Playstore.png

قسط وار خرید و فروخت کے حکم کے متعلق فقہاء کرام کی آراء: ایک علمی جائزہ

From Religion
Jump to navigation Jump to search

Warning: Page language "ur" overrides earlier page language "".

کتابیات
مجلہ مجلہ علوم اسلامیہ و دینیہ
عنوان قسط وار خرید و فروخت کے حکم کے متعلق فقہاء کرام کی آراء: ایک علمی جائزہ
انگریزی عنوان
A Research Study of the Jurists’ Opinions Regarding the Sale on Installments
مصنف Tahir، Muhammad، Kareem Dad
جلد 2
شمارہ 2
سال 2017
صفحات 65-74
مکمل مقالہ Crystal Clear mimetype pdf.png
یو آر آیل
کلیدی الفاظ
Installments, Transaction, Islamic Law
شکاگو 16 Tahir، Muhammad، Kareem Dad۔ "قسط وار خرید و فروخت کے حکم کے متعلق فقہاء کرام کی آراء: ایک علمی جائزہ۔" مجلہ علوم اسلامیہ و دینیہ 2, شمارہ۔ 2 (2017)۔
امام بلاذری بحیثیت سیرت نگار
نبی کریم ﷺ کے "نسب مطہرہ" سے متعلق مارگولیتھ کے خیالات کا تنقیدی جائزہ
طبي خدمات اور سہولیات کے تحفظ کي ضرورت: اسلامي شريعت کے چند رہنما اصول
ذبح سے پہلے عمل تدویخ اور معاصر فقہی تحقیقات
قسط وار خرید و فروخت کے حکم کے متعلق فقہاء کرام کی آراء: ایک علمی جائزہ
کا تنقیدی جائزہ "the First Muslim- the Story of Muhammad" لیزلے ہزلٹن کی کتاب
طبی شعبہ میں ضرورت و حاجت سے متعلقہ فقہی قواعد کی معاصر تطبیقی صورتیں
مفاتیح الغیب (تفسیر کبیر) میں سورۃ التوبہ کی تفسیر میں وارد موضوع احادیث کا علمی مطالعہ
پاکستان میں اتحاد بین المسالک پر منتخب اردو تحریروں کا تجزیاتی مطالعہ
From Jihad to Salam in Pursuit of Political Change: A Perspective based on Qur’ānic Sources
Classical Works on Islamic Political Order: Critical Evaluation of the Methodology of the Modern Scholars
Inequalities in Islamic State and Society: A Critical Review on the Thoughts of Bernard Lewis
Role of Masjid in Social Reformation in Contemporary Pashtun Society: A Case Study of District Bannu and Lakki Marwat, Pakistan
Assessing and Evaluating Ḥadith its Value, Significance, Authority and Authenticity in Islamic Thought
Scope of State in Legislation from Islamic Perspective
من خصائص النصانية القرآنية: النسخ
الحكمة في شعر محمود سامي البارودي
منهج الوسطية لإمام الأشعري في علم الكلام
وجوه الإعجاز عند المتكلمين:الرماني والخطابي نموذجا
مفهوم الأدب الإسلامي و إسلامية الأدب عبر العصور

Abstract

In Islamic Sharia, the usury is prohibited while the trade has been allowed. This ruling is very clear and transparent in sources of Sharia. From the emergence of Islam many means of financing have been continuing which have got new shapes and names in modern ages. Among these contracts, one is sale in installments. This type of transaction is a part of modern financing in which the object is sold on the condition of payments in installments. The price of the object remains more than the cash payment. This concept has been discussed by the jurists and they have presented their different views about the sale in installments. In Islamic Sharia, the usury is prohibited while the trade has been allowed. This ruling is very clear and transparent in sources of Sharia. From the emergence of Islam many means of financing have been continuing which have got new shapes and names in modern ages. Among these contracts, one is sale in installments. This type of transaction is a part of modern financing in which the object is sold on the condition of payments in installments. The price of the object remains more than the cash payment. This concept has been discussed by the jurists and they have presented their different views about the sale in installments.

تمہید

شریعت اسلام نے سود کو حرام اور تجارت کو جائز قرار دیاہے ۔رباکی حرمت اور بیع وشراء کی حلت کی صراحت قرآن وسنت میں موجود ہے ۔خرید وفروخت کی مختلف صورتیں ابتداء اسلام سے اب تک رائج ہیں ،عصر حاضر میں تجارت جدید کی نت نئی صورتیں سامنے آتی رہتی ہیں،انہیں میں سے ،،بیع بالتقسیط ،،بھی ہے یعنی قسطوں کی بنیاد پر خرید فروخت کامعاملہ بھی ہے،ایک آدمی ایک چیز کی ضرورت محسوس کرتاہےاور اس کوخریدناچاہتاہےمگراس کی قیمت اس شخص کی قوت خرید سے زیادہ ہوتی جس کی وجہ سے وہ اپنی ضرورت کی چیز خرید نہیں پاتا،آج کل تاجروں نے اس کے لئے یہ حل نکالاہے کہ خریدار چند قسطوں میں قیمت کو اداکرکے اپنی ضرورت کی تکمیل کرلے،زیرنظرمضمون میں مروجہ قسطوار خریدوفروخت کے حکم اوراس کے متعلق فقہاء کرام کی آراء کاتجزیاتی جائزہ لیاگیاہے۔

1:قسطوارخریدوفروخت کاشرعی حکم:

بیع بالتقسیط کی اگریہ تعریف کی جائے کہ مجلس عقدہی میں فروخت کرنے والامبیع (سامان وغیرہ)خریدار کے حوالہ کردے اور خریداراس کی قیمت مجلس عقدمیں ادانہ کرے بلکہ قسط وار ایک متعین مدت پر اداکرے ۔تو مذکورہ صورت کے جوازپر تقریباتمام فقہاءکرام کااتفاق ہے۔علامہ ابن تیمیہؒ نے اس صورت کے جوازپر مسلمانوں کے تعامل سے اجماع کادعویٰ کیاہے[1]۔

۲: بیع بالتقسیط کے متعلق فقہاکرام کے آراء

بیع بالتقسیط میں بنیادی سوال یہ ہے کہ جس سامان کو ادھار فروخت کیاجائے اس کی قیمت نقد فروختگی کے مقابلہ میں کچھ زیادہ کردی جائےتوکیاشرعایہ جائزہے؟

نقد فروخت کے مقابلہ میں اھار فروخت پرزیادہ قیمت لینے کے جوازمیں کوئی نص صریح موجودنہیں ہے ۔فقہاء کرام کی رائیں اس میں مختلف ہیں ۔جمہور فقہاء کرام اس کے جواز کے قائل ہیں ،لیکن بعض علماء اس کوناجائز کہتے ہیں[2]۔علامہ کاسانی فرماتے ہیں:کسی شئی کی ادھارقیمت بمقابلہ نقد قیمت کے زیادہ رکھنادرست ہے[3]۔اور یہی جمہور احناف کامسلک ہے۔شوافعؒ کے نیزدیک بھی یہ جائز ہے [4]۔امام مالکؒ بھی اس کوجائز قرار دیتے ہیں[5]۔حنابلہ ؒ کے نزدیک بھی جائزودرست ہے[6]۔

امام ترمذیؒ فرماتے ہیں ،جس سامان کو ادھارفروخت کیاجائے،اس کی قیمت نقدفروختگی کے مقابلہ میں کچھ زیادہ کردی جائے تو ایساکرناجائز ہے ،بشرطیکہ نقداور ادھارفروختگی ،دونوں میں سے کسی ایک کی تعین عندالعقدہی ہوجائے۔لیکن اگردونوں میں سے کسی ایک کی تعین عندالعقدنہیں ہوتی ،بلکہ یہ معاملہ تعیین ،عقدکے بعدتک کے لئے ملتوی رکھاجاتاہے تو اس صورت میں بیع درست نہ ہوگی[7]۔

امام ترمذی ؒکی عبارت سے معلوم ہواکہ اہل علم نےبیعتین فی بیعۃ ،،کی تفسیریہ کی ہے کہ مثلاکوئی کہے کہ :میں تم کویہ کپڑادس روپئے میں نقدبیچ رہاہوں اور بیس روپئےمیں ادھار،اور عندالعقد کسی ایک کی تعیین کے بغیر،ایک دوسے مفارقت اختیارکرلتیے ہیں تو اس صورت میں بیع درست نہ ہوگی،لیکن اگرکسی ایک کی تعیین مفارقت سے پہلے ہوجائے ،تو اس صورت میں بیع درست ہوگی[8]۔اور یہی بات کتب فقہ میں بھی مرقوم ہے[9]۔

خلاصہ یہ کہ نقدفروختگی میں قیمت کی کمی اور ادھارفروختگی کی صورت میں قیمت میں اضافہ کے ساتھ بیع بالکل درست اور جائز ہے اور یہ فقہاء ار بعہ کامتفق علیہ مسئلہ ہے[10]۔

۳۔ادھارقیمت کی ادائیگی یکمشت ضروری ہے؟

ادھارقیمت کی ادائیگی یکمشت شرعاضروری نہیں ہے،بلکہ اس کی گنجائش ہے کہ ادھارقیمت کوقسطوںمیں اداکیاجائے۔لیکن اگر مشتری کسی قسط کی ادائیگی میں کوتاہی کرے گاتو بقیہ دین فوری واجب الاداہوجائے گا[11]۔ہاں قسطوں پر ادائیگی کی صورت میں اتناضروری ہوگاکہ ادائیگی کی تاریخ اور رقم ،دونوں کاتعین ہوتاکہ ان دونوں کی جہالت ،تسلیم ثمن سے مانع نہ ہوجو کہ عقد بیع سے ہی واجب ہوجاتی ہے[12]۔

۴۔مبیع کی قیمت معلوم مدت میں ادانہ کرنے پر اضافہ کی شرط لگانا:

بیع کی یہ صورت شرعاسودہے،جس کی ہرگزگنجائش نہیں ہے،کیونکہ اس صورت میں مدت کو مستقل حثیت دے کر اس کاعوض لیاجارہاہے جوشرعاحرام [13]ہے۔اور اسی کوامام مالکؒ نےبھی بیان کیاہے،،قال مالك: والأمر المكروه، الذي لا اختلاف فيه عندنا. أن يكون للرجل على الرجل الدين، إلى أجل. فيضع عنه الطالب، ويعجله المطلوب.قال مالك: وذلك عندنا بمنزلة الذي يؤخر دينه بعد محله، عن غريمه. ويزيده الغريم في حقه. قال: فهذا الربا بعينه. لا شك فيه،،۔[14]

قرض تجارت میں وقت معین پرثمن ادانہ کرنے کے سبب مزیدرقم واجب کرناظلم اور سود ہےچنانچہ علماء کرام فرماتے ہیں:

شرعااس طرح معاملہ کرناجائز نہیں ہے،اور یہ مزیدرقم جرمانہ اور مالی تاوان تو ہے ہی ،اس کے علاوہ سود کی تعریف بھی اس پر صادق آرہی ہے[15]۔ نیز اس طرح جرمانہ عائد کرناظلم ہے، کیونکہ خریدارکے قیمت ادانہ کرنے کی دوہی صورتیں ہوسکتی ہیں یاتووہ تنگدست ہے جس کے سبب سامان کی قیمت یکمشت یاقسط وار نہیں اداکرپارہاہے،یاوہ تنگدست تو نہیں ہے لیکن خواہ مخواہ ٹال مٹول سے کام لے رہاہے ،اب اگر وہ تنگدست ہے تو قرآن کریم کی تصریح کے مطابق بائع کی طرف سے ادائے ثمن میں مہلت دیاجاناواجب ہے : وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ[16]۔

اگر ایسی صور ت میں بائع اس پر ثمن نہ اداکرنے کی وجہ سے مزید رقم لازم کریگا،تو یہ سراسرظلم ہوگا،نیز اس اضافے کے سود ہونے میں بھی کوئی شک نہیں ہے ، نیز ادائے دین میں مہلت دے کراس کے عوض لینے کو فقہاء کرام نے حرام قرار دیاہے[17]۔اور اگر خریدار ادائے ثمن میں تاخیرلاپرواہی اور ٹال مٹول کی وجہ سے کرتاہے ،تو یقیناخریدار کے اس عمل سے بائع کوضررعظیم لاحق ہوگا،تاہم لوگوں میں دینی واخلاقی اقدارکی کمی کی وجہ سے ٹال مٹول کی بیماری عام ہوگئی ہے، جویقیناظلم ہے، آپ ﷺ کاارشاد ہے: «مطل الغني ظلم»[18] اور اس صورت میں ٹال مٹول کرنے والاسزاپانے اور بے آبروہونے کے لائق ہوجاتاہے،اور ایسے شخص کاشرعابائیکاٹ بھی کیاجاسکتاہے،آپ ﷺ کاارشاد ہے: «لي الواجد يحل عرضه وعقوبته»[19]"مالدارکاٹال مٹول کرنااس کی آبروکو حلال کردیتاہےاور اس کوسزادینابھی جائز کردیتاہے"لیکن دورحاضر میں معاشرہ کا نظام درہم برہم ہوجانے کے سبب کسی شخص کو سزادینایااس کابائیکاٹ کرناآسان نہیں ہے، اگر اس پر ثمن کے علاوہ مزیدکچھ رقم کی ادائیگی یوں ہی متعین کرکے یافیصد کے حساب سے بطور جرمانہ لازم کردی جائے تو اس پر عمل تو ممکن ہے لیکن شرعاایساکرناجائزنہیں ہے۔

اس پر ائمہ اربعہ کااجماع ہے،جن احادیث سے جواز معلوم ہوتاہے اس سب کوحضرات محدثین وفقہاء کرامؒ نے منسوخ قرار دیاہے[20]۔

۵:معین وقت پر ثمن ادانہ کرنے ولوں پر مالی جرمانہ عائد کرنے کی جائز صورت:

مذکورہ بالاتحقیق سے تویہ معلوم ہواکہ ادائے ثمن میں تاخیرکرنے والوں پرمالی معاوضہ لازم کرنےکی تجویزبھی شرعادرست نہیں ہے ،البتہ اس کی جائز صورت یہ تجویز کی جاسکتی ہے کہ معاہدہ بیع کے وقت بائع مشتری سے اس بات کاعہدلے لے کہ اگر خریدار نے ثمن کی ادائیگی میں تاخیر وکوتاہی کی تو اس پر لازم ہوگاکہ وہ ثمن کے تناسب سے ایک معین رقم خیراتی کاموں میں بطور تبرع خرچ کرے گا،اور یہ رقم پہلے وہ بائع کو اداکرے گااور پھر بائع خریدار کی طرف سے نیابۃ اس رقم کوخیراتی کاموں میں لگادے گا،ظاہرہے کہ اس صور ت میں مذکورہ رقم نہ بائع کی ملک ہوگی ،اور نہ ہی اس کی آمدنی اور منافع کاحصہ ہوگی ،بلکہ خیراتی کاموں میں صر ف کرنے لے لئے بطور امانت اس کے پاس وہ رقم محفوظ رہے گی ۔

مذکورہ تجویز خریدار کےلئے اُدھار ثمن وقت پر اداکرنے کے سلسلہ میں بہترین دباؤ ہے اور تو قع ہے کہ یہ تجویز ٹال مٹول کے سد باب کے لئے مالی معاوضہ والی تجویز کے مقابلہ میں زیادہ مؤثر ہوگی ،نیز بطورتبرع والی رقم کے لازم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ رقم اُدھار ثمن کے متناسب حصے کے برابر فیصدکے حساب متعین ہویایونہی ایک رقم متعین کرلی جائے تاکہ خریداروقت پر اُدھارثمن اداکرنے کاپاپندہوجائے [21]۔

