Islamic Approach towards Social Construction: An Analytical Study in the Light of Hazrat Umar Farooq’s (RA) Wisdom and Thought

From Religion
Jump to navigation Jump to search
Bibliographic Information
Journal Al-Milal: Journal of Religion and Thought
Title Islamic Approach towards Social Construction: An Analytical Study in the Light of Hazrat Umar Farooq’s (RA) Wisdom and Thought
Author(s) ullah, Kaleem, Muhammad Fakhar ud Din
Volume 2
Issue 1
Year 2020
Pages 253-273
DOI 10.46600/almilal.v2i1.59
Full Text Crystal Clear mimetype pdf.png
URL Link
Keywords Social Reforms, Caliph Umar, Reforms, Era of Caliph, Muslim Contribution towards Civilization
Chicago 16th ullah, Kaleem, Muhammad Fakhar ud Din. "Islamic Approach towards Social Construction: An Analytical Study in the Light of Hazrat Umar Farooq’s (RA) Wisdom and Thought." Al-Milal: Journal of Religion and Thought 2, no. 1 (2020).
APA 6th ullah, K., Din, M. F. u. (2020). Islamic Approach towards Social Construction: An Analytical Study in the Light of Hazrat Umar Farooq’s (RA) Wisdom and Thought. Al-Milal: Journal of Religion and Thought, 2(1).
MHRA ullah, Kaleem, Muhammad Fakhar ud Din. 2020. 'Islamic Approach towards Social Construction: An Analytical Study in the Light of Hazrat Umar Farooq’s (RA) Wisdom and Thought', Al-Milal: Journal of Religion and Thought, 2.
MLA ullah, Kaleem, Muhammad Fakhar ud Din. "Islamic Approach towards Social Construction: An Analytical Study in the Light of Hazrat Umar Farooq’s (RA) Wisdom and Thought." Al-Milal: Journal of Religion and Thought 2.1 (2020). Print.
Harvard ULLAH, K., DIN, M. F. U. 2020. Islamic Approach towards Social Construction: An Analytical Study in the Light of Hazrat Umar Farooq’s (RA) Wisdom and Thought. Al-Milal: Journal of Religion and Thought, 2.
The Role of Values in Social Change: An Analysis from The Qur’ānic Perspective
Pleasure versus Virtue Ethics in The Light of Aristotelians and the Utilitarianism of John Stuart Mills and Jeremy Bentham
Qur’ānic Concept of Divine Mercy Projected through the Pairs of Divine Attributes: A Criterion for Social Amelioration
Bâbâ Farîd’s Hymns in Granth Ṣâhib with Qur’ânic Backdrop: A Review
Polemic Views about the Source of Qur’ān in Medieval Christian Writings with a Reflection upon Contemporary Orientalists: A Critical Review
Role of Islam in Practical Life amongst Some Young Swiss Muslim Adults: A Focused Ethnographic Analysis
Evolution of the Concept of Citizenship in the Islamic Thought: An Analysis
Exploring Individual and Social Factors that Influence Human Belief: An Analysis in the Light of Quran and Sunnah
Inter-Faith Harmony and Contemporary Demands: An Analytical Study in the Light of Divine Teachings
Urdu Dissertations of Islamic Studies on Semitic Religions (MPhil, PhD) in Pakistani Universities: An Index and Bibliometric Review
Effects of Hindu Civilization on Muslim Culture and Civilization: A Review from Pakistan’s Context
Islamic Approach towards Social Construction: An Analytical Study in the Light of Hazrat Umar Farooq’s (RA) Wisdom and Thought
Historical and Evolutionary Analysis of Reasons and Causes of Objections of Orientalism on Prophet’s Biography
The Tradition of Innovation in Islamic Civilization: An Exclusive Study of Early Ages of Islam
Limits of Participation in Celebration of Non-Muslim’s Events: An Analytical Study


The modern era is considered as advanced and humanized in terms of materialized advancement only. Today the leading societies of the world have created a self-sufficient religion in the name of humanism and have set standards ignoring Divine guidance. Thus, man has the right to decide the rules and norms of society on his own goodwill. As a result, the breaking of family system, appearance of gay and homosexual relations, etc. are being considered as legitimate in many countries where religion is no more considered a guiding principle. On the other hand, revealed religions have focus on the development of humanity in terms of both the ethical and materialistic perspectives. Islam as religion has provided a model of such an advancement and social change in history that has proven that Divine guidance is major source for betterment and development of civilization and humanity. This was practically proven in the time of Muslim golden rule in the world. The caliph Umar (R.A) was the man who introduced for the first time, the principles and values, which has changed the Arabs to a civilized and humanized nation. This huge change was made possible in the light of Divine guidance. In this academic article all such norms, values, and principles that were introduced by Sayyīdnā Umar (R.A) which brought a social change in his Era are discussed. Facts have been collected from historic books and presented following the descriptive and analytical method. Although, the information was narrated and scattered in the books, no proper study was introduced where the role of these reforms in the social construction was analyzed. The aim of the study has to investigate the historic facts of social change in the era of the righteous Caliph Sayyidna Umar bin Khattāb and prepare a guideline for the humanity in present era.


امت مسلمہ ان معانی میں روحانی گروہ ہے کہ اس کی جدوجہد کائنات کی روحانی تعبیر پر مبنی ہے۔ توحید الوہیت اور توحید ربوبیت اس روحانی تعبیر کی بنیاد ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کائنات کا خالق ،اسے نشوونما دینے والا ہے۔ انسان کی راہنمائی کے لئے اس نے نبوت و رسالت کا ادارہ قائم کیا جو وحی الٰہی کی بنیاد پر فرد اور معاشرے کی اصلاح نشوونما کرتا رہا ۔مغرب اس روحانی اساس کا بالعموم منکر ہو چکا ہے۔ اسی وجہ سے ان کے ہاں بالعموم انسانی ترقی کو مادی پیمانے کے لحاظ سے ناپا جاتا ہے جبکہ اسلام میں مادی (پہلو)کے ساتھ روحانی پہلو بنیادی معیار ہے تاکہ سماج مادی ،اخلاقی اور روحانی اعتبار سے اعلیٰ سے اعلی ترین منازل کی طرف گامزن ہو۔ اس لحاظ سے سماج کی تشکیل میں اسلام اور دیگر ازم میں جوہری فرق پایا جاتا ہے۔ اہل مغرب نے انسانیت (Humanism)کے نام سے خود ساختہ پیمانہ ایجاد کیاہے جس میں انسان کے لئے حقوق کے معیار مقررکئے اوریہ طےکیا کہ انسان کو خودہی اپنے خیر وشر،نفع ونقصان مالہ وماعلیھا جملہ امورکا فیصلہ کرنے کا اختیارحاصل ہے۔ اختیارکا منبع منتخب پارلیمنٹ یا قانون ساز ادارے ہیں ۔ چنانچہ اسی ناقص تصور سے مفاسد کو قانونی تحفظ فراہم کیا ۔ مذہب کی گرفت سے آزادی حاصل کرنے کی روش کو روشن خیالی،اعتدال پسندی ،آزادخیالی اورترقی پسندی کا نام دیا ۔جب کہ انسانی تاریخ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ کے فرستادہ انبیا ء نے ہی انسان کو تہذیب کا درس دیا۔اسلام دیگر مذاہب عالم کی طرح محض مجموعہ عبادات نہیں کہ جو بندے اوررب کے درمیان نجی معاملہ ہو بلکہ یہ دین کا مل ہے جو انسان کی انفرادی واجتماعی زندگی کے تمام امورکے لئے راہنمائی فراہم کرتا ہے ۔اسلام کے عروج کے دور میں مسلمانوں کی تہذیبی اور سماجی ترقی کی بنیاد بھی ان آسمانی ہدایات پرتھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات اور تعلیمات اس بات کی شاہد ہیں کہ آج کے فلاحی معاشرہ اور ریاست کی بنیاد اسلام کی عطا کردہ ہے۔چونکہ عہد نبوی اور عہد صدیقی ایک تعمیری دور تھا۔ اسلامی معاشرے کو متعدد اندرونی اور بیرونی چیلنجز درپیش تھے جبکہ عہد فاروقی ایک مستحکم اسلامی معاشرے میں بدل چکا تھا۔ اسلئے حضرت عمر فاروق نے اسلام کی روح، حکمت نبوی سے حاصل شدہ فیض اور خدا کی طرف سے ودیعت کردہ صلاحیتوں کی بنیاد پر ایک ایسے انسانی سماج کی بنیاد ڈالی جو نہ صرف ترقی پسند اور فلاحی حسن سے مزین تھا بلکہ اس میں انسان کا براہ راست تعلق روحانیت سے تھا۔آپ نے سماج کے ہر ادارے میں اصلاحات کیں۔ اسلامی معاشرہ کی ترقی اور ترویج میں خلافت راشدہ کا عہد فاروقی نہایت ممتاز ہے۔آپ نےزبان رسالت سے فاروق کا لقب پایا اور رحمت خداوندی سے اس مقام پر فائز ہوئے کہ زبان رسالت سے یہ بشارت پائی کہ میرے بعد اگر نبوت ہوتی تو عمر کو ملتی۔ آپ کے عہد مسعود میں خلیفہ وقت کی ذاتی بصیرت، معاملہ فہمی ،ترقی پسند سوچ بشارات نبوی کی ایک مجسم شکل بنی۔جو نہ صرف مسلم تاریخ بلکہ انسانیت کی تاریخ کا ایک روشن ترین باب ہے۔

