Playstore.png

عرب اسلامی روایت کے برصغیر پاک و ہند میں تفسیر نگاری پر اثرات: عہد رسالت تا خلافت عباسیہ کے تناظر میں اختصاصی مطالعہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search

Warning: Page language "ur" overrides earlier page language "".

کتابیات
مجلہ الایضاح
عنوان عرب اسلامی روایت کے برصغیر پاک و ہند میں تفسیر نگاری پر اثرات: عہد رسالت تا خلافت عباسیہ کے تناظر میں اختصاصی مطالعہ
انگریزی عنوان
The Arab Impression on Exegetical Writings in the Sub-Continent: A Study Till the Abbassid Caliphate
مصنف تبسم، میمونہ
جلد 30
شمارہ 1
سال 2015
صفحات 43-66
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
شکاگو 16 تبسم، میمونہ۔ "عرب اسلامی روایت کے برصغیر پاک و ہند میں تفسیر نگاری پر اثرات: عہد رسالت تا خلافت عباسیہ کے تناظر میں اختصاصی مطالعہ۔" الایضاح 30, شمارہ۔ 1 (2015)۔
عالمی امن میں اسلام کا کردار
دینی مدارس پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے الزامات: ایک تجزیاتی مطالعہ
عرب اسلامی روایت کے برصغیر پاک و ہند میں تفسیر نگاری پر اثرات: عہد رسالت تا خلافت عباسیہ کے تناظر میں اختصاصی مطالعہ
حضرت آدم علیہ السلام بائبل اور قرآن کى روشنى میں
اسلام میں امن اور دہشت گردی کا تصور: ایک علمی اور تحقیقی جائزہ
قذف اور پاکستانی معاشرہ: اسلامی حوالے سے تنقیدی جائزہ
قانون ٹارٹ كا فقہ اسلامى كى روشنى میں جائزہ
افغانستان کی اسلامی تاریخ کے پیش رو صحابہ کرام: عہد خلافت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ
حلالہ اور مروجہ حلالہ سنٹرز: ایک تجزیاتی مطالعہ
جنگی قیدیوں کے حقوق شریعت اسلامیہ اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں
اسلام اور ہندو مت میں مادی اور روحانی طہارت کے اصول
اسلام اور جین مت میں طہارت کا تقابلی جائزہ
علاج معالجہ اور دم کی شرعی حیثیت
جنگی جرائم اسلام اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں
علامہ عینی اور ان کی خدمات کا علمی جائزہ
سورة الكوثر بين الإعجاز البلاغي وتحديات الترجمة
الزمخشري وموقفه من الاستشهاد بشعر المؤلدين في ضوء تفسيره الكشاف
مؤسسة الإزدواج والأسرة في ضوء الشريعة الاسلامية
ضوابط قبول التفرد في رواية الحديث دراسة مع أمثلة من تطبيقات النقاد
مميزات التشريع الجنائي في الفقه الإسلامي: دراسة تحليلية
Principles and Rules of Jihad: A Juristic Approach
Peace, the Essential Message of Islam
Orientalists on the Style of Quran: A Critical Study
The Genesis of Shi’ism in Islam
Origin of Earth: A Quranic Perspective
Rights of Non-Muslim Minorities in a Muslim Country in the Light of Qur’an and Sunnah
Pakistan’s Stance on the War on Terror: Challenging the Western Narrative
Impact of Hajj on Muslims With Special Reference to Pakistan

Abstract

It is an established fact that the mainthrust driving force  of all Islamic disciplines is the personality of Prophet Muhammad (PBUH) who appeared in the Arab Peninsula, spreading the rays of divine wisdom throughout the globe. He emerged and prevailed the Prophetic message in such a vivid style that the whole humanity confessed his lasting impressions. The Indian sub-continent has also been one of the impressed territories despite of having no direct social, cultural or religious relationships, yet some approaches from Indian sub-continental Rajas and presentations of gifts to the Prophet (PBUH) have been recorded in the history. Historians have expressed the reality that before Muhammad bin Qasim, a numbers of companions of Prophet reached India and played a pivotal role in making the suitable ground for embracing Islam. Hence, the Arab epistemological tradition engraved in the core of Indian hearts which consequently, reappeared and emerged in the classical exegetical literature of sub-continental scholars, such as Shah Waliullah and his off shoots both in India and Pakistan. This paper has been specifically articulated to explore the Arab impression on exegetical writings in the sub-continent

تمہید:

خالق کائنات کی طرف سے قرآن کریم بنی نوع انسان کی فلاح و نجات کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہ کلام الٰہی لا محدود عظمتوں کا مظہر ہے۔ یہ عظمت اور جامعیت اس بات کی مقتضی تھی کہ اس معانی و مفاہیم کے بے کراں سمندر کی تشریح و توضیح کا بھی بندوبست کیا جائے چنانچہ ہادی عالم حضرت محمدﷺ کو اس کتاب اﷲ کے شارح اور مفسر کے منصب پر فائز کیا گیا۔ارشاد ربانی ہے:

وما أنزلنا عليک الکتاب الاّ لتبين لهم الذي اختلفوا فيه [1]۔

)ہم نے آپ پرکتاب صرف اس لیے نازل کی تاکہ آپ ان پر واضح کر دیں وہ بات جس میں انہوں نے اختلاف کیا)۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا مقصد آیات قرآنی کا مفہوم بتانا اور اختلاف کو دور کرنا بھی تھا۔چنانچہ آپﷺ نے اپنے اقوال، احوال اور افعال سے قرآن مجید کی تشریح، وضاحت اور تفسیرکا حق بدرجہ اتم پورا فرمایا۔ قرآن مجید کی اس تبیین و توضیح پر "تفسیر" کا اطلاق ہوتا ہے .

اسلام کے اس عہدِ زریں سے لے کر آج تک اعلیٰ صلاحیت کے حامل علماء اور فضلاء نے اپنے اپنے احوال و واقعات کو مدّ نظر رکھ کر فکر و تدبر کے ساتھ قرآن پاک کی تفسیر کی روایت کو پروان چڑھایا ہے جس میں جہاں علمی تقاضے پورے کرنے کے لیے عقل و دانش کو ہی محور بنانے کا رجحان ہے وہیں کسی بھی در پیش مسئلہ کے حل کے لیے ذات نبویؐ سے ماخوذات کو اساس بنانے کا رنگ بھی نمایاں ہے۔ بہرحال اگر ہم تاریخی طور پر جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ علم تفسیر کو اسلامی علوم میں سب سے قدیم اور افضل و اشرف ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس تفسیری ادب کا معتدبہ حصہ اس روایت اور فکر کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جسے تفسیر بالماثور کہا جاتا ہے۔ جس کی اساس خود قرآنی توضیح یا نبوی تشریح ہے یا پھر فیضان مکتب نبویؐ صحابہ کرامؓ کے بیان کردہ تفسیری آثار۔ ضمنی منابع کے ساتھ ساتھ تفسیر بالماثور کا محور یہی اساس ہے۔ مسلم ذخیرہ ’’ادب تفسیر‘‘ میں غالب حصّہ مذکورہ تفسیری رویہ کا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی دعوت فکر و تعقل و تدبر کی بناء دوسرے تفسیری رویہ یعنی تفسیر بالرائے نے بھی برابر کی جگہ پائی ہے مگر پھر بھی ہر دور میں تفسیر بالماثور کو زیادہ اہمیت و فضیلت حاصل رہی ہے۔

برصغیر پاک و ہند کا تعلق قبل از اسلام سے ہی جزیرہ عرب سے قائم تھا۔ جس کا ثبوت جاہلی عربی ادب میں اس کے تذکرہ سے ملتا ہے۔ ہندوستان میں اسلام کی اشاعت عرب، ایران اور ماوراء النہر کے بعد ہوئی مگر یہاں کی سر زمین دین اسلام سے اس سے قبل ہی آشنا ہوچکی تھی۔ تاریخ نے چالیس سے زائد صحابہ کرام کا نام اپنے اوراق میں محفوظ کیا ہے جن کا سر زمین ہند پر ورود مسعود ہوا تھا۔۹۳ھ/ ۷۱۲ء میں جب محمد بن قاسم کے ذریعے اسلامی حکومت کی سرحدیں سندھ تک آ پہنچیں تو یہاں باقاعدہ تبلیغ اسلام سے لوگ کلام ربانی سے مستفیض ہونے لگے[2]۔

عہد رسالت میں عرب و ہند کے علمی روابط:

قدیم زمانہ سے ہندوستان علم و دانش اور فنون و معارف کا ملک مانا جاتا ہے حتی کہ اہل چین اسے "حکمت کا ملک" کہتے تھے۔ ساتھ ہی مذہب و روحانیت کے بارے میں یہ ملک شہرت رکھتا ہے اور یہاں کے علماء و حکماء اور اربابِ روحانیت دنیا میں مشہور تھے، یہی وجہ ہے کہ جب یہاں کے مذہبی حلقوں کو رسول اﷲﷺ کی نبوت و رسالت کا علم ہوا تو انہوں نے آپؐ سے تعلقات قائم کرنے میں سبقت کی اور اپنا ایک نمائندہ وفد خدمت نبوی میں روانہ کیا تاکہ وہ براہِ راست اسلامی تعلیمات اور سیرت نبویہ سے واقف ہوں نیز یہاں کے بعض راجوں اور مہاراجوں نے خدمت نبوی میں تحائف بھیج کر اپنی عقیدت و محبت کا مظاہرہ کیا مگر افسوس کہ عہدِ رسالت میں ہندوستان سے براہِ راست روابط قائم نہ ہو سکے اور درمیان میں ایرانی سیاست کی خلیج حائل ہو گئی جس سے صورت حال یکسر بدل گئی۔ ورنہ یقین ہے کہ اگر یہاں کے باشندے ایرانیوں کی آقائی میں نہ پڑتے اور ایرانی فتوحات میں مسلمانوں کے خلاف شاہانِ ایران کی مدد نہ کرتے تو یہ ملک عہد خلافت راشدہ ہی میں دارالاسلام بن گیا ہوتا اور ایشیاء و افریقہ کے بہت سے ممالک کی طرح ہندوستان بھی عرب ممالک میں شمار ہوتا۔ ہندوستان اور اسلام کو ایران کی طرف سے یہ نقصان نہ پہنچتا، نہ ہندوستان کے باشندے شاہان ایران کے چکر میں پڑ کر مجاہدین اسلام کے مقابلہ میں آتے اور نہ ہندوستان میں حرب و ضرب کی نوبت آتی اور عرب کے ہندوستانیوں کی طرح یہاں کے باشندے بھی برضاء و رغبت اسلام کے سایہ میں آ جاتے، خسران و نقصان کا یہ منظر کس قدر عبرت انگیز ہے کہ جس زمانہ میں ہندوستان کے راجے، مہاراجے اور ان کی رعایا ایرانیوں کی وجہ سے مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھ کر ان کے ساتھ مصروف جنگ تھے عین اسی زمانہ میں ایرانی فوج کے ہندوستانی سپاہی اور عرب میں آباد ہندوستانی براہِ راست اسلام اور مسلمانوں کو دیکھ اور سمجھ کر جوق در جوق انشراح قلب اور کھلے دل کے ساتھ اسلام میں داخل ہو رہے تھے[3]۔

