رسول اللہ ﷺ کے اشارات: معنوی اور صوری تفہیم

From Religion
Jump to navigation Jump to search

Warning: Page language "ur" overrides earlier page language "".

مجلہ البصیرۃ
عنوان رسول اللہ ﷺ کے اشارات: معنوی اور صوری تفہیم
انگریزی عنوان
Gesturers of the Holy Prophet (ﷺ:) Virtual and Visual Apprehension
مصنف کامران، مزمل، شاہ معین الدین ہاشمی
جلد 7
شمارہ 1
سال 2018
صفحات 87-98
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Gesticulation, Prophetic Gestures, Visual Explanation, Virtual Interpretations, Sīrah
شکاگو 16 کامران، مزمل، شاہ معین الدین ہاشمی۔ "رسول اللہ ﷺ کے اشارات: معنوی اور صوری تفہیم۔" البصیرۃ 7, شمارہ۔ 1 (2018)۔
عہد نبوی میں صحابیات کی معاشی سرگرمیاں، عصر حاضر کی خواتین کے لیے مشعل راہ
سیرت طیبہ میں بلدیاتی نظام (میونسپلٹی) اور بنیادی عوامی سہولیات کے خدوخال
فتح مکہ میں آنحضرت ﷺ کی حربی حکمت عملی
اسلامی ریاست میں قیادت کے راہنما اصول اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
رسول اللہ ﷺ کے اشارات: معنوی اور صوری تفہیم
سیرت طیبہ ﷺ کی روشنی میں تصور فلاح و بہبود
العدالة الاجتماعية في ضوء السيرة النبوية
مخطوطات السيرة النبوية في الجامعات الباكستانية فى القرن العشرين
المنهج العاطفي وأهميته في الدعوة إلى الله
معاملة المخطئين والجاهلين في ضوء السيرة النبوية العطرة
مناهج المؤرخين المعاصرين في كتابة السيرة النبوية: شلبي وشاكر أنموذجا
Legal Authority of the Prophet Muhammad and the Orientalists: A Critical Study
Linguistic Expressions of Prophet Muhammad (ﷺ) As a Miracle in Arabic Language: A Study of Linguistic Miracles of Prophet Muhammad
Understanding and Promotion of Civic Behavior Among Students in the Light of Sīrah
The Preservation and Authenticity of Ḥadīth As a Source of Sīrah: A Critique of Robert Spencer’s Views on Historicity of Muḥammad


The of life Holy source primary Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) is a guidance for Muslim Ummah. Prophetic guidance is not restricted to theverbal instructions only but he has at times used the Gestures to expressand explain the things. This is a significant area of Hadith sciences whichHis. (صلى الله عليه وسلم) Prophet the of Language body and gestures the with dealscompanions (R. A) not only preserved his verbal instructions, dictatedwords, silent approvals, and actions of their beloved Prophet (ﷺ) but theyalso preserved his (ﷺ) gestures and body language. This paper discussesthe Gestures of the Holy Prophet with special reference to their virtual andvisual interpretations. The purpose of this research is to critically analyzethe Gestures of the Holy prophet and their importance in communicatingthe message to the audience. The method used for this research paper isdescriptive and analytical. The analysis of the prophetic traditions revealed(صلى الله عليه وسلم) Prophet where Hadith in examples significant been have there thatused the gestures to explain his words and thoughts which helped inconveying the message. Visual explanations and diagrams of some of thegestures have also been included in the article to explore and highlight theirsignificance. This article reveals that use of gestures is helpful incommunicating the message to the audience, and this aspect of Sīrah mustbe utilized during interactive sessions and verbal discussions. Furthermore, current research paper recommends that adequate body language andGestures are the vital means of teaching, tablīgh, and successfulcommunication in the light of Sīrah studies.

رسول ﷺ کی حیات مبارکہ قرآن کی حقیقی تعبیر و تفسیر ہے ۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ نے رسول اللہ ﷺ کی سنت اورسیرت کی حفاظت کے لئے انتہائی عرق ریزی اور جانفشانی سے کام لیا اور تدریجاً ایسے اصول و ضوابط اور فنون مرتب کیے جو گہری نظر میں ﴿اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَه لَحٰفِظُوْن﴾ ([1]) کاعملی اور حقیقی مصداق نظر آتے ہیں۔انہی نعمتوں اور کاوشوں میں ایک ضبط و روایت حدیث بھی ہے ۔صحابہ کرام ﷢نہ صرف دین متین کی حفاظت کے پیش نظر سنت اور سیرت کی حفاظت کیا کرتے تھے بلکہ حب رسول ﷺ بھی اس کا محرک تھا۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام ﷢اور بعد کے روات نے نہ صرف آ پ ﷺ کے قول،فعل اور تقریر کو محفوظ کیا بلکہ دوران گفتگو آپ کے اشارات،چہرے کے تاثرات، جذبات اور احساسات کو بھی بھرپور انداز میں محفوظ کیا اور آگے روایت کیا۔