سابقہ تحقیقی کام کاجائزہ

اہل اسلام نے محبت اور جانشانی سے تاریخ اسلام کو محفوظ کیا ۔ سیرت نبوی کے ذیل میں ہر جہت سے تاریخ اسلام کے ہر گوشے کو نا صرف جمع کیا بلکہ اس کا ناقدانہ جائزہ لیا۔ تمام کتب حدیث ، مسلم تاریخ اس کی بنیاد ہیں ۔ ماضی قریب اور عصر حاضر میں محققین نےحضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے بنیادی کام پیش کیا جن میں الفاروق القائد از محمود شیث خطاب [1]،فصل الخطاب في سيرة عمر بن الخطاب از علی محمد ، محمد الصلابي[2]، اليرموك والفتح العمري الإسلامي للقدس از سهيل زكار[3]، عبقرية عمر از عباس محمود العقاد [4]، موسوعة فقهعمر بن الخطاب از محمد رواس قلعه جي [5]، الفاروق العمر از محمد حسین هیکل [6]اور الفاروق ازمولانا شبلی نعمانی[7]، Al-Buraey Muhammadکا علمی مقالہ Administrative Development An Islamic Perspective [8]اور "An Islamic Alternative: Equality, Redistributive Justice and the Welfare State in the Caliphate of Umar" از Shadi Hamid [9]جیسی اہم تحریریں اس حوالے سے موجود ہیں۔تاہم زیر نظر مقالہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں اجتماعی زندگی کے تمام اہم عوامل کےمتعلق حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بصیرت کا جائزہ اصل ماخذکی روشنی میں پیش کیا گیا ہے ، جس کی وجہ سے عرب قدیم انسانی دنیا کے ترقی یافتہ ترین قوم بن کے ابھرے۔ اس مطالعہ سے وہ اصول منضبط کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جسےبنیاد بناکر عصر حاضر میں سماج کی تشکیل نو اسلامی اور فلاحی بنیاد پر کی جاسکتی ہے۔

حضرت عمر فاروق اور تعمیرِ سماج کے لیےکیے گئےاقدامات

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد کے سماج اور نوع انسانی کی تعمیر و ترقی کے لئےہمہ جہتی اقدامات اٹھائے ، تاہم یہ اس سماج میں موجود وہ بنیادی اقدار تھیں جن کی اصلاح ہی در حقیت سماجی تعمیر نو تھی۔ تاریخ کی عادلانہ شہادت نا صرف مسلم تواریخ بلکہ غیر مسلم مطالعہ جات کے اندر بھی موجود ہےکہ یہ وہ بنیاد تھی جو آپ نے فراہم کی ۔ اس کی بنیاد پر وہ سماج آج بھی ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ اس مقالہ میں منتخب بنیادی عوامل کی اصلاحات کا تذکرہ تفصیلا پیش کیا جاتا ہے جو حضرت فاروق اعظم نے اپنے دور مسعود میں نافذکیں ۔

تزکیہ وتعلیمی بندوبست

قرآن کریم میں تزکیہ کو تعلیم کے ساتھ متصل ذکر کیا گیا کیونکہ ان دومیں سے کسی ایک کے بنا انسان اورسماج کی اصلاح ممکن نہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشادہے هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ[10] یعنی وہی تو ہے جس نے ان پڑھوں میں ان ہی میں سے (محمدکو) پیغمبر بنا کر بھیجا جو ان کے سامنے اسکی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور ان کو (اللہ کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں اور اس سے پہلے یہ صریح گمراہی میں تھے۔

تزکیہ سے مراد اچھے اخلاق کا بیان اوراس پر ابھارنا اوربرے اخلاق سے بچنے کی دعوت ۔علم سے مرادکتاب اللہ اورسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم جو اولین اورآخرین کے علوم پر مشتمل ہےاس میں دنیاوی علوم بھی سماسکتے ہیں ۔اسی طرح مہارتوں اورنافع فنون سے استفادہ کرنا بھی اس کے تقاضوں میں شامل ہے۔کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا ہے کہ معاشرہ ہر اس خیر کو حاصل کرےجس سے امت کو تقویت اورنفع پہنچے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سےتزکیہ اورتعلیم کے متعلق بہت سی کاوشیں ذیل میں مذکور ہیں:

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک اہل علاقہ کی تعلیم کا بندوبست بنیادی اہمیت رکھتا تھا۔آپ کے ہاں تعلیم کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ لوگوں کو متعین فرماتےتو ان کی بنیادی ذمہ داری ہی اشاعت علم ہوتا۔آپ رضی اللہ تعالی عنہ عمال کے بھیجے جانے کا مقصد یوں بیان فرماتے: "فإني إنما بعثتهم ليعملوا الناس دينهم وسنة نبيهم صلى الله عليه وسلم"[11] ( ترجمہ) میں نےتمہیں ان کے پاس اس لئے بھیجاہےکہ آپ لوگو ں کو دین اورنبی کی سنتیں سکھائیں۔

والیان علاقہ کی بنیادی ذمہ داری میں تزکیہ نفس بھی شامل تھا۔آپ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے :"وإن أحق ما تعهد الراعي من رعيته تعهدهم بالذي لله عليهم في وظائف دينهم الذي هداهم الله له"[12] ( ترجمہ) نگران کو اپنی رعایا کے ضمن میں سب سے زیادہ اہتمام ان کےدینی اعمال کے سلسلہ میں کرنا چاہیئے ۔ جو ان پر اللہ کا حق ہے اور جن کی طرف اللہ نے اُن کی رہنمائی فرمائی ہے۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بصرہ کا امیربناکر بھیجا جو اس وقت سب سےبڑے قاری اورفقیہہ تھے ۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے رعایا کی تعلیم ریاست کی ذمہ داری قراردی تھی آپ رضی اللہ تعالی عنہ صوبوںمیں معلمین اورمربین بھیجتےکہ ولاۃ کے ساتھ ذمہ داری پوری کرنے میں معاونت کریں۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے دس معلمین بصرہ بھیجےتھے تاکہ لوگ ان سے فقہ سیکھیں اسی طرح کوفہ میں معلمین بھیجے ۔شام کے والی یزیدبن ابی سفیان نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو خط بھیجا کہ شام کی آبادی زیادہ ہے اور ان لوگوں کو قرآن پاک اورفقاہت سیکھنے کی ضرورت ہے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کبار صحابہ کو بھیج دیا۔

آپ نے عساکر اسلامی کے امراء کو لکھا: "أن ارفعوا إلي كل من حمل القرآن، حتى ألحقهم في الشرف من العطاء وأرسلهم في الآفاق، يعلمون الناس، فكتب إليه الأشعري إنه بلغ من قبلي ممن حمل القرآن ثلثمائة وبضع رجال"[13] ( ترجمہ) اس بندے کو میری طرف بھیجو، جس نے قرآن پاک یا دکیا ہے تاکہ انہیں بہترین عطاء میں شامل کروں اورانہیں آس پاس بھیجوں ، تاکہ وہ لوگوں کو تعلیم دیں ۔ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ نے خط کے جواب میں لکھا :کہ میرے پاس تین سوسےزیادہ قرآن پاک کے حفاظ ہیں۔ معلمین میں سے ہرایک کے پاس بہت بڑاحلقہ ہوتا تھا جس میں لوگوں کی کثیر تعداد جمع ہوتی تھی ۔ "الذين في حلقة إقراء أبي الدرداء كانوا أزيد من ألف رجل، ولكل عشرة منهم ملقن, وكان أبو الدرداء يطوف عليهم قائما, فإذا أحكم الرجل منهم تحول إلى أبي الدرداء -يعني: يعرض عليه"[14] (ترجمہ) ابوالدرداءؓکے حلقے میں ہزارسے زیادہ افرادتھے۔ہردس بندوں کے لئے ایک ملقن (یا ددہانی کرنے والا،سمجھانےوالا )ہوتا تھا جب کوئی بندہ سبق یاد کر لیتا تو ابوالدرداء ؓکے پا س جاکر سناتا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ خلافت کے علاقہ میں تعلیم وتزکیہ پر توجہ دی اوروسائل وقف کئے ،معلمین کے لئے تنخواہیں مقررکیں ۔ اشاعت علم کے لئے ہر طور سے عملی اقدامات اٹھائے۔