مذکورہ تفصیل فقہاء مالکیہ کے قول کے مطابق ہے ،فقہاء احناف فرماتے ہیں کہ عام طور سے وعدہ قضاء لازم نہیں ہوگا،البتہ بعض دعوے لوگوں کی ضرورت کی وجہ سے لازم ہوجاتے ہیں[22]۔ لہذااُداھار بیع میں ثمن کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنے کوروکنے کی غرض سے اورلوگوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے مذکورہ تجویزلازم قرار دینے کی گنجائش ہے۔

۶:قرض کےمعاملہ میں طے شدہ رقم کومقررہ وقت سے پہلے اس کے ایک حصہ کی معافی کی شرط پر وصول کرنا:

اس سلسلہ میں فقہاء کرام ؒ کی دورائیں ہیں :

۱:پہلی رائے یہ ہے کہ معاملہ کی یہ صورت جائز ہے ،اس لئے کہ بائع اپنے دین کاکچھ حصہ چھوڑ دیتاہے اور کچھ حصہ وصول کرلیتاہےجس کااسے حق ہےجیساکہ نقدلین دین میں اسے کچھ حصہ چھوڑدینے کاحق حاصل ہوتاہے۔صحابہ کرام میں سے سیدناعبداللہ بن عباسؓ فقہاء تابعین میں سے ابراہیم نخعیؒ ،ائمہ احناف میں سے امام زفر،اور شوافع میں سے ابوثورؒ اس معاملہ کے جواز کے قائل ہیں[23]۔

۲:دوسری رائے یہ ہےکہ معاملہ کی یہ صورت ناجائز ہے ۔کیونکہ جس طرح دین مؤجل میں تاخیر کی صورت میں دائن کے لئے اجل (مدت) کے عوض اصل دین سے زائد رقم لیناحرام اور سود میں داخل ہے اسی طرح وقت مقررہ سے پہلے تعجیل کی صورت میں اجل کے عوض مدیون کے لئے اپنے ذمہ واجب الاداء دین کاکچھ حصہ لیناجائز نہیں ہوگا۔

صحابہ کرام میں سے سیدناابن عمرؓ ،زیدبن ثابتؓ اور تابعین میں سے محمدبن سرینؒ،حسن بصریؒ،ابن المسیبؒ،اور امام شعبیؒ عدم جواز کے قائل ہیں ،اور یہی ائمہ اربعہ کابھی مذہب ہے[24]۔

ابن قدامہؒ لکھتے ہیں :اگر ایک شخص کادوسرے کے ذمہ دین مؤجل ہو، اب وہ شخص اپنے غریم سے مطالبہ کرے کہ مجھ سے دین کاکچھ حصہ ساقط کردو،بقیہ دین میں فورااداکردوں گاتویہ صورت جائز نہیں ہے۔سیدنازید بن ثابتؓ،ابن عمرؓ،مقدادؓ،ابن المسیبؒ،سالمؒ،حسن بصریؒ،حمادؒ،امام شافعیؒ،امام مالکؒ،امام ثورؒ،امام ہیثمؒ،امام اسحاقؒ،امام ابوحنیفہؒ نے اس معاملہ کوناپسندیدہ قراردیاہے،سیدنامقدادؒنے ایسے دوشخصوں کوجنہوں نے اس طرح معاملہ کیاتھاخطاب کرتے ہوئے فرمایا:تم دونوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ جنگ کااعلان کیاہے[25]۔ سیدناابن عباسؓ سے منقول ہے کہ اس معاملہ میں کوئی حرج نہیں ہے۔امام نخعی اور ابوثور سے یہی منقول ہے۔اس لئےکہ اس صورت میں قرض خواہ اپنے حق کاکچھ حصہ وصول کررہاہے اور کچھ حصہ معاف کررہاہے،لہذایہ صورت جائزہے ۔جیساکہ دین نقدمیں یہ صورت درست ہوتی ہے۔

ہمارے نزدیک چونکہ مذکورہ صورت میں مدت کی بیع ہورہی ہے ، اس لئے جائزنہیں ہےجیسے کہ اگر قرض خواہ دین میں اضافہ کرتے ہوئے مقروض سے کہے کہ تم میراسودرہم کاقرض فورااداکردو،میں تمہیں دس درہم دوں گا۔ظاہر ہے کہ یہ صورت جائزنہیں ہے۔[26]

علامہ برہان الدین مرغینانیؒ لکھتے ہیں: ولو كانت له ألف مؤجلة فصالحه على خمسمائة حالة لم يجز[27]" اگرکسی شخص کادوسرے کے ذمہ ایک ہزاردین مؤجل ہواور وہ مدیون سے نقدی پانچ سوپر مصالحت کرے تو جائز نہیں ہوگا۔

اور امام محمدؒاس مسئلہ کےمتعلق فرماتے ہیں: وبهذا نأخذ. من وجب له دين على إنسان إلى أجل،فسأل أن يضع عنه، ويعجل له ما بقي لم ينبغ ذلك لأنه يعجل قليلا بكثير دينا، فكأنه يبيع قليلا نقدا بكثير دينا. وهو قول عمر بن الخطاب وزيد بن ثابت وعبد الله بن عمر ، وهو قول أبي حنيفة [28]. اس مسئلہ میں ہمارامذہب عدم جواز کاہے اور ہم اس سے استدلال کرتے ہیں کہ اگر ایک شخص کادوسرے شخص کے ذمہ کسی مدت پر دین واجب ہو اور وہ اس سے کہے کہ وہ اس سے دین کاکچھ حصہ ساقط کردے گابشرطیکہ وہ بقیہ دین فورااداکرے تو یہ صورت جائزنہیں ہوگی اس لئے کہ اس صورت میں وہ دین کثیر کے عوض میں دین قلیل کو فوری طلب کررہاہے گویاکہ وہ قلیل نقدکوکثیر دین کے عوض فروخت کررہاہے ،یہی سیدناعمرؓ،زیدبن ثابت ؓ،ابن عمرؓ کاقول ہے اور امام ابوحنیفہؒ کابھی یہی قول ہے۔