یہ ایک تحقیق طلب موضوع ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دوران گفتگو جسمانی اشارات وحرکات Gesturesیا Body Language کو صحابہ کرام ﷢ نے کس طرح محفوظ کیا اور کس طرح اس سے معانی اور مطالب کو سمجھنے میں مددلی۔صحابہ کرام ﷢نے سیرت طیبہ کے اس پہلو کو حدیث نبوی ﷺ کے بیان کے دوران جس حزم و احتیاط اور خوبصورتی سے امت تک پہنچایا ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صحابہ کرام ﷢جب کوئی ایسی روایت نقل فرماتے جس میں حضور ﷺ کی طرف سے کوئی جسمانی اشارہ بھی منقول ہو تو اس اشارہ کا بیان عین اس وقت لاتے جب قول کے دوران وہ عملاً کیا گیا ہو۔مثلاً ایک روایت ہے:

«عن أبي هریرة ،أن رسول الله ﷺ قال:في الجمعة ساعة – وقبض أطراف أصابعه، وهو یقللها – لایسأله فيها مؤمن شیئاً إلا أعطي سؤله»([2])

حضرت ابوہریرہ﷛ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسا لمحہ ہے اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کے اطراف کو بند کیا اس طرح کہ آپ اس لمحے کے قلیل ہونے کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ مومن بندہ اس لمحے میں اللہ سے جو بھی مانگے اس کو عطا کیا جاتا ہے۔

اس روایت سے ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس قول کے دوران رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ کی انگلیوں کے سروں کو بند کر کے قلت کی طرف کیسے اشارہ کیا ہوگا کیونکہ عین اسی وقت راوی در راوی وہ اشارہ اور اس کی کیفیت نیز اشارے کا مدلول و مقصود اسی انداز میں بیان گیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے اشارات کی ہیئتِ معنوی اور ہیئتِ صوری کی تفہیم اور اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ذیل میں بطور نمونہ چند منتخب روایات پر بحث پیش خدمت ہے ۔

(1) دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے ذریعے تشبیک کا اشارہ:

ایک مومن کا دوسروں کے ساتھ تعلق وربط کیسا ہونا چاہیے اس کی وضاحت کے لیے آپ ﷺ نے ہاتھوں کی انگلیوں کے ذریعہ اشارہ فرمایا ۔ چنانچہ حدیث میں ہے :

«الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا » ثم شبك بين أصابعه»([3])

ایک مومن دوسرے مومن کے لیے اس طرح ہے جیسے عمارت، کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تھامے رہتا ہے ( گرنے نہیں دیتا ) پھر آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو قینچی کی طرح کر لیا۔

اس روایت میں رسول اللہ ﷺ کا ایک اشارہ نقل کیا گیاہے ۔صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں یہ روایت حضرت ابو موسیٰ اشعری ﷜سے مروی ہے جبکہ معجم الاوسط میں اسی طرح کا مفہوم حضرت ابوہریر ہ ﷜ اور ابو سعید خدری ﷜سے بھی مروی ہے۔([4])

تشبیک کی ہیئتِ معنوی

دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو باہم ایک دوسرے کے اندر ڈال کر مضبوطی سے پکڑ لینے کو تشبیک کہتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے دونوں ہاتھوں کے اس اشارے کو اتحاد،تراحم اور یکجہتی کے استعارے کے طور پر استعمال کیا ہے۔جس طرح ایک عمارت کے بعض حصے دوسرے حصوں کے ساتھ باہم پیوست ہوتے ہیں اور ان کی یہ پیوستگی مجموعی طور پر عمارت کی مضبوطی کا سبب بنتی ہے اسی طرح انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر مضبوطی اور باہمی یگانگت کو سامعین کے لئے ایک حد تک مرئی اور قابل دید بنا دیا گیا۔یعنی سامعین کی آسانی کیلئے نبی ﷺ نے اوّلاًمؤمنین کی مودّت کو مضبوط عمارت کے ساتھ قولی تشبیہ کے طور پر بیان فرمایا،پھر ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر علی وجہ الاتم سامعین پر اپنے مدعا کو واضح فرما دیاکہ جس طرح ایک ہاتھ کی انگلیاں متعدد ہونے کے باوجود اصل واحد کی طرف لوٹتی ہیں اسی طرح اہل ایمان اگرچہ اشخاص کے لحاظ سے متعدد ہیں لیکن ان کی اصل نسب اور ایمان کے اعتبار سے ایک ہی ہے یعنی نوح و آدم ﷧۔([5])

تشبیک کی ہیئت صوری

روایت میں بیان کیا گیا اشارہ ذیل میں دی گئی صورت سے متشابہ ہے : ([6])