چھوٹے مدارس کا وجود آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں آیا جن میں بچوں کوقراءت،کتابت سکھائی جاتی اورقرآن پاک حفظ کرایا جاتاتھا : "ثلاثة كانوا بالمدينة يعلمون الصبيان، وكان عمر بن الخطاب يرزق كل واحد منهم خمسة عشر درهما كل شهر"[15] ( ترجمہ) مدینہ میں تین معلم تھے جو بچوں کو تعلیم دیتے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان میں سے ہرایک کےلئے مہینہ پندرہ درہم مقررکیا تھا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کبار صحابہ کو مدینہ میں رکھا تاکہ امت کی سیاست میں آپ کی مد د کریں ،مسلمان بچوں کو تعلیم دیں اورمشکل مراحل میں آپ کو مشورہ دیں چونکہ مدینہ کے لوگ علم اورفہم وفراست میں ایک خاص مقام کے حامل تھے اس لیے خلافت کے تمام صوبوں سے مسلمان لوگ مدینہ میں تعلیم کے حصول کےلئے آتے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے مسجد کے ایک کونے میں ایک وسیع جگہ بنائی تھی جسے بطیحاء کہاجاتا تھا "وقال: من كان يريد أن يلغط،أوينشدشعرا، أو يرفع صوته، فليخرج إلى هذه الرحبة"[16] ( ترجمہ) آپ فرماتے :جو بات کرنا چاہے،آوازبلند کرے ،یا شعر پڑھے تو وہ اس جگہ کی طرف نکلے ۔بچوں کو تعلیم دینے میں غیرمسلم معلمین سے بھی مدد لی۔ معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے قیساریہ کے چار ہزارغلام بھیجے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان میں سےبعض کو بچوں کو تعلیم دینے اوربعض کو مسلمانوں کے دوسرے کاموں کی ذمہ داری سونپی، جیسا کہ مذکور ہے"وكان نصرانيا من نصارى الحيرة۔۔۔ وكان يعلم الكتاب بالمدينة"[17] ( ترجمہ) کہ جفینۃ حیرہ کایک نصرانی تھا جسے سعد بن ابی وقاص نے اسے مدینہ بھیجوادیا اوروہ مدینہ میں بچوں کو تعلیم دیتا تھا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ معلم کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے اوران کی بے ادبی کرنا نفاق کی علامت سمجھتےتھے آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:"ثلاثةلايستخف بحقهن إلا منافق: إمام مقسط، ومعلم الخير، وذو الشيبة في الإسلام"[18] ( ترجمہ) تین آدمیوں کی بےادبی منافق کے علاوہ کوئی نہیں کرتا:عادل بادشاہ ،لوگو ں کوبھلائی سکھانے والامعلم اوربوڑھامسلمان۔حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلیمی سلسلہ شہری اوردیہاتی سب کے لئے تھا ، ابن حجر عسقلانی نے لکھا : "وذلك أن عمر بعث في خلافته رجلا يقال له أبو سفيان يستقرئ أهل البوادي فمن لم يقرأ ضربه"[19] ( ترجمہ) حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ نے دور خلافت میں ابو سفیان نامی ایک فرد کو متعین کیا، وہ دیہاتیوں کو پڑھاتااورجو نہ پڑھتا اسے مارتا۔

یہ تمام مرویات اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ حضرت عمر فاروق اس بات کا نہایت احساس رکھتے تھے کی معاشرہ کی تہذیب میں تعلیم کا اہم کردار ہے اور تعلیم اور تزکیہ سے ہی سماج کو درست سمت دی جا سکتی ہے۔

تعلیم کی نوعیت اورضوابط

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ علم برائے عمل پر ارتکازکرتےاورآپ ایسے علم کو پسند نہیں کرتے تھے جو عمل کا حصہ نہ بنے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ عملی علوم کے حصول کے لئے خصوصی رغبت دلاتے،آپ نے فرمایا: "تعلموامن أنسابكم ما تصلون به أرحامكم وتعرفون به مواريثكم، وتعلموا من النجوم ماتعرفون به ساعات الليل والنهار، وتهتدون به السبيل ومنازل القمر"[20] ( ترجمہ) انساب کا علم سیکھو تاکہ تم ذوی الارحام تک پہنچو اوراس کے ذریعے مواریث کوپہچانو۔اورعلم فلکیات سیکھو جس کے ذریعے تم دن اوررات کے اوقات جان لو اوراس کے ذریعے راستے پہچانو اورچاند کی منازل سیکھو ۔مناظرہ بازی اوروقت کےضیاع کو سخت ناپسند کرتے ۔حضرت عمر نے ایسے آدمی کو سزادی تھی جس کی ساری کوشش اور توجہ متشابہات کے متعلق تھی۔

جاءصبيغ التميمي إلى عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقال: يا أمير المؤمنين، فأخبرني عن الذاريات ذروا، فقال رضي الله عنه: هي الرياح، ولولا إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ما قلته. قال: فأخبرني عن المقسمات أمرا، قال رضي الله عنه هي الملائكة، ولولا إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوله ما قلته، قال: فأخبرني عن الجاريات يسرا، قال رضي الله عنه: هي السفن، ولولا إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوله ما قلته. ثم أمر بضربه۔[21]

ترجمہ: صبیغ تمیمی سیدنا عمر رضی اللہ کے پاس آئے اور ان سے الذاریات ذورا کے متعلق سوال کیا تو آپ نے جواب دیا کہ اس سے مراد ہوا ہے،پھر صبیغ نے المقسمات امرا کے متعلق سوال کیا ، تو آپ نے بتا یا اس کے مراد فرشتے ہیں ، پھر اس نے مزید سوال کیا کہ الجاریات یسرا سے کیا مراد ہے تو آپ نے بتایا کہ اس سےمراد کشتی ہے، ہےاور یہ تمام باتیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نا سنی ہوتی تو تمہیں جواب نا دے پاتا۔ پھر آپ نے اس کی تادیب کا حکم دیا۔

مندرج بالا روایت واضح کرتی ہے کہ علمی سولات کو آپ پسند فرماتے مگر حد سے زیادہ قیل و قال کو ناپسند کرتے کہ غیر معتدل انہماک سے جذبہ عمل کمزور پڑتے پڑتے عنقا بھی ہو جاتا ہے۔ اس لئے سائل کی زجر و توبیخ کی۔

مشق اورمہارتوں کا حصول

حضرت عمر رضی اللہ عنہ مشق اورمختلف مہارتیں سیکھنے پر بہت زیادہ زور دیتے تھے تاکہ عملی زندگی میں ان کا استعمال ہو سکے۔آپ قبائل کے سرداروں اورصوبوں کے امراء کو تمام مسلمانوں کومشق کرنے اورتیار رہنے کے احکامات بھیجتے تھے ، ایک خط ابوعبیدۃ رضی اللہ تعالی عنہ کے نام بھیجا ہے ،آپ نے انہیں لکھا: "أن علموا غلمانكم العوم، ومقاتلتكم الرمي"[22]. ( ترجمہ) کہ اپنےجوانوں کو تیراکی اورتیراندازی سکھاؤ۔اسی طرح ابوموسیٰ اشعری کو لکھا کہ: "إذا لهوتم فالهوا بالرمي، وإذا تحدثتم فتحدثوا بالفرائض"[23]. ( ترجمہ) جب تم کھیلو تو صرف تیراندازی کرو اورجب آپس میں علمی بحث کرو تو فرائض کی بات کرو۔ نیز شام کے امراء کو لکھا : "أن يتعلموا الرمي ويمشوا بين الغرضين حفاة وعلموا أولادكم الكتابة والسباحة"[24] ( ترجمہ) کہ وہ نشانہ بازی سیکھائیں، اور دو نشانوں کے درمیان ننگے پاؤں چلیں ،اوراپنے بچوں کو کتابت اورتیرنا سکھائیں۔