خلافت راشدہ میں عرب و ہند کے علمی روابط:

عہد فاروقی میں سندھ اور ہندوستان کے حدود و اطراف میں صحابہ و تابعین اور اتباع تابعین کی آمد ہوئی اور ان کی تشریف آوری کا سلسلہ عباسی دور کی ابتداء تک جاری رہا اور ان تینوں طبقوں کے انفاس نے اس ملک کی فضا میں دین و ایمان کی حرارت پیدا کی[4]۔

امام ابن کثیر نے محمد بن قاسم کی سندھ اور ہندوستان میں فتوحات سے پہلے یہاں صحابہ کے آنے کی تصریح کی ہے اور لکھا ہے کہ اس سے پہلے حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں حضرات صحابہ ان علاقوں میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوئے اور شام، مصر، عراق، یمن، اوائل ترکستان کے وسیع وعریض اقالیم میں پہنچے، نیز یہ حضرات ما ور النھر، اوائل بلاد مغرب اور اوائل بلاد ہند میں داخل ہوئے[5]۔

عہدِ رسالت کے بعد ہندوستانی مسلمانوں نے بڑی حد تک تلافئ مافات کا نمونہ پیش کیا اور خلافت راشدہ ہی میں ان میں اسلامی علوم اور دینی معارف اور دنیاوی علوم و فنون کے حاملین پیدا ہو گئے۔ جنہوں نے ہندوستان کے قدیم اور روایتی علم و حکمت کو کتاب وسنت کے قالب میں ڈھال کر امامت و سیادت کی بزم سجائی۔ مسلمانوں نے ان کو سر آنکھوں پر بٹھایا۔ تفسیر، حدیث، فقہ، سیرو مغازی، لغت، ادب، انشاء اور شاعری وغیرہ مروجہ علوم و فنون میں وہ بھی عالم اسلام کے مشاہیر علماء اور فضلاء شمار کیے گئے۔ ان کے تذکروں سے فن تاریخ و رجال کی پیشانیاں چمکتی ہیں۔

خلافت راشدہ میں علمی و دینی خاندان:

خلافت راشدہ میں ہندی مسلمانوں کے کئی خانوادے علم دین کے افق پر یوں چمکے کہ ان کی اولاد میں کئی صدیوں تک دینی و علمی سلسلہ چلتا رہا اور اموی اور عباسی ادوار میں متعدد نامور حفاظ حدیث، آئمہ دین اور فضلاء زمانہ پیدا ہوتے رہے اس دور کے تین علمی و دینی خاندان خاص طور پر قابل ذکر ہیں:

۱۔ آل ابی معشر سندھیؒ میں ابو معشر نجیح بن عبدالرحمن سندی مدنی( ۱۷۰ھ/۷۸۶ء) حافظ حدیث ہونے کے ساتھ ’’ اعلم الناس بالمغازی‘‘ کا مقام رکھتے تھے۔ ان کی کتاب "المغازی"اپنے فن کی ابتدائی اور مشہور کتاب ہے اور محمد بن ابو معشر سندھی، حسین بن محمد بن ابو معشر سندھی، داؤد بن محمد بن ابو معشر سندھی اپنے اپنے زمانہ کے مشہور محدث و فقیہہ گزرے ہیں[6]۔

۲۔ آل بیلمانی میں عبدالرحمن ابو زید بیلمانی، محمد بن عبدالرحمن بیلمانی، حارث بیلمانی، محمد بن حارث بیلمانی، محمد بن ابراہیم بیلمانی رواۃ حدیث اور محدثین میں ہیں، ان میں سے بعض شاعر بھی تھے[7]۔

۳۔ آل مقسم قیقانی میں مقسم قیقانی، ابراہیم بن مقسم قیقانی، ربعی بن ابراہیم بن مقسم قیقانی، اسماعیل بن ابراہیم بن مقسم قیقانی اور ابراہیم بن اسماعیل بن ابراہیم بن مقسم قیقانی نے کوفہ، بصرہ اوربغداد میں علم و فضل کے ساتھ کسب و تجارت اور ولایت و امارت میں شہرت و ناموری حاصل کی[8]۔

یہ سب کے سب ان ہندوستانی خاندانوں سے تھے۔ جن کے آباؤ اجداد خلافت راشدہ میں جنگی قیدی اور غلام بن کر عرب میں گئے اور مسلمان ہو کر مسلمانوں کی ولاء و حمایت میں اسلامی زندگی کی تمام قدروں سے بہرہ یاب ہوئے۔ ان میں سے اکثر علمائے اسلام اموی دور میں گزرے ہیں اور کچھ عباسی دور میں ہوئے ہیں۔ اسی طرح امام مکحول سندی شامی اور ابو العطاء سندی شاعر، عمرو بن عبید بن باب سندی مغزلی زاہد کے خاندان بھی ہندوستان سے خلافت راشدہ میں قیدی بن کر آئے تھے[9]۔

خلافت راشدہ میں ہندوستان کے مقبوضہ علاقوں میں دینی علوم و رجال کے علم و فضل کا چرچا پایا جاتا تھا۔ اس دور کے مطابق حدیث کا مذاکرہ بھی جاری تھا۔ باقاعدہ "اخبرنا وحدثنا" کا سلسلہ بھی صدی کے بعد شروع ہوا۔ جبکہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے حکم سے احادیث کو مدون کر کے صحف مرتب کیے گئے، اور ان کی روایت کا سلسلہ جاری ہوا۔ اس سے پہلے حضرات صحابہ و تابعین حسب موقع احادیث و آثاربیان کیا کرتے تھے۔ جب اسلامی فتوحات کا دائرہ وسیع ہوا اور مختلف بلاد و امصار میں صحابہ و تابعین رضی اﷲ عنھم دینی و فقہی تعلیم کے لیے روانہ کیے گئے تو انہوں نے وہاں حدیث و شرائع کی اشاعت کی، چٖنانچہ ہندوستان میں بھی یہ حضرات تشریف لائے اور انہوں نے یہاں حسب ضرورت اس وقت کے طریقہ کے مطابق احادیث کا درس دیا [10]۔

خلافت امویہ میں عرب و ہند کے علمی روابط:

اموی دور میں ہندوستان کے دینی، علمی، فکری اور ذہنی کیفیت میں خوشگوار اضافہ ہوا اور عرب و ہند نے ایک دوسرے کے علم و فن سے حصّہ لیا اس وقت دونوں طرف ایسے زبان دان و ترجمان موجود تھے جو ہندی سے عربی میں اور عربی سے ہندی میں ترجمہ کرتے تھے۔ حضرت معاویہؓ اور حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی خدمت میں ارض چین اور ہندوستان کے راجوں نے ہندی علوم و فنون اور اسرار و حکم پر مشتمل کتابیں روانہ کیں۔ ہمارے علم و تحقیق میں عرب و ہند کے درمیان یہ پہلا علمی سلسلہ تھا جو اسلام فہمی کے داعیہ پر جاری ہوا اور خالد بن یزید نے ان کتب سے خوب استفادہ کیا۔ اگر یہ کتابیں یہاں سے عربی زبان میں روانہ کی گئی تھیں تو یہاں عربی زبان کے ماہرین موجود تھے جنہوں نے ان کو مرتب کیا تھا اور اگر ہندی میں تھیں تو عرب میں اس زبان کے جاننے والے موجود تھے۔ جنہوں نے ان کو عربی زبان میں منتقل کیا تھا۔جہاں تک اموی خلفاء و امراء اور یہاں کے راجوں مہاراجوں میں خط و کتابت کا تعلق ہے تو اغلب یہ ہے کہ اپنی اپنی زبان میں ہوتی تھی اور دونوں طرف کے ترجمان ان کا ترجمہ کرتے تھے۔ اس دور میں احادیث کی تدوین و ترتیب کی ابتداء ہو چکی تھی۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس سلسلہ میں سرکاری احکام جاری کیے۔ اس دور میں ایک طرف مجاہدین اسلام دنیا میں بڑھ بڑھ کر فتوحات کر رہے تھے اور دوسری طرف علمائے تابعین و تبع تابعین مفتوحہ ممالک میں اسلامی علوم کی نشر و اشاعت میں مصروف تھے۔ چنانچہ ہندوستان میں بھی یہی صورتحال تھی اور اس دور میں یہاں بھی حدیث، تفسیر، فقہ، مغازی اور لسانی علوم میں ارباب فضل و کمال موجود تھے اور یہاں کے مسلمان عرب اور دوسرے اسلامی بلاد و امصار میں ان علوم و فنون کے آئمہ و عباقرہ میں شمار ہوتے تھے۔ اموی دور میں ہندوستان کے مسلمانوں کی زندگی کا ہر پہلو نہایت تابناک تھا وہ ہر میدان میں عالم اسلام کے شانہ بشانہ چلتے تھے۔ ہر قسم کے علوم و فنون اور علماء و فضلاء سے ان کی محفلیں آباد تھیں[11]۔

خلافت عباسیہ میں عرب و ہند کے علمی روابط:

قدیم زمانہ میں ہندوستان کے علوم و فنون صرف ایک طبقہ میں محدود تھے اور برہمنوں کے علاوہ کسی دوسری جماعت یا فرد کو حق نہیں تھا کہ وہ علم حاصل کر سکے۔ باہر کے تاجر اور سیاح بھی اس سے واقف تھے اور اس کو یہاں کی خصوصیات میں شمار کرتے تھے۔

مسلمانوں نے پہلی بار ہندی علوم و فنون کو خاندانی تہہ خانوں سے نکال کر دنیا کے سامنے رکھا اور عام کیا۔ اموی دورمیں شرعی اور لسانی علوم پر زیادہ توجہ رہی۔ حدیث، تفسیر، فقہ، تاریخ وغیرہ میں کتابیں لکھنے کا رواج شروع ہو گیا تھا۔ طبعی اور عقلی علوم میں علم طب، علم انواء اور علم نجوم کا رواج تھا مگر ان کی حیثیت مقامی اور تجرباتی علوم کی تھی جو عرب زندگی کے مطابق قدیم زمانہ سے نسلاً بعد نسل وراثت کے طور پر چلے آتے تھے۔ اس دور میں صرف خالد بن یزید بن معاویہ کا نام ملتا ہے۔ جس نے طب اور کیمیاء کی طرف توجہ کی اور اس میں شہرت پائی۔

