Playstore.png

نقد سند و متن میں شیخ البانی کے تفردات

From Religion
Jump to navigation Jump to search

Warning: Page language "ur" overrides earlier page language "".

کتابیات
مجلہ التبیین
عنوان نقد سند و متن میں شیخ البانی کے تفردات
مصنف ایوب، شہزادہ عمران
جلد 1
شمارہ 1
سال 2017
صفحات 90-109
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
شکاگو 16 ایوب، شہزادہ عمران۔ "نقد سند و متن میں شیخ البانی کے تفردات۔" التبیین 1, شمارہ۔ 1 (2017)۔

Abstract

Shaykh Muhammad Nasiruddin Albani is known as the famous scholar of the twentieth century AD. He served in Hadith for almost 60 years. He has also some particularities in the hadith’s research in which he apposed a lot of scholars. The most important of them is that he has said that some Ahadith of Sahih Bukhari and Sahi Muslim are weak. Similarly, in contrast to the previous muhaddiseen, some weak traditions have said correct and some reliable narrators as weak. Apart from this, there are two particularities of him that are very important in the research world. One is that he has explored many of unknown Ahadith and secondly he has divided the books of Hadith into two parts; weak and accurate. Some detail of these particularities is presented in this article.

شیخ محمد ناصر الدین البانی ﷫بیسوی صدی عیسوی کے ایک معروف اور ممتاز عالم دین ہیں، جنہیں علم حدیث میں بےمثال خدمات انجام دینے کی بنا پر دور ِحاضر کے ایک نامور محدث کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ آپ کو علم حدیث اور رجال واسانید میں مہارت ِتامہ حاصل تھی ۔ آپ تقریباً ساٹھ سال کا عرصہ وفات تک تحقیقی خدمات میں مصروف رہے ۔ آپ کے سوانح حیات لکھنے والوں نے آپ کی مطبوعہ اور غیرمطبوعہ کتب کی تعداد ۲۰۰ کے قریب بتائی ہے ۔ آپ نے اپنے تحریری سرمائے کے ذریعے نہ صرف امت ِمسلمہ کو صحیح اور ضعیف احادیث کی پہچان کرائی بلکہ ان کے ایمان وعقائد ، عبادات اور معاملات کی اصلاح کی بھی بھرپور کوشش کی۔تخریجِ حدیث کے کام کو نئی زندگی بخشی ، مسائل واحکام میں موضوع اور من گھڑت روایات سے استدلال کا پردہ چاک کیا ، علم شرعی کی اہمیت وافادیت کو واضح کیا ، نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو نکھار کر پیش کیا ۔ آپ کی اس گراں قدر محنت کی وجہ سے لوگوں میں تحقیق کی جستجو پیدا ہو ئی۔ اس دوران آپ کو بہت سی آزمائشوں کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن آپ کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہ آئی اور آپ اپنے مشن پر ہمیشہ جاری رہے حتی کہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ۔

متعدد دیگر کبار علماء کی طرح شیخ البانی﷫کے بھی کچھ تفردات ہیں ، جن میں سے تحقیقِ حدیث سے متعلقہ تفردات کو حتی الامکان اس مضمون میں یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ لفظ تفر د دراصل عربی گرائمر کی رو سے باب تَفَرَّدَ یَتَفَرَّدُ (بروزن تفعل ) سے مصدر ہے ۔ اس کا معنی ہے ’’بغیر کسی نظیر کے اکیلا وتنہا ہونا ۔‘‘ ([1])یعنی کسی قول ، فعل اور وصف وغیرہ میں ایسی یکتائی جس میں کوئی بھی اس کی مثل نہ ہو ۔جیسے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی خالق ومالک نہیں ، اسماعیل ﷤کے علاوہ کوئی ذبیح اللہ نہیں ، محمدﷺ کے علاوہ کوئی خاتم النبیین نہیں وغیرہ وغیرہ ۔ ان اوصاف کے لحاظ سے ہر ایک کو اپنے اپنے وصف کے ساتھ منفرد کہا جائے گا ۔ بالفاظ ِدیگر تفرد کسی کی ایسی خصوصیت کا نام ہے جو صرف اسی میں پائی جائے اور کسی میں موجود نہ ہو۔تفرد کے حوالے سے یہاں یہ ذکر کر دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تفرد محض کسی کی خصوصیت کانام ہے خواہ وہ اچھی ہو یا بری ۔ شیخ البانی﷫کے تفردات کے حوالے سے بھی یہاں محض ان کے خصائصِ تحقیق ہی ذکر کرنا مقصود ہے قطع نظر اس سے کہ ان کی کوئی خصوصیت اچھی ہے یا بری ، مجموعی لحاظ سے نفع مند ہے یا نقصان دہ۔واضح رہے کہ شیخ البانی﷫ کے تحقیقِ حدیث میں تفردات کے ضمن میں اُن اُمور کو بھی ذکر کیا جائے گا جن میں شیخ ؒ اگرچہ منفرد تو نہیں ہیں مگر ان میں انہوں نے جمہور کی مخالفت بہرحال کی ہے ، ملاحظہ فرمایے:

کتب ِحدیث کی صحیح اور ضعیف دو حصوں میں تقسیم

شیخ البانی﷫نے کتب ِحدیث کو صحیح اور ضعیف دو حصوں میں تقسیم کر دیاہے ۔ متقدم کتبِ حدیث کے جامعین اور مصنفین نے یا تو صحیح احادیث پر مشتمل کتب ترتیب دیں (جیسے صحیح بخاری اور صحیح مسلم وغیرہ ) ، یا ضعیف اور موضوع احادیث پر (جیسے ا لموضوعات از ابن الجوزی ﷫اور الفوائد المجموعہ از شوکانی﷫وغیرہ ) اور یا صحیح ضعیف کا لحاظ رکھے بغیر محض احادیث کو جمع کر دیا (جیسے مسند احمد اور دارمی وغیرہ ) ۔شیخ البانی﷫نے اس سلسلے میں خاص کام یہ کیا ہے کہ جن کتب ِ حدیث کو صحیح کا نام دیا گیا تھا مگر ان میں ضعیف احادیث بھی موجود تھیں (جیسے صحیح ابن حبان اور صحیح ابن خزیمہ وغیرہ )۔ اور جن کتب ِ حدیث میں صحیح وضعیف کی تمیز کے بغیر احادیث جمع کی گئی تھیں انہیں اصولِ حدیث کی کسوٹی پر پرکھ کر دو حصوں میں تقسیم کر دیا ، صحیح الگ اور ضعیف الگ ۔ شیخ﷫ؒ کا یہ علمی وتحقیقی کام (جو پہلے کسی نے نہیں کیا تھا ) احادیث کے دو بڑے مجموعوں کی صورت میں سامنے آیا : ’’سلسلہ احادیث صحیحہ ‘‘اور ’’ سلسلہ احادیث ضعیفہ‘‘۔