محققین نےتصریح کی ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے ہر قابل بندے کوہنر سیکھنےکی ترغیب اور عملی مددکو خلافت کی ذمہ داریوں میں شمار کیا۔

آپ مسلمانوں کو پرلذت اورعیش پرستانہ زندگی گزارنے سے منع کرتے تھے ،زندگی کے مختلف حالات کا مقابلہ کرنے کی خاطر جفاکشی کی زندگی گزارنے کی دعوت دیتے تھے ۔اس کے بارےمیں آپ نے عتبۃ بن فرقد ، عامل آذربیجان کو لکھاکہ: "يا عتبة بن فرقد إنه ليس من کدک ولا من کد أبيک ولا من کد أمک فأشبع المسلمين في رحالهم مما تشبع منه في رحلک وإياکم والتنعم وزي أهل الشرک ولبوس الحرير فإن رسول الله (صلی الله علیه وسلم) نهی عن لبوس الحرير۔"[25] ( ترجمہ) اے عتبہ بن فرقد!(تیرے پاس جو مال ہے) نہ تیری محنت سے ہے اور نہ ہی تیرے باپ کی محنت سے اور نہ ہی تیری ماں کی محنت سے تجھے حاصل ہوا ہے اس لئے مسلمانوں کو ان کی جگہوں پر پوری طرح سے وہ چیز پہنچا دے جو کہ تو اپنی جگہ پر پہنچاتا ہے۔ تمہیں عیش وعشرت اور مشرکوں والے لباس اور ریشم پہننے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ رسول اللہ ﷺ ریشمی لباس پہننے سے منع فرماتے تھے۔

آپ عملی مہارتوں کو پسند کرتے اوربعض مشقوں میں ان کو بہت اعلیٰ درجے کی مہارت حاصل تھی ،آپ کی ایک مہارت کی بابت مورخین نے لکھا : "يأخذبيده اليمنى أذنة اليسرى تم يبجمع جزاميزه ويثب فكأنما خلق على ظهر فرسه"[26] ( ترجمہ) کہ آپ اپنے دائیں ہاتھ سے اپنا دایاں کا ن پکڑ تے تھے اوربائیں ہاتھ سے گھوڑے کا کان پکڑتے اور جست لگا کر گھوڑے پر بیٹھتے تھے گو یا آپ کی خلقت گھوڑے کی پیٹھ پر ہوئی ہو ۔ آپؓ پانی میں بہت لمباغوطہ لگا سکتے تھے ۔ابن عباس ؓفرماتے ہیں : "ربما قال لي عمر بن الخطاب: تعال أنا صلك في الماء أينا أطول نفسا ونحن محرمون"[27] ( ترجمہ) کہ کبھی کبھار حضرت عمرفرماتے :آجاؤ پانی میں غوطہ لگاتے ہیں ،دیکھتے ہیں کون پانی میں زیادہ طویل سانس روک سکتا ہے لیکن ہم اس سے محروم اورعاجز تھے۔

حضرت عمر مہارت سیکھنے اوراس میں کمال حاصل کرنے پر بہت زور دیتے تھے ،ایک بار آپ نے کچھ لوگوں سےایساکلام سنا جو غلط تھا تو آپ نے فرمایا: "سوء اللحن أسوأ من سوء الرمي"[28] ( ترجمہ) کلام میں غلطی تیر پھینکنے میں غلطی سے زیادہ بری ہے۔اگر کسی کو کسی کام پر مامور کرتے عمدگی سے مکمل نا کرتا تو اسےتادیب بھی کرتے ۔ ابو موسی اشعری کےکاتب نےحضرت عمر کو خط لکھا جس میں کتابت کی صریح غلطی تھی تو حضرت عمر نے ابوموسیٰ کو لکھا : "فكتب إليه عمر أن اجلد كاتبك سوطا"[29] (ترجمہ) جب آپ کے پاس میر ایہ خط پہنچے ،تو اپنے کاتب کی تادیب کریں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نکتہ رس افراد کی حوصلہ افزائی کرتے تھے اسی وجہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کو کبار بدری صحابہ کے ساتھ مجلس میں بٹھاتے تھے حالانکہ کم عمر تھے لیکن علم اورفہم میں ملکہ حاصل تھا ۔ اس قبیل کی تمام روایات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ آپ معاشرہ میں کارآمد افراد کی حوصلہ افزائی فرماتے کہ ان کی صلاحیتوں سے سماج مستفید ہو سکے۔ اس سلسلے میں ظاہری حفظ مراتب کو بھی پرواہ نا کرتے۔

متوازن غذا

انسان کی بقاء کے لئےپاک ، سالم غذاکا مہیا ہونا ضروری ہے ۔سالم غذا سےمراد وہ غذاہے جو نوعیت اورکمیت کے لحاظ سےمتوازن ہو جو انسانی جسم کےلئے جتنی لازمی قوت کی ضرورت ہووہ اس سے مہیا ہوسکے ۔قرآن پاک میں غذاکی نوعیت اورکمیت دونوں کی طرف اشارہ ہواہے جیسے غذ اکی نوعیت کی طرف اشارہ کرکے فرماتا ہے : ﴿ وَیُحِلُّ لَهمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰ۬ئِثَ﴾[30] ( ترجمہ) ور پاک چیزوں کو ان کے لئے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے کھانے کی چیزوں میں سے جو حلال کیا ہے وہ پاک ہے بدن اوردین دونوں اعتبارسے نافع ہے۔اورجواللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے وہ خبیث ہے جو بدن اوردین دونوں لحاظ سے نقصان دہ ہے ۔

دوسری جگہ پر اللہ تعالیٰ غذاکی نوعیت اورکمیت دونوں بیان فرمارہے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ[31] ( ترجمہ) اور کھاؤ اور پیواور بے جا نا اڑاؤ کہ اللہ بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ اسراف سے مراد مقدارسے زیادہ کھاناکیونکہ ماکولات میں زیادتی کرنے کی وجہ سے جسم کو نقصان پہنچتا ہے اسی طرح لباس ،کھانے پینے میں عیش وعشرت سے کام لینا یا حلال سے حرام کی طرف تجاوز کرنے کا نام اسراف ہے ۔

حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ ضرورتمندوں کے لیے پاک غذامہیا کرنے پر پوری کوشش صرف کرتے تھے ۔ آپ نے مسلمانوں کے لئے جو جہاد کے میدان میں ہوں یا سرحدوں کی حفاظت کرنے والےہوںسب کے لئے بقدرکفایت کھانا مقررکیاتھا اورامراء کو حکم دیا تھا کہ وہ ہر مسلمان کےلئے بقدرکفایت کھانا مہیا کریں اوریہ ان کے لئے ماہانہ مہیاہو اوردائمی طورپرہو ۔دوسری طرف یہ بھی آپ کی پالیسی تھی کہ مسلمانوں کے لئے ایسی اشیاء مہیا ہوں جن سے بدن مضبوط وقوی ہو اوربیماریوں کا مقابلہ کرسکے جیسے روایت میں ہے :

عن عمر بن الخطاب إليه أهل الشام وباالأرض وثقلها وقالوا لا يصلحنا إلا هذا الشراب فقال عمر اشربوا هذا العسل قالوا لا يصلحنا العسل فقال رجل من أهل الأرض هل لک أن نجعل لک من هذا الشراب شيا لا يسکر قال نعم فطبخوه حتی ذهب منه الثلثان وبقي الثلث فأتوا به عمر فأدخل فيه عمر إصبعه ثم رفع يده فتبعها يتمطط فقال هذا الطلا هذا مثل طلا الإبل فأمرهم عمر أن يشربوه[32]

( ترجمہ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب شام کی طرف آئے تو لوگوں نے وبا اور آب و ہوا کے ناموافق ہونے کا بیان کیا اور کہا بغیر اس شراب کے ہمارا مزاج اچھا نہیں رہتا آپ نے کہا شہد پیو انہوں نے کہا شہد موافق نہیں ایک شخص نے پوچھاکہ ہم اسی کو اس طرح تیار کریں جس میں نشہ نہ ہو آپ نے کہا ہاں، انہوں نے اس کو پکایا اتنا کہ ایک تہائی رہ گیا دو تہائی جل گیا اس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لائے انہوں نے انگلی ڈالی جب وہ چَپ چَپ کرنے لگا آپ نے فرمایا یہ طلا تو اونٹ کے طلا کے مشابہ ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے پینے کی اجازت دی۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ خوراک کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اس کی قیمتوں پر بھی نظر رکھتے تھے ،فرماتے :"كيف اللحم فيهم فإنها شجرة العرب ولا تصلح العرب إلا بشجرتها"[33] ( ترجمہ) گوشت کا بھاؤ کیا ہے ؟کیونکہ وہ عربوں کاایسا درخت ہے جس کے بغیر عرب رہ نہیں سکتے۔