عباسی عہد میں دوسرے خلیفہ ابو جعفر منصور نے حکمت و فلسفہ اور طب و نجوم وغیرہ کی طرف توجہ کی ۔ اس کو نجوم و فلکیات سے بڑی دلچسپی تھی، اس کے بعد ہارون رشید اور مامون نے ابو جعفر منصور کے کام کو آگے بڑھایا۔ ہارون رشید نے بغداد میں" بیت الحکمۃ" کے نام سے ایک عظیم الشان علمی و فنی دائرۃ المعارف قائم کیا جس میں منطق، فلسفہ، طب، ریاضی، نجوم اور دیگر علوم و فنون کے علماء و فضلاء سے دوسری زبانوں کی علمی اور فنی کتابوں کے ترجمے کرائے ۔[12]

ابو جعفر منصور کے زمانہ میں پہلی بار ہندوستان کے علم نجوم و فلکیات کا عربی زبان میں ترجمہ ہوا۔ ۱۵۶ھ/۷۷۲ء میں ہندوستان کا ایک پنڈت جو یہاں کے حساب سند ہند(سدہانت) میں مہارت رکھتا تھا۔ ابو جعفر منصور کی خدمت میں بغداد پہنچا۔ اس کے پاس اس فن کی ایک کتاب بھی تھی جس میں بارہ ابواب تھے۔ پنڈت نے اس کو" کرد جات" نام کی ایک بہت بڑی کتاب سے منتخب کیا۔ یہ کتاب ایک ہندوستانی راجہ قبغر کی تصنیف تھی۔ اس میں علم الحساب اور علم النجوم کے مسائل نہایت اچھے انداز میں بیان کیٍے گئے تھے۔ ابو جعفر منصور نے حکم دیا کہ اس کا عربی میں ترجمہ کر کے ایک ایسی کتاب لکھی جائے جس کو اہل عرب نجوم و فلکیات کے مسائل میں بنیاد قرار دیں۔ چنانچہ محمد بن ابراہیم فزاری نے اس کا بیڑہ اٹھایا اور" سند ہند الکبیر" کے نام سے کتاب لکھی، خلیفہ مامون کے زمانہ تک یہی کتاب اس فن کی اصل مانی گئی۔ اسی زمانہ میں ابو جعفر بن موسیٰ خوارزمی نے اس کا اختصار کر کے زیچ خوارزمی تیار کی۔ اس کتاب اورزیچ میں خوارزمی نے سند ہند کے حسابات سے اختلاف کر کے بعض مسائل میں ایرانی حساب کو ترجیح دی تھی۔ پانچویں صدی تک اسی کتاب اور اسی زیچ سے اہل فن فائدہ اٹھاتے رہے۔[13]

اس ابتدائی دور میں یہاں کے لوگوں کا قرآن کی طرف رغبت و تشوق کا اظہار اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ سندھ کے مسلم گورنر عبداﷲ بن عمر الہباری سے، ریاست الور(جس کی سرحدیں کشمیر سے لے کر پنجاب اور راجستان تک تھیں) کے راجہ مہروک رائے نے دین اسلام میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے کسی عالم دین کو اس کے پاس بھیجنے کا کہا۔ چنانچہ ایک عالم دین کو اس کے پاس بھیجا گیا۔ وہ عالم اس کے پاس تین سال مقیم رہا اور راجہ کی فرمائش پر اس کے لیے سورۃ یاسین تک قرآن مجید کا ترجمہ مقامی زبان میں کیا۔ اس کا ذکر چوتھی صدی کے مشہور سیاح بزرگ ابن شہریار نے اپنے سفر نامے میں کیا ہے[14]۔ راجہ نے اگرچہ اسلام قبول کر لیا تھا مگر ملکی مصالح کے تحت اس کا اظہار نہ کر سکا البتہ اس نے بہت سا سونا اپنے استاذ کی نذر کیا۔

قرآن کی خدمت اور اشاعت کے معاملہ میں ہندوستان دیگر مسلم خطوں سے ہرگز پیچھے نہیں رہا بلکہ خدمت قرآن کے بعض پہلوؤں سے اس کو ممتاز سمجھا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے یہ بات بہت دلچسپ ہے کہ یہاں عہد سلاطین کے ایسے مسلم حکمرانوں کے نام ملتے ہیں جنہوں نے ایک خاص پہلو سے خدمت قرآن کا وطیرہ اپنایا جس کی نظیر شاید کسی اور خطے کے حکمرانوں کے ہاں ملنا مشکل ہے۔ انہوں نے کتابت قرآن کو اپنے لیے سعادت و باعث برکت خیال کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں اس کی کتابت کی۔ جیسے سلطان محمود غزنوی کے پوتے اور لاہور کے غزنوی سلطنت کے معروف حکمران سلطان ابراہیم غزنوی(۱۰۵۹۔۱۰۹۹ ھ / ۱۶۴۹۔۱۶۸۷ء) ہر سال بڑے شوق سے قرآن پاک کے دو نسخے خود کتابت کر کے ایک مکہ مکرمہ اور دوسرا مدینہ منورہ بھیج دیتے۔ سلطان ناصر الدین محمود(۱۲۴۶۔۱۲۶۵ھ / ۱۸۳۰۔۱۸۴۸ء) تقریباً ۱۹برس تک ہر سال دو مصحف قرآن کی کتابت خود کرتا رہا۔ دکن کے سلطان فیروز شاہ بہمنی(۸۰۰۔۸۲۶ھ /۱۳۹۷۔۱۴۲۲ء) خود کتابت قرآن کرتا تھا جبکہ گجرات کا حکمران مظفر شاہ(۹۱۷ھ۔۹۳۳ھ/ ۱۵۱۱ء۔ ۱۵۲۶ء) جب ایک مصحف کی کتابت مکمل کرتا تو اسے حرمین شریفین بھیج دیتا[15]۔

اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہاں کے حکمران جب خود قرآن میں مشغول رہتے تو عوام میں قرآن کی طرف توجہ اس کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔ یہاں ابتدائی عہد کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ مقامی آبادی جو کہ قرآن سے آشنائی کے ابتدائی مراحل میں تھی اس کا غالب رجحان قرآن کی تعلیم و تدریس پر ہی مرکوز رہا اور تفسیر و تشریح کواوراق کی زینت بنانے کا رویہ کم ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے تفسیری ادب میں کوئی بڑا کام ہونے کی بجائے گیارھویں صدی تک صرف ابن عیینہ کی کتاب التفسیر پر ابو جعفر الدیبلی کے حاشیہ کا ذکر ملتا ہے۔

برصغیرپاک وہند میں علم تفسیر کا آغاز و ارتقاء:

حافظ ابو محمد عبد بن حمید بن نصر(م ۲۴۵ھ/۸۵۹ء) بھی جلیل القدر مفسر گزرے ہیں۔ یہ بلاد سندھ کے علاقہ "کَس یا کَچھ" سے تعلق رکھتے تھے۔ ابن حجر عسقلانی نے عبد بن حمید کی مرتبہ تفسیر کا ایک حصّہ محمد بن مزاحم کے قلم سے لکھا ہوا دیکھا ہے جو محمد بن مزاحم نے صرف ایک واسطہ سے عبد بن حمید سے حاصل کی ہے[16]۔ان کی تفسیر کا نام " تفسیر عبد بن حمید" ہے۔[17]عبد بن حمید کی تفسیر کے بارے میں حضرت شاہ عبدالعزیز نے تحریر فرمایا ہے کہ یہ تفسیر دیارِ عرب میں مشہور اور متداول ہے اور اسے عرب ممالک میں پڑھایا جاتا تھا۔ ان کے شاگردوں میں ابن جریر ،ابن منذر اور ابن ابی حاتم جیسے علماء شامل ہیں[18]۔

علامہ مخلص بن عبداﷲ دہلوی(م۷۶۶ھ/۱۳۶۴ء) نے قرآن مجید کی تفسیر بنام "کشف الکشاف" لکھی۔ اسی عہد میں امیر کبیر تاتار خاں نے(م۷۹۹ھ/۱۳۹۶ء) نے قرآن مجید کی ایک تفسیر "تاتارخانی" لکھی[19]۔

شیخ محمد بن احمد تھانیسری(م۶۸۴ھ/۱۲۸۵ء) نے تفسیر" کاشف الحقائق و قاموس الدقائق" لکھی۔ ڈاکٹر قدوائی کے مطابق اس تفسیر کا قلمی نسخہ ایشاٹک سوسائٹی کے کتب خانے میں موجود ہے۔ جب جناب محمد نظر علی خان نظام الدین (نئی دہلی) کی تحقیق کے مطابق اس تفسیر کا دوسرا مخطوطہ حضرت علامہ ابو الحسن زید بن ابو الخیر مجددی فاروقی دہلوی کی ملکیت ہے اور بہت عمدہ حالت میں ہے[20]۔سید محمد حسن گیسودرازؒ (م۸۲۸ھ/۱۴۲۴ء) نے تفسیر ملتقط لکھی[21]۔شیخ جلاء الدین علی بن احمد المہائمی(م ۸۳۵ھ/۱۴۳۱ء) نے "تبصیر الرحمن وتیسیر المنان بعض ما یشیر الی اعجاز القرآن" کے نام سے تفسیر لکھی جو کہ تفسیر رحمانی کے نام سے بھی معروف ہے۔ ان کی اس تفسیر کو علماء نے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا[22]۔

شیخ ابو صالح حسن محمد بن احمد بن نصیر احمد آبادی گجرانی معروف بہ حسن محمدبن میانجیو(م۹۸۲ھ/۱۵۷۸ء) نے"تفسیر محمدی" لکھی[23]۔

شیخ مبارک بن خضر ناگوری(م۱۰۰۱ھ/۱۵۹۲ء) نے "تفسیر منبع عیون المعانی ومطلع شموس المثانی"۵ جلدمیں تصنیف کی[24]۔

ابو الفضل فیضی(م۱۰۰۴ھ/۱۵۹۵ء) نے تفسیر سواطع الالہام(۱۰۰۲ھ/۱۵۹۳ء) میں مکمل کی ۔ یہ تفسیر غیر منقوط ہے[25]۔

شیخ عیسیٰ بن قاسم سندھی(م۱۰۳۱ھ/۱۶۲۱ء) دسویں، گیارہویں صدی ہجری کے اہم علما ء میں سے تھے۔آپ نے "تفسیر انوار الاسرار فی حقائق القرآن" لکھی[26]۔

شیخ الاسلام بن قاضی عبدالوہاب گجراتی(م۱۱۰۹ھ/۱۶۹۷ء) نے تفسیر "زبدۃ التفسیر لقدماء المشاہیر" لکھی۔ رام پور کے کتب خانے میں اس تفسیر کا قلمی نسخہ موجود ہے[27]۔