’سلسلہ احادیث ِصحیحہ‘ میں شیخ ﷫نے صرف صحیح احادیث یکجا کرنے کا اہتمام کیا ہے جس کی سات جلدیں طبع ہو چکی ہیں اور ان میں ۴۰۳۵ احادیث مکمل تحقیق وتخریج کے ساتھ موجود ہیں ۔ ’سلسلہ احادیث ِضعیفہ‘ میں شیخ ﷫نے صرف ضعیف اور موضوع روایات جمع کرنے کا اہتمام کیا ہے، اس کی تیرہ جلدیں طبع ہو چکی ہیں جن میں ۷۱۶۲ ا حادیث درج ہیں ۔ ان تمام احادیث کی مکمل تحقیق وتخریج ، وجہ ضعف کا بیان اور رواۃ پر بحث شیخ﷫ نے نہایت عالمانہ ومحققانہ انداز میں پیش کی ہے ۔

ان دونوں سلسلوں کے علاوہ شیخ ﷫نے سنن اربعہ (ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ ) کی احادیث کی بھی تحقیق کر کے انہیں دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ، صحیح الگ اور ضعیف الگ ۔ اور اب یہ کتب صحیح ابوداؤد اور ضعیف ابوداؤد ، صحیح ترمذی اور ضعیف ترمذی ، صحیح نسائی اور ضعیف نسائی،صحیح ابن ماجہ اور ضعیف ابن ماجہ کے نام سے مطبوع ہیں (بلاشبہ یہ ایسا کام ہے جو پہلے کسی محدث نے بھی نہیں کیا ) ۔

اسی طرح شیخ ؒ نے امام سیوطی ﷫کی کتاب ’الجامع الصغیر‘ کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا ہے جو ’صحیح الجامع الصغیر‘ اور ’ضعیف الجامع الصغیر ‘کے نام سے مطبوع ہے ۔ نیز شیخ ؒ نے امام منذری ﷫کی ’الترغیب والترہیب ‘کی بھی تخریج وتحقیق کی ہے اور اسے بھی دو حصوں میں تقسیم کیا ہے جو صحیح ’الترغیب والترہیب‘ اور ’ضعیف الترغیب والترہیب ‘کے نام سے بیروت سے شائع ہو چکی ہیں۔

متقدم محدثین کے برخلاف بعض ضعیف روایات کی تصحیح

شیخ البانی ﷫نے بعض ایسی روایات کو صحیح کہہ دیا ہے جو متقدم محدثین کے نزدیک ضعیف تھیں جیسا کہ چند امثلہ درج ذیل ہیں:

1۔«قِیْلُوْا فَاِنَّ الشَّیَاطِیْنَ لَا تَقِیْلُ »

’’قیلولہ کرو بلاشبہ شیاطین قیلولہ نہیں کرتے ۔ ‘‘

شیخ البانی ﷫نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے ۔([2]) جبکہ متقدم ائمہ محدثین اسے ضعیف قرار دیتے ہیں۔جیسا کہ حافظ ابن حجر ﷫نے اس کے متعلق’فتح الباری‘ میں نقل فرمایا ہے کہ :

’’اس کی سند میں کثیر بن مروان راوی متروک ہے ۔ ‘‘([3])

امام سخاوی﷫نے اسے اپنی مشہور من گھڑت روایات پر مشتمل کتاب ’المقاصد الحسنہ‘ میں ذکر فرمایا ہے ۔([4]) امام عجلونی﷫ نے بھی اسے اپنی ضعیف روایات پر مشتمل کتاب ’کشف الخفاء ‘ میں ذکر فرمایا ہے ۔([5])ابن طاہر مقدسی ﷫نے اس روایت کے متعلق نقل فرمایا ہے کہ :

’’اس (کی سند ) میں عباد بن کثیر کاہلی راوی متروک الحدیث ہے ۔ ‘‘([6])

2۔«اللّٰهُمَّ اَحْیِنِیْ مِسْکِیْنًا وَ اَمِتْنِیْ مِسْکِیْنًا وَ احْشُرْنِیْ فِیْ زُمْرَةِ الْمَسَاکِیْنِ »

’’اے اللہ ! مجھے مسکین زندہ رکھ ، مسکین فوت کر اور مساکین کے گروہ میں ہی اٹھانا ۔ ‘‘

شیخ البانی ﷫نے اس حدیث کو قابل حجت قرار دیا ہے جیسا کہ ’ارواء الغلیل‘ میں اسے ذکر کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ صحیح ہے ۔([7])صحیح الترغیب میں اسے حسن لغیرہ کہا ہے ۔([8]) اور سلسلہ صحیحہ میں اسے حسن کہا ہے ۔([9])

تاہم متقدم ائمہ محدثین اس روایت کو ضعیف قرار دیتے ہیں جیسا کہ امام ابن جوزی﷫نے اسے موضوعات میں ذکر فرمایا ہے اور اسے نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ :

’’یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں ۔ ‘‘([10])

علامہ طاہر پٹنی نے اسے ’تذکرۃ الموضوعات‘ میں ذکر فرمایا ہے۔([11]) شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ نے اس حدیث کو ’احادیث القصاص ‘ میں ذکر فرمایا ہے اور اس کے بعد فرمایا ہے کہ:

’’یہ روایت ضعیف ہے ، ثابت نہیں۔ ‘‘([12])

امام سخاوی﷫نے اسے ’المقاصد الحسنہ ‘ میں ذکر فرمایا ہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ([13])امام سیوطی﷫نے اس روایت کو ’اللآلی المصنوعہ ‘ میں ذکر فرمایا ہے اور اسے غیر صحیح کہا ہے۔([14]) امام شوکانی﷫نے اسے موضوع روایات پر مشتمل اپنی کتاب ’ الفوائد المجموعہ‘ میں نقل فرمایا ہے ۔([15])ابو الحسن علی کنانی﷫ نے اس روایت کو اپنی کتاب ’تنزیہ الشریعہ المرفوعہ ‘ میں نقل فرمایا ہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ([16])

3۔«کُنَّا اِذَا سَلَّمَ النَّبِیُّ ﷺ عَلَیْنَا قُلْنَا:وَ عَلَیْکَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ»

’’جب نبی کریم ﷺ ہمیں سلام کہتے تو ہم جواب میں کہتے ’’وعلیک السلام ورحمة الله وبرکاته ومغفرته۔ ‘‘

شیخ البانی ﷫نے اس روایت کو ’سلسلہ صحیحہ‘ میں نقل فرمایا ہے اور اسے صحیح کہا ہے ۔ ([17])جبکہ متقدم محدثین اسے ضعیف کہتے ہیں۔جیسا کہ حافظ ابن حجر ﷫نے فرمایا ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے۔([18]) امام بیہقی ﷫نے فرمایا ہے کہ اس کی سند میں ’شعبہ‘ تک ایسے رواۃ ہیں جو قابل حجت نہیں۔([19])

متقدم محدثین کے برخلاف بعض صحیح روایات کی تضعیف

شیخ البانی ﷫نے بعض ایسی روایات کو ضعیف قرار دیا ہے جو متقدم محدثین کے نزدیک بالاتفاق صحیح تھیں ۔جیسا کہ اس کی چند امثلہ حسب ذیل ہیں :

صحیح بخاری کی روایات

1۔ «عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: قَالَ اللهُ تَعَالَى: ثَلاَثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ القِيَامَةِ، رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِهِ أَجْرَهُ»