آج کی فلاحی ریاستیں اپنے شہریوں کے حقوق کے لیئے اس سے بڑھ کے کوئی بھی مزید اقدامات نا لاسکیں۔جن کی بنیاد آپ نے اپنے دور میں اٹھانے کی کوشش کی تھی۔


انسان کی صحت کا راز متوازن خوراک،محفوظ گھر ،طہارت و پاکیزگی اورعلاج پر موقوف ہے۔ ان کی بابت آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی تعلیمات کا خلاصہ حسب ذیل ہے:

"إياكم والبطنة في الطعام والشراب! فإنها مفسدة للجسد، مورثة للسقم، مكسلة عن الصلاة؛ وعليكم بالقصد فيهما! فإنه أصلح للجسد، وأبعد من السرف"[34] ( ترجمہ) شکم سیری سے بچو ،کیونکہ اس سے بدن خراب ہوتا ہے ، انسان بیمار ہوتا ہے اور نماز میں سستی ہوتی ہے ،تم کھانے میں میانہ روی اختیار کرو کیونکہ یہ جسم کے لئے مفید ہے اوراسراف سے بھی دور ہے۔

جدید سائنسی اکتشافات اور حظان صحت کے ماہرین ان نتائج تک پہنچے جو آج سے سینکڑوں سال پہلے آپ نے محض فراست سے اخذ کئے تھے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اس بات پر زوردیتے تھے کہ رہنے کے لئے مناسب اورملائم جگہ اختیارکی جائے اس لئے جب شام میں طاعون کی وباء پھیل گئی تو آپ نے ابوعبیدۃکو لکھا : "فإنك أنزلت الناس أرضا غمقه، فارفعهم إلى أرض مرتفعة نزهة"[35] ( ترجمہ) تم لوگوں نے ایسی جگہ پڑاؤڈالاہے جو پانی اورنمی کےقریب ہے ایسی طرف پڑاو ڈالو،جو اونچی ہو اورمفرح ہو۔

جب قادسیہ کے وفود آپ کے پاس آئے اوران کے رنگ اورشکلیں بگڑی دیکھیں ،تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو لکھا : "أنبئني ما الذي غير ألوان العرب ولحومهم؟ فكتب إليه: إن العرب خددهم وكفى ألوانهم وخومة المدائن ودجلة، فكتب إليه: إن العرب لا يوافقها إلا ما وافق إبلها من البلدان، فابعث سلمان رائدا وحذيفة- وكانا رائدي الجيش- فليرتادا منزلا بريا بحريا"[36] ( ترجمہ) مجھے جواب چاہئے کہ کس چیز نے عربوں کے رنگ اورگوشت بد ل دئے ہیں ؟انہوں نےاپنے جواب میں لکھا :عربوں کو غیر موافق رہائش نے بدل دیا ہے،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو لکھا :عربوں کو وہی علاقہ موافق آتا ہے جو ان کے اونٹوں کے موافق ہو ۔ حضرت سلمان اورحضرت حذیفہ کو اچھے مقام کی تلاش میں بھیجو یہ دونوں جو لشکر کے عمدہ رہنماہیں۔ وہ دونوں ایسا خشک علاقہ دریافت کریں جس کے اورمیرے درمیان کوئی سمندراوردریا اورنہ کوئی پل ہو ۔

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں ٹاؤن پلاننگ میں اصول ہے کہ شہروں کے بسانے میں حفظان صحت کے اصولوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔


حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ صحت عامہ پر بھرپور توجہ دیتے۔ گھروں ،راستوں اورصحنوں کی صفائی پر بہت زوردیتے تھے،آپ کا فرمان ہےکہ" يا أيها الناس! عليكم مثاويكم "[37]اے لوگو !اپنے گھروں کا خیال رکھاکرو ۔

آپ والیان حکومت کے اہم فرائض میں شمار کرتے کہ وہ امت کے افرادکو عام نظافت کی طرف متوجہ کریں ۔ابن سیرین سے روایت ہےکہ جب ابو موسی اشعری بصرہ آئے ،تو ان سے کہا : "عن أبي موسى قال: إن أمير المؤمنين عمر بن الخطاب بعثني أعلمكم كتاب ربكم وسنة نبيكم وأنظف طرقكم"[38]( ترجمہ) مجھے امیر المؤمنین نے بھیجا ہے تاکہ میں تمہیں اپنے رب کی کتاب ،نبی کی سنت اور اپنے راستوں کی صفائی بتاؤں۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب بیت المقدس فتح کیا تو وہاں ایک بڑا کوڑا دان پایا ،آپ نے چادر پھیلائی اوراس کےکوڑے کو جھاڑومارکرچادر میں ڈال دیا دوسرے لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ جھاڑو لگایا۔آپ عام صفائی کا حکم دیتے تھے اوراس میں سستی کرنے والوں پر سختی کرتے تھے۔آپ ﷛جب مکہ آئے تو مکینوں کو کہا : "قموا أفنيتكم، فمربأبي سفيان فقال له: يا أبا سفيان! قموا فناءكم، فقال: نعم يا أمير المؤمنين حتى يجيء مهاننا: ثم إن عمر اجتار بعد ذلك فرأى الفناء كما كان فقال: يا أبا سفيان! ألم آمرك أن تقموا فناءكم؟ قال: بلى يا أمير المؤمنين ونحن نفعل إذا جاء مهاننا، فعلاه بالدرة فضربه بين أذنيه"[39] ( ترجمہ) اپنے صحنوں کو صاف کرو ،پھر ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو ان سے کہا کہ اپنے صحن کو صاف کر یں ،انہوں نے کہا :ٹھیک ہےیا امیرالمؤمنین یہاں تک کہ ہماراخادم آجائے ،پھر اس کے بعد حضرت عمر ؓدوبارہ گزرے ،تو صحن کو اسی طرح پایا ،آپ نے کہا :اے ابوسفیان !کیا میں نے تمہیں اپنے صحن برابرکرنے کے بارے میں حکم نہیں کیا تھا ؟اس نے کہا :ہاں ،یا امیرالمؤمنین ،لیکن ہم یہ اسوقت کریں گے جب ہماراخادم آئے گا ،آپؓ نے درہ اٹھایا اوردونوں کانوں کے درمیان ان کو مارا۔(یہ روایت اصول درایت پر پورا نہیں اترتی، کیونکہ محض اپنے گھر کی صفائی میں کسی وجہ سے تاخیر پر کسی بھی عام شہری کو سزا دینا شرعا اور عقلا ہر دو اعتبار سے محل نظر ہے)۔نیز اس طرح صفائی پسندی کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: "إنه ليعجبني الشاب الناسك، نظيف الثوب طيب الريح"[40] ( ترجمہ) مجھے نوجوان عبادت گزار ، صاف کپڑے اورخوشبو لگانے والا پسند ہے۔

ان تمام ہدیات اور اقدامات سے نظافت سے متعلق آپ رضی اللہ تعالی کے (Civic Sense) کا ایک خوبصورت نمونہ نظر آتا ہے۔

صحت عامہ کی حفاظت کی خاطراقدامات :