ملا جیونؒ ) ۱۰۴۷ھ تا۱۱۳۰ھ) نے سب سے پہلے فقہی انداز میں تفسیر لکھی جو"التفسیرات الأحمدیہ فی بیان الآیات الشرعیہ مع تفریعات المسائل الفقہیہ" کے نام سے معروف ہے۔[28]

ان کے علاوہ برصغیر کی درج ذیل عربی تفسیریں بھی معروف ہیں:

۱۔ ’’ثواقب التنزیل فی انارۃ التاویل" از ملا علی اصغر بن عبدالصمدقنوجی( پیدائش۱۰۵۱ھ،وفات ۱۱۴۰ھ/۱۷۲۷ء)۔ آپ کا نسب حضرت ابوبکرؓ تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے سید محمد حسین قنوجی، مولانا عصمت اللہ سہارنپوری، محمد زمان کا کوروی اور دیانت خان سے کسب علم کیا۔شیخ پیر محمد لکھنوی سے طریقہ چشتیہ اختیار کیا اور دستار خلافت پائی۔ الطائف العلمیۃ فی معارف الالھیۃ، تبصرۃ المدارج، ریاض المعارف اور ثواقب التنزیل وغیرہ ان کی اہم تصانیف ہیں۔ ثواقب التنزیل جلالین کے انداز پر ہے۔رام پور کے کتب خانے میں اس کا قلمی نسخہ موجود ہے۔اس تفسیر کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ملا علی اصغر علمی و فنی اعتبار سے معمولی قابلیت کے آدمی نہ تھے، بلکہ تحقیق و تدقیق میں دلچسپی رکھتے تھے اور بہت محنت و ذہانت سے کام کرتے تھے۔

۲۔"تفسیر القرآن بالقرآن "از شیخ کلیم اﷲ جہاں آبادی(م۱۱۴۱ھ/۱۷۲۸ء)۔ان کی دہلی میں ولادت ہوئی، طلب علم کے لئے حجاز مقدس میں رہے پھر وہلی میں مصروف درس ہوگئے،" تفسیر القرآن بالقرآن"لکھی۔اس کی ۱۱۲۵ھ کو تکمیل ہوئی، اس کے آخر میں تحریر فرمایا" کنت استمد من البيضاوی والمدارک والجلالين " اس تفسیر کا قلمی کامل نسخہ محررہ ۱۲۶۸ھ کتب خانہ فاضلیہ گڑھی افغاناں میں موجود ہے۔

۳۔ تفسیر صغیراز امیرابو عبداﷲ محمد بن علی اصغر قنوجی(م۱۱۷۸ھ/۱۷۶۴ء)۔یہ بہت ہی مختصر اور سادہ انداز میں لکھی ہوئی تفسیر ہے۔ ڈاکٹر زبید احمد نے اس تفسیر کو لا پتہ قرار دیا ہے، مگر کاکوری کی لاظمیہ لائبریری میں اس تفسیر کے ساڑھے چار پارے موجود ہیں۔ کتاب کے شروع میں ایک چھوٹا سا مقدمہ لکھا ہے ۔ تفسیرکا انداز بہت ہی سادہ اور سلجھا ہوا ہے۔مسائل والی آیتوں کی تشریح کرتے وقت شافعی اور حنفی مسلک کا بھی ذکر کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی آیت کسی دوسری سے منسوخ ہوئی ہے تو وہ بھی لکھ دیتے ہیں۔اس بات کا بہت خیال رکھا ہے کہ عبارت مشکل اور طویل نہ ہونے پائے۔

۴۔ تفسیر مظہری از قاضی ثناء اﷲ پانی پتی(پیدائش ۱۱۴۳ھ/۱۷۳۰ء، وفات ۱۲۲۵ھ/۱۸۱۰ء)۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے ایک جامع تفسیر عربی زبان میں لکھی جس کا نام اپنے شیخ کی نسبت سے تفسیر مظہری رکھا ۔ جو سات جلدوں میں کئی بار طبع ہوچکی ہے، ندوۃ المصنفین دہلی نے اس تفسیر کا اردو زبان میں ترجمہ کردیا۔

۵۔ فتح البیان فی مقاصد القرآن از نواب صدیق حسن خاں قنوجی۔(پیدائش روہیل کھنڈ ۱۲۴۸ھ/۱۸۳۲ء وفات ۱۳۰۷ھ/۱۸۸۹ء)۔ آپ صاحب العلم والقلم تھے، آپ نے زیادہ استفادہ یمنی علماء سے کیا، والیہ بھوپال نے ان سے نکاح کیا، ہر فن اور علم میں کئی تصانیف کیں، فتح البیان بھوپال اور مصر سے دس جلدوں میں شائع ہوچکی ہے ، فتح البیان کا اردو ترجمہ طبع ہوگیا ہے۔آپ نے تفسیر و حدیث اور دیگر علوم ہندو پاک کے جید علماء قاضی حسین بن محسن انصاری، شیخ عبدالحق بن فضل اللہ ہندی اور شیخ محمد یعقوب دہلوی سے حاصل کئے۔نواب صدیق حسن خان کثیر التصانیف تھے۔متعدد کتابیں ہندی، فارسی اور عربی زبانوں میں بھوپال، مصر، قسطنطنیہ وغیرہ میں طبع ہوئی ہیں۔

۶۔ نیل المرام من تفسیر آیات الاحکام از نواب صدیق حسن خاں(م۱۳۰۷ھ/۱۸۸۹ء)۔آپ نے یہ تفسیر فقہی انداز میں لکھی۔اس تفسیر میں انہوں نے تقریبا دو سو آیات کا انتخاب کیا ہے جو ان کے خیال میں شرعی احکام سے متعلق ہیں۔آیات احکام جیسے نماز، روزہ،حج، زکوٰۃ اور حلال و حرام وغیرہ کی تفسیر وہ پوری شرح و بسط کے ساتھ کرتے ہیں۔تفسیرکرتے ہوئے فقہاء اور مفسرین کی آراء بھی نقل کرتے ہیں۔ آیات احکام کی تفسیر کرتے ہوئے آپ احادیث و اقوال اور اماموں کی آراء کو بھی پیش کرتے ہیں۔

۷۔ تفسیر القرآن بکلام الرحمن از مولانا ثناء اﷲ امرتسری(پیدائش ۱۲۸۷ھ/۱۸۶۸ء امرتسر،وفات۱۳۶۸ھ/۱۹۴۸ء سرگودھا) [29]۔شیخ الاسلام مولاناابوالوفا ثناء اللہ امر تسری بیک وقت ایک کامیاب عالم، عظیم خطیب، بلند پایہ مفسر اور مصنف تھے۔ فن مناظرہ میں تو اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ برصغیر کے ممتازجید علماء کرام نے آپ کو اس فن میں امام تسلیم کیا ہے۔تفسیر قرآن کے سلسلے میں بھی بلند مقام رکھتے تھے۔ آپ نے قرآن مجید کے بارے میں تقریبا گیارہ کتب تصنیف کیں مگر جن کا تعلق قرآن کی تفسیر سے ہے وہ سات ہیں:ان میں سے یہ دو عربی میں ہیں:

تفسیر القرآن بکلام الرحمان: یہ تفسیر القرآن یفسربعضہ بعضاً کا بہترین مرقع ہے۔ اس عربی تفسیر کی مصری رسائل الاہرام اور المنار نے بھی بہت تعریف کی۔یہ جامعۃ الازہر کے نصاب کا حصہ رہی ہے۔

۸۔ بیان الفرقان علیٰ علم البیان: اس تفسیر میں علم معانی و بیان کی اصطلاحیں درج ہیں۔ شاید اس موضوع پر پہلی تفسیر ہو۔

برصغیر میں اردو میں تفسیر نویسی کا ٰآغاز و ارتقاء:

اردو زبان میں قرآن مجید کے تراجم و تفسیرکا سلسلہ سولہویں صدی عیسوی کی آخری دہائی/ دسویں صدی ہجری سے شروع ہوا لیکن یہ سلسلہ چند پاروں یا چند سورتوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔شمالی ہند میں پہلی باقاعدہ اور معیاری اردو تفسیر نگاری کی ابتداء بارہویں صدی ہجری کے اواخر سے ہوئی۔ شمالی ہند کی پہلی مقبول عام تفسیر شاہ مراد اﷲ انصاری سنبھلی(م۱۱۸۵ھ/۱۷۷۰ء) کی تفسیر "خدائی نعمت" معروف بہ"تفسیر مرادیہ" ۱۴ محرم ۱۱۸۵ھ/۱۷۷۰ء کو اختتام پذیر ہوئی۔ یہ تفسیر متعدد بار طبع ہوئی جس سے اس کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ صرف پارہ عمّ کی تفسیر ہے اور تقریباً تین سو صفحات پر مشتمل ہے[30]۔

شاہ ولی اللہ بن شاہ عبدالرحیم دہلوی نے (م۱۱۷۶ھ) فتح الرحمٰن فی ترجمة القرآن اور تفسیر سورۃ البقرہ وآل عمران (فارسی) لکھی ۔[31] شاہ ولی اللہ قرآنی علوم کے ماہر تھے۔ یہ قرآن و حدیث کے علم کے ساتھ اس کے عامل بھی تھے۔ ان کے ترجمہ اور حواشی جو فارسی میں تھے بہت مقبول تھے۔اصول تفسیر پر ان کی کتاب "الفوز الکبیر فی اصول التفسیر" بھی فارسی میں ہے۔ جس کا عربی ترجمہ علامہ محمد منیر دمشقی نے عربی میں کیا اس کا اردو میں ترجمہ بھی دستیاب ہے۔ شاہ ولی اللہ نے قرآنی علوم کو پانچ قسموں میں تقسیم کیا جن کو وہ علوم خمسہ کے نام سے لکھتے ہیں۔ ان میں (۱) علم الاحکام۔ احکام سے مراد واجبات،مستحب، محرمات اورمکروہات ہیں۔(۲) علم مخاصمہ۔ اس سے مراد گمراہ فرقوں اور باطل مذاہب کے عقائد کی تردید کرناہے ان میں یہودو نصاریٰ، مشرکین عرب اور منافقین ہیں۔ (۳) علم تذکیر بآلاء اللہ۔ اس سے مراد آسمان و زمینوں میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں اور نعمتیں ہیں۔ (۴) علم تذکیر بایام اللہ۔ اس سے مراد مشرکین اور مومنین کے واقعات جو پچھلی قوموں میں ہوئے۔ قرآن میں ان کا تذکرہ ہے وہ واقعات عبرت انگیز ہیں،اور دنیا کے لئے رہنماہیں(۵)۔ علم تذکیر بالموت وما بعدہ۔ اس میں موت، حشر ونشر، حساب و کتاب، قبر، جنت و دوزخ وغیرہ کا ذکر ہے۔[32]

