء،ص:81
  42. ()كحالۃ، عمر رضا، اعلام النساء في عالمي العرب والاسلام، مؤسسۃ الرسالۃ، بيروت، 1959ء،ص:370