حضرت عمر ﷛متعدی امراض والے لوگوں کےلئے گھر وغیرہ میں علیحدہ جگہ مہیا کرنے پر زوردیتے تھے جسے قرنطینہ کہا جاتا ہے ۔ تاکہ امراض وبا کی صورت میں نا پھیل سکیں ۔روایت ہےکہ :"إن عمر بن الخطاب مر بامرأة مجذومة وهي تطوف بالبيت فقال لها: يا أمة الله لا تؤذي الناس لو جلست في بيتك"[41]( ترجمہ) حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ایک ایسی عورت سے ملے جسے جذام کا مرض لاحق تھا اورگھروںمیں گھوم رہی تھی ،آپ نے فرمایا :اے اللہ کی بندی !لوگوں کوتکلیف نہ دے،کاش تو اپنے گھر میں بیٹھ جاتی۔ اسی طرح جب شام میں وباء پھیل گئی تو حضرت عمر ؓنے سب سےپہلے قرنطینہ کے متعلق اسلامی کانفرنس منعقد کی تھی ،اوراس کانفرنس کی رودادابن عباس ؓکے روایت سے یوں ملتی ہے "أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه خرج إلی الشأم ۔۔۔سمعت رسول الله (صلی الله علیه وسلم) يقول إذا سمعتم به بأرض فلا تقدموا عليه وإذا وقع بأرض وأنتم بها فلا تخرجوا فرارا منه قال فحمد الله عمر ثم انصرف۔"[42] ( ترجمہ) حضرت عمربن خطاب شام جانے کو روانہ ہوئے، جب مقام سرغ میں پہنچے تو ان سے لشکر کے امراء ملے اور بتایاکہ ملک شام میں وباء پھوٹی ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو مطلع کیاکہ شام میں وباء پھوٹ پڑی ہے، لوگوں نے اختلاف کیا کہ ہم جس کام کے لئے نکلے ہیں اس سے واپس ہونا مناسب نہیں اور بعض نے کہا کہ ہمارے ساتھ جید لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ ہیں، اس لئے ہمارا اس وباءکی طرف پیش قدمی کرنا مناسب نہیں، آپ نے ان کو ہٹا دیا، پھر فرمایا کہ میرے پاس انصار کو بلا لو، میں نے ان کو بلا کر ان سے مشورہ کیا تو وہ لوگ بھی مہاجرین کی طرح اختلاف کرنے لگے تو ان کو بھی ہٹا دیا۔ پھر فرمایا کہ قریش کے بوڑھے لوگوں کو بلاؤ، چنانچہ میں نے ان کو بلایا، اس معاملہ میں انہوں نے اختلاف نہیں کیا اور کہا کہ لوگوں کو وہاں لے جانا اور اس وباء میں پیش قدمی مناسب نہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کردیا کہ میں کل صبح واپس جاوں گا، چنانچہ لوگ صبح کے وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا اللہ کی تقدیر سے فرار ہو رہے ہو، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے عبیدہ! کاش تمہارے علاوہ کوئی دوسرا شخص کہتا، ہاں ہم تقدیر الٰہی سے تقدیر الٰہی کی طرف بھاگ رہے ہیں، بتاو تو کہ اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم کسی وادی میں اترو، جس میں دو میدان ہوں، جن میں سے ایک تو سرسبز وشاداب ہو اور دوسرا خشک ہو، پھر اگر تم سرسبز میدان میں چراتے ہو تو بھی تقدیر الہٰی سےاور اگر خشک میدان میں چراو گے تو بھی تقدیر کی وجہ سے، راوی کا بیان ہے کہ عبدالرحمن بن عوف آئے اور انہوں نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم کسی جگہ کے بارے میں سنو کہ وہاں وباءپھیل گئی ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی جگہ وباء پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے فرار نہ ہوجاؤ ۔اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا پھر وہاں سے واپس ہوئے۔ہر طرف خوف پھیلا دینے والے حالیہ وبائی مرض کرونا [43](Covid-19) کے بارے میں ڈبلیو ۔ایچ۔ او ۔کی طرف سے احتیاطی تدابیر بعینہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی سوچ سے مستعار و مستفیض ہیں۔

طب اوردواسازی وغیرہ کے متعلق حضرت عمر ؓکے اقدامات

حضرت عمر ؓرعایا اورعمال کے علاج پر توجہ دیتے تھے اس لئےآپ مجاہدین کے ساتھ اطباء بھیجتے تھے۔ مؤرخین کی تصریح ہے کہ اسلامی خلافت میں لشکر کے ساتھ اطباء بھیجنے کاکارنامہ سب سےپہلے آپ نے سرانجام دیا تھا ۔معیقب الدوسی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے بیت المال پر مقرر تھے ان کو جذام بیماری لاحق ہوئی "وكان يطلب له الطب من كل من سمع له بطب حتى قدم عليه رجلان من أهل اليمن فقال: هل عندكما من طب لهذا الرجل الصالح؟"[44] ( ترجمہ) آپ نے اس کے علاج کے لئے تحقیق کی دو آدمی جو یمن سے آئے تھے ان سے پوچھا:کہ کیا تمہارے پاس اس نیک آدمی کا علاج موجود ہے۔ نیز جب آپ کو خنجر سے زخمی کیا تو آپ نے فرمایا :میرے پاس ایک طبیب بھیجو جو میرے اس زخم کو دیکھے ۔اس وقت آپ کے پاس کئی اطباء بھیجے گئے۔[45]

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے حفظان صحت کے بارے میں دیگر نظریات بھی منقول ہیں :آپ فرماتے : "سافروا تصحوا"[46]سفر کرو صحت مند رہو گے، آپ فرماتے : "لا تطيلوا الجلوس في الشمس فإنه يغير اللون يقبض الجلد ويبلي الثوب ويحث الداء الدفين"[47] ( ترجمہ) دھوپ میں زیادہ دیر تک نہ بیٹھو ،کیونکہ اس سے رنگت خراب ہوتی ہے جلدکو سکیڑتی ہے، کپڑا پرانا ہوتا ہے اور چھپی ہوئی بیماریاں ظاہر ہوتی ہیں۔

ابن رافع سے روایت ہے "رآني عمر معصوبة يدي أو رجلي فانطلق بي إلى البيت فقال بطه فإن المدة إذا تركت بين العظم واللحم أكلته"[48] حضرت عمر ؓنے مجھے دیکھا میرے ہاتھ یا پاؤں پر پٹی باندھی تھی ،تو مجھے گھر لے گئے اور کہا :اس کو پھوڑ دو کیونکہ پیپ جب ہڈی اور گوشت میں رہ جائے تو وہ اسے گلا دیتی ہے۔ آج تک پیپ کا وغیرہ کا علاج پھوڑنے یا پیپ اندر سے خشک کرنے سے کیا جاتا ہے ۔طب اور علاج کی اہمیت کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حارث بن کلدۃ سے پوچھا جو عرب کا مشہور طبیب تھا،"ما الدواء؟ قال: الأزم يعني الحمية"[49](ترجمہ) طب کیا چیز ہے ؟اس نے کہا :پرہیز یعنی کم کھانا ۔اسی وجہ سے آپ شکم سیری کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ آج کی ترقی یافتہ دنیا ان اصولوں کو سائنسی بنیادوں پر تسلیم کرتی ہے۔

معاشی عوامل کی اصلاح

معاش کا سماج کی صالح تشکیل میں بنیادی کردار ہے۔ غربت انسان کی ترقی پر منفی اثر ڈالتی ہے اسی طرح غریب ، مالدار سے غذا، صحت ،تعلیم اور مہارت وغیرہ کے لحاظ سے بھی کمتر رہتا ہے۔ نیز اسکی وجہ سے جرائم زیادہ ہوتے ہیں، امن اور استحکام نہیں رہتا ۔ لہذا غربت کا علاج کرنا ،عنصر بشری کی اہمیت کو بڑھانے کے مترادف ہے۔ معاشی آسودگی سے امن واستحکام حاصل ہوتا ہے ۔غربت کا علاج کفالت اور تکافل ہے ۔اس دور میں وظائف ، نظام زکوۃ کی عملیت پر بھرپور توجہ کی گئی تھی جس کی وجہ سے معاشرہ خیر القرون بنا۔ عصری فلاحی ریاستیں ان اصولوں کی عموماً تنفیذ کر چکی ہیں۔

نتائج بحث

سماجی ترقی ،معاشرے میں تعلیم ،امن واستحکام ،علاج ،صحت ،غذا،معاشی توازن اورسہولیات کی فراہمی پر منحصرہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مذکورہ لوازمات سب کو مہیاتھے اسی وجہ سےیہ ایک مثالی سماج تھا ۔ اس کی مثال تاریخ عالم پیش کرنے سے قاصر ہے۔اس لئے اس دور میں پیش آمد نظائر نا صرف ایک سنگ میل تھے بلکہ انسانی ارتقاء میں اس کا کردار بھی اہمیت رکھتا ہے۔اس دور کی نمایاں خصوصیات میں لازمی تعلیم اور سب کے لئے حکومت کی طرف سے، تعلیم برائے معاشرہ ، صحت اور حفظان صحت کے لئے اقدامات ،معاشرہ کو منفی طور پر متاثر کرنے والے عوامل کا سختی سے سدباب نیز صالح معیشت کا قیام شامل ہیں۔ یہ مفروضہ کہ انسانی سماج آج ترقی کی انتہا پر ہے، محض ایک دعوی ہے۔ اس مقالہ سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسلام کی روح کے مطابق ان بنیادی لوازمات کی فراہمی کو یقینی بنایا۔