Picture 1.png

(2)ہاتھ کی انگلی کے ذریعے منہ کی طرف اشارہ

کمال ابلاغ کیلئے آپ ﷺ نے کلام کے ساتھ ساتھ اپنے دست مبارک کی انگلیوں کے ذریعے اشارے فرمائے۔

مقداد بن اسود ﷜کی روایت ہے کہ:

«سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ، يَقُولُ:«تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْخَلْقِ، حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقْدَارِ مِيلٍ»- قَالَ سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ: فَوَاللهِ مَا أَدْرِي مَا يَعْنِي بِالْمِيلِ؟ أَمَسَافَةَ الْأَرْضِ، أَمِ الْمِيلَ الَّذِي تُكْتَحَلُ بِهِ الْعَيْنُ - قَالَ: «فَيَكُونُ النَّاسُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى حَقْوَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ إِلْجَامًا» قَالَ: وَأَشَارَ رَسُولُ اللهِ ﷺ بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ »([7])

حضرت مقداد بن اسود ﷜فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں قیامت کے دن سورج مخلوق سے اس قدر قریب ہو جائے گا یہاں تک کہ ان سے ایک میل کے فاصلے پر ہو جائے گا سلیم بن عامر کہتے ہیں اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ میل سے کیا مراد ہے زمین کی مسافت کا میل مراد ہے یا سلائی جس سے آنکھوں میں سرمہ ڈالا جاتا ہے آپﷺ نے فرمایا :لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق ٹخنوں تک پسینہ میں غرق ہوں گے اور ان میں سے کچھ لوگوں کے گھٹنوں تک پسینہ ہوگا اور ان میں سے کسی کی کمر تک اور ان میں سے کسی کے منہ میں پسینہ کی لگام ہوگی راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے اپنے منہ مبارک کی طرف اشارہ کر کے بتایا۔([8])

اشارے کی ہیئت معنوی

اس حدیث مبارکہ میں آپ ﷺ نے قیامت کے دن کی ہولناکی کا ذکر فرمایا ہے کہ سورج مخلوق سے ایک میل کی مسافت پر ہوگا۔سخت گرمی کے باعث تمام انسانیت اپنے اعمال کے بقدر پسینہ میں ڈوبی ہوئی ہوگی،ان میں سے بعض ٹخنوں تک اور بعض گھٹنوں تک ،بعض سرین تک پسینے میں شرابور ہوں گے۔اور بعض گردنوں اور منہ تک پسینے سے شرابور ہوں گے۔

مختصرا ً یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے قیامت کے دن ان لوگوں کی اس حالت زار کو اشارے سے بیان فرمایا۔

حدیث مبارک میں سورج کے قریب آجانے کی وجہ سے لوگوں کی جس کسمپرسی کی منظرکشی کی گئی ہے اس میں لوگوں کے اعمال کا دخل بھی شامل ہے۔یعنی بعض لوگ ایسے ہوں گے جو اپنے اعمال کی وجہ سے پشیمان اور پریشان ہوں گے اور ٹخنوں تک پسینے سے شرابور ہوں گےاور بعض وہ ہوں گے جو مزید برے اعمال کی وجہ سے مزید بری حالت میں ہوں گے،حتیٰ کہ انتہائی برے اعمال کی وجہ سے بعض لوگ گردن ا ور بعض منہ تک پسینے سے شرابور ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان انتہائی پریشان حال لوگوں کی حالت کو منہ کی طرف انگلی کا اشارہ کر کے بتایا۔ امام بیہقی ﷫کے مطابق یہ انتہائی بری حالت کے لوگ کافر ہی ہوں گے لیکن مؤمنین کیلئے اس دن خاص تخفیف کی جائے گی۔([9]) اور اسی طرح علامہ عینی نے امام قرطبی کی طرف بھی اسی قول کو منسوب کیا ہے۔

لفظ میل سے مراد :سرمہ دانی کی سلائی ہے جس کے ذریعہ آنکھ میں سرمہ لگایا جاتا ہے۔تین فرسخ کی مسافت کا فاصلہ۔ دو نامزد علامتوں کے درمیان زمین کا ٹکڑا۔تاحد نظر وسعت۔([10])

اشارے کی ہیئتِ صوری

اس حدیث مبارک میں رسول ﷺ نے جو اشارہ فرمایا ہے وہ درج ذیل صورت سے واضح ہے۔اشارہ ایک ہاتھ کی انگلی سے کیا گیا ، انگلی سے منہ کی طرف اشارہ کیا گیا ،انگلی سے منہ کی طرف کیا جانے والا یہ اشارہ روز قیامت ان کفار کی حالت زار پر دلالت کرتا ہے جو روز قیامت اپنے کفر اور حالت بد کی وجہ سے پسینہ میں شرابور ہوں گے۔