شاہ ولی اللہ کے بڑے بیٹےشاہ عبدالعزیز دہلوی (۱۱۵۹ھ -۱۲۳۹ھ)کی تفسیر کا نام’’ فتح العزیز‘‘ ہے۔ان کی اکثرجلدیں ۱۸۵۷ء کے ہنگاموں میں ضائع ہوگئیں۔ صرف سورہ البقرہ اور پارہ "عم" کی تفسیر موجود ہے۔ فتح العزیز المعروف تفسیر عزیزی میں علمی نکات نہایت خوبصورت انداز میں لکھے گئے ہیں۔[33]شاہ ولی اللہ کے بیٹے شاہ عبدالقادر دہلویؒ (پیدائش ۱۱۶۷ھ/۱۷۵۳ء ، وفات ۱۲۳۰ھ/۱۸۱۵ء) کا ترجمہ قرآن مجید اور تفسیر "موضح القرآن" کو اردو زبان میں پورے قرآن پاک کی پہلی مکمل تفسیر کہا جاتا ہے جو کہ تفسیر مرادی کے بیس سال بعد ۱۲۰۵ھ/ ۱۷۹۰ء میں تصنیف ہوئی لیکن زبان و بیان کے اعتبار سے دونوں تفاسیر ایک دوسرے سے قریب معلوم ہوتی ہیں[34]۔

شاہ ولی اللہ کے بیٹے شاہ رفیع الدین دہلویؒ (پیدائش ۱۱۶۳ھ/۱۷۴۹، وفات ۱۲۳۳ھ/۱۸۱۷ء)کا ترجمہ ۱۲۷۲ھ/ ۱۸۵۵ء میں طبع ہوا۔ان کا ترجمہ قرآن مجید " تحت اللفظ" ہے[35]۔ شاہ رؤوف احمد رافت نقشبندی مجددی(م۱۲۵۹ھ/۱۸۴۳ء) نے "تفسیر رؤفی"معروف بہ "تفسیر مجددی" لکھی جو کہ متعدد بار طبع ہو چکی ہے[36]۔

نواب قطب الدین خاں بہادر دہلوی(م۱۲۸۹ھ/۱۸۷۲ء) نے جامع التفسیر لکھی جوکہ کانپور کے نظامی پریس میں ۱۲۸۳ھ/۱۸۶۶ء میں طبع ہوئی[37]۔یہ شاہ محمد اسحاق نواسہ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے شاگرد ہیں۔اس کا اردو کا ترجمہ مشکاۃ المصابیح "مظاھر حق" کے نام سے شائع شدہ ہے اور معروف ہے۔

چودہویں صدی ہجری کی مشہور اردو تفاسیر اور ان کے مفسرین:

== چودہویں صدی ہجری کی مشہور اردو تفاسیر اور ان کے مفسرین یہ ہیں: ==

۱(مولانا حافظ محمد لکھوی (م۱۳۱۲ھ(:

آپ مشہور عالم و فاضل تھے۔ آپ نے ۱۳۱۰ھ ؁ میں لکھو کے ضلع فیروز پور (بھارت) میں مدرسہ محمدیہ کی بنیاد رکھی جو قیام پاکستان تک قائم رہا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ مدرسہ اوکاڑہ ضلع ساہیوال میں آپ کے پڑپوتے مولانا معین الدین لکھوی کے زیر اہتمام چلتا رہا ہے۔ اس مدرسہ سے سینکڑوں علماء کرام فارغ التحصیل ہوکر نکلے۔مولانا محمد صاحب مرحوم نے تدریس و تبلیغ کے علاوہ قرآن مجید کی تفسیر پنجابی نظم میں بعنوان" تفسیر محمدی" لکھی۔ آیات کا ترجمہ فارسی میں ہے۔ اس سے پنجاب کے مسلمان خصوصاً مستورات کو بہت فائدہ حاصل ہوا۔

۲۔تفسیر القرآن از سر سید احمد خاں(م۱۳۱۵ھ/۱۸۹۸ء):

سر سید کی تفسیر ۱۸۷۹ءسے ۱۸۹۱ء تک کئی مرتبہ طبع ہوئی۔چھ جلدوں پر مشتمل یہ تفسیر نامکمل ہے۔ علمائے کرام نے سر سید کے عقائد اور نظریات کو سخت تنقید کا ہدف بنایا ہے کیونکہ اس تفسیر میں عقلیت پسندی اور جدیدیت کوسامنے رکھا۔ سرسید احمد کو تفسیر کی وجہ سے علماء نے نیچری کہا ہے۔وہ عقلیت کے اتنے علمدار تھے کہ اصل حقائق کو بھی جھٹلاتے ہیں۔ ان کے نزدیک جنت و دوزخ کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔مولانا ثناء اللہ امرتسری نے تفسیر ثنائی میں ان کی تفسیر پر تنقید کی۔

۳۔ غرائب القرآن از مولوی حافظ ڈپٹی نذیر احمد(م۱۳۳۱ھ/۱۹۱۲ء):

تفسیر غرائب القرآن پہلی بار ۱۳۱۳ھ مطابق ۱۸۹۵ء میں طبع ہوئی ۔ڈپٹی نذیر احمد پہلے مترجم ہیں جنہوں نے قرآنی متن کی ترتیب کا لحاظ ترجمہ میں نہیں کیا۔بقول ڈاکٹر صالحہ عبدالحکیم شرف الدین ڈپٹی نذیر احمد کے ترجمے میں نہ ہی الحاد ہے، نہ عقائد کا کوئی سقم۔ فقط یہ کہ ترتیب سے آزاد رہ کر ترجمہ کیا ہے۔ آپ کا ترجمہ قرآن مع حواشی غرائب القرآن تاج کمپنی کا چھپا ہوا ہے۔ طباعت نہایت عمدہ ہے۔ صفحات کی کل تعداد ۷۳۲(سات سو بتیس) ہے۔

۴۔ فتح المنان معروف بہ تفسیر حقانی از مولانا ابو محمد عبدالحق حقانی دہلوی(م۱۳۳۵ھ/۱۹۱۶ء):

تفسیر فتح المنان فی تفسیر القرآن (تفسیر حقانی) یہ تفسیر آٹھ جلدوں پر مشتمل ہے اس کی پہلی جلد ۱۸۸۷ء اور آخری جلد ۱۹۰۰ء میں شائع ہوئی۔ یہ تفسیر متقدمین اور دور حاضر کے مفسرین کی تفاسیر کا ایک سنگم ہے نیز معترضین کے جوابات دینے کے لیے یہ ایک انمول علمی خزانہ ہے۔غیر مسلم لوگوں کے عقائد کو زیر بحث لایا گیا ہے اور ان پر سیر حاصل بحث کی ہے۔

۵۔ مواھب الرحمن از مولانا سید امیر علی بن مطعم علی حسینی ملیح آبادی (ولادت ۱۲۷۴ھ/۱۲۷۴ھ،وفات ۱۳۳۷ھ/۱۹۱۸ء):

مولانا سید امیر علی نے قرآن مجید کا ترجمہ کیا اور ضخیم و شاندار تفسیر " مواہب الرحمٰن"لکھی۔ منشی نول کشور نے اسے طبع کیا، اردو کی جامع اور مستند ترین تفسیر پاکستان کے مکتبہ رشیدیہ، لاہور سے ۱۹۷۷ء میں دس جلدوں میں طبع ہوچکی ہے۔ آپ نے فیضی کی تفسیر بے نقط کا مقدمہ اور بخاری شریف، ہدایہ، فتاویٰ عالمگیری کا ترجمہ اردو زبان میں کیا۔

۶۔ احسن التفاسیر ازمولانا ڈپٹی السید احمد حسن (م۱۳۳۸ھ/۱۹۰۲ء):

مولانا السید احمد حسن شیخ الکل حضرت میاں سید نذیر حسن صاحب کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ تکمیل تعلیم کے بعد حضرت میاں صاحب کے پاس ہی رہ گئے۔ اور تدریس و فتویٰ نویسی آپ کے سپرد ہوئی۔ آپ کی شادی ڈپٹی نذیر احمد خان کی صاحبزادی سے ہوئی۔ اس کے بعد ڈپٹی نذیر احمد صاحب آپ کو حیدر آباد دکن لے گئے اور وہاں ڈپٹی کلکٹر مقرر ہوگئے۔ انہی ایام میں انہوں نے قرآن کریم کا مترجم نسخہ مرتب کیا جس میں شاہ ولی اللہ، شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالقادر ؒ تینوں حضرات کے ترجمے جمع کئے۔ اس نسخے پر آپ نے حاشیہ احسن الفوائد لکھا۔ جو احادیث نبوی ﷺ سے مستفاد اور اپنی بعض خصوصیات کی وجہ سے ممتاز ہے۔موصوف نے "احسن التفاسیر"کے نام سے قرآن مجید کی تفسیر سات جلدوں میں لکھی۔اس تفسیر میں آیات کے شان نزول، عقائد، عبادات اور روز مرہ کے معاملات زندگی میں قرآن مجید کے احکام و مسائل کی تفصیل احادیث و آثار کی روشنی میں کی گئی ہے۔ 

۷۔ تفسیر وحیدی ازمولانا وحید الزمان بن مسیح الزمانؒ (م۱۳۳۸ھ):

آپ نے عبدالحئی لکھنوی ؒ سے اور مولانا عبدالغنی مجددی ؒ مہاجر مدینہ منورہ ؒ سےفیض حاصل کیا، آپ جلیل القدر صاحب قلم عالم تھے۔ آپ کی تفسیر وحیدی اردو زبان میں ہے۔اور مضامین قرآن پرایک کتاب لکھی جس کا نام" تبویب القرآن "ہے۔ تفسیر وحیدی قرآن عزیز مترجم کے حاشیہ پر۱۳۲۴ھ کو طبع ہوچکی ہے۔

مولانا وحید الزمان صاحب تفسیر کے دوران منکرین حدیث کی سخت مخالفت کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو جو حدیثوں میں درجہ بندی کر کے کہتے ہیں کہ ہمارے امام نے فلاں فلاں حدیث کو نہیں لیا، کو برا سمجھتے ہوئے تمام مسلمانوں کے درمیان محدثین کی فضیلت ثابت کرتے ہیں۔ تفسیر وحیدی مکمل طور پر مسلک محدثین کی ترجمان ہے مگر اس کے اظہار میں آپ نے ناجائز شدت و تعصب کا اظہار نہیں کیا ہے۔ تفسیر میں چونکہ احادیث کا بے حد استعمال کیا گیا ہے اس لئے یہ تفسیر القرآن بالقرآن سے زیادہ تفسیر القرآن بالحدیث ہے گرچہ اس میں فقہی مسائل کا بھی کچھ بیان ملتا ہے ۔آپ نے تفسیر وحیدی لکھ کر عوام میں اصلاح کا غیر معمولی کام کیا جو قابل قدر ہے مزید یہ کہ یہ تفسیر لوگوں میں علم حدیث کے شوق کو بڑھا وا دینے میں بھی معاون ثابت ہوئی۔