’’حضرت ابوہریرہ ﷜نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ :اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں تین آدمیوں کا قیامت کے دن دشمن ہوں گا۔ایک وہ آدمی جس نے میرے نام پر عہد وپیمان کیا پھر غداری کرتے ہوئے اسے توڑ دیا ۔دوسرا وہ آدمی جس نے کسی آزاد شخص کو غلام بنا کر بیچا اور اس کی قیمت کھا لی اور تیسرا وہ آدمی جس نے کسی مزدور کو اجرت پر رکھا ، اس سے پورا کام لیا لیکن مزدوری نہ دی ۔‘‘([20])

شیخ البانی ﷫نے اس روایت کو ’ضعیف الجامع الصغیر‘ میں نقل فرمایا ہے ۔([21])

2۔«عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: إِنَّ العَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ الله، لاَ يُلْقِي لَهَا بَالًا، يَرْفَعُهُ اللهُ بِهَا دَرَجَاتٍ، وَإِنَّ العَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللهِ، لاَ يُلْقِي لَهَا بَالًا، يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ»

’’حضرت ابوہریرہ ﷜سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’ بندہ اللہ کی رضامندی کے لیے ایک بات زبان سے نکالتا ہے ، اسے وہ کوئی اہمیت بھی نہیں دیتا مگر اسی کی وجہ سے اللہ اس کے درجے بلند کر دیتا ہے اور ایک دوسرا بندہ ایک ایسا کلمہ زبان سے نکالتا ہے جو اللہ کی ناراضگی کا باعث ہوتا ہے ، اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا لیکن وہ اسی کی وجہ سے جہنم میں چلا جاتا ہے ۔ ‘‘([22])

شیخ البانی﷫ نے اس روایت کو ’سلسلہ ضعیفہ ‘ میں نقل فرمایا ہے اور اسے ضعیف کہا ہے۔([23])

3۔«لاَ عُقُوبَةَ فَوْقَ عَشْرِ ضَرَبَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ الله» ([24])

’’حدود ِالٰہی میں سے کسی حد کے سوا دس ضربوں سے زیادہ کوئی سزا نہیں۔‘‘

شیخ البانی﷫نے اس روایت کے متعلق کہا ہے کہ ’عقوبۃ ‘ کے لفظ کے ساتھ یہ روایت منکر ہے۔([25])

4۔ «عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: بَيْنَا أَنَا قَائِمٌ إِذَا زُمْرَةٌ، حَتَّى إِذَا عَرَفْتُهُمْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِي وَبَيْنِهِمْ، فَقَالَ: هَلُمَّ، فَقُلْتُ: أَيْنَ ؟قَالَ: إِلَى النَّارِ وَاللهِ، قُلْتُ: وَمَا شَأْنُهُمْ؟ قَالَ: إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا بَعْدَكَ عَلَى أَدْبَارِهِمْ القَهْقَرَى. ثُمَّ إِذَا زُمْرَةٌ. . . » ([26])

’’حضرت ابوہریرہ﷜بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ :میں (حوض پر) کھڑا ہوں گا کہ ایک جماعت میرے سامنے آئے گی اور جب میں انہیں پہچان لوں گا تو ایک شخص (فرشتہ ) میرے اور ان کے درمیان سے نکلے گا اور ان سے کہے گا کہ ادھر آؤ۔ میں کہوں گا کہ کدھر ؟وہ کہے گا کہ واللہ جہنم کی طرف ۔میں کہوں گا کہ ان کے حالات کیا ہیں ؟ وہ کہے گا کہ یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں (دین سے ) واپس لوٹ گئے تھے ۔ پھر ایک اور گروہ میرے سامنے آئے گا ۔‘‘

شیخ البانی ﷫نے اس روایت کو ’سلسلہ ضعیفہ ‘ میں نقل فرمایا ہے اور اس کے متعلق کہا ہے کہ یہ شاذ بلکہ منکر ہے۔ ([27])

5۔ «عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: إِذَا وُسِّدَ الأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ» ([28])

’’حضرت ابوہریرہ﷜سے مروی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب معاملات نااہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں تو قیامت کے منتظر رہو ۔ ‘‘

اس روایت کو شیخ البانی﷫ نے ضعیف کہا ہے ۔ ([29])علاوہ ازیں شیخ البانی ﷫نے صحیح بخاری کی چند اور روایات کو بھی ضعیف کہا ہے ۔([30])

صحیح مسلم کی روایات

1۔ «قَالَ أَنَسٌ: أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطَرٌ، قَالَ: فَحَسَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ، حَتَّى أَصَابَهُ مِنَ الْمَطَرِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا ؟قَالَ: لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ تَعَالَى» ([31])

’’حضرت انس﷜کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ ہمیں بارش نے آ لیا ۔ آپﷺ نے اپنا کپڑا ہٹا لیا حتی کہ آپ تک بارش پہنچ گئی۔یہ دیکھ کر ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’ کیونکہ یہ (بارش ) ابھی ابھی اپنے پروردگار کی طرف سے آئی ہے ۔ ‘‘

اس حدیث کو شیخ البانی﷫ نے ’ارواء الغلیل ‘ میں نقل فرمایا ہے اور اسے ضعیف کہا ہے۔([32])

2۔«عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَةَ رَضِیَ الله عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : لَا يَشْرَبَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَائِمًا، فَمَنْ نَسِيَ فَلْيَسْتَقِئْ»

’’حضرت ابوہریرہ ﷜فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’تم میں سے کوئی بھی ہرگز کھڑا ہو کر پانی نہ پیے اورجو بھول جائے وہ قے کر دے ۔‘‘([33])

شیخ البانی ﷫نے اس روایت کو ’سلسلہ ضعیفہ ‘ میں نقل فرمایا ہے اور کہا ہے کہ یہ روایت ان لفظوں کے ساتھ منکر ہے ۔ ([34])

2۔«قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَفْعَلُ ذَلِكَ، أَنَا وَهَذِهِ، ثُمَّ نَغْتَسِلُ ،یعنی الْجَمَاع بِدُونِ اِنْزَال» ([35])

’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اور یہ (یعنی عائشہ ؓ) اس طرح کرتے ہیں ( یعنی بغیر انزال کے ہم بستری کرتے ہیں ) پھر ہم غسل کر لیتے ہیں ۔ ‘‘

شیخ البانی ﷫نے اس روایت کو بھی ’سلسلہ ضعیفہ ‘ میں نقل فرمایا ہے اور اسے مرفوعاً ضعیف قرار دیا ہے ۔ ([36])

3۔ «اَنَّ النَّبی ﷺ صَلَّی فِیْ کُسُوْفٍ ثَمَانِیَ رَکَعَاتٍ فِیْ اَرْبَعِ سَجَدَاتٍ» ([37])

’’نبی کریم ﷺ نے نماز کسوف میں آٹھ رکوع اور چار سجدے کیے۔‘‘

شیخ البانی ﷫نے اس روایت کے متعلق کہا ہے کہ یہ ضعیف ہے اگرچہ اسے مسلم اور دیگر نے روایت کیا ہے ۔ ([38])