File:Picture 22.pngFile:Picture 23.png

(3)دو انگلیوں کے ذریعے اشارہ

آپ ﷺ نے یتیم کی کفالت کرنے والے کے انعام کی وضاحت محض دو انگلیوں کے اشارے سے فرمادی۔

عَنْ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا». وَقَالَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى([11])

حضرت سہل بن سعد ﷜سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں اوریتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ نے شہادت اور درمیانی انگلیوں کے اشارہ سے ( (قرب کو ) بتایا )۔

یہ روایت حضرت ابوہریرہ ([12])،حضرت سہل بن سعد،حضرت ام سعد بن مرّۃ الفہریہ([13])،حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت ابو امامہ﷢ ([14])سے مروی ہے۔

اس روایت مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے یتیم کی کفالت کیلئے ترغیباً اشارہ فرمایا۔آپ ﷺ کا یہ اشارہ دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کو اٹھا کر ان میں باہم تھوڑا سا فاصلہ ڈال کر ،یتیم کی کفالت کرنے والے کے لیے آپ ﷺ کا جنت میں ساتھ ساتھ ہونا بتاتا ہے۔یعنی رسول اللہ ﷺ نے معاشرے میں ناداروں،اور ضعفاء کی کفالت کرنے کی عمومی فضا قائم کرنے کے لئے بالخصوص یتیم کی کفالت کرنے والے کو جنت میں اپنے ساتھ کی خوشخبری دی اور معیت کے اس مفہوم کو انتہائی بلیغ اور خوبصورت انداز میں سامعین کے سامنے ہاتھ کی دو انگلیوں سے اشارہ کر کے واضح فرمادیا۔

اشارے کی ہیئتِ معنوی

اس حدیث مبارک میں موجود یہ اشارہ شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی پر مشتمل ہے۔بعض روایات میں اشارے کی ہیئت واضح کرتے ہوئے راوی دو انگلیوں کے مابین فاصلے کو صراحت سے بیان کرتے ہیں جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت میں ہے«وفرج بینه ما شیاء»اور بعض اوقات راوی ان دو انگلیوں کے مابین فاصلہ نہ ہونے کو بیان کرتے ہیں جیسا کہ روایت کے الفاظ سے ثابت ہے«وجمع بین إصبعيه السبابة والوسطی»۔([15])

ایک روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے « وَأَنَا وَكَافِلُ اليَتِيمِ فِي الجَنَّةِ هَكَذَا »([16]) یعنی یتیم کی کفالت کرنے والے کیلئے یہ فضیلت ہر حال میں ہے ،وہ یتیم اس کا اپنا قریبی رشتہ دار ہو یا اس کا غیر ہو تب بھی فضیلت اس کو حاصل ہوگی۔خواہ کافل یتیم کی کفالت اپنے ذاتی مال سے کرے یا ولایت شرعیہ حاصل ہو جانے کی وجہ سے یتیم کے مال سے کرے ہر دو حال میں کافل مذکورہ بالا فضیلت کا حقدار ہوگا۔البتہ ایک روایت کی رو سے کفالت پر اس فضیلت کے حصول کو تقویٰ کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے یعنی یتیم کے حقوق کی ادائیگی میں کافل تقویٰ کا خیال رکھے۔([17])

ایک روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«أنا وامرأة سفعاء الخدين، كهاتين يوم القيامة»([18])

یعنی ایسی عورت جس کا شوہر وفات پا گیا ہو اور وہ باوجود حسن ، حسب و نسب اور منصب کے وہ دوسری شادی پر قدرت کے باوجود بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے اپنے آپ کو دوسری شادی سے باز رکھے،اور محنت و مشقت کے اثرات اس کے چہرے سے واضح ہوں،حتیٰ کہ وہ بچے اس سے جوان ہو کرمستغنی ہو جائیں تو ایسی عورت کے لئے بھی رسول اللہ ﷺکے فرمان کے مطابق یہی فضیلت ہے۔

ق اشارے کی ہیئتِ صوری

حدیث مبارکہ میں بیان کیے گئے اشارے کی ہیئت صوری درج ذیل دو طریقوں سے واضح کی جاسکتی ہے۔

1۔رسول اللہ ﷺ نے دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں (درمیانی انگلی اور شہادت کی انگلی)سے اشارہ فرمایا اس حال میں کہ وہ دو انگلیاں باہم ملی ہوئی تھیں اور ہتھیلی مبارک سامعین کی طرف تھی جیسا کہ درج ذیل صورت سے واضح ہے۔

File:Picture 14.png

2۔رسول اللہ ﷺ نے دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں سے اشارہ فرمایا اس حال میں کہ وہ دو انگلیاں باہم جداتھیں۔اور ہتھیلی مبارک سامعین کی طرف تھی جیسا کہ درج ذیل صورت سے واضح ہے۔