۸۔ خلاصۃ التفسیر از مولوی فتح محمد تائب لکھنوی(م۱۳۴۲ھ/۱۹۲۳ء):

مولوی فتح محمد نائب نے ترجمہ اور تفسیر بنام خلاصۃ التفاسیر لکھی۔ ان کا اسلوب بہت سلیس اور سادہ ہے۔ ایک عام آدمی بھی پڑھ کر سمجھ سکتا ہے۔تفسیر چار جلدوں پر مشتمل ہے۔ صفحات کی کل تعداد دو ہزار چھ سو چالیس ہے۔ یہ تفسیر لکھنو کے مطبعہ انوار محمدی میں ۱۳۰۹ھ مطابق ۱۸۹۱ء سے ۱۳۱۱ھ مطابق ۱۸۹۳ء تک طبع ہوتی رہی۔

۹۔ تفسیر اکسیر اعظم از مولانا محمد احتشام الدین مراد آبادی:

مولانا محمد احتشام الدین مراد آبادی نے ترجمہ اور ضخیم تفسیر لکھی ہے جو" تفسیر اکسیر اعظم" کے نام سے موسوم ہے۔ اس کی پہلی جلد ۱۳۰۳ھ مطابق ۱۸۸۵ء میں مطبعہ احتشامیہ مراد آباد میں طبع ہوئی۔ بارہویں جلد ۱۳۱۶ھ ۱۸۹۸ء میں طبع ہوئی۔ اس کی بارہویں جلد سورہ طٰہٰ پر ختم ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کا دوسرا ایڈیشن نو جلدوں پر مشتمل لکھنو کے نول کشور پریس سے ۱۳۱۳ھ مطابق ۱۸۹۵ء میں طبع ہوا۔ ترجمہ سلیس اور پر اثر ہے۔

ترجمہ و تفسیر غایۃ البرہان از حکیم سید محمد حسن امروہی:

یہ ایک مشہور تفسیر ہے جس میں قرآن مجید کا معیاری ترجمہ کیا گیا ہے اور تفسیر کو سہل بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔سب سے پہلے آپ سورت کا شان نزول بیان کرتے ہیں اس کے بعد بلا عنوان کے تسلسل کے ساتھ تفسیر کرتے چلے جاتے ہیں۔ آیات الٰہی کی دوسری قرآنی آیات، روایات اور دیگر آسمانی کتب کی مدد سے تفسیر کرتے ہیں،جس میں توریت وغیرہ سے کافی استفادہ کیا گیا ہے۔اس تفسیر میں حکیم صاحب نے تصوف پر بھی خاطر خواہ روشنی ڈالی ہے نیز قرآن مجید سے متعلق فلسفیانہ مباحث کو بھی اختصارسے بیان کیا ہے۔اس تفسیر میں سیدھے سادھے الفاظ میں مفہوم قرآن کو ادا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس تفسیر میں چونکہ کافی ثقیل اردو زبان کا استعمال کیا گیا ہے جس کی وجہ سے موجودہ دور کے قاری کو پڑھنے میں دشواری پیش آتی ہے نیز عنوانات کی عدم موجودگی بھی مطالعہ میں تکلیف کا باعث بنتی ہے۔

۱۱۔ ترجمہ و تفسیر فرقان حمید از مولوی محمد انشاء اﷲ(م۱۳۴۷ھ/۱۹۲۸ء)( ۳۸):

مولوی محمد انشاء اللہ کا دنیائے صحافت میں خاص مقام تھا۔ اخبار وطن میں ہی ان کا ترجمہ فرقان حمید قسط وار آتا تھا۔ اس کے ساتھ وہ تفسیر بھی کردیتے تھے جو دراصل علامہ رشید رضا مصری کی تفسیر " المنار" کا اردو ترجمہ ہے۔مشکل الفاظ اور دقیق اصطلاحات سے ہر ممکن پرہیز کیا گیا ہے۔یہ تفسیرلاہور کے حمید یہ سلیم پریس میں ۱۳۲۵ھ مطابق ۱۹۰۷ء میں طبع ہونا شروع ہوئی اور ۱۳۳۵ھ مطابق ۱۹۱۵ء کو ترجمہ اورتفسیر کی طباعت کا کام مکمل ہوا۔ فرقان مع تفسیر آٹھ جلدوں میں ہے۔ صفحات کی کل تعداد تین ہزار سات سو چالیس ہے۔

۱۲۔ الجمال والکمال مولانا قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوریؒ (م۱۳۴۹ھ/۱۹۳۰ء):

مولانا قاضی محمد سلیمان صاحب سلمان منصور پوری علم و عمل کا کامل نمونہ اور دین و دنیا کی جامعیت کا ایک عجیب مرقع تھے۔ آپ کی مشہور ترین کتاب " رحمۃ للعالمینﷺ" ہے۔ جو مقبول خاص و عام ہے اور جس کی تعریف و تحسین پاک و ہند کے نامور علماء کرام نے کی ہے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے ایک دفعہ فرمایا تھا: " اگرچہ اردو میں سیرۃ النبی ﷺ کے موضوع پر بے شمار کتابیں شائع ہوچکی ہیں تاہم ان کتب میں سے چند ہی ایسی ہیں جن کے اندر واقعات کی صحت بیان کا کماحقہ لحاظ رکھا گیا ہے۔ ان چند کتب میں قاضی صاحب کی " رحمۃ للعالمینﷺ" سر فہرست ہے۔ تاریخ علم حدیث اور علم تفسیر پر قاضی صاحب کو پورا پورا عبور حاصل تھا۔ آپ نے سورۃ یوسف کی تفسیر" الجمال والکمال" کے نام سے لکھی جو پہلی بار پٹیالہ سے ۱۰۴ صفحات پر شائع ہوئی۔ اس کے بعد لاہور سے بھی متعدد مرتبہ شائع ہوچکی ہے۔اس کتاب میں عجیب نکات بیان کئے گئے ہیں۔

۱۳۔ تفسیر القرآن بالقرآن از مولانا ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی(م۱۳۵۹ھ/۱۹۴۰ء):

ترجمہ با محاورہ صاف و سلیس اردو میں لکھا گیا ہے۔ ترجمہ و تفسیر دونوں ہی سہل الفہم ہیں اور تقریبا سبھی حل طلب مقامات کو نہایت ہی مختصر و محققانہ طریقہ پر حل کیا گیا ہے۔پچیس صفحات پر مشتمل نشانات محمدی کی ایک طویل فہرست ہے۔ جس میں آپ ﷺ کی پیشنگوئیاں اورفضیلت معجزات وغیرہ کا بیان ہے۔آپ تفسیر آیات بالآیات کا طریقہ ہر جگہ اختیار کرتے ہوئے اختصار سے تشریح کر دیتے ہیں مگر کہیں کہیں ذرا تفصیل سے بھی کام لیا ہے ۔قرآنی متن کا ترجمہ عام عربی محاورات کے مطابق کیا ہے اور اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ قرآنی الفاظ غیر مبہم و مشتبہ ہیں اور آپ نے انہیں مقامات پر احادیث کا زیادہ استعمال کیا ہے جہاں حضور کے خاتم النبیین ہونے، ان کی پیشگوئیوں کو صحیح ثابت کرنے اور ان کی عظمت کا ذکر کرنا مقصود ہوتا ہے۔

۱۴۔ بیان القرآن از مولانا اشرف علی تھانویؒ ( پیدائش ۱۲۸۰ھ/۱۸۶۳ء، وفات۱۳۶۲ھ/۱۹۴۳ء):

اس تفسیر میں لفظی ترجمہ کا خیال رکھا گیا ہے۔ معانی کے فہم میں جو اشکال رہ گیا ہو تو اس کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔استنباط کر کے ضروری مسائل کا اختصار سے ذکر کرتے ہیں۔ سلوک اور تصوف کے مسائل کا ان آیات سے استنباط کرتے ہیں۔ ربط آیات کو انسانی طریقے سے بیان فرماتے ہیں۔

۱۵۔ تفسیر ثنائی مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امر تسری (م۱۳۶۷ھ/۱۹۴۸ء):

شیخ الاسلام مولاناابوالوفا ثناء اللہ امر تسری بیک وقت ایک کامیاب عالم، عظیم خطیب، بلند پایہ مفسر اور مصنف تھے۔ فن مناظرہ میں تو اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ برصغیر کے ممتازجید علماء کرام نے آپ کو اس فن میں امام تسلیم کیا ہے۔تفسیر قرآن کے سلسلے میں بھی بلند مقام رکھتے تھے۔ آپ نے قرآن مجید کے بارے میں تقریبا گیارہ کتب تصنیف کیں مگر جن کا تعلق قرآن کی تفسیر سے ہے وہ سات ہیں:دو کا ذکر عربی میں ہوچکا ہے۔ باقی پانچ درج ذیل ہیں۔

۱)تفسیر بالرائے (اردو): اس تفسیر میں تفسیر بالرائے کے معنی بتا کر تفاسیر قرآن اور تراجم قرآن و قادیانی، چکڑالوی، بہائی اور شیعہ وغیرہ تفسیری اغلاط کی نشاندہی کی گئی ہے ۔

۲)تفسیر ثنائی: یہ تفسیر آٹھ جلدوں میں ہے۔ ترجمہ با محاورہ ، ربط آیات کا انداز لئے ہوئے۔ حواشی مناظرانہ طرز کے جن میں فرق باطلہ اور ادیان کا ذبہ، بالخصوص نیچری ، چکڑالوی مرزائی اور بدعتی عقائد کی بڑی کامیابی سے تردید کے ساتھ ساتھ ہندوؤں، عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے اعتراضات کا معقول طریقہ سے مدلل جوابات دئے گئے ہیں۔

۳) آیات متشابہات: اپنے خاص انداز سے اصول تفسیر کی تحقیق، جس کو اپنی اردو، عربی تفسیروں کے لئے بطور مقدمہ لکھا ہے۔

۴) برہان التفاسیر: بجواب سلطان التفاسیر ہے۔ایک پادری کی کتاب کا جواب ہے۔ اخبار اہل حدیث میں قسط و ارشائع ہوتی رہی۔ اب کتابی شکل میں گوجرانوالہ سے شائع ہوتی ہے۔

۵) تفسیر سورۃ یوسفؑ جو علیحدہ کتابی صورت میں امر تسر سے شائع ہوئی۔

۱۶۔ تفسیر عثمانی از مولانا شبیر احمد عثمانی(م۱۳۶۹ھ/۱۹۴۹ء):