4۔«عَنْ اَبِی الدَّرْدَاءِ رضی الله عنه قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فِیْ شَهْرِ رَمَضَانَ فِیْ حَرٍّ شَدِیْدٍ . . . » ([39])

’’حضرت ابودرداء ﷜بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ماہ رمضان میں سخت گرمی میں نکلے ... ۔ ‘‘

شیخ البانی﷫ نے اس روایت کے متعلق کہا ہے کہ ا س میں ’فی شهر رمضان ‘ کے لفظ شاذ ہیں ، ثابت نہیں ہیں۔([40])

علاوہ ازیں شیخ البانی ﷫نے صحیح مسلم کی چند اور روایات پر بھی جرح کی ہے ۔ ([41])

درج بالا امثلہ سے معلوم ہوا کہ شیخ البانی ﷫نے صحیحین کی بعض روایات پر ضعف کا حکم لگایا ہے جبکہ متقدم ائمہ محدثین کا موقف یہ ہے کہ صحیحین کی تمام روایات قطعی طور پر صحیح ہیں ۔ جیسا کہ حافظ ابن الصلاح﷫نے فرمایا ہے کہ:

’’وہ تمام احادیث جن پرامام مسلم نے اپنی کتاب میں صحیح ہونے کا حکم لگایا ہے۔ ان کی حجت قطعی ہے اور نفس امر میں ان کی صحت سے علم نظری حاصل ہوتا ہے ۔اور یہی معاملہ (ان احادیث کا بھی ہے) جن پر امام بخاری﷫نے اپنی کتاب میں صحیح ہونے کا حکم لگایا ہے ۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ امت کے ہاں اسے تلقی بالقبول حاصل ہے۔ سوائے ان افراد کے جن کی مخالفت و موافقت اجماع پر اثر انداز نہیں ہوتی۔‘‘([42])

اور حافظ ابن حجر ﷫نے نقل فرمایا ہے کہ :

’’استاد ابو اسحق اسفرائینی فرماتے ہیں کہ اہل فن کا اس پر اجماع ہے کہ وہ تمام احادیث جن پر صحیحین مشتمل ہیں، صاحب شرع (یعنی نبی کریم ﷺ ) سے قطعی طور پر ثابت ہیں۔‘‘([43])

امام نووی﷫ نے صحیح مسلم کے مقدمہ میں ذکر فرمایا ہے کہ :

’’علما کا اتفاق ہے کہ قرآن کریم کے بعد سب سے زیادہ صحیح کتابیں صحیح بخاری اور صحیح مسلم ہیں اور ان دونوں کو امت کی طرف سے تلقی بالقبول حاصل ہے ۔ ‘‘([44])

امام الحرمین جوینی ﷫فرماتے ہیں کہ:

’’کوئی شخص یہ قسم اُٹھا لے کہ اگر صحیح بخار ی و صحیح مسلم کی تمام روایات صحیح نہ ہوں تو اس کی بیوی کو طلاق ہے، تو ایسی صورت میں اس کی بیوی کو نہ تو طلاق ہو گی اور نہ وہ شخص ’حانث‘ ہو گا کیونکہ مسلمانوں کا صحیح بخار ی و صحیح مسلم کی صحت پر اجماع ہے۔‘‘([45])

حافظ ابو نصر سجزی﷫فرماتے ہیں کہ :

’’تمام اہل علم فقہا اور ان کے علاوہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی شخص اس بات پر طلاق کا حلف اٹھا لے کہ جو بھی صحیح بخاری میں اللہ کے رسولﷺسے مروی روایات موجود ہے، وہ آپﷺ سے ثابت ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ آپﷺ ہی کے فرامین ہیں، تو ایسا شخص حانث نہ ہو گا اور عورت اس کے عقد میں ہی باقی رہے گی۔‘‘([46])

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫رقمطراز ہیں کہ :

’’جہاں تک صحیحین کا معاملہ ہے تو محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ جو بھی متصل مرفوع احادیث صحیحین میں موجود ہیں، وہ قطعاًصحیح ہیں اور ان دونوں کتابوں کی سند اپنے مصنّفین تک متواتر ہے۔‘‘([47])

درج بالا اقوال سے معلوم ہوا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی تمام روایات کی صحت پر ائمہ محدثین کا اتفاق ہے ۔ لہٰذا اب اگر کوئی ان کتب کی کسی روایت کو بھی ضعیف کہے گا تو اس کی بات معتبر نہیں ہو گی ۔

متقدم محدثین کے برخلاف بعض ثقہ رواۃ کی تضعیف

شیخ البانی ﷫نے بعض ایسے راویوں کو مجہول یا غیر ثقہ قرار دیا ہے جو متقدم محدثین کے نزدیک ثقہ تھے جیسا کہ چند امثلہ پیش خدمت ہیں :

1-یحییٰ بن مالک ، ابو ایوب ازدی عتکی بصری مراغی

شیخ البانی ﷫نے اس راوی کو مجہول قرار دیا ہے ۔([48])جبکہ متقدم محدثین اس راوی کو ثقہ قرار دیتے ہیں ۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر﷫نے اسے ثقہ کہا ہے ۔ ([49]) امام ابن حبان﷫نے اسے’الثقات ‘میں ذکر فرمایا ہے ۔([50])امام نسائی ﷫نے اسے ثقہ کہا ہے ۔([51])

امام ذہبی ﷫نے بھی اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اس کے متعلق یوں ذکر فرمایا ہے کہ:

’’ابو ایوب مراغی ازدی (راوی ) ثقہ ہے ، اس کا نام یحییٰ بن مالک ہے ۔ ‘‘([52])

2-ابو قلابة ، عبد الله بن زید بن عمرو الجرمی

شیخ البانی﷫نے اس راوی کو مدلس کہا ہے اور اس کی روایت کو قبول نہیں کیا ۔([53])جبکہ متقدم محدثین اسے ثقہ قرار دیتے ہیں ۔ چنانچہ حافظ ابن حجر﷫ نے اسے ثقہ فاضل کہا ہے ۔ ([54])

امام عجلی ﷫نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔([55])

امام ذہبی ﷫نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ یہ ائمہ تابعین میں سے ہے ۔ ([56])

امام ابن حبان ﷫نے اسے ’الثقات ‘ میں ذکر فرمایا ہے ۔ ([57])

ابن سعد﷫نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ یہ ’ثقہ کثیر الحدیث‘ تھا ۔([58])

امام عجلی پر تساہل کا حکم

شیخ البانی ﷫نے متقدم محدثین کے برعکس امام عجلی﷫کی توثیق کو قبول نہیں کیا بلکہ انہیں ابن حبان ﷫کی طرح متساہل قرار دیا ہے ۔

چنانچہ وہ اپنی کتاب ’سلسلہ صحیحہ ‘میں نقل فرماتے ہیں کہ:

"العجلی معروف بالتساهل فی التوثیق کابن حبان تماما" ([59])

’’عجلی﷫ توثیق میں مکمل طور پر ابن حبان ﷫کی طرح تساہل کے ساتھ معروف ہیں ۔‘‘

شیخ البانی﷫’تمام المنہ ‘ میں رقمطراز ہیں کہ:

’’عجلی اور ابن حبان (دونوں )کی توثیق پرنفس مطمئن نہیں کیونکہ ان کا تساہل معروف ہے ۔ ‘‘([60])

شیخ ﷫نے ’ارواء الغلیل‘ میں نقل فرمایا ہے کہ:

’’ یہ دونوں (یعنی عجلی اور ابن حبان ) توثیق میں تساہل کے ساتھ معروف ہیں اس لیے توثیق میں ان دونوں کے منفرد ہونے کی صورت میں دل مطمئن نہیں ہوتا ۔ ‘‘([61])

شیخ البانی ﷫کی مذکورہ عبارتوں سے معلوم ہوا کہ شیخ ؒ کے نزدیک امام عجلی﷫ توثیق میں متساہل ہیں اور اگر وہ کسی کی توثیق میں اکیلے ہوں تو شیخ ؒ کے نزدیک اس کی توثیق قابل قبول نہیں ۔ جبکہ متقدم محدثین میں سے کسی نے بھی امام عجلی ﷫کو متساہل نہیں کہا بلکہ ان کی توثیق کو قبول کیا ہے ۔اور متعدد رواۃ کے بارے میں عجلی ﷫کی توثیق نقل فرماتے ہوئے اس پر اعتماد کا اظہار بھی کیا ہے ۔ چند امثلہ درج ذیل ہیں:

1۔أزهر بن عبد الله بن جمیع الحرازی الحمصی الناصبی

اس راوی پر تبصرہ کرتے ہوئے حافظ ابن حجر ﷫نے نقل فرمایا ہے کہ:

’’ ابن الجارود نے ’ضعفاء‘میں کہا ہے کہ یہ علی ﷜کو گالیاں دیاکرتا تھا اور امام ابوداود ﷫نے کہا ہے کہ میں اس سے نفرت کرتا ہوں ... پھر حافظ﷫نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ :

’’ میں کہتا ہوں کہ محدثین نے صرف اس کے مذہب کے بارے میں ہی کلام کیا ہے اور عجلی﷫ نے اس کی توثیق کی ہے ۔ ‘‘([62])

2۔أبان بن اسحا ق المدنی

اس کے بارے میں امام ذہبی﷫نے نقل فرمایا ہے کہ:

’’ ابو الفتح ازدی نے اسے متروک کہا ہے اور میں کہتا ہوں کہ اسے متروک قرار نہیں دیا جا سکتا ، بلاشبہ احمد اور عجلی نے اس کی توثیق کی ہے۔‘‘([63])

امام عجلی ﷫وغیرہ کی توثیق پر ہی اعتماد کرتے ہوئے حافظ ابن حجر ﷫نے اس راوی کے بارے میں نقل فرمایا ہے کہ :

’’یہ ثقہ ہے ، ازدی نے بلادلیل اس میں کلام کیا ہے ۔ ‘‘([64])

3۔أمیة بن عبد الله بن خالد بن أسید الأموی المکی

حافظ ابن حجر﷫ نے ’تہذیب ‘ میں اس کے بارے میں نقل فرمایا ہے کہ :

’’ابن سعد نے اسے قلیل الحدیث کہا ہے جبکہ عجلی نے اسے ثقہ کہا ہے ۔‘‘([65])

امام عجلی ﷫کی اسی توثیق پر اعتماد کرتے ہوئے حافظ﷫نے اپنی دوسری کتاب ’تقریب‘ میں اسے ثقہ قرار دیا ہے۔([66])اسی طرح امام ذہبی ﷫نے بھی ’الکاشف ‘ میں اسے ثقہ کہا ہے ۔ ([67])

4۔أسماء بن الحکم الفزاری

امام عجلی ؒ نے اس راوی کے متعلق کہا ہے کہ یہ کوفی تابعی ثقہ ہے ۔([68]) امام ابن حبان ؒ نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ یہ غلطیاں کیا کرتا تھا ۔([69]) امام ذہبی ؒ نے اپنی کتاب ’’الکاشف ‘‘ میں عجلی کی توثیق پر اعتماد کرتے ہوئے اس راوی کے متعلق صرف یہی ذکر فرمایا ہے کہ :

’’اسے عجلی(﷫) نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ‘‘([70])

5۔حسان بن الضمری الشامی

حافظ ابن حجر ﷫نے اس راوی کے متعلق اپنی کتاب ’تہذیب التہذیب ‘ میں ذکر فرمایا ہے کہ:

’’امام نسائی ﷫نے کہا ہے کہ یہ مشہور نہیں ہے ،جبکہ میں کہتا ہوں کہ عجلی(﷫) نے کہا ہے کہ یہ شامی ثقہ ہے۔‘‘([71])

حافظ ابن حجر﷫نے امام عجلی ﷫کی توثیق پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی دوسری کتاب ’تقریب التہذیب‘ میں اس راوی کو ’ثقہ مخضرم ‘قرار دیا ہے ۔ ([72])

غیر معروف احادیث کی تخریج

شیخ البانی ﷫نے ایسی احادیث کی تخریج کی ہے جو پہلے بالکل غیر معروف تھیں جیسے حضرت ابن عمر ﷜سے مروی نماز میں کھڑے ہوتے وقت زمین پر مٹھیاں رکھ کر اٹھنے والی روایت ۔ یہ روایت پہلے غیر معروف تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ بالعموم نہ تو کتب فقہ میں اس کا کہیں ذکر ملتا ہے اور نہ ہی کتب حدیث میں ۔ شیخ البانی ﷫نے اسے نہ صرف نقل کیا ہے بلکہ اس کی تحقیق بھی کی ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے ۔ اس کے الفاظ یہ ہیں :

عَنِ الْاَزْرَقِ بْنِ قَیْسٍ : رَاَیْتُ ابْنَ عُمَرَ یُعْجِنُ فِی الصَّلَاۃِ یَعْتَمِدُ عَلَی یَدَیْهِ فِی الصَّلَاۃِ اِذَا قَامَ ، فَقُلْتُ لَهُ ، فَقَالَ : «رَاَیْتُ رَسُوْلَ الله ﷺ یَفْعَلُهُ »

’’ازرق بن قیس بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ﷜کو دیکھا وہ جب نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں باندھ کر ان پر ٹیک لگاتے ۔ (ازرق بیان کرتے ہیں کہ ) میں نے ابن عمر﷜ سے (اس عمل کے بارے میں ) دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔‘‘

اس روایت کے متعلق شیخ البانی ﷫نے نقل فرمایا ہے کہ:

’’اسے ابو اسحق حربی نے ’غریب الحدیث ‘میں روایت کیا ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ اس کی سند حسن ہے اور وہ یوں ہے حدثنا عبید الله بن عمر حدثنا یونس بن بکیر عن الهیثم بن عطیة عن قیس بن الأزرق بن قیس به ۔ میں کہتا ہوں کہ قیس کے دونوں بیٹے ثقہ ہیں اور صحیح کے رواۃ میں سے ہیں۔ ہیثم ،ابن عمران دمشقی ہے اسے امام ابن حبان﷫ نے ’الثقات‘ میں ذکر کیا ہے ۔ یونس بن بکیر اور عبید اللہ بن عمر (دونوں ) بھی ثقہ ہیں اور مسلم کے رواۃ میں سے ہیں ۔اور دوسرے سے تو بخاری نے بھی روایت کی ہے اور وہ عبید اللہ بن عمر بن میسرہ القواریری ہے ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ (نماز میں ) کھڑے ہوتے وقت ہاتھوں پر ٹیک لگانا رسول اللہ ﷺ کی سنت ِثابتہ ہے۔