File:Picture 15.png

(4)دو ہاتھوں سے اشارہ

رمضان کے ماہ مقدس اور روزوں کی گنتی کے لیے آپ ﷺ نے دونوں ہاتھوں سے اشارہ فرمایا ۔ حدیث میں ہے:

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنهم ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ ذَكَرَ رَمَضَانَ، فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ فَقَالَ: «الشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا - ثُمَّ عَقَدَ إِبْهَامَهُ فِي الثَّالِثَةِ - فَصُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ ثَلَاثِينَ »([19])

ابن عمر ﷜ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے رمضان المبارک کا ذکر کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کے ساتھ اشارہ کر کے فرمایا یہ مہینہ اس طرح ہے اور اس طرح ہے اور اس طرح ہے پھر تیسری مرتبہ اپنے انگوٹھے کو بند کر کے فرمایا کہ چاند دیکھ کر روزے رکھو اور چاند دیکھ کر افطار (عید) کرو اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو تم پر تیس روزے کی تعداد پوری کرنا لازم ہے۔

اس حدیث مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ کا دونوں ہاتھوں سے ایک اشارہ کرنے کا ذکر ہے ۔اشارے کا تعلق مہینے کے دنوں کی گنتی سے ہے ۔دونوں ہاتھوں سے رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ اشارہ فرمایا،پہلے دو مرتبہ میں دونوں ہاتھوں کی تمام انگلیاں سامعین کے سامنے کھول دیں ،اور تیسری مرتبہ میں ایک ہاتھ کا ایک انگوٹھا بند کر کے اس طرف اشارہ دیا کہ مہینہ انتیس دنوں کا ہوتا ہے۔ساتھ ہی آپ ﷺ نے مزید ارشاد فرمایاکہ اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس کی گنتی کو پورا کر لیا جائے۔حدیث مبارکہ میں مروی یہ اشارہ تشریح طلب ہے۔اور جب تک اشارے کی ہیئت معنوی اور ہیئت صوری معلوم نہ ہوجائے حدیث کا مضمون سمجھا نہیں جاسکتا۔

اشارے کی ہیئت معنوی:

اسی روایت کے ایک طریق میں رسول اللہ ﷺ کافرمان ہے :

«إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لَا نَكْتُبُ، وَلَا نَحْسُبُ، الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا"وَعَقَدَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي تَمَامَ ثَلَاثِينَ »([20])

یعنی ایک باررسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مہینہ اتنا ،اتنا اور اتنا ہوتا ہے اور اتنے کا مفہوم ہاتھوں سےاس طرح بیان کیا کہ دو بار دونوں ہاتھوں کی تمام انگلیاں پھیلا دیں جبکہ تیسری مرتبہ میں انگوٹھا بند کر دیااور اس طرف اشارہ فرما یا کہ مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہو سکتا ہے۔ دوسری مرتبہ پھر ہاتھوں سے اشارہ کیا اور اس موقع پر تینوں مرتبہ دونوں ہاتھوں کی تمام انگلیاں پھیلا دیں یوں مہینے میں دنوں کی تعداد تیس بیان فرمائی۔

اشارہ کی ہیئت صوری

حدیث مبارکہ کے مختلف طرق کا مطالعہ بتاتا ہے کہ مہینے کی تعداد بتانے کے لئے اشارہ ایک نہیں دو ہیں۔

ایک اشارے میں تین بار ہاتھوں کی تمام انگلیوں کو کھولا گیا اور مہینے میں دنوں کی تعداد تیس بتائی گئی۔جبکہ دوسرے اشارے میں دو بار ہاتھوں کی تمام انگلیوں کو کھولا گیا اور تیسری بار انگوٹھے کے علاوہ بقیہ تمام انگلیوں کو کھولا گیا اور یوں مہینے میں دنوں کی تعداد انتیس بتائی گئی۔