یہ ایک مختصر تفسیر ہے جو اردو خوان طبقے کے لئے زیادہ افادیت رکھتی ہے اس لئے کہ اس میں فنی اصطلاحات اور طویل علمی مباحث کی بجائے آیات کے اصل مفہوم کو مختصر اور مفید حواشی کے ذریعے ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔

۱۷۔ واضح البیان مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی (م۱۹۵۲ء):

مولانا مشہور مناظربہترین خطیب، مفسر قرآن اور زہدو تقویٰ کا پیکر،فصیح و بلیغ،نہایت ذہین طبع تھے۔ ان کے طرز استدلال میں جدید و قدیم کی نہایت مناسب آمیزش ملتی ہے تفسیر قرآن مجید سے آپ کوخاص شغف تھا۔ اس موضوع پر متعدد تالیفات فرمائیں۔

(۱)تفسیر سورۃ فاتحہ بنام واضح البیان: یہ سورۃ فاتحہ کی تفسیر ہے لیکن حقیقت میں قرآن مجید کے اہم مضامین پر مشتمل ہے۔اہل علم کو اس کے مطالعہ سے ایسا ذوق اور سرور حاصل ہوتا ہے کہ قرآن مجید کا اعجازی کمال نظر کے سامنے آجاتا ہے۔

(۲) تبصیر الرحمان فی تفسیر الرحمان: اس کے صرف دو پارے شائع ہوئے ہیں۔ ربط آیات کا طریقہ، طرز قدیم و حواشی قدیم مفیدہ، صدر صفحہ میں قرآن مجید کی اصلی عبارت اور بین السطور میں اس کا اردو ترجمہ لکھا ہے۔ اس کے نیچے خط دے کر اتنی ہی عربی عبارت مع اردو ترجمہ و تفسیر لکھی ہے۔

(۳) تفسیر سورۃ الرحمٰن (۴)تفسیر سورۃ النجم

۱۸۔ ترجمان القرآن از مولانا ابو الکلام آزاد(م۱۳۷۸ھ/۱۹۵۸ء):

ان کا نام احمد ، کنیت ابولکلام اور تخلص آزاد تھا، آپ کے والد مولوی خیر الدین قادری نقشبندی مشہور صوفی بزرگ تھے۔ترجمان القرآن کی پہلی جلد سورۃ فاتحہ سے آخر سورہ الانعام تک ہے پانچ سو بتیس صفحات پر مشتمل ہے دوسری جلد جس میں اول سورۃ اعراف سے آخر سورۃ المومنون تک کا ترجمہ اور تفسیر ہے ۔ اردو زبان میں بے شمار تراجم اور تفاسیر ہیں لیکن مولانا ابو الکلام آزاد نے جدیددور کے تقاضوں کے مطابق جس طرح قرآن مجید کی تفسیر کی ہے اس نے اس تفسیر کو اسلامی ادب میں ایک بلند مقام دیا ہے۔تمام دینی، معاشرتی، سیاسی اور معاشی مسائل کو عقلی اور نقلی دلائل سے خوبصورت ادبی زبان میں بیان کیا ہے خصوصاً دو سورتوں سورہ فاتحہ اور سورۃ کہف کی تفسیر کا جو علمی مقام ہے وہ کسی دوسری تفسیر کو میسر نہیں یہ تفسیر قرآن مجید کے اسرار و رموز کوبیان کرتی ہے۔

۱۹۔ التفسیر ازمولانا احمد علی لاہوریؒ (م۱۳۸۱ھ):

قرآن کریم کا ایک ایسا جامع ترجمہ ہے جس کو تمام علماء نے مفید قرار دیا ہے۔ ۱۳۸۱ھ میں لاہور ہی میں وصال فرمایا۔

۲۰۔ ترجمہ کشف الرحمن مع تیسیر القرآن و تسہیل القرآن از مولانا احمد سعید دہلوی(م۱۳۸۲ھ/۱۹۶۲ء):

اس کے حاشیہ پر پہلے مختصر تفسیر ہے جس کا نام "تیسیر" ہے ۔ اس کے بعد مفصل تفسیر ہے جس کا نام " تسہیل" ہے۔ ہر صفحے میں " تسہیل القرآن" کی کچھ سطریں لکھنے کے بعد تحریر ہے" باقی ضمیمہ میں " چند صفحوں کے بعد چند صفحات پر مشتمل ضمیمے ہیں۔ ناشر مکتبہ رشیدیہ ، کراچی(۱۹۸۱ء )ہے۔

۲۱۔ تقریب القرآن از مولانا عبدالوہاب خان(م۱۳۸۴ھ/۱۹۶۴ء):

مولانا عبدالوہاب صاحب نے آیات قرآنیہ کا ترجمہ تحت اللفظ کیا ہے جس کو محاورے سے قریب کرنے کے لئے قوسین کا استعمال کیا گیاہے۔تفسیر کے سلسلے میں آپ سب سے زیادہ اہمیت آیات بالآیات کو ہی دیتے ہیں۔تفسیر میں مولانا صاحب نے جمہور مترجمین و مفسرین سے کہیں کہیں الگ راستہ اختیار کیا ہے ترجمہ میں تو یہ اختلاف بہت ہی کم ہے مگر تشریحات میں کافی ہے ۔

۲۲۔ معارف القرآن از مولانا مفتی محمد شفیع(م۱۳۹۶ھ/۱۹۷۶ء):

تفسیر معارف القرآن آٹھ جلدوں میں ہے۔مولانا نے متن قرآن کا ترجمہ مولانا محمود الحسن سے اخذ کیا ہے جو در اصل شاہ عبدالقادر کا ترجمہ ہے ۔مولانا معارف و مسائل کے عنوان سے ہر سورت کے موضوعات کو زیر بحث لائے ہیں۔مولانا نے اس دور کے معترضین اور مستشرقین کے اعتراضات کا رد کیا ہے اور اسلام کی حقانیت کو واضح کیا ہے۔اس تفسیر میں سورتوں اور آیات کا ربط برقرار رکھا گیا ہے۔اس میں فقہی مسائل کے ضمن میں فقہائے اربعہ کے مسالک کا ذکر کیا ہے۔یہ بہت مفصل تفسیر ہے۔ حنفی مسلک کی ترجمان تفسیر ہے۔

۲۳۔ تفسیر ماجدی از مولانا عبدالماجد دریا آبادی(م۱۳۹۸ھ/۱۹۷۸ء):

تفسیر کو لکھتے وقت مولانا نے عربی، فارسی اور اردو میں تمام تفسیری ادب سامنے رکھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ تفسیر ماجدی مولانا اشرف علی تھانوی کی شرح ہے۔ جو معارف، اسرار اور غوامض مولانا تھانوی کی تفسیر بیان القرآن میں ملتے ہیں مولانا دریا آبادی نے انہی اسرارو رموز کو خوبصورت ادبی انداز میں اپنی تفسیر میں بیان کر دئے ہیں ۔ اردو دان طبقہ اور اہل علم کے لئے یہ تفسیر بہت مفید چیز ہے۔[38]

۲۴۔ تفہیم القرآن از مولانا ابو الاعلی مودودی(م۱۳۹۰ھ/۱۹۷۹ء):

یہ تفسیر تقریبا بتیس سال کے عرصہ میں مکمل ہوئی۔ ۱۹۴۳ء سے مجلہ ترجمان القرآن میں چھپنا شروع ہوئی۔ ۱۹۷۲ء میں پایہ تکمیل تک پہنچی۔مولانا نے قرآن مجید کے متن کا لفظی ترجمہ نہیں کیا۔ بلکہ قرآنی آیت یا آیات کا جو مفہوم تھا اس کونہایت خوبصورت الفاظ میں بیان کیا ہے۔مولانا نے متوسط تعلیم یافتہ طبقہ کے سامنے اسلام کا ضابطہ حیات بیان کیا ہے ۔ مولانانے خود فرمایا ہے کہ اس میں قرآن کے الفاظ کو اردو کا جامہ پہنانے کی بجائے یہ کوشش کی ہے کہ قرآن کی ایک عبارت کو پڑھ کر جو مفہوم میری سمجھ میں آتا ہے اور جو اثر میرے دل پر پڑتا ہے اسے حتیٰ الامکان صحت کے ساتھ اپنی زبان میں منتقل کردوں۔اس تفسیر کا انگریزی میں ترجمہ چھپ چکا ہے۔

۲۵۔ معارف القرآن از مولانا محمد ادریس کاندھلوی(م۱۳۹۴ھ/۱۹۸۳ء):

یہ تفسیر سات جلدوں پر مشتمل ہے۔مصنف نے اس تفسیر کو ۱۳۶۰ء میں لکھنا شروع کیا، مولانا موصوف نے اس تفسیر کے مقدمے میں برصغیر میں علم تفسیر کے ارتقاء پر روشنی ڈالی ہے اور پھر بتایا ہے کہ میں نے بھی یہ تفسیر اس کار خیر میں حصہ لینے کے لئے لکھی ہیں۔یہ تفسیر نہایت مفید ہے۔

پندرہویں صدی ہجری میں۱۴۲۱ھ تک کی چند معروف تفاسیر:

پندرہویں صدی ہجری میں۱۴۲۱ھ تک کی چند معروف تفاسیر یہ ہیں:

1۔ تفسیر ضیاء القرآن از پیر محمد کرم شاہ الازہری(م۱۴۱۹ھ/۱۹۹۸ء):

تفسیر ضیاء القرآن اردو زبان میں ہے۔اس میں متن قرآن کا ترجمہ با محاورہ اور سلیس زبان میں کیا گیا ہے۔تمام قرآن کو ربط سور اور آیات میں منسلک کردیا ہے۔ یہ تفسیر حنفی فقہ (بریلوی) کی نمائندگی کرتی ہے ، فقہی مسائل میں فقہائے اربعہ کے مسالک کا ذکر کیا ہے لیکن امام ابو حنیفہ کے مسلک کو ترجیح دی ہے۔ لیکن فقہی مباحث میں اعتدال کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ضعیف روایات سے گریز کیا گیا ہے اور اپنے مسلک کی وضاحت کے لیے قرآن مجید او احادیث کو سند کے طور پر پیش کیا ہے۔

2۔ تدبر قرآن از مولانا امین احسن اصلاحی(م۱۴۱۸ھ/۱۹۹۷ء):