تنبیہ: ابن عمر ﷜کی یہ مرفوع حدیث ابن الصلاح ﷫، نووی ﷫اور حافظ ابن حجر عسقلانی﷫ وغیرہ جیسے حفاظ پر بھی مخفی رہ گئی ہے ۔ ’تلخیص الحبیر ‘میں ابن عباس ﷜کی یہ روایت مذکور ہے کہ :

’’رسول اللہ ﷺ جب نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھ زمین پر اس طرح رکھتے جیسے آٹا گوندھنے والا رکھتا ہے ۔‘‘

ابن الصلاح ﷫نے ’الوسیط ‘ پر کلام کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ :

’’یہ حدیث نہ تو صحیح ہے اور نہ ہی معروف ہے اس لیے قابل حجت نہیں۔‘‘

امام نووی ﷫نے ’شرح المہذب ‘ میں فرمایا ہے کہ :

’’یہ حدیث ضعیف یا باطل ہے ، اس کی کوئی اصل نہیں۔‘‘

اور ’تنقیح‘ میں فرمایا ہے کہ :’’یہ ضعیف وباطل ہے ۔‘‘

یہ وہ کلمات ہیں جو حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫نے ان ائمہ کے حوالے سے نقل فرمائے ہیں اور کسی بھی چیز کے ساتھ ان کا تعاقب نہیں کیا۔ (جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ) انہیں اس مرفوع حدیث کا علم نہیں تھا اور یہ اس مشہور مقولے کا مصداق ہے کہ ’’کتنے ہی ایسے کام ہیں جو پہلوں نے بعد والوں کے لیے چھوڑ دیے ہیں ۔ ‘‘ پس تمام تعریفیں اسی اللہ کے لیے ہیں جس نے اس روایت تک پہنچنے کی توفیق دی اور میں اللہ تعالیٰ سے اس کے مزید فضل کا سوال کرتا ہوں۔‘‘([73])

معلوم ہوا کہ شیخ البانی ﷫نے ایسی روایات کی تخریج کر کے انہیں امت کے سامنے پیش کیا ہے جو نادر اور غریب تھیں۔مزید اس کا ثبوت یہ بھی ہے کہ شیخ ﷫نے اپنی کتب میں دورانِ تحقیق بہت سے قلمی نسخوں کے بھی حوالہ جات نقل کیے ہیں جویقیناً غیرمطبوع تھے اور ان میں موجود روایات سب کے سامنے نہیں تھیں ۔

قلمی نسخوں کے حوالہ جات کی چند امثلہ

حسب ذیل ہیں :

1۔أخرجه ...اسماعیل القاضی فی "فضل الصلاۃ علی النبی ﷺ " (ق ۸۹ ؍۱۔۲) ۔([74])

2۔أخرجه ... ابن نصر فی "الصلاة" (ق ۱۶۵۔۱۶۶ ؍۱) ۔([75])

3۔أخرجه ابن بشران فی "الأمالی" (ق ۸ ؍۱) ۔([76])

4۔أما حدیث أبی سعید فراوه البغوی فی "نسخة عبد الله الخراز" (ق ۳۲۸ ؍۱) ۔([77])

5۔روی منه أبو الحسن بن شاذان فی "حدیث عبد الباقی وغبره" (ق ۵۵۱ ؍۱۔۲) ۔([78])

6۔ثم وقفت علی اسنادہ فی "الترغیب" لابن شاهین (ق ۲۶۲ ؍۱۔۲) ۔([79])

7۔رواه ابن الأعرابی فی "المعجم" (ق ۱۹۷ ؍۱) ۔([80])

8۔رواه نحوه أبو عثمان البجیرمی فی "الفوائد" (ق ۲۵ ؍۲) ۔([81])

9۔ ثم رأیت الحافظ الناجی فی "عجالة الاملاء " (ق ۱۲۴ ؍۲) ۔([82])

10۔أخرجه الاسماعیلی فی "معجمه " (ق ۱۰۵ ؍۲۔۱۰۶؍۱) ۔([83])

کتابت ِسند میں خاص اسلوب

سند کے حوالے سے شیخ البانی﷫ کا خاص اسلوب بھی اگر یہاں ذکر کر دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ شیخ ﷫جب سند تحریر فرماتے ہیں تو الفاظ ِتحدیث کے بعد یہ علامت : (یعنی دو نقطے ) نقل کرتے ہیں جیسے حدثنا فلان : حدثنا فلان : حدثنا فلان : وغیرہ۔ اہل علم نے اسے شیخ ﷫کا تفرد قرار دیا ہے کیونکہ یہ اسلوب آپ سے پہلے کسی نے بھی اختیار نہیں کیا ۔متقدمین سند لکھتے ہوئے ایسی کوئی علامت نقل نہیں کرتے جبکہ متاخرین یہ علامت [ ، ]استعمال کر لیتے ہیں ۔ شیخ البانی ﷫ کے اس خاص اسلوب کی چند امثلہ پیش خدمت ہیں:

"أخرجه النسائی ... من طرق عن الأوزاعی قال : حدثنا یحیی بن أبی کثیر قال : حدثنی ابن أبی : أن أباه أخبره : أنه کان لهم ..." ([84])

"واسناده هکذا : حدثنا أبو نعیم قال : حدثنا شیبان عن یحیی عن أبی سلمة"([85])

"قال الملخص فی ’ الفوائد المنتقاة ‘ فی ’ الثانی من السادس منها ‘" (ق ۱۹۰؍۱) : حدثنا یحیی (یعنی ابن صاعد ) قال : حدثنا الجراح بن مخلد قال : حدثنا یحیی بن العریان الهروی قال : حدثنا حاتم بن اسماعیل عن أسامة بن زید عن نافع عنه " ([86])

"فقال البزار فی مسندہ (۱؍۱۶۹؍۱۴۴۸) : حدثنا عمر بن الخطاب السجستانی : ثنا سعید بن أبی مریم : ثنا یحیی بن أیوب قال : حدثنی ابن زحر ۔ یعنی : عبید الله بن زحر" ([87])

"وقد حدثنا عبد الله بن محمد بن اسحاق المروزی قال : ثنا الحسن بن أبی الربیع الجرجانی قال : أخبرنا عبد الرزاق : أخبرنا ابن جریج : أخبرنی أبو الزبیر أنه سمع جابر بن عبد الله ..." ([88])