اور یہ دونوں اشارے درج ذیل صورت سے واضح ہوتے ہیں۔

File:Picture 16.png

(5)اللہ جل شانہ کی عظمت و شان کی طرف انگلیوں کے ذریعے اشارہ

« أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جُهِدَتِ الْأَنْفُسُ، وَضَاعَتِ الْعِيَالُ، وَنُهِكَتِ الْأَمْوَالُ، وَهَلَكَتْ الْأَنْعَامُ، فَاسْتَسْقِ اللَّهَ لَنَا فَإِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِكَ عَلَى اللَّهِ وَنَسْتَشْفِعُ بِاللَّهِ عَلَيْكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «وَيْحَكَ أَتَدْرِي مَا تَقُولُ؟» وَسَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَمَا زَالَ يُسَبِّحُ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ، ثُمَّ قَالَ: «وَيْحَكَ إِنَّهُ لَا يُسْتَشْفَعُ بِاللَّهِ عَلَى أَحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ، شَأْنُ اللَّهِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ، وَيْحَكَ أَتَدْرِي مَا اللَّهُ، إِنَّ عَرْشَهُ عَلَى سَمَاوَاتِهِ لَهَكَذَا» وَقَالَ بِأَصَابِعِهِ مِثْلَ الْقُبَّةِ عَلَيْهِ «وَإِنَّهُ لَيَئِطُّ بِهِ أَطِيطَ الرَّحْلِ بِالرَّاكِبِ» قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ: «إِنَّ اللَّهَ فَوْقَ عَرْشِهِ، وَعَرْشُهُ فَوْقَ سَمَاوَاتِهِ» وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: وَابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ وَالْحَدِيثُ بِإِسْنَادِ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ هُوَ الصَّحِيحُ وَافَقَهُ عَلَيْهِ جَمَاعَةٌ مِنْهُمْ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، كَمَا قَالَ أَحْمَدُ، أَيْضًا وَكَانَ سَمَاعُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَابْنِ الْمُثَنَّى، وَابْنِ بَشَّارٍ مِنْ نُسْخَةٍ وَاحِدَةٍ فِيمَا بَلَغَنِي»([21])

رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک دیہاتی آدمی آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ لوگ مشقت میں پڑگئے اور گھر بار اور اموال کم ہوگئے اور مویشی ہلاک ہوگئے پس آپ ﷺ اللہ سے ہمارے لیے بارش طلب فرمائیں ہم اللہ کے پاس آپ ﷺ کی سفارش چاہتے ہیں اور اللہ کی سفارش آپ ﷺ کے پاس چاہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تیرا ستیاناس ہو ،جانتا ہے تو کیا کہہ رہا ہے؟ اور رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی تسبیح بیان کی اور مسلسل تسبیح اور پاکی بیان کرتے رہے یہاں تک کہ اس بدو کی غلط بات کا اثر آپ ﷺ کے صحابہ کے چہروں پر بھی ظاہر ہونے لگا پھر آپ نے فرمایا کہ تجھ پر افسوس ہے اللہ کی سفارش نہیں کی جاتی کسی پر اس کی مخلوقات میں سے ۔ اللہ کی شان اس سے کہیں زیادہ عظیم ہے۔ تجھ پر افسوس ہے کیا تو جانتا ہے کہ اللہ کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے اور آپ نے اپنی انگلیوں سے گنبد نمااشارہ کر کےبتایا؛ اور بیشک وہ عرش الٰہی چرچراتا ہے جس طرح کہ کجاوہ سواری کے بیٹھنے سے چرچراتا ہے۔ محمد بن بشار نے اپنی روایت میں فرمایا کہ بیشک اللہ اپنے عرش کے اوپر ہے اور اس کا عرش آسمانوں کے اوپر ہے اور آگے اسی طرح حدیث بیان کی۔

ہیئتِ معنوی

اس حدیث مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے ایک سادہ فہم دیہاتی آدمی کے قول پر گرفت فرمائی،جب اس نے کہا ہم اللہ کے سامنے آپ ﷺ کو سفارشی بناتے ہیں اور آپ ﷺ کے سامنے اللہ کو سفارشی بناتے ہیں ۔

رسول اللہ ﷺ نے اس بدو کا قول سننے میں ایسا انداز اختیار کیا کہ تمام حاضرین محفل نہ صرف متوجہ ہوگئے بلکہ اس بدو کی غلطی سٍے آگاہ بھی ہوئے اور سراپا انتظار ہوئے کہ اب رسول اللہ ﷺ کس طرح اس سادہ فہم شخص کو اس کی غلطی پر متنبہ فرماتے ہیں اور کس طرح اس کی اصلاح کرتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا:تجھ پر افسوس!اللہ کو اس کی مخلوق کے سامنے بطور سفارشی پیش نہیں کیا جاتا۔پھر اللہ جل شانہ کی عظمت کو رسول اللہ ﷺ نے اس بدو کے لیے اپنے دست مبارک اور اپنی انگلیوں کے اشارے سے اور ایک ایسی مثال کے ذریعہ واضح کیا جو اس دیہاتی کے حسب حال تھی کہ اس کو اونٹ اور کجاوے سے روزانہ ہی واسطہ پڑتا تھا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ آدمی بھاری بھر کم اور وزنی جسم والا ہو اور جب کجاوے پر بیٹھتا ہوگا تو کجاوہ چرچراتا ہوگا۔اس کی سادہ فہمی کو دیکھتے ہوئے کجاوے کی مثال دی گئی۔


آپ ﷺنےایک ہاتھ کی انگلیوں سے قبہ نما شکل بنا کر اللہ رب العزت کے عرش کو اس قبہ سے تشبیہ دی اور دوسرے ہاتھ کو سیدھا کھول کرآسمان سے تشبیہ دی ۔اور فرمایا:

“بیشک اللہ جل شانہ اپنے عرش کے اوپر ہے اور وہ عرش آسمانوں کے اوپر ہے۔“


چنانچہ آپ ﷺ نے اس دیہاتی کے علم وفہم کو سامنے رکھتے ہوئے عظمت باری تعالی کے لیے نہایت بلیغ مثال ارشاد فرمائی کہ جس طرح کجاوہ پر وزنی سواری بیٹھ جائے یا وزنی سامان رکھا جائے تو کجاوہ ایک مخصوص آواز دیتا ہے جو گویا کجاوے کی عاجزی اور کمزوری کا منہ بولتا ثبوت ہوتی ہے۔

علامہ خطابی﷫ فرماتے ہیں کہ اگر رسول اللہ ﷺ کے اس کلام کو ظاہر پر محمول کیا جائے تو اس سے اللہ جل شانہ کی ذات اور صفات کیلئے ایک کیفیت ثابت ہوتی ہے ،جبکہ اللہ جل شانہ کی ذات اور صفات ،کیفیت سے پاک اور منزہ ہے،لہٰذا رسول اللہ ﷺ کا یہ کلام اس بدو کیلئے اللہ کی عظمت اور شان و شوکت کے تصور کے قریب الی الذہن بتانے کیلئے ہی ہوگا۔([22])

اس روایت کے رُواة میں محدث ابن اسحاق ایک راوی ہیں جن کے بارے میں علامہ خطابی﷫ نے مدلس ہونے کی صراحت کی ہے،اور فرمایا:کہ یہ روایت امام بخاری ﷫ اپنی صحیح میں نہیں لائے،جبکہ تاریخ ابن کثیر میں انہوں نے اس روایت کو ذکر فرمایا ہے۔اگر چہ احمد بن عبداللہ العجلی﷫ کہتے ہیں:

"ابن إسحاق ثقة وقد اشهد مسلم بخمسة أحادیث ذکرها لابن إسحاق في صحیحه وقد روی الترمذی فی جامعه من حدیث ابن إسحاق"

بہرحال یہ مضمون ایک اور روایت سے بھی ثابت ہے جوکہ درج ذیل ہے۔

«فقال محمد بن عبد الله الكوفي المعروف بمطين حدثنا عبد الله بن الحكم وعثمان قالا حدثنا يحيى عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن عبد الله بن خليفة عن عمر قال أتت النبي امرأة فقالت ادع الله أن يدخلني الجنة فعظم أمر الرب ثم قال إن كرسيه فوق السماوات والأرض وإنه يقعد عليه فما يفصل منه مقدار أربع أصابع ثم قال بأصابعه فجمعها وإن له أطيطا كأطيط الرحل»([23])

یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:کہ اللہ رب العزت کی کرسی اللہ کی عظمت و شان کی وجہ سے ایسے چرچراتی ہے جیسے وزن کی وجہ سے کجاوہ چرچراتا ہے۔

ہیئتِ صوری

علامہ طیبی ﷫ فرماتے ہیں

"وهي الهیئة الحاصلة للأصابع الموضوعة علی الکف"

اس اشارے میں جو ہیئت صوری ہے وہ انگلیوں کو ہتھیلی پر (مثل القبہ) رکھنے سے حاصل ہوتی ہے۔([24])

یہی روایت ایک اور طریق سے بھی آتی ہے جس میں یحیی بن معین نے ہاتھ کی پانچ انگلیوں کے ذریعہ مثل قبہ کر کے دکھایا۔([25])

Picture 4.pngPicture 3.pngاس روایت کے متون اور شروحات کے مطالعہ کے بعد جو ہیئت صوری سامنے آتی ہے وہ درج ذیل اشکال سے واضح ہوتی ہے۔

خلاصہ بحث

مذکورہ بالا احادیث کے مطالعہ سے رسول اللہ ﷺ کے مختلف اشارات کی ہیئت معنوی اور ہیئت صوری کی اہمیت کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے ۔ ایسی روایات جن میں کلام کی تفہیم محض اشارے پر ہی موقوف ہے ، ان میں اس تحقیقی کام کی حیثیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔خاص کر انسانی تہذیب کی ترقی کے ساتھ ساتھ جو نئے معاشرتی فنون وعلوم سامنے آئے ہیں ان میں غیر لسانی مواصلات (Nonverbal Communications)کو ایک مستقل حیثیت حاصل ہوچکی ہے اور سیرت طیبہ کا اس تناظر میں مطالعہ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔  غیر لسانی مواصلات اور اس کی اقسام کے تناظر میں ان روایات کا مطالعہ کیا جائے تو سیرت طیبہ کا نیا باب افشاں ہوتا ہے۔