مذکورہ نصوص فقہیہ اور آثار تابعین کی وجہ سے مدت کے مقابلے میں دین کے کچھ حصے کوساقط کرنے کی حرمت کوراجح قراردیاگیاہے۔

۷:قیمت وصول کرنے کے لئے رہن رکھنا:

کتاب وسنت نے سود کادروازہ بندکردیاہے اور قرض پر بھی کسی طرح کانفع اٹھاناحرام قرار دیاہے ،آپ ﷺ کاارشاد ہے : " كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا "[29]اور سود کے بارے میں حقیقت سود تو کجاشبہ سود بھی ناقابل برداشت ہے ، اس لئے رہن کے سامان سے فائدہ اٹھانا جائزنہیں ،بعض فقہاء احناف نے مالک کی اجازت سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہے[30]۔ لیکن یہ صحیح نہیں ہے کیوں کہ سود کاحاصل کرنااور اس سے فائدہ اٹھانابہرحال ناجائز ہے ، گورضامندی اور خوشی سے حاصل کیاجائے[31]۔

اگر بائع کے قبضہ میں رہتے ہوئے مال مرہون ضائع ہوجائے تو بائع اس کاضامن قرار دیاجائے گایعنی اگر مال مرہون کی قیمت دین کے برابر ہے تو گو یابائع دین کاوصول کرنے والاشمار کیاجائے گا،اور اگر مال مرہون کی قیمت دین کے مقابلہ میں زیادہ ہے تو دین کے برابر منہاکرکے بقیہ قیمت کابائع ضامن ہوگااور زائد رقم مشتری کے حوالہ کرناہوگی، اور اگر مال مرہون کی قیمت دین کے مقابلہ میں کم ہے تو دین میں سے اتنی مقدار مشتری سے ساقط ہوگی ،لیکن بقیہ رقم بائع مشتری سے وصول کریگا[32]۔

وقت پر ادانہ کرنے یاٹال مٹول کی صورت میں مرتہن راہن کے خلاف دارالقضاء (عدالت)میں دعویٰ پیش کرے گاجج راہن کو ادائیگی کے لئے حکم دے گا پھر بھی ادانہ کرے تو راہن کوایک مدت کے لئے قید کردیاجائے گا،اور اگر اس کے بعد بھی ادائیگی نہ کرے تو قاضی مال مرہون کوفروخت کرکے مرتہن کے دین کی ادائیگی کرے گا ،اگر فروخت شدہ مال مرہون کی قیمت دین سے زائد ہوگی تو زائدرقم راہن کوواپس کردی جائے گی،اور اگر کم ہوگی تو قاضی اس کو اس وقت تک قید میں رکھے گا جب تک کہ وہ مکمل ادائیگی کاانتظام نہ کروادے[33]۔

۸:قسطوں کی ادائیگی میں تاخیرکی صورت میں مہلت کوختم کرنا:

بیع بالتقسیط کے ذیل میں ایک سوال یہ پیداہوتاہے کہ اگر خریدارنے طے شدہ قسطوں میں سے کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر کردی توکیاایسی صورت میں بائع کے لئے مہلت کے معاملہ کوختم کرنا،اور فوری طورپر بقیہ تمام اقساط کی ادائیگی کامطالبہ شرعاکیاحکم رکھتاہے،واضح رہے کہ ،،بیع بالتقسیط،،کے بعض ایگریمنٹ میں اس امرکی صراحت کردی جاتی ہے کہ اگر خریدار مقررہ وقت پر کوئی قسط ادانہ کرسکاتو اس صورت میں آئندہ کی باقی اقساط کوبھی فورااداکرناضروری ہوگا،اور بائع کے لئے فی الحال تمام اقساط کامطالبہ کرناجائز ہوگا۔اس میں سوال یہ ہے کہ کیابیع بالتقسیط میں اس طرح کی شرط لگانادرست ہے؟

بائع کے لئے بیع بالتقسیط میں اس طرح شرط لگانادرست ہے ،اور خریدار کی طرف سے طے شدہ اقساط میں کسی قسط کی عدم ادائیگی یااس میں تاخیرکی صورت میں بائع کویہ حق حاصل ہوگاکہ وہ پہلے سے حاصل شدہ مہلت کو ختم کردے ،علامہ ابن نجیم نقل کرتے ہیں: ولو قال كلما دخل نجم، ولم يؤد فالمال حال صح، والمال يصير حالا[34]۔

۹:کیافریقین میں سے کسی ایک کی موت کی صورت میں اقساط کامعاملہ اپنی جگہ باقی رہے گا؟

بیع بالتقسیط کے مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ ہےکہ اقساط کی ادائیگی کی مقررہ وقت سے قبل ہی اگر فریقین میں سے کسی ایک فریق کاانتقال ہوجائے تو کیایہ معاملہ اب بھی اسی تفصیل اور مہلت کے ساتھ باقی رہے گاجو طے شدہ تھایامعاملے کی نوعیت میں فرق آجائے گا۔

الف: دائن کاانتقال ہوجائے ،دائن کے انتقال کی صورت میں معاملہ میں کوئی فرق نہیں پڑے گا،اور دائن نے بوقت معاملہ قیمت کی ادائیگی کے لئے جو مہلت دی تھی وہ بدستور سابق باقی رہے گی۔دائن کے ورثاء اپنے مورث کے قائم مقام قرارپائیں گے۔

علامہ شامی فرماتے ہیں : ويبطل الأجل بموت المديون لا الدائن[35].