درج بالا بحث سے معلوم ہوا کہ تحقیقِ حدیث میں شیخ البانی ﷫کے کچھ تفردات بھی ہیں جن میں انہوں نے جمہور محدثین کی مخالفت کی ہے۔ان میں سب سے قابل ذکر تفرد صحیحین کی بعض احادیث کی تضعیف ہے جبکہ متقدم محدثین کا ان دونوں کتب کی تمام احادیث کی صحت پر اتفاق ہے ۔ اسی طرح شیخ ﷫کے تفردات میں متقدم محدثین کے نزدیک بعض ضعیف روایات کی تصحیح ، بعض ثقہ رواۃ کی تضعیف اور امام عجلی ﷫پر تساہل کا حکم بھی شامل ہے ۔ شیخ ﷫کے دو تفرد ایسے ہیں جنہیں تحقیقِ حدیث کی دنیا میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اور وہ یہ کہ شیخ ﷫نے ایسی احادیث کی تخریج کی ہے جو پہلے یکسر غیر معروف تھیں حتی کہ بہت سے مخطوطات جو ابھی تک طبع نہیں ہوئے تھے۔شیخ﷫ نے دورانِ تحقیق ان سے بھی استفادہ کیا ہے اور ان میں موجود احادیث کی تحقیق نقل کی ہے۔اور اسی طرح کتب ِحدیث کی صحیح اور ضعیف دو حصوں میں تقسیم اور صحیح اور ضعیف احادیث کے دو سلسلے جو ہر حدیث کی انتہائی جامع تحقیق وتخریج پر مشتمل ہیں شیخ ؒ کی گرانقدر خدمات ِحدیث کے آئینہ دار ہیں ۔ [جزاه الله خیرا واحسن الجزاء[