اگر اختصار سے ان کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسانیت چودہ صدیوں بعد جن منازل تک پہنچی ہے، اسلام نے ان کے سنگ میل اپنی تعلیمات میں عطا کئے تھے۔ یہ تعلیمات محض اخلاقی نوعیت کی نہیں بلکہ قانونی طرز کی ہیں۔ ان کا اصلی رخ ہمیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور مسعود میں ملتا ہے۔ اگرچہ وہ دور آج کے سائنسی یا جدید معاشی لحاظ سے ترقی یافتہ نہ تھا لیکن ایک ترقی یافتہ ، مہذب اور فلاحی معاشرہ کے شایان شان بنیادیں فراہم کر چکا تھا۔ آج صفحہ ہستی پر فلاح انسانیت سے متعلق جو نشان ملتے ہیں یہ سب دین محمدی کا فیضان ہے لیکن مرور زمانہ سے اس میں ایسی چیزیں بھی شامل کر لی گئی جو شرائع کی تعلیمات کے بر عکس ہیں جن کی اصلاح وقت کی اہم ضرورت ہے ۔


تعمیر سماج سے متعلق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بصیرت اور اٹھائے گئے اقدامات آج ہم سے حسب ذیل اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں

  1. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فروغ ِتعلیم کے لئے حتی الامکان کاوشیں کیں حتی کہ غیر مسلموں کو بھی استاد مقرر کیا گیا ان کی بصیرت آج مسلمانوں کے لئے ترقی کی بنیاد ہے۔
  1. حفظان و بقائے صحت کی بدولت معاشرہ کی توانائی صحیح رخ پر استعمال ہوتی ہے۔ لہذا اس کو اولیت کے درجہ میں رکھا جائے
  1. طب کا شعبہ مسلسل جدید اکتشافات و انکشافات کا میدان ہے۔ اس میں انہماک اور ترقی بصیرت فاروقی کا تقاضا ہے۔
  1. بصیرتِ فاروقی کی روشنی میں منصفانہ اور عادلانہ معاش کی فراہمی ہی مثالی معاشرہ کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔
  1. تمام حکومتی اداروں میں جہاں سماج کی اصلاح اور ترقی کی کاوشوں میں دیگر حکومتی نظاموں کا مطالعہ شامل رکھا جاتا ہے وہاں عہد فاروقی سے بھی بالخصوص اکتساب کیا جائے۔
  1. مسلم سماج کو چاہئے کہ وہ ہم عصر غیر مسلم سماج سے مثبت اقدار، روایات اور مادی ترقی سیکھنے میں جھجک نا محسوس کرے۔ بلکہ اس کو ملت کے لیے لوازمات میں شامل رکھے۔
  1. عصر حاضر میں حضرت عمر فاروق کے ان عملی تجربات کو اس روح کے ساتھ پیش کیا جائے ، تاکہ یہ زمانہ حاملین دین کے علمی سرمایہ سے مستفیض ہو، اور سسکتی انسانیت کو دامن دین میں دینی اور اُخروی فوائد حاصل ہوں۔


Al-Quran Al-Karīm (Urdu Tarjumah by Maulānā Fateh Muhammad Khan Jālandrhī). Lahore: Faran Foundation, 2013.

‘Abd al-Razzāq Ibn Hmmām Ibn San’ānī. Musanaf Abd Razzāq. ed. Habību ur Rahman. Gujrat: Al Majlis Hind, 1404 AH.

‘Imād ud-Din, Umar ibn Kathīr. Tafsīr al- Qurʾān al- ʿAẓīm. Beirut: Dar ul Ilmiah, 1419 AH.

‘Umar bin Shabtah, Ibn e Retah. Taarikh Al Madīnah li ibn e Shabtah. Beirut: Dar Ihyā ul Turāth, 1399 AH.

Abu Bakr Ibn Abi Shaybah, Ibn Abi Shaybah. Musannaf Ibn Abi Shaibah. Edited by Kamāl Yousef. Riyadh: Maktaba al Rushad, 1409 AH.

Aḥmad Ibn Muhammad Ibn Ḥanbal Ash-Shaibānī. al-Musnad. Beirut: Muasaset ar‐Risalah, 1421 AH.

Al Aqqad, Abbas Mahmood, A’bqaiat Ummar. Cario:Bait ul Yasmeen,2017.

Alā al-Dīn, ‘Ali ibn ‘Abd-al-Malik Hassām al-Din. al-Muttaqī. Kanz al-‘Ummāl Fi Sunan al-Aqwāl wa al-Af’āl. Beirut: Muasaset -ar-Risālah, 1401 AH.

Alī ibn Muhammad ibn Ḥajar, al-ʿAsqalānī. Al-Asāba fi Tamyīz al-Sahāba. Beirut: Dar ul kuttub ul Ilmiah, 1419 A.H.

Ali Muhammad al-Sallābī. Fasl al-Khitāb fi Sīrat ibn al-Khattāb Amīr al-Mu'minīn 'Umar ibn al-Khattāb. Cairo: Maktabah al Tab’īn, 1423, A.H.

Ali Muhammad, Ali al-Sallabi, Fasal al khattab fi seerat umar ibn al khattab, Cairo: Maktaba Al ta’bae’een, 2004.

Heikal, Muhammad Hussain, Al Farooq al Ummar. Cario: Maktba al was’t, 2009.

Ibn, Abi as’biah, Ahmad bin Qasim, A’youn anba fi tabqat alati’ba, Beriut: Matba Al Wahbia. 1972.

Mahmood Shees, al Khatab,Al Farooq al Qa’aid, Bagdad :Matba Al A’ani,2006.

Mahmud ibn Umar al-Zamakhsharī, Al Fāiq fi Gharīb ul Hadith wal Āsār. Lebanon: Dar ul Ma’arifah, 1402 AH.

Mālik bin ʾAnas bin Mālik. Al-Muwaṭṭāʾ. Edited by Muhammad Mustafa. Abu Dhabi: Maktaba Zaid bin Sultan, Al Nahyan, 1425, A.H.

Muhammad bin Ismail Al-Bukhāri. Ṣaḥīḥ al-Bukhārī . Dar Tauq al Nijjāh, 1422, AH.

Muhammad bin Khallāf, Abu Bakkar. Akhbār ul Qudhāh. Cairo: Al-Maktaba al Tijāriāh Al-kubrā, 1366 AH.

Muhammad ibn Aḥmad . Al-Dhahabī, Sīyyar al Ā`lām al-Nublā. Cairo: Dar ul Hadith, 1427 AH.

Muhammad ibn Sā‘d ibn Manī‘, Ibn e Sa‘d. Kitāb aṭ-Tabaqāt al-Kubrā. Beirut: Dar ul Kuttub ‘Ilmiyah. 1410, AH.

Muslim ibn al-Ḥajjāj , al-Qushayrī. Ṣaḥīḥ Muslim. Beirut: Dar Ahyā ul Turāth al-Aarbī, ND.

Qala ji, Muhammad Rawas, Mosoa’a fiqh Ummar bin Khattab, Cairo: Dar ul Nafāis, 1989

Shibli Noumani, Molana. Al Farooq. Lahore: Al Misbah, 2000.

Yaqùb ibn Ibrahim al-Ansārī, Abu Yousef. Kitāb al-Khirāj. Cairo: Al Maktaba al Azhariah, 1990.

Yousuf bin Hassan, Mahdh al Sawāb fi Fadha’il Ameer ul Mominīn Umar bin khattāb. Madinah: ‘Amadah tul Bahās ul ilmi, Islamic University, 1420 AH.

Zakar, Sohail. Al yarmook wa fath al ummari al islami lil quds. Beruit: Maktbaba al wahab.2006.