ب:مدیون کی موت ہوجائے اس سلسلہ میں فقہاءکرامؒ کے حسب ذیل اقوال ہیں:

۱:مدیون کی موت کی صورت میں دین مؤجل فوری واجب الاداہوجاتاہے،حنفیہ ،شافعیہ ،اور جمہور فقہاء مالکیہ کایہی مسلک ہے ،امام شعبی،امام نخعی ،سوار،امام مالک ،ثور ،شافعی،اور امام ابوحنیفہؒ کایہی قول ہے۔

امام احمدبن حنبلؒ کابھی ایک قول یہی ہے ۔مگر حنابلہ کاقول مختار یہ ہے کہ اگر مدیون کے ورثاء اس دین کی توثیق وتصدیق کردیں تو ایسی صورت میں مدیون کی موت سے دین کی ادائیگی فوری واجب نہیں ہوگی ،بلکہ حسب سابق دین مؤجل ہی رہے گا۔

دوسری رائے یہ ہے کہ مدیون کی موت کی صورت میں دین کی ادائیگی فوری طورپر واجب الادانہیں ہوگی بلکہ دین مؤجل ہی رہے گا،اگرچہ مدیون کے ورثاء دین کی توثیق کردین ،امام ابن سیرین ،عبداللہ بن الحسن، اسحاق، ابوعبید، طاؤس، ابوبکربن محمد، امام زہری،اور سعیدبن ابراہیم کایہی مسلک ہے[36]۔

مفتی محمدتقی عثمانی مدظلہ نے حنابلہ کی رائے کو ترجیح دی ہے، یعنی مدیون کے ورثاء کی تصدیق وتوثیق کی صورت میں دین مؤجل ہی رہے گا۔یہی رائے مناسب اور اشبہ بالفقہ معلوم ہوتی ہے[37]۔

۱۰:کریڈٹ لیٹر کاحکم:

خریدارکی طرف سے گارنٹی لیناشرعاجائز ہوتاہے، اس لئے کہ یہ کفالت کی ایک صورت ہے ،کفالہ کاحکم بیان کرتے ہوئے فقہاء نے لکھاہے کہ اگر ضمانت یادوسرے الفاظ میں کفالت اصیل کے حکم سے ہے توکفیل بعدمیں اپناروپیہ یاسامان اصیل سے واپس لے سکتاہے۔

لیکن اگر کفالت یعنی ضمانت اصیل کے حکم کے بغیر ہے تو اس میں کفیل اصیل سے رجوع نہیں کرسکتا،کہ یہ اس کی جانب سے تبرع تصور کیاجائے گا۔

آج کل کریڈٹ لیٹر اس عہدجدید کی ایک عام اور مروج چیز بن چکی ہے۔کہ بعض ادارے یااشخاص اس کی ضمانت اور گارنٹی لیتے ہیں ،ساتھ ہی اجرت ومعاوضہ کالین دین ہوتاہے ،شریعت پرنظر ڈالنے سے معلوم ہوتاہے کہ یہ صورت جائزہونی چاہئے اور اداروں یااشخاص کی جانب سے اجرت لیناسود کے دائرہ میں نہیں آتاہے،بلکہ یہ ان کی اجرت ہوگی ،اور یہ لینادیناجائز ہوگا،اور مولانااشرف علی تھانویؒ نے لکھاہے کہ ضمانت کمیشن پر ایجنٹ بنانادرست ہے[38]۔

خلاصہ بحث

۱:خریدوفروخت کے معاملہ میں ادھار فروخت کی صورت میں بمقابلہ نقدقیمت کااضافہ دُرست ہے بشرطیکہ قیمت اور اجل معلوم ہو۔

۲:اُدھار قیمت یکمشت اداکی جائے یاچندقسطوں میں دونوں صورتیں جائز ہیں۔

۳:اُھار خریدوفروخت میں نقد کے مقابلہ میں قیمت کی زیادتی رباکے تحت نہیں آتی ۔

۴:معینہ مدت میں قیمت یاقسط کے ادانہ کرنے کی صورت میں مزیدکسی طرح کی زیادتی کامطالبہ اور معاملہ سود کے تحت داخل ہے،خواہ معاملہ کرتے وقت اس طرح کی شرط لگائی گئی ہو ،یایہ کہ بعد میں اس طرح کامطالبہ کیاجائے۔

۵:دین کووقت پر ادانہ کرنے کی صورت میں دار کوباربار متوجہ کرنے کے بعد جب یہ اس کاٹال مٹول ظاہر ہو،قرض خواہ کو اجازت ہے کہ سامان کوواجبی قیمت پربیچ کراپناحق وصول کرلے۔

۶:جس نے بطور رہن کوئی سامان اپنے پاس رکھاہو،اس کارہن رکھے ہوئے سامان سے نفع اٹھاناسود ہے جو کسی حال میں جائز نہیں ہے۔