حوالہ جات

  1. ()سورۃ الحجر:9
  2. ()ابن وہب، عبد اللہ المصری القرشی، الجامع، رفعت فوزی عبدالمطلب، کتاب الصلوۃ، حدیث نمبر: 228، دار الوفاء، ۱/133
  3. ()بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح بخاری، كتاب الادب، باب تعاون المومنين بعضہم بعضا، حدیث نمبر: 6026، دار طوق النجاۃ، 1/12
  4. ()طبرانی، سلیمان بن احمد، المعجم الاوسط، باب المیم، حدیث نمبر: 5718، دار الحرمین، قاہرہ، 6/35
  5. ()ابن حجر، احمد بن علی العسقلانی، فتح الباری شرح صحیح البخاری، دار المعرفۃ، بیروت، 10/450
  6. ()بظاہر یہ حدیث مبارک ان احادیث کے متعارض محسوس ہوتی ہے جن میں دوران نماز یا مسجد میں تشبیک سے منع کیا گیا ہے۔مغلطائی فرماتے ہیں:تحقیق یہ ہے کہ ان احادیث کے درمیان تعارض نہیں ہے۔کیونکہ نہی کا تعلق دوران نماز تشبیک سے ہےاور زیر بحث حدیث مبارک میں تشبیک نہ نماز کے دوران ہے نہ نماز کے انتظار کے دوران۔
  7. ()مسلم بن حجاج قشیری، صحیح مسلم، كتاب الجنةوصفۃ نعيمہا واہلہا، باب صفۃ يومالقيامۃ اعاننا الله على اہوالہا، حدیث نمبر:2864، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 4/2196
  8. ()یہ روایت مبارکہ دو صحابہ کرام حضرت عقبہ بن عامر﷛اور مقداد بن اسود ﷛سے مروی ہے، ( عینی، محمود بن احمد، عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 23/110)
  9. ()ابن الملقن، عمر بن علی بن احمد الشافعي، التوضیح لشرح الجامع الصحیح، دار النوادر، دمشق، سوریا، طبع اول:2008ء، 30/49
  10. ()عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، 23/111
  11. ()صحیح بخاری، كتاب الادب، باب فضل من يعول يتيما، حدیث نمبر:6005
  12. ()شيباني، احمد بن حنبل، مسند، حدیث نمبر: 8881، تحقیق:شعيب الارنؤوط، عادل مرشد، وآخرون، اشراف:د.عبد الله بن عبد المحسن التركی، مؤسسة الرسالة، طبع اول:2001 ء، 14/465
  13. ()شیبانی، احمد بن عمرو، الآحاد والمثانی، حدیث نمبر :838، دار الرایۃ، ریاض، 2/126
  14. ()بغوی، حسین بن مسعود فراء، شرح السنۃ، کتاب البر والصلۃ، باب ثواب کافل الیتیم، حدیث نمبر:3454، المکتب الاسلامی، بیروت، دمشق، 13/43
  15. ()الآحاد والمثانی، حدیث نمبر: 838، 2/126
  16. ()صحیح بخاری، کتاب الطلاق، باب اللعان، حدیث نمبر : 5304، 7/53
  17. ()ابن علان، محمد علی البکری، دلیل الفالحین لطرق ریاض الصالحین، باب ملاطفۃ الیتیم، حدیث نمبر:2623، دار المعرفۃ، بیروت، 3/81
  18. ()احمد حطیبۃ، شرح ریاض الصالحین، دروس صوتيةقام بتفريغہا موقع الشبکہ الاسلاميہ، 11/9
  19. ()صحیح مسلم، كتاب الصيام، باب وجوب صوم رمضان لرؤيةالہلال والفطرلرؤيةالہلال، حدیث نمبر: 1080، 2/759
  20. ()مسند، حدیث نمبر: 5017، 9/59
  21. ()سجستانی، ابو داود، سلیمان بن اشعث، کتاب السنۃ، باب فی الجہمیۃ، حدیث نمبر:4726، مكتبہ عصريہ، صیدا، بیروت، 4/232
  22. ()خطابی، حمد بن محمد بن ابراہيم، معالم السنن شرح سنن ابي داود، المطبعة العلمية، حلب، طبع اول:1932ء، 4/328
  23. ()عظیم آبادی، شرف الحق، محمد اشرف بن امیر، عون المعبود شرح سنن ابی داود، کتاب السنۃ، باب فی الجہمیۃ، دار الکتب العلمیہ، طبع دوم:1415ء، بیروت، 13/13
  24. ()طیبی، شرف الدین حسین بن عبد اللہ، الکاشف عن حقائق السنن، کتاب احوال القیامۃ وبدء الخلق، باب بدء الخلق وذکر الانبیاء، حدیث نمبر:5727، مکتبہ نزا مصطفی الباز، مکہ، 11/3625
  25. ()طبرانی، المعجم الکبیر، حدیث نمبر:1547، مکتبہ ابن تیمیہ، طبعہ ثانيہ، قاہرہ، 2/128