مولانا اصلاحی صاحب نے پہلے قرآنی متن کا ترجمہ ،بعد میں الفاظ کا عربی لغت کی رو سے مفہوم بیان کیا ہے۔ اپنی تفسیر میں عربی لغت سے باہر نہیں نکلتے۔ہر سورت کے مختلف موضوعات پر بحث کرتے ہیں اور سورتوں کے باہمی ربط کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ہر آیت کا مفہوم واضح کرنے کے لئے اس مفہوم کی بیشتر آیات کو جمع کرتے ہیں پھر تمام آیات کی روشنی میں زیر بحث آیت کا مفہوم واضح کرتے ہیں۔اور جہاں بھی جدید فلسفہ اور تحریکات کا اسلامی نظریہ سے ٹکراؤ پیدا ہوا ہے وہاں اسلامی نظریہ کی صحت اور برتری کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مذاہب عالم کے باطل نظریات کو بھی رد کیا ہے۔بعض مقامات پر مولانا صاحب محدثین اور فقہاء سے الگ رائے رکھتے ہیں۔ مثلاً احادیث رجم کا یکسر انکار کرتے ہیں۔

3۔ تفسیر تبیان القرآن ازغلام رسول سعیدی:

تبیان القرآن مولانا سعیدی کی ایسی تفسیر ہے جس میں تفاسیر قرآن کا خلاصہ خوبصورت اور دلکش انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ترجمہ میں زیادہ تر سید احمد کاظمیؒ کے ترجمہ "البیان "سے استفادہ کیا ہے۔ اور تفسیر میں کئی کتب سے استفادہ کیا ہے۔

4۔ تفسیر احسن البیان ازحافظ صلاح الدین یوسف:

یہ حاشیہ قرآن یا مختصر تفسیر ہے"احسن البیان" میں زیادہ تفصیل سے کام نہیں لیا گیا، تاہم پھر بھی کوشش کی گئی ہے کہ عوام کو قرآن فہمی اور اس کے مشکل مقامات کے لئے جتنی تفصیل کی ضرورت ہے اسے اختصار و جامعیت کے ساتھ ضرور پیش کیا جائے۔ یہ کتاب بہت مفید ہے اور اس کو سعودی عرب کی طرف سے شائع کر کے تقسیم کیا گیا ہے۔مصنف ابھی زندہ ہیں اور لاہور میں قیام ہے۔[39]

5۔ تفسیر تیسیر القرآن از عبدالرحمٰن کیلانی:

مولانا کیلانی بڑے معروف عالم دین ہیں۔ ان کی تفسیر میں قرآن و حدیث سے بہت زیادہ استفادہ کیا گیا ہے۔ یہ چار جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔ یہ دریائے فیض دو سو سال سے(موضح قرآن سے شروع ہو کر) اپنی بھر پور روانی کے ساتھ جاری ہے۔ ہمارا دور اردو تفسیر نگاری کا روشن ترین دور ہے جس میں جلیل القدر اردو مفسرین نے اردو زبان میں فن تفسیر نگاری کو چار چاند لگا دیئے۔ علاوہ ازیں عربی و فارسی کی بہت سی مہتم بالشان تفاسیر کو اردو کا جامع پہنایا گیا[40]۔

برصغیر کے تفسیری ادب میں ابو بکراسحاق بن تاج الدین ابو الحسن الصوفی الحنفی معروف بہ ابن التاج البکری الملتانی(م ۷۳۶ھ/۱۳۳۵ء) کی "خلاصۃجواہر القرآن فی بیان معانی الفرقان" کو باقاعدہ پہلی کاوش خیال کیا جاتا ہے۔ اس کا مخطوطہ برلن کے کتب خانہ میں محفوظ ہے۔ برصغیر کے اہل علم نے معانی و مفاہیم کے بے کراں سمندر سے علم وفن کی مختلف جہتوں اور زاویوں سے تفسیر قرآن کا ایسا ضخیم ذخیرہ مرتب کیا ہے کہ جس کا مقام و مرتبہ کسی بھی دوسرے خطے میں ہونے والی ایسی کوششوں سے ہرگز کم نہیں۔ حجم کے اعتبار سے عربی زبان کے بعد سب سے زیادہ ترجمہ و تفسیر بالماثور کے رجحان نے اگرچہ جگہ تو پائی ہے مگر الگ سے مکمل تفسیر بالماثور کے حوالے سے کم لوگوں نے تفاسیر مرتب کی ہیں۔ یہ رجحان یہاں کے مذہبی رجحانات کی عکاسی کرتا ہے جس میں فقہی پہلو زیادہ غالب ہے۔ اس دبستان میں جو ماثورہ تفاسیر لکھی گئی ہیں ان میں "احسن التفاسیر از سید احمد حسن محدث دہلوی(م۱۳۳۸ھ/۱۹۱۹ء) کو نمایاں مقام حاصل ہے۔مذکورہ تفسیر جس دور(بیسویں صدی کے آغاز) میں لکھی گئی وہ برصغیر کے مسلم ادب کا سنہری دور ہے۔ اس دور کے ہر شعبہ میں ایسے ایسے علمی جواہر و موتی بکھرے نظر آتے ہیں کہ بعد کے ادوار میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ خاص سیاسی حالات کے پس منظر میں یہاں خاصا فکری تنوع تھا اور الگ الگ افکار و نظریات کے تحت بہت سا علمی لٹریچرزینت قرطاس بنا قطع نظر اس کے کہ وہ افکار جمہور کو قابل قبول بھی ہیں یا نہیں۔ چنانچہ اس فکری الجھاؤ اور انتشار کے وقت ضرورت تھی کہ کتاب ہدایت کی ایسی آسان فہم اور ٹھوس علمی حوالے سے تفسیر کی جائے جو امت کو ادھر ادھر ٹھوکریں کھانے کی بجائے دربار نبوی ؐکی طرف رجوع کرنے کا سبب بنے اور صاحب کتاب کی تعلیمات کی روشنی میں اپنے مسائل کا حل کرنے کا رویہ پنپنے کا رجحان عام ہو۔ اگر ہم احسن التفاسیر کو اس حوالے سے پرکھیں تو یہ اس کسوٹی پرپوری اترتی ہے۔ برصغیر کی اس مایۂ ناز تفسیر بالماثور میں قدیم و جدید کلامی مسائل، فقہی اختلافات کا نبوی حل اور در آمدہ فتنوں کے تدارک کی بحث نے جہاں اصحاب علم و فضل کے لیے علمی ذوق کا سامان مہیا کیا ہے وہیں عوام کے لیے بھی عام فہم انداز میں رہنمائی کا فریضہ سر انجام دیا ہے۔[41]( تفاسیر سے متعلق تفصیلات زیادہ ترتاریخ تفسیر پر مشتمل اردو کتب سے ماخوذہیں۔نیز اصل کتب طبع شدہ ایڈیشنز سے لی گئی ہیں۔)

حوالہ جات

  1. ۔ قرآن مجید، النحل (16):64۔
  2. ۔ مرزا قلیج بیگ، چچ نامہ (فریدون بک، کراچی) (مترجم انگلش) ص:78۔
  3. ۔ مبارک پوری، قاضی اطہر، خلافت راشدہ اور ہندوستان (اسلامک پبلشنگ ہائوس، لاہور) ص:219-218۔
  4. ۔ مبارک پوری، قاضی اطہر، خلافت راشدہ اور ہندوستان ، ص:23۔
  5. ۔ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ (دار الفکر، بیروت) 9/88۔
  6. ۔ مبارک پوری، قاضی اطہر، خلافت راشدہ اور ہندوستان ، ص:222-221۔
  7. ۔ مبارک پوری، قاضی اطہر، خلافت راشدہ اور ہندوستان ، ص:222۔
  8. ۔ مبارک پوری، قاضی اطہر، خلافت راشدہ اور ہندوستان ، ص:222۔
  9. ۔ مبارک پوری، قاضی اطہر، خلافت راشدہ اور ہندوستان ، ص:223-221۔
  10. ۔ مبارک پوری، قاضی اطہر، خلافت راشدہ اور ہندوستان ، ص:190-189۔
  11. ۔ مبارکپوری، قاضی اطہر، خلافت امویہ اور ہندوستان (اسلامک پبلشنگ ہائوس، شیش محل روڈ، لاہور)ص:410-409
  12. مبارکپوری، قاضی اطہر، خلافت عباسیہ اور ہندوستان، ص۳۷۷۔۳۷۸۔
  13. ایضاً، ص۳۷۹۔ 
  14. بزرگ بن شہر یار، کتاب عجائب الہند(تہران، ۱۹۶۶ء)ص ۳۔۴۔
  15. بدیوانی ،عبدالقادر ،منتخب التواریخ(کلکتہ ،۱۸۶۹ء)1/89،بحوالہ علوم القرآن ششماہی ،علی گڑھ (۱-۲جنوری -دسمبر ۱۹۵۵)ص۱۰۵۔
  16. قاضی چترالی، محمد حبیب اﷲ، ڈاکٹر، برصغیر میں قرآن فہمی کا تنقیدی جائزہ(زمزم پبلشرز کراچی، ستمبر ۲۰۰۷) ص۱۸۲۔ 
  17. ڈاکٹر آفتاب خان، ڈاکٹر مولانا عبدالحکیم اکبری، علم تفسیر و حدیث کا ارتقاء(ادبیات، اردو بازار لاہور)۔
  18. سیوطی، جلال الدین، الدرالمنثور(دارالفکر،بیروت۱۹۹۳ء)6/442۔
  19. قاضی چترالی، محمد حبیب اﷲ، ڈاکٹر، برصغیر میں قرآن فہمی کا تنقیدی جائزہ، ص۱۸۳۔
  20. عباسی، ڈاکٹر عبدالحمید خاں، علم تفسیر اور اس کا ارتقاء(علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد) ص۵۴۵۔۵۴۷۔
  21. ایضاً، ص۵۵۰۔
  22. ایضاً، ص۵۵۴۔۵۵۵۔
  23. ایضاً، ص۵۶۰۔
  24. ایضاً، ص۵۶۲۔
  25. ایضا، ص۵۶۵۔
  26. ایضا، ص۵۷۱۔
  27. ایضا، ص۵۷۳۔۵۷۴۔
  28. ایضا، ص۵۷۵۔۵۷۶۔
  29. ایضا، ص۵۹۵۔۵۹۶۔
  30. نقوی، جمیل، اردو تفاسیر((کتابیات) مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد) ص۲۳۔۲۵۔
  31. علم تفسیر و حدیث کا ارتقاء، ص:۸۷۔
  32. ملاحظہ ہو شاہ ولی اللہ،الفوز الکبیر۔
  33. علم تفسیر و حدیث کا ارتقاء، ص:۸۷۔۸۸۔
  34. ایضاً، ص۲۶۔
  35. ایضاً، ص:۸۸۔
  36. عباسی، ڈاکٹرعبدالحمید خاں، علم تفسیر اور اس کا ارتقاء، ص۶۳۵۔۶۳۸۔
  37. ایضاً، ص۶۳۹۔
  38. ایضاً، ص۶۴۸۔
  39. ایضاً، ص۶۷۶۔
  40. ایضا، ص۷۲۶۔
  41. نقوی، جمیل، اردو تفاسیر ، ص۲۷۔