۷:رہن کاسامان اگر رہن رکھنے والے کے پاس ہلاک ہوجائے تو سامان کی قیمت اگر دین کے برابر ہے ،تو کسی کے ذمہ کوئی حق نہیں رہا،اگر سامان کی قیمت کم ہے تو دین کی باقی رقم دین والے کے ذمہ واجب ہوگی ،اگر سامان کی قیمت زیادہ ہے تو اگر رہن لینے والے کا عمل لاپر واہی اس میں داخل ہے تو دین سے زیادہ قیمت رہن لینے والے کے ذمہ واجب ہوگی۔

۸:دین کی ادائیگی کے لئے طے شدہ مدت سے قبل دین کی ادائیگی کامطالبہ جب کہ قسطیں وقت پر ادانہ کی جارہی ہوں دُرست ہے ۔

۹:جملہ اقساط کی ادائیگی سے قبل اگر مدیون (خریدار) کی موت ہوجائے تو بھی معاملہ علی حالہ باقی رہے گا، جیسا کہ دائن کی موت کی صورت میں باقی رہتاہے ،بشرطیکہ بائع(دائن)اس پر راضی ہو۔

۱۰:کریڈ لیٹرکی اجرت لیناآج کل مروج ہے ،یہ کفالہ کے حکم میں ہے اس لئے اکثر فقہاء نے اس کوجائز قرار دیاہے۔


This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.