  1. عربی زبان میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ پر لکھی گئی معروف کتاب ہے، , جو مطبع العانی نے بغداد سے شائع کی۔ 191 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے مولف معروف مصری مفکر اور ماہر عسکریات محمود شیث (1919-1998) ہیں۔
  2. معروف عرب سکالر کی تالیف ہے، اصلا عربی میں ہے،700 صفحات پر مشتمل ہے جو متعدد زبانوں میں ترجمہ بھی کی جا چکی ہے۔مصنف لیبیا کے ہیں جن کی پیدائش 1963 میں ہوئی، انقلابی فکر اور سکالرشپ کی وجہ سے مشرق و مغرب میں جانے جاتے ہیں۔
  3. 272 صفحات پر مشتمل کتاب ہے، 2002 میں مصر سے شائع ہوئی۔ بنیادی طور پر بیت امقدس کی فتح کے متعلق ہے ،لیکن بصیرت فاروقی پر بھی تفصیلی مباحث موجود ہیں۔
  4. فاضل مولف(1889۔1964) عالم عرب کے نامور صاحب قلم تھے۔ اول مرتبہ 1941 سے مصر میں شائع ہوئی۔اس تالیف میں مولف نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی دانش مندی اور اختراع پر خاص توجہ کی ہے۔
  5. دار النفائس، سے 1989 میں شائع ہونے والی عربی تصنیف ، جس کی ضخامت 896 صفحات ہے۔
  6. فاضل مولف(1888.1956)مصر سے تعلق رکھتے تھے۔624 صفحات پر مبنی یہ کتاب مصر سے شائع ہوئی ہے، اسکے تراجم متعدد زبانوں میں موجود ہیں۔پچاس کی دہائی میں یہ کتاب لکھی گئی۔
  7. اردو زبان میں برصغیر پاک و ہند میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ پر بہترین کتاب ہے، جو مولانا شبلی نعمانی(1857-1914) کی مایہ ناز تالیف ہے، جس میں آپ رضی اللہ کی حیات اور کمالات پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے۔
  8. Al‐Buraey, published by Kegan Paul International Ltd., 1986, 470 pages
  9. Shadi Hamid (August 2003), "An Islamic Alternative? Equality, Redistributive Justice, and the Welfare State in the Caliphate of Umar", Renaissance: Monthly Islamic Journal13 (8) ,, accessed on January 15, 2020.
  10. القرآن 62:2
  11. أبو يوسف ،يعقوب بن إبراهيم، کتاب الخراج(القاھرہ:المكتبۃ الأزهرىۃ للتراث، 1990ء)،1:24۔
  12. ایضاً۔ ،1:23۔
  13. علاء الدىن على بن حسام الدىن المتقي الهندي، كنز العمال فى سنن الأقوال والأفعال، كتاب الأذكار، باب في القرآن (بیروت:ناشرمؤسسۃالرسالۃ، 1401ھ)، حدیث:4018، 2:285۔
  14. شمس الدىن أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان الذهبى ،سىر أعلام النبلاء(قاہرہ: دارالحدىث ، 1427ھ)، 4:23۔
  15. الهندي،كنز العمال فى سنن الأقوال والأفعال، الكتاب الخامس في الإجارة،فصل في محظوراتها،حدیث:9178، 3:924۔
  16. مالك بن أنس بن مالك، الموطأ،محقق۔ محمد مصطفى الأعظمى، کتاب السہوء، باب جامع الصلاۃ (أبو ظبى: زاىد بن سلطان آل نهىان للأعمال الخىرىۃ والإنسانىۃ، 1425ھ)، حدیث: 602، 2:244 ۔
  17. محمد بن سعد بن منىع، الطبقات الكبرى(بیروت: دار الکتب العلمیہ، 1410ھ)،3:271۔
  18. عبد الله بن محمد بن إبراهىم ابو بكر بن أبى شىبۃ، المصنف فى الأحادىث والآثار، محقق۔ كمال ىوسف الحوت،كتاب البيوع والأقضيۃ،باب فی الامام العادل (ریاض: مكتبۃ الرشد ، 1409ھ) ، حدیث: 21920، 4:440۔
  19. أبو الفضل أحمد بن على بن محمد بن أحمد ابن حجر العسقلانى ، الإصابۃ فى تمىىز الصحابۃ(بیروت: دار الکتب العلمیہ، 1415ھ)،1:298 ۔
  20. عمر بن شبۃ بن عبىد ۃ بن رىطۃ، تارىخ المدىنۃ لابن شبۃ(بیروت :داراحیاء التراث ، 1399ھ)،3:787۔
  21. أبو الفداء إسماعىل بن عمرابن كثىر، تفسىر القرآن العظىم(بیروت: دار الکتب العلمیہ، 1419ھ)،7:386۔
  22. أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل ، المسند، كتاب مسند الخلفاء الراشدين،باب مسند عمر بن الخطاب (بیروت :مؤسسۃ الرسالۃ،1421ھ) ، حدیث 323، 1409۔
  23. حسام الدىن،كنز العمال فى سنن الأقوال والأفعال، كتاب الفرائض من قسم الأقوال،الفصل الأول: في فضلہ وأحكام ذوي الفائض والعصبات وذوي الأرحام، حدیث:30475، 11:24 ۔
  24. ایضاً۔، حدیث:11384، 4:467۔
  25. مسلم بن الحجاج القشیری، الجامع الصحیح ،كتاب اللباس والزينۃ،باب تحريم استعمال إناء الذهب والفضۃ على الرجال والنساء، وخاتم الذهب والحرير على الرجل، وإباحتہ للنساء، (بیروت: دار إحىاء التراث العربى، س۔ن)، حدیث: 2069، 3:1642۔
  26. محمود بن عمرو بن أحمدالزمخشري ،الفائق في غريب الحديث والأثر، کتاب حرف الجيم،باب الجيم مع الراء( لبنان:دار المعرفۃ، 1402ھ)،1،205۔
  27. حسام الدىن،كنز العمال فى سنن الأقوال والأفعال، كتاب الحج من قسم الأفعال،فصل في جنايات الحج ومايقاربها،حدیث:12827، 5:263 ۔
  28. ابن سعد، الطبقات الكبرى،3:215۔
  29. أبو بكرمحمد بن خلف بن حىان ، أخبار القضا ۃ(مصر: المكتبۃ التجارىۃ الكبرى، 1366ھ)،1:285 ۔
  30. القرآن 7:157
  31. القرآن 7:31
  32. مالك، الموطأ ،كتاب الأشربۃ،باب جامع تحريم الخمر ،حدیث: 3134، 5:1241؛ محمد بن جرىر بن ىزىد الطبری،تارىخ الطبرى، تارىخ الرسل والملوك(بیروت: دار التراث، 1387ھ)، 4:188۔
  33. الطبرى ،تارىخ الرسل والملوك ، 4:188۔
  34. الهندي، كنز العمال فى سنن الأقوال والأفعال ،كتاب المعيشۃ من قسم الأفعال،باب محظور الأكل، حدیث: 41713، 15 : 433 ۔
  35. الطبرى ،تارىخ الرسل والملوك ، 4:61۔
  36. ایضاً۔،4:41۔
  37. الهندي، كنز العمال فى سنن الأقوال والأفعال ، كتاب القصاص والقتل والديات والقسامۃ من قسم الأفعال،باب قتل المؤذيات حدیث:40264،15:101۔
  38. علی بن الحسن ابن عساکر ، تاریخ مدینہ دمشق(بیروت، دار الفکر،1996ء) 32:69۔
  39. الهندي، كنز العمال فى سنن الأقوال والأفعال ، كتاب القصاص والقتل والديات والقسامۃ من قسم الأفعال،باب قتل المؤذيات ، حدیث : 36018، 12:666۔
  40. ا بوىوسف بن حسن بن أحمد بن حسن بن عبد الهادى ،محض الصواب فى فضائل أمىر المؤمنىن عمر بن الخطاب (المدىنۃ النبوىۃ: عماد ۃ البحث العلمى بالجامعۃ الإسلامىۃ، 1420ھ)، 2:714۔
  41. الهندي ،كنز العمال فى سنن الأقوال والأفعال ،كتاب الطب من قسم الأفعال،باب الأمراض ، حدیث: 28502، 10:96۔
  42. محمد بن اسماعیل البخاری، الجامع الصحیح ، کتاب الطب، باب ماجاء فی ذکر الطاعون (دار طوق النجاة،1422)حدیث: 5729،130،7۔
  43. کرونا وائرس ڈیزیز 2019، عصر حاضر کی ایسی وباء ہے جس نے دنیا کا سارا نظام الٹ کر رکھ دیا ہے۔ اس کے بچاوکی اہم ہدایات کے لئے ملاحظہ کریں۔
  44. ابن سعد، الطبقات الكبرى، 4:88۔
  45. ایضاً٫، 3:263۔
  46. أبو بكر عبد الرزاق بن همام الصنعانى، المصنف، محقق۔ حبىب الرحمن الأعظمى، كتاب المناسك،باب صلاة الجماعۃ في السفروكيف تسليم الحاج (شہر: المجلس العلمى الهند، 1403ھ)، حدیث:9269، 5:168۔
  47. الهندي، كنز العمال فى سنن الأقوال والأفعال ، ،كتاب الصحبۃ من قسم الأفعال،باب"حق المجالس والجلوس"حدیث: 25752، 9:223۔
  48. ایضاً ۔، حدیث: 28496، 10:93۔
  49. = احمد بن قاسم ابن ابی اصبیعۃ ، عيون الأنباء فى طبقات الأطباء، (بیروت: المطبعہ الوہبیہ، 1972ء) ، 22۔ =