حوالہ جات

  1. () ابن منظور الافریقی ، جمال الدین ابو الفضل محمد بن مکرم ، لسان العرب ،دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، ۱۹۸۸ء (مادہ : فرد) ۔
  2. () الالبانی ، علامہ محمد ناصر الدین ، سلسلة الأحادیث الصحیحة وشیء من فقهها وفوائدها ، مکتبۃ المعارف ، ریاض ، ۱۹۹۵ء (رقم : ۱۶۴۷) ؛ ایضا ، صحیح الجامع الصغیر وزیادته ، المکتب الاسلامی ، بیروت ، ۱۹۸۲ء (رقم : ۴۴۳۱) ۔
  3. () ابن حجر عسقلانی ، ابو الفضل شہاب الدین احمد ، فتح الباری شرح صحیح البخاری ، دار المعرفة ، بیروت ، ۱۳۷۹ھ (۱۱؍۷۰) ۔
  4. () السخاوی ، شمس الدین محمد بن عبد الرحمن ، المقاصد الحسنة فی بیان کثیر من الأحادیث المشتهرة علی الألسنة، دار الکتاب العربی ، بیروت ، ۱۴۱۱ھ (ص : ۴۱۸) ۔
  5. () العجلونی ، اسماعیل بن محمد الجراحی ، کشف الخفاء ومزیل الالباس عما اشتهر من الأحادیث علی ألسنة الناس، دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، بدون التاریخ (۱؍۱۲۰) ۔
  6. () ابن طاہر المقدسی ، کتاب معرفة التذکرة ، مؤسسة الکتب الثقافیة ، بدون التاریخ (ص : ۴۳) ۔
  7. () الالبانی ، علامہ محمد ناصر الدین ، ارواء الغلیل فی تخریج أحادیث منار السبیل ، المکتب الاسلامی ، بیروت ، ۱۹۷۹ء (۸۶۱) ۔
  8. () الالبانی ، علامہ محمد ناصر الدین ، صحیح الترغیب والترهیب ، مکتبۃ المعارف ، ریاض، ۲۰۰۰ء (۳۱۹۲) ۔
  9. () السلسلة الصحیحة (۳۰۸) ۔
  10. () ابن الجوزی ، امام ابو الفرج عبد الرحمن بن علی ، الموضوعات ، المکتبة السلفیة ، المدینة ، ۱۳۸۸ھ (۳؍۱۴۱) ۔
  11. () محمد طاہر پٹنی ، تذکرة الموضوعات، دار المعرفة ، بیروت ، ۱۹۷۱ء (ص : ۵۹) ۔
  12. () ابن تیمیہ ، تقی الدین ابو العباس احمد بن عبد الحلیم ، احادیث القصاص، المکتب الاسلامی ، بیروت ، ۱۹۸۸ء (ص : ۱۰۱) ۔
  13. () المقاصد الحسنة (ص : ۱۵۳) ۔
  14. () السیوطی ، جلال الدین عبد الرحمن بن ابی بکر ، اللآلی المصنوعة فی الأحادیث الموضوعة ، دار الکتب العلمیۃ ، بیروت ، ۱۹۹۵ء (۲؍۲۷۴) ۔
  15. () الشوکانی ، محمد بن علی بن محمد ، الفوائد المجموعة فی الأحادیث الموضوعة ، المکتب الاسلامی ، بیروت ، ۱۴۰۷ھ (۱؍۲۴۰)
  16. () ابو الحسن ، علی بن محمد بن عراق الکنانی ، تنزیه الشریعة المرفوعة عن الأحادیث الشنیعة الموضوعة ، تحقیق : عبد الوہاب عبد اللطیف ، دار الکتب العلمیة ، بیروت ، ۱۳۹۹ھ (۲؍۳۷۴)۔
  17. () السلسلة الصحیحة (رقم : ۱۴۴۹)۔
  18. () فتح الباری (۸؍۱۱)۔
  19. () البیهقی ، احمد بن حسن ابوبکر ، شعب الایمان ، دار الکتب العلمية ، بیروت ، ۱۴۱۰ھ (۶؍۴۵۶)۔
  20. () البخاری ، ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل ، الجامع الصحیح ، مطبوعہ دار السلام ، ریاض ، ۱۴۱۹ھ کتاب الاجارة ، باب اثم من منع أجر الأجیر (رقم : ۲۲۷۰)۔
  21. () الالبانی ، علامہ محمد ناصر الدین ، ضعیف الجامع الصغیر وزیادته ، المکتب الاسلامی ، بیروت ، ۱۹۷۹ء (رقم : ۴۰۵۰)۔
  22. () بخاری : کتاب الرقاق : باب حفظ اللسان (رقم : ۶۴۷۸)۔
  23. () الالبانی ، علامہ محمد ناصر الدین ، سلسلة الأحادیث الضعیفة والموضوعة وأثرها السییٔ فی الأمة ، مکتبۃ المعارف ، ریاض ، ۱۹۹۶ء (رقم : ۱۲۹۹)۔
  24. () بخاری : کتاب الحدود : باب کم التعزیر والأدب (رقم : ۶۸۴۹)۔
  25. () السلسلة الضعیفة (رقم : ۶۹۵۹)۔
  26. () بخاری : کتاب الرقاق : باب فی الحوض (رقم : ۶۵۸۷)۔
  27. () السلسلة الضعیفة (رقم:۶۹۴۵)۔
  28. () بخاری : کتاب العلم : باب من سئل علما وهو مشتغل فی حدیثه (رقم : ۵۹)۔
  29. () السلسلة الضعیفة (رقم : ۶۹۴۷)۔
  30. () دیکھئے : السلسلة الضعیفة (رقم : ۶۹۴۹ ، ۶۹۵۰ )۔
  31. () مسلم بن حجاج ، ابو الحسن القشیری النیسابوری ، صحیح مسلم ، دار الجیل ، بیروت ، ۱۴۰۱ھ ،کتاب صلاة الاستسقاء ، باب الدعاء فی الاستسقاء ( رقم :۲۱۲۰)۔
  32. () ارواء الغلیل (رقم الحدیث : ۶۷۸)
  33. () مسلم : کتاب الأشربة : باب کراهیة الشرب قائما (رقم : ۵۳۹۸)۔
  34. () السلسلة الضعیفة (رقم : ۹۲۷)۔
  35. () مسلم : کتاب الحیض :باب نسخ الماء من الماء ووجوب الغسل بالتقاء الختانین (رقم : ۸۱۳)۔
  36. () السلسلة الضعیفة (رقم:۹۷۶)۔
  37. () مسلم : کتاب الکسوف :باب ذکر من قال انه رکع ثمان رکعات فی أربع سجدات (رقم : ۲۱۴۹)۔
  38. () ارواء الغلیل (رقم : ۶۶۰)۔
  39. () مسلم : کتاب الصیام :باب التخییر فی الصوم والفطر فی السفر (رقم : ۲۶۸۶)۔
  40. () السلسلة الصحیحة (۱؍۱۹۰)۔
  41. () دیکھئے : ارواء الغلیل (۳؍۳۵۰) ؛ غایة المرام (ص : ۱۰۴)۔
  42. () ابن الصلاح ، ابو عمرو عثمان بن عبد الرحمن شہرزوری ، صیانة صحیح مسلم من الاخلال والغلط وحمایته من الاسقاط والسقط ، دار المغرب الاسلامی ، بیروت ، ۱۳۸۰ھ (ص : ۸۵)۔
  43. () ابن حجر عسقلانی ، ابو الفضل شہاب الدین احمد ، النکت علی مقدمة ابن الصلاح ، أضواء السلف ، ریاض ، ۱۴۱۹ھ (۱؍۳۷۸)۔
  44. () النووی، ابو زکریا یحیی بن شرف، المنہاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت، ۱۳۹۲ھ (۱؍ ۱۴)۔
  45. () النکت علی کتاب ابن الصلاح (۱؍۳۷۲)۔
  46. () ابن الصلاح ، ابو عمرو عثمان بن عبد الرحمن شہرزوری ، مقدمة علوم الحدیث ، مکتبة الفارابی ، ۱۹۴۸ھ (ص : ۱۰)۔
  47. () شاہ ولی اللہ دہلوی، حجۃ اللہ البالغۃ، دار الجیل ، بیروت ۱۴۲۶ھ (۱؍۲۹۷)۔
  48. () السلسلة الصحیحة (تحت الحدیث ؍ ۳۶۵)۔
  49. () ابن حجر عسقلانی ، ابو الفضل شہاب الدین احمد ، تقریب التهذیب ، دار الکتب العلمیة ، بیروت ، ۱۴۰۴ھ (ص : ۴۰۲)۔
  50. () ابن حبان ، محمد بن حبان بن احمد بن ابی حاتم البستی ، کتاب الثقات، تحقیق : السید شرف الدین احمد ، دار الفکر ، بیروت ، ۱۹۷۵ء (۵؍۵۲۹)۔
  51. () المزی ، یوسف بن الزکی عبد الرحمن ابو الحجاج ، تهذیب الکمال فی أسماء الرجال ، تحقیق : بشار عواد معروف ، مؤسسة الرسالة ، بیروت ، ۱۴۰۰ھ (۳۳؍۶۱)۔
  52. () الذھبی ، شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن عثمان ، میزان الاعتدال فی نقد الرجال ، تحقیق : علی محمد بجاوی ، دار المعرفۃ ، بیروت ، ۱۳۸۸ھ (۴؍۴۹۴)۔
  53. () السلسلة الصحیحة (۲؍۵۰) ؛ السلسلة الضعیفة (تحت الحدیث : ۶۳۳۰)۔
  54. () التقریب (ص : ۳۹۵)۔
  55. () العجلی ، حافظ ابو الحسن احمد بن عبد اللہ ، معرفة الثقات من رجال أھل العلم والحدیث، تحقیق : عبد العلیم عبد العظیم ، مکتبة الدار ، المدینة المنورة ، ۱۴۰۵ھ (۲؍۳۰)۔
  56. () الذہبی ، شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن عثمان ، الکاشف فی معرفة من له روایة فی الکتب الستة ، دار القبلة ، جدہ، ۱۴۱۳ھ (۱؍۵۵۴)۔
  57. () کتاب الثقات (۵؍۲)۔
  58. () کما فی تهذیب الکمال (۱۴؍۵۴۴)۔
  59. () السلسلة الصحیحة (۲؍۲۱۹)۔
  60. () الالبانی،علامہ محمد ناصر الدین ، تمام المنة فی التعلیق علی فقه السنة ، المکتبة الاسلامیة، عمان ، ۱۴۰۸ھ (ص : ۲۳۱)
  61. () ارواء الغلیل (۲؍۲۵۴)۔
  62. () تهذیب التهذیب (۱؍۲۰۴)۔
  63. () الکاشف (۱؍۲۹)۔
  64. () التقریب (۱؍۵۰)۔
  65. () تهذیب التهذیب ، دائرۃ المعارف، الھند ، ۱۳۲۶ھ (۱؍۳۷۲)۔
  66. () التقریب (۱؍۱۱۰)۔
  67. () الکاشف (۱؍۲۵۵)۔
  68. () معرفة الثقات للعجلی (۱؍۲۲۳)۔
  69. () کتاب الثقات (۴؍۵۹)۔
  70. () الکاشف (۱؍۲۴۲)۔
  71. ()التہذیب (۲؍۲۵۰)۔
  72. ()التقریب (۱؍۱۹۸)۔
  73. ()السلسلة الضعیفة (تحت الحدیث : ۹۶۷) ؛ مزید دیکھئے : تمام المنة (ص : ۱۹۶)۔
  74. () ارواء الغلیل (۱؍۳۴)۔
  75. ()ایضاً (۱؍۶۳)۔
  76. ()ارواء الغلیل (۱؍۷۰)۔
  77. () ایضاً (۱؍۹۰)۔
  78. () ایضاً (۱؍۹۷)۔
  79. () ایضاً (۱؍۱۲۶)۔
  80. () ایضاً (۱؍۲۱۴)۔
  81. () ایضاً (۱؍۲۳۵)۔
  82. () السلسلة الصحیحة (تحت الحدیث : ۳۹۵۱)۔
  83. () السلسلة الضعیفة (تحت الحدیث : ۶۱۹۱)۔
  84. () السلسلة الصحیحة (تحت الحدیث : ۳۲۴۵)۔
  85. () ارواء الغلیل (۱؍۲۷۴)۔
  86. ()السلسلة الصحیحة (تحت الحدیث : ۳۵)۔
  87. () السلسلة الضعیفة (۱۳؍۱۷)۔
  88. () الالبانی ، علامہ محمد ناصر الدین ، الثمر المستطاب فی فقه السنة والکتاب ، غراس للنشر والتوزیع ، کویت، بدون التاریخ (ص : ۷۸۰)۔