حوالہ جات

  1. References الحرانی،تقی الدین،احمد بن عبدالحلیم،ابن تیمیہ،مجموع الفتاویٰ، دارالحدیث،قاہرہ،۲۰۰۶م، ج۲۹،ص۴۹۹۔ Aḥmad bin ‘Abd al Ḥalym, Ibn e Tymiyyah, Majmoo‘ al Fatawa, (Cairo: Dār al Ḥadith 2006), 29:499
  2. الشوکانی،محمد بن علی بن محمدعبداللہ ،یمنی،نیل الاوطار، دارالحدیث ،مصر ،بدون تاریخ، ج۵، ص۱۷۱۔ Muḥammad bin ‘Ali, Nyl al Awṭar, (Egypt: Dār al Ḥadith), 5:171
  3. الکاسانی،علاء الدین ،احمدبن مسعود،بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، دار الکتب ،بیروت،طبع دوم،۱۹۸۶م، ج۵،ص۲۲۴۔ Aḥmad bin Mas‘ood, Badaʼe‘ al ṣanaʼe‘ , (Beirut: Dār al Kutub, 2nd Edition, 1986), 5:224
  4. الرافعی،محمدبن عبدالکریم ،فتح العزیز علی ھامش المجموع ، دارالفکربیروت،بدون تاریخ، ج۹،ص۲۱۔ Muḥammad bin ‘Abd al Karim, Fatḥu al ‘aziz ‘ala hamish al majmoo‘, (Beirut: Dār al Fikar), 9:21
  5. القرطبی،محمد بن احمد،ابوالولید،بدایۃ المجتہدونہایۃ المقتصد، دارالحدیث القاہرہ،بدون تاریخ، ج۲ص۲۱۵۔ Muḥammad bin Aḥmad, Bidayat al mujtahid wa nihayat al muqtaṣid, (Cairo: Dār al Ḥadith), 2:215
  6. المقدسی،ابوقدامہ،موفق الدین،عبداللہ بن احمد،مکتبۃ القاہرہ،المغنی،ج۴ص۱۳۲۔ ‘Abd allah bin Aḥmad, Al Mughny, (Cairo: Maktabat al Qahirah), 4:132
  7. الترمذی،محمدبن عیسی ،جامع الترمذی، دارالغرب الاسلامی،بیروت،لبنان، ج۱ص۱۴۷۔ Muḥammad bin ‘iysa, jame‘ al tirmidhy, (Beirut: Dār al Gharb al Islami), 1:147
  8. مصدر سابق۔ Ibid.
  9. الجزری،محمدبن عبدالرحمن،الفقہ علی المذاھب الاربعہ،دارالکتب العلمیہ ،بیروت ،طبع دوم ۲۰۰۳م،ج۲ص۲۴۳۔ Muḥammad bin ‘Abd al Raḥman, Al Fiqh ‘ala al madhahib al arba‘ah, (Beirut: Dār al kutub al ‘elmiyah, 2nd Edition, 2003), 2:243
  10. القاسمی،مفتی اشتیاق احمد،جدیدفقہی مباحت،ادارۃ القرآن ،کراچی،اشاعت اول ،۲۰۰۹م،ج۲۵،ص۳۱۰۔ Ishtiyaq Aḥmad, Jadid Fiqhy Mubaḥith, (Karachi: ʼidārat al Qurʼan, 1st Edition, 2009), 25:310
  11. شیخ زادہ،عبدالرحمن بن محمد،مجمع الانھرفی شرح ملتقی الابحر،داراحیاء التراث،العربی،بیروت،ج۴ص۹۔ ‘Abd al Raḥman, Majma‘ al anhur, (Beirut: Dār ʼeḥya al turath al ‘arabi), 4:9
  12. المرغینانی،علی بن ابی بکر،برھان الدین ،ھدایہ مع شرح العینی،داراحیاء التراث العربی،بیروت،ج۳ص۱۶۔ ‘Ali bin ʼaby bakar, Hidayah, (Beirut: Dār ʼeḥya al turath al ‘arabi), 3:16
  13. ہدایۃ ،ج ۳ص۵۸۔ Ibid., 3:58
  14. مالک بن انسؒ،الموطاء،بتحقیق الاعظمی، مؤسسۃ زایدآل النہیان،ابوظبی،۲۰۰۴م حدیث نمبر:۲۴۸۱۔ Malik bin ʼanas, Al Muʼaṭṭa, (Abu Ẓaby, :Muassassah Zayid āl al nahyan), No.:2481
  15. ہدایۃ،باب الربا،ج ۲ص۶۱۔ Hidayah, Bab al Riba, 2:61
  16. البقرۃ:۲:۱۸۰۔ Surah al Baqarha, Verse No. 180
  17. ہدایۃ ،ج۳ص۲۳۵۔ Hidayah, 3:235
  18. البخاری،محمد بن اسماعیل،صحیح البخاری،دار طوق النجاۃ،طبع اول ،۱۴۲۲،حدیث نمبر:۲۴۰۰۔ Muḥammad bin ʼisma‘il, ṣaḥyḥ al bukhary, (Beirut: Dār Ṭowq al Najat, 1st Edition, 1422), No.:2400
  19. القزوینی ،الامام محمدبن یزید،ابن ماجۃ،سنن ابن ماجۃ، داراحیاء التراث العربی،بدون طبع وتاریخ،حدیث نمبر:۲۴۲۷۔ Muḥammad bin Yazyd, Sunan Ibn e majah, (Beirut: Dār ʼeḥya al turath al ‘arabi), No.:2427
  20. الشامی ، محمدامین،رد المحتار،مکتبہ دارالحدیث ،قاہرہ ،بدون تاریخ ،ج۳ص۱۹۶۔ Muḥammad ʼamyn, Rad al Muḥtar, (Cairo: Maktabah Dār al Ḥadtih), 3:196
  21. العثمانی، محمد تقی ، فقہی مقالات،مکتبہ دارالعلوم کرچی،ج۱ص۱۳۱۔ Muḥammad Taqy, Fihqy Maqalāt, (Karachi: Maktabah Dār al ‘uloom), 1:131
  22. الحصکفی ، محمدبن علی ،الدرالمختارشرح تنویرالابصار،دارالفکربیروت لبنان،طبع دوم ۱۹۹۲م ،ج۴ص۲۷۵۔ Muḥammad bin ‘Ali, Al Dur al mukhtar, (Beirut: Dār al Fikar, 2nd Edition, 1992), 4:275
  23. القاسمی ،مجاہدالاسلام،جدیدفقہی مباحث،ادارۃ القرآن کرچی،ج۲۵،ص۱۲۸۔ Mujahid al Islam, Jadid Fiqhi Mabaḥith, (Karachi: ʼidārat al Qurʼan ), 25:128
  24. الصنعانی، عبدالرزاق،مصنف عبدالرزاق،دارالفکربیروت،ج۸ص۷۴۔ ‘Abd al razzaq, Muṣannif ‘Abd al razzaq, (Beirut: Dār al Fikar ), 8:74
  25. الدمشقی، موفق الدین،عبداللہ بن احمد،ابن قدامہ،المغنی،دارالفکر،ج۳ص۴۹۰۔ ‘Abd allah bin Aḥmad, Al Mughni, (Beirut: Dār al Beirut: Dār al Fikar), 3:490
  26. مصدرسابق۔ Ibid.
  27. ہدایہ،ج۳ص۱۹۵۔ Hidayah, 3:195
  28. الشیبانی،محمدبن حسن،موطاامام محمد،دار القلم دمشق،ج۱ص۳۳۲۔ Muḥammad bin Ḥassan, Muwaṭṭa imam Muḥammad, (Dimashq: Dār al Qalam), 1:332
  29. البیھقی،ابوبکر،احمدبن الحسین،السنن الکبریٰ،دارالکتب العلمیۃ ،بیروت ،طبع سوم ،۲۰۰،حدیث نمبر:۱۰۱۳۳۔ Aḥmad bin al Ḥusain, Al Sunan al kubraʼ, (Beirut: Dār al kutub al ‘elmiyah, 2nd Edition, 2000), No.:10133
  30. ردمحتار،ج۵ص۳۱۰۔ Radd e Muḥtar, 5:310
  31. مصدر سابق۔ Ibid.
  32. الدر المختار مع الرد،ج۵ص۳۰۹۔ Al Durr al Mukhtar, 5:309
  33. ہدایہ،ج۳ص۱۴۷۔ Hidayah, 3:147
  34. المصری،ابن نُجیم،زین الدین ابراھیم بن محمد،البحرالرائق،دارالکتاب الاسلامی،طبع دوم بدون التاریخ ،دمشق،ج۶ص۱۳۳۔ Zyn al Din Ibrahym bin Muḥammad, Al Baḥr al Raʼeq, (Dimashq: Dār al Kitab al Islami), 6:133
  35. ردمحتار،ج۷ص۵۳۔ Radd e Muḥtar, 7:53
  36. المغنی ،ج۴ص۴۸۴۔ Al Mughny, 4:484
  37. جدیدفقہی مباحث ،ج۲۵ص۱۳۲۔ Jadid Fiqhi Mabaḥith, 25:132
  38. تھانوی، اشرف علی ،امدادالفتاوی،مکتبہ دارالعلوم کراچی،ج۳ص۱۲۹۔ Ashraf ‘Ali thanwi, ʼemdad al fatawaʼ, (Karachi: Maktabah Dār al ‘uloom